![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اُردو میں لُغت نویسی کا کام انتہائی سُست رفتاری اور کاہلی کا شکار رہا ہے۔ برطانوی دور میں طبع ہونے والی انتہائی اعٰلی پائے کی لغات کے نئے ایڈیشن مرتب کرنے کی بھی کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کو توفیق نہ ہو سکی۔ چنانچہ فیلن اور پلیٹس کی ڈکشنریاں بھی اب تک انیسویں صدی کے بھّدے چھاپے میں طباعت کی تمام تر غلطیوں سمیت فوٹوآفسیٹ پر نقل کی جاتی رہی ہیں۔
’انگریزی سے اُردو‘ لُغات پر جو کام ڈاکٹر فیلن نے کیا تھا، تقسیم ہند سے قبل اس پر واحد اضافہ مولوی عبدالحق نے کیا تھا لیکن مولوی صاحب کی ڈکشنری بھی 1916 میں شائع ہوئی تھی اور آج تک اُسی شکل میں ری۔پرنٹ ہوتی رہی ہے۔ طالب علموں کی مدد کے لئے آج سے نصف صدی پہلے بشیر احمد کی کتابستان ڈکشنری منظرِعام پر آئی جوکہ ہائی سکول سے لیکر ڈگری کالج کے طلباء تک یکساں طور پہ مقبول ہوئی لیکن اس لغت کا دائرہ کار محدود تھا اور ذخیرۂ الفاظ بھی بہت کم تھا۔ گذشتہ چند برسوں میں کنسائز آکسفورڈ ڈکشنری کا اُردو ترجمہ (از شان الحق حقی) اور ویبسٹر کی امریکی ڈکشنری کا اُردو ترجمہ (از جمیل جالبی) بھی منظرِعام پر آچکا ہے لیکن یہ تمام لغات عمومی نوعیت کی ہیں۔ مختلف علوم پر خصوصی لغات چھاپنے کا سلسلہ ابھی تک تشنۂ تکمیل ہے اور روزّمرہ کی اخباری اصطلاحات پر تو ایک اُردو لغت کی ضرورت عرصۂ دراز سے محسوس کی جارہی تھی۔ اگرچہ اُردو صحافت کے زعماء یعنی مولوی ممتاز علی، ظفر علی خان، عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر اور چراغ حسن حسرت وغیرہ نے اپنے زمانے میں سیاسیات، سماجیات، قانون اور سائنس کی بے شمار انگریزی اصطلاحات کو اُردو کا جامہ پہنایا اور اِن بزرگوں کی وضع کردہ اُردو اصطلاحات آج بھی ہمارے اخبارات کی زینت بنتی ہیں لیکن اُن لوگوں نے یہ کام کسی ترتیب و تدوین کے ساتھ نہیں کیا تھا بلکہ ترجمےکی روانی میں جو لفظ کہیں مناسب بیٹھا وہی اختیار کر لیا۔ صحافت کا میدان آج محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہا۔ اُردو کا کوئی بھی اخبار اُٹھا کر دیکھ لیجئے اس میں سیاست کے ساتھ ساتھ آپکو جرم و سزا، معاشیات، طِبّ، سفرنگاری، عورتوں کے مسائل، بچّوں کی نفسیات، کھانے پکانے اور سینے پرونے سے لیکر تسخیرِ کائنات اور کمپیوٹر سائنس کے نِت نئے پہلوؤں پر کہانیاں ملیں گی۔ ہمارے لئے جدید علوم کا منبع انگریزی زبان ہے اور عام آدمی انگریزی ہی سے کیے ہوئے تراجم کے ذریعے اِن علوم و فنون تک رسائی حاصل کرتا ہے، چنانچہ ایک ایسی انگریزی۔اُردو لُغت کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی جِس میں روزمّرہ کے اخباری الفاظ کا آسان فہم ترجمہ موجود ہو۔ صحافیوں کا تقاضہ اس سے بھی ایک قدم آگے تھا، یعنی نہ صرف انگریزی اصطلاح کا مفہوم سادہ اُردو میں بیان کیا گیا ہو بلکہ اسکا ’یک لفظی‘ اُردو متبادِل بھی دیا گیا ہو۔ ماضی کی ڈکشنریوں میں مشکل الفاظ اور اصطلاحات کی تشریح تو مِل جاتی ہے لیکن اُن کا یک لفظی اُردو متبادِل ڈھونڈنے اور عدم دستیابی کی صورت میں ایک نیا اُردو لفظ تراشنے کی ضرورت پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ تاہم اب بالآخر ایک ایسی ڈکشنری منظرِعام پر آگئی ہے جو اِن تمام ضرورتوں کا احاطہ کرتی ہے۔ ’جدید صحافتی انگریزی۔اُردو لُغت‘ کے مرتب ہیں سید راشد اشرف جو گزشتہ چار عشروں سے بی بی سی کی اُردو سروس کے ساتھ منسلک ہیں اور صحافتی ترجمے کے خارزار میں برسوں تک بادیہ پیمائی کا ذاتی تجربہ رکھتے ہیں۔ مُرتّب نے اِس ڈکشنری میں کوشش کی ہے کہ عربی فارسی کے بھاری بھرکم الفاظ سے گریز کر کے عام فہم اور سادہ زبان میں لفظوں کا مطلب بیان کیا جائے۔ جہاں انگریزی اصطلاح کے مقابل ایک اُردو اصطلاح موجود ہے وہاں وہ درج تو کر دی گئی ہے تاکہ یک لفظی متبادل فراہم کرنے کا فریضہ پورا ہوجائے لیکن اُس اصطلاح کا مطلب آسان لفظوں میں بھی کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ مثلاً جدید سیاست کا یہ لفظ دیکھئے: Brinkmanship اِس کا مختصر مطلب یوں بیان کیا گیا ہے۔ ’خطرہ مول لینے کی سیاست گری‘ لیکن اس کے بعد مزید تشریح کرتے ہوئے بتایا ہے: ’مخالف کو دھمکانے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایسے مقام پر پہنچ جانا کہ اندیشہ پیدا ہو جائے کہ واپسی اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔۔۔‘ اس تشریح کے بعد اس اصطلاح کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ لفظ کس زمانے میں سیاسی ڈکشنری کا حصّہ بنا تھا۔ انگریزی کے بہت سے سیاسی اور معاشرتی محاورے جو انگریزی زبان کے عالمگیر رسوخ کے باعث دنیا کے ہر گوشے میں سُنے جا سکتے ہیں، اُن کی انتہائی جامع تشریح کے لئے اُردو میں اس لغت کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اُردو صحافت میں کام کرنے والے کسی بھی شخص کےلئے اس طرح کی لغت اتنی ہی ضروری ہے جتنا کاغذ پینسل، پی سی، کیمرہ یا ٹیپ ریکارڈر۔ صحافیوں کے ساتھ ساتھ یہ لغت طالبعلموں، معلّموں اور ترجمے کے فن سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کےلئے بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے۔ BBC URDU
__________________
تیرا پاکستان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا پاکستان ہے اس پہ دل بھی قربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پہ جان بھی قربان ہے پاکستانی کی آواز----------------- پاکستان کے فورمز |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 268
کمائي: 78
شکریہ: 1
56 مراسلہ میں 68 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ہے
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 4
کمائي: 160
شکریہ: 0
0 مراسلہ میں 0 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے؟ اور اس ڈکشنری کا کیا نام ہے اور کیا پرائس ہے.کہاں سے ملے گی دکان یا پبلشر کا نام.شکریہ اگر اس کے باراے میں سائٹ ہے تو اس کا یو آر ایل لکھ دیں
|
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| color, کمپیوٹر, کالج, ڈکشنری, قدم, مسائل،, آج, آدمی, ایران, انگریزی زبان, جرم, حسن, خصوصی, دھمکانے, سیاست, سائنس, شخص, صحافیوں, صحافت, صحافتی, صدی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اردو زبان کی ابتداء کے متعلق نظریات | خرم شہزاد خرم | اردو ادب سے اقتباسات | 5 | 21-03-09 08:49 PM |
| اُردو زبان کی بیچارگی اور بے بسی | Zullu230 | اپکے کالم | 11 | 07-10-08 01:45 PM |
| قومی جامع حکمت عملی کی تشکیل - ایک ناگزیر ضرورت | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:22 AM |
| راشد رؤف کا فرار:برطانوی حکومت کو جامع رپورٹ پیش کی جائیگی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 17-12-07 09:46 AM |
| اردو پاکستان کی سرکاری زبان کب ھوگی | امیر جعفری | تجاویز اور شکایات | 1 | 01-08-07 05:58 AM |