واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > تعلیم و تربیت



تعلیم و تربیت !Forum description


تجربہ تو كرنے ديں۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-07-11, 01:42 AM   #1
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default تجربہ تو كرنے ديں۔

تجربہ تو كرنے ديں۔

بذريعہ اي ميل نا معلوم رائٹر كي خوبصورت تحرير آپ سب كي نظر ميں


اعلٰی تعلیم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ایک نوجوان نے ملک کی ایک بڑی نامور کمپنی میں ادارتی منصب کیلئے درخواست جمع کرائی اور اُسے ابتدائی طور پر اِس منصب کیلئے موزوں اُمیدوار قرار دیکر فائنل انٹرویو کیلیئے تاریخ دیدی گئی۔

انٹرویو والے دن کمپنی کے مُدیر (کمپنی کا سربراہ) نے نوجوان کی پروفائل کو غور سے دیکھا اور پڑھا، نوجوان اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر آخری مرحلے تک نا صرف کامیاب ہوتا رہا تھا بلکہ اپنے تعلیمی اداروں میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتا رہا تھا۔ اُسکی تعلیم کا یہ معیار آخر تک برقرار رہا تھا۔ مُدیر نے جوان سے پوچھا: تعلیم کے معاملے میں تمہیں کبھی کوئی مشکل یا کوئی ناکامی بھی پیش آئی، جسکا جواب نوجوان نے کبھی نہیں کہہ کر دیا۔
مُدیر نے پوچھا: یقینا یہ تمہارے والد ہونگے جنہوں نے تمہاری اِس مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت کیئے ہونگے؟
نوجوان نے کہا نہیں، میرے والد کا تو اُس وقت ہی انتقال ہو گیا تھا جب میں ابھی اپنی پہلی جماعت میں تھا۔ میرے تعلیم کے سارے اخراجات میری امی نے اُٹھائے ہیں۔

مُدیر نے پھر کہا؛ اچھا، تو پھر تمہاری امی کیا جاب کرتی ہیں ؟
نوجوان نے بتایا کہ میری امی لوگوں کے کپڑے دھوتی ہیں۔
مُدیر نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اپنے ہاتھ تو دِکھاؤ۔ نوجوان نے ہاتھ اُسے تھمائے جو کہ اِنتہائی نرم و نازک اور نفیس تھے، ہاتھوں کی نزاکت سے تو شائبہ تک نہیں ہوتا تھا کہ نوجوان نے تعلیم کے علاوہ کبھی کوئی اور کام بھی کیا ہوگا۔
مُدیر نے نوجوان سے پوچھا: کیا تم نے کپڑے دھونے میں کبھی اپنی امی کے ہاتھ بٹائے ہیں؟
نوجوان نے انکار میں جواب دیتے ہوئے کہا: نہیں، کبھی نہیں، میری امی ہمیشہ مجھے اپنا سبق یاد کرنے کو کہا کرتی تھیں، اُنکا کہنا تھا کہ کپڑے وہ خود دھو لیں گی۔ میں زیادہ سے زیادہ کُتب کا مطالعہ کرتا تھا، اور پھر میری امی جتنی تیزی اور پُھرتی سے کپڑے دھوتی تھیں میں تو اُتنی تیزی سے دھو بھی نہیں سکتا تھا۔

مُدیر نے نوجوان سے کہا؛ برخوردار، میری ایک شرط ہے کہ تم آج گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوؤ اور کل دوبارہ میرے پاس واپس آؤ تو میں طے کرونگا کہ تمہیں کام پر رکھا جائے کہ نہیں۔

نوجوان کو یہ شرط کُچھ عجیب تو ضرور لگی مگر کام ملنے کے اطمئنان اور خوشی نے اُسے جلد سے جلد گھر جانے پر مجبور کردیا۔
گھر جا کر نوجوان نے اپنی ماں کو سارا قصہ کہہ سُنایا اور ساتھ ہی اُسے جلدی سے ہاتھ دھلوانے کو کہا۔ آخر نوکری کا ملنا اس شرط سے جُڑا ہوا تھا۔
نوجوان کی ماں نے خوشی تو محسوس کی، مگر ساتھ ہی اُسے یہ شرط عجیب بھی لگ رہی تھی۔ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے اور خیالات آ رہے تھے کہ آخر نوکری کیلئے یہ کِس قسم کی شرط تھی؟ مگر اِس سب کے باوجود اُس نے اپنے ہاتھ بیٹے کی طرف بڑھا دیئے۔

نوجوان نے آہستگی سے ماں کے ہاتھ دھونا شروع کیئے، کرخت ہاتھ صاف بتا رہے تھے کہ اِنہوں نے بہت مشقت کی تھی۔ نوجوان کی آنکھو سے آنسو رواں ہو گئے۔ آج پہلی بار اُسے اپنی ماں کے ہاتھوں سے اُس طویل محنت کا ندازہ ہو رہا تھا جو اُس نے اپنےاِس بیٹے کی تعلیم اور بہتر مُستقبل کیلئے کی تھی۔

ہاتھ انتہائی کُھردے تو تھے ہی اور ساتھ ہی بہت سی گانٹھیں بھی پڑی ہوئی تھیں۔ آج نوجوان کو پہلی بار محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کھردرا پن اگر اُسکی تعلیم کی قیمت چُکاتے چُکاتے ہوا تھا تو گانٹھیں اُسکی ڈگریوں کی قیمت کے طور پر پڑی تھیں۔ نوجوان ہاتھ دھونے سے فراغت پا کر خاموش سے اُٹھا اور ماں کے رکھے ہوئے باقی کپڑے دھونے لگ گیا۔ وہ رات اُس نے ماں کے ساتھ باتیں کرتے گُزاری، تھوڑے سے کپڑے دھونے سے اُسکا جسم تھکن سے شل ہو گیا تھا۔ سارا سارا دن بغیر کوئی شکوہ زبان پر لائے کپڑے دھونے والی ماں سے باتیں کرنا آج اُسے بہت اچھا لگ رہا تھا، دِل تھا کہ کسی طرح بھی باتوں سے بھر نہیں پا رہا تھا۔

دوسرے دِن اُٹھ کر نوجوان دوبارہ اُس کمپنی کے دفتر گیا، مُدیر نے اُسے اپنے کمرے میں ہی بُلا لیا۔ نوجوان کے چہرے سے اگر جگ راتے کی جھلک نُمایاں تھی تو آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کسی ندامت اور افسردگی کی کہانی سُنا رہی تھی۔
مُدیر نے نوجوان سے پوچھا، کل گھر جا کر تُم نے کیا کیا تھا؟

نوجوان نے مختصرا کہا کہ کل میں نے گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوئے تھے اور پھر اُس کے باقی بچے ہوئے کپڑے بھی دھوئے تھے۔
مُدیر نے کہا میں تمہارے محسوسات کو پوری سچائی اور دیانتداری کے ساتھ سُننا چاہتا ہوں۔

نوجوان نے کہا: کل مُجھے لفظ قُربانی کے حقیقی معانی معلوم ہوئے۔ اگر میری امی اور اُسکی قُربانیاں ناں ہوتیں تو میں آج اِس تعلیمی مقام پر ہرگز فائز نہ ہوتا۔ دوسرا میں نے وہی کام کر کے اپنے اندر اُس سخت اور کٹھن محنت کی قدر و قیمت کا احساس پیدا کیا جو میری ماں کرتی رہی تھی اور مُجھے حقیقت میں اُسکی محنت اور مشقت کی قدر کا اندازہ ہوا۔ تیسرا مُجھے خاندان کی افادیت اور قدر کا علم ہوا۔

مُدیر نے نوجوان کو بتایا کہ وہ اپنی کمپنی میں موجود ادارتی منصب کیلئے ایک ایسے شخص کی تلاش تھا جو دوسروں کی مدد کا جذبہ رکھنے والا ہو، دوسرے کا اِحساس کرنے والا ہو اور صرف مال کا حصول ہی اُسکا مطمعِ نظر نہ ہو۔ نوجوان تمہیں مبارک ہو، میں تمہیں اِس منصب کیلئے منتخب کرتا ہوں۔

اور کہتے ہیں کہ نوجوان نے اُس کمپنی میں بہت محنت، لگن اور جذبے کے ساتھ کام کیا، دوسروں کی محنت کی قدر اور احساس کرتا تھا، سب کو ساتھ لیکر چلنا اور سارے کام مِل جُل کر ایک فریق کی حیثیت سے انجام دینا اُسکا وطیرہ تھا، اور پِھر اُس کمپنی نے بھی بہت ترقی کی۔

اِس کہانی سے اخذ کیئے گئے کُچھ نتائج ملاحظہ فرمائیے:
جِس بچے کو مُحبت اور شفقت کے علاوہ اُسکے منہ سے نکلنے والی ہر خواہش کی فوری تعمیل کے ماحول میں پرورش کی جائے وہ بچہ ہر چیز پر حقِ ملکیت محسوس کرتا ہے اور ہمیشہ اپنی خواہشات اور اپنی ذات کو مقدم رکھتا ہے۔

ایسا بچہ اپنے باپ کی محنت اور مشقت سے بے خبر رہتا ہے، جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو ہر کسی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اُسکا ماتحت اور تابع فرمان ہو۔

ایسا بچہ عملی زندگی میں کسی ادارتی منصب یا ذمہ داری پر فائز ہو جائے تو اپنے ماتحتوں کا دُکھ درد اور تکلیفوں کو سمجھتا ہی نہیں اُلٹا کسی قسم کی ناکامی کی صورت میں اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتا ہے۔

دوسروں کو حقارت اور کمتر سمجھنا تو معمولی بات ہے ایسا بچہ اپنے مفادات اور کامیابیوں کیلئے دوسروں کو راستے سے ہٹانا معمولی بات سمجھتا ہے۔
دیکھ لیجیئے اگر ہم اپنی اولاد کی تربیت اِسی انداز سے کر رہے ہیں تو ہمارے کیا مقاصد ہیں؟ ہم اُنکی حفاظت کر رہے ہیں یا اُن کی بربادی کے اسباب پیدا کر رہے ہیں؟

ہو سکتا ہے آپکا بچہ ایک بڑے گھر میں رہتا ہو، انواع و اقسام کے اعلٰی کھانے کھاتا ہو، پیانو کی تعلیم حاصل کرتا ہو، کسی پروجیکٹر یا بڑی سکرین والے ٹیلیویژن پر اپنے پسندیدہ پروگرام دیکھتا ہو، لیکن اگر کبھی وہ گھر کے لان کی گھاس کاٹنا چاہے تو اُسے اِس کام کا تجربہ تو کرنے دیجیئے۔
اگر وہ کھانا کھا چُکے تو اُسے بہنوں کے ساتھ یا ماں کے ساتھ باورچی خانے میں جا کر اپنی پلیٹ بھی دھونے دیجیئے۔

اِسکا یہ مطلب ہرگز نہیں بنے گا کہ آپکے پاس گھر میں خادمہ رکھنے کی حیثیت نہیں ہے، بلکہ اِسکا یہ مطلب بنے گا کہ آپ اپنے بچے سے صحیح اُصولوں کے مطابق محبت کرتے ہیں۔

کیونکہ آپ چاہتے ہیں کہ آپکے بچے کے اندر اِس بات کا شعور اور احساس پیدا ہو کہ اُس کے باپ نے اُس کیلئے جو دولت چھوڑ کر جانی ہے وہ آسانی سے نہیں کمائی گئی تھی جس طرح مذکورہ بالا کہانی میں نوجوان کی ماں کی محنت و مشقت والی کمائی کا ذکر ہے۔

اِن سب باتوں سے قطع نظر، آپ اپنے بچے کو ایثار اور قُربانی کا مفہوم سمجھانا چاہتے ہیں، آپ اُسے کام کی تکلیف اور مصائب و مشاکل سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

آپ اُسے بتانا چاہتے ہیں کہ دوسروں کی محنت و مشقت کی قدر اور احساس کیا جائے تاکہ نتائج سے سب مل کر لطف اُٹھا سکیں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
21 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-07-11), skjatala (16-07-11), ہادی (03-07-11), کنعان (02-07-11), پاکستانی (19-07-11), ھارون اعظم (02-07-11), نورالدین (03-07-11), ننھا بچہ (02-07-11), منتظمین (16-07-11), محمد یاسرعلی (02-07-11), مرزا عامر (18-07-11), wajee (02-07-11), احمد بلال (02-07-11), ارشد کمبوہ (02-07-11), حیدر (02-07-11), رضی (18-07-11), سیفی خان (02-07-11), سام (02-07-11), طاھر (18-07-11), عبدالقدوس (02-07-11), عروج (16-07-11)
کمائي نے شمشاد احمد کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
18-07-11 رضی تجربہ تو كرنے ديں 0
پرانا 02-07-11, 01:52 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
بہت خوب لکھا ہے۔ بے شک بچے کی تربیت میں یہ پہلو ہمیشہ نمایاں ہو کہ قربانی، ایثار، امداد باہمی اور پیار محبت کے جذبے پروان چڑھیں ۔۔ کیوں کہ ان کے بغیر ایک اچھا انسان تشکیل نہیں پا سکتا ۔

ماں کی عظمت کو سلام
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
کنعان (02-07-11), محمد یاسرعلی (02-07-11), احمد بلال (02-07-11), ارشد کمبوہ (02-07-11), حیدر (02-07-11), شمشاد احمد (02-07-11), عروج (16-07-11)
پرانا 02-07-11, 05:32 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,467
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,928 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی تحریر ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (02-07-11), احمد بلال (02-07-11), ارشد کمبوہ (02-07-11)
پرانا 02-07-11, 10:18 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
کمائي: 88,144
شکریہ: 5,199
5,040 مراسلہ میں 11,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی زبردست تحریر ہے ۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-07-11, 10:27 AM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,382
کمائي: 95,757
شکریہ: 52,496
11,166 مراسلہ میں 35,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب:

کیا ہی خوب ہو کہ اگر سرورق کے لیے پیش کی جائے تو
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-07-11), منتظمین (16-07-11), شمشاد احمد (02-07-11)
پرانا 02-07-11, 11:45 PM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رائے مناسب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پيش كر ديا گيا ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (16-07-11)
پرانا 03-07-11, 12:00 AM   #7
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,659
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت ہی خوب اور سبق آموز تحریر خاص طور پہ میرے لیے بھی کے کیسے میری ماں نے مجھے اور میرے بھائی کو پالا ہے کتنے دکھ سہے ہیں‌مگر میں ابھی تک اپنی ماں کے لیے کچھ بھی تو نہ کر سکا ہوں
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-07-11, 12:05 AM   #8
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب يہ احساس باقي ہے تو انشاء اللہ آپ ضرور كامياب ہوں‌گے۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (03-07-11), محمد یاسرعلی (04-07-11)
پرانا 16-07-11, 05:22 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک دوسروں کا احساس دل میں رکھنے والے سبھی کو برابر ھی سمجھتے ھیں۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-07-11), شمشاد احمد (16-07-11)
پرانا 18-07-11, 04:44 PM   #10
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,537
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

--------------------------------------------------------------------------------------------------------
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (06-10-11)
پرانا 04-10-11, 11:58 AM   #11
Member
اجنبی
 
مرمیڈ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 48
کمائي: 2,257
شکریہ: 17
40 مراسلہ میں 139 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماں پیاری ماں۔۔۔
اپنے قدموں میں دے دے جگہ
اپنا سایہ بنا لے مجھے۔۔۔۔
مرمیڈ آف لائن ہے   Reply With Quote
مرمیڈ کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (06-10-11)
جواب

Tags
پڑی, پسندیدہ, قصہ, نوکری, نظر, ماں, محبت, معلوم, آج, انٹرویو, تلاش, تعلیم, جواب, جلد, خبر, درخواست, رات, زندگی, شخص, علم, عجیب, غور, صاف, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عادل سہيل بھائي كہاں ہيں۔ شمشاد احمد آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 4 24-06-11 03:44 AM
حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- Haya 786 گپ شپ 7 25-02-11 10:42 AM
ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے Wahid Mahmood شعر و شاعری 1 11-03-10 11:10 PM
آؤ پشتو سیکھیں = راشہ پشتو ذدہ کہ محمد کاشف حبیب پشتو فورمز 113 09-07-09 08:30 PM
تو نے کہا تو تیری تمنا ہی چھوڑ دی Shani شعر و شاعری 3 19-11-08 08:22 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger