| تعلیم و تربیت !Forum description |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: my home
مراسلات: 413
کمائي: 4,719
شکریہ: 431
333 مراسلہ میں 736 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یار لوگویہ میرا خود کا نہین ہے اسکویہاں تعلیمِ بالغاں کے اہم اصول - Pakistan Centre for Development Communication سے لیا ہے کافی اچھی باتین بیان کی ہیں اسلئے یہان پیسٹکیا
ہم میں سے اکثر لوگوں کو بچوں کو پڑھانے کا تھوڑا بہت تجربہ ہوتا ہے۔ یہ تجربہ کبھی بہت رسمی یعنی اسکول میں پڑھانے کا اور کبھی بالکل غیر رسمی یعنی چھوٹے بہن بھائیوں یا اپنے بچوں کو پڑھانے کا ہوتا ہے۔ عام طور پر اس تجربے میں استاد اور شاگرد کا رشتہ اور ایک دوسرے سے توقعات کی نوعیت بھی واضح ہوتی ہے۔ استاد کو عالم‘ دانشمند اور رہنما سمجھا جاتا ہے‘ والدین کے برابر درجہ دیا جاتا ہے جبکہ شاگرد کو علم اور تجربے سے بالکل ناواقف خیال کیا جاتا ہے۔ اس کا کام تابعداری کے ساتھ ہدایات پر عمل کرنا اور جو کچھ پڑھایا گیا ہو اسے یاد کرنا اور امتحان پاس کرنا ہے۔ صدیوں سے یہ سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے۔ کچھ ماہرین کے خیال میں اسے یونہی چلنا چاہئے جبکہ دیگر ماہرین اسے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ تو تھی بچوں کی تعلیم کی بات‘ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بالغوں کو بھی اسی طرح سکھا سکتے ہیں جس طرح بچوں کو سکھاتے ہیں یا ہمیں بالغوں کی تربیت کیلئے کوئی اور طریقے استعمال کرنا ہوں گے۔ یہاں ماہرین کا متفقہ خیال یہ ہے کہ بالغوں کے سیکھنے اور سکھانے کے طریقے اور انداز خاصے مختلف ہوتے ہیں۔ اس عمل میں کچھ باتیں تو وہی مدنظر رکھی جاتی ہیں جو بچوں کی تعلیم میں بھی ضروری ہیں اور کچھ اضافی باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ بالغوں کی تربیت کا عمل شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم کچھ رہنما اصول ذہن نشین کرلیں۔ یہ اصول بظاہر بہت سادہ نظر آتے ہیں لیکن انتہائی اہم ہیں۔ (1) بالغوں کو تربیت دینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تربیتی پروگرام کے موضوعات سے متعلق ان کی کیا معلومات ہیں۔ کیونکہ بالغ بہتر طور پر اسی وقت سیکھ سکتے ہیں جب وہ پہلے سے کچھ جانتے ہوں اور جو کچھ سکھایا جارہا ہے اس میں رشتہ اور تعلق دیکھ سکیں۔ (2) عام طور پر اگر سیکھنے والوں کے کام سے متعلق کسی واقعہ یا کہانی کی مدد سے نظریات اخذ کئے جائیں تو بات آسانی سے ذہن نشین ہوجاتی ہے۔ تربیتی پروگرام میں یہ گنجائش ضرور رکھنی چاہئے کہ لوگ اپنے تجربات پر گفتگو کرسکیں اور نئے علم کا تعلق اپنے گذشتہ تجربات سے جوڑ سکیں۔ (3) بالغ اپنی تربیتی ضروریات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ انہی کے مطابق وہ اپنے راستے کا تعین کرتے ہیں۔ اس لئے تربیت کار کو تیار رہنا چاہئے کہ ایک ہی تربیتی پروگرام میں مختلف لوگ مختلف سمتوں میں جانا چاہیں گے۔ (4) بالغ اپنے تجربے سے زیادہ موثر طریقے سے سیکھتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ انہیں بچوں کی طرح پڑھایا جائے‘ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ خود مشق کرکے نظریات کو سمجھیں۔ (5) تربیتی پروگرام کے دوران وہ بار بار یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ مل کر ان کے کام کا جائزہ لیتے رہنا ضروری ہے۔ (6) لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ بالغ اپنی غلطیوں کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ ان کی غلطیوں کی نشاندہی بہت سلیقے سے کرنی چاہئے اور انہیں کبھی شرمندہ نہیں کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کی عزت اور احترام پروگرام کی بنیادی اقدار میں شامل ہونا چاہئے۔ (7) بالغ چاہتے ہیں کہ وہ سیکھنے اور سکھانے کے عمل میں بھرپور حصہ لیں۔ انہیں سوالات اور تبصرے کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے گروپوں کی شکل میں وہ آپس میں بھی تبادلہ خیال کریں تو اچھا ہے۔ ( ایسے شرکاءکو زیادہ وقت اور توجہ دینی چاہئے جو تربیتی مواد کو غیر مانوس‘ مشکل اور پیچیدہ سمجھتے ہوں۔ توجہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کی جانی چاہئے کہ انہیں سکھانے کے لئے کوئی متبادل طریقہ استعمال کیا جائے۔(9) شرکاءکے مشورے سے موضوعات کی ترتیب‘ وقت‘ اور نصاب کی سرگرمیوں میں مناسب تبدیلی کرلینی چاہئے تاکہ انہیں یہ احساس ہوکہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہیں۔ مندرجہ بالا رہنما اصولوں کے علاوہ کچھ اور باتیں بھی تربیتی پروگرام کو زیادہ موثر بناسکتی ہیں۔ (1) پروگرام کی ابتدا ہی میں مقاصد اور مکمل خاکے سے آگاہ کر دینا چاہئے تاکہ شرکاءکو اچھی طرح اندازہ ہوجائے کہ کس دن کیا ہوگا اور اس سلسلے میں انہیں کبھی کوئی تعجب یا اچنبھا نہ ہو۔ (2) تفصیل بتاتے ہوئے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تربیتی پروگرام میں شامل مضامین کا آپس میں ایک دوسرے سے کیا منطقی رشتہ ہے۔ (3) جہاں بھی ضروری سمجھا جائے وہاں شرکاءسے یہ پوچھ لینا چاہئے کہ اس سلسلے میں ان کا اپنا کیا تجربہ ہے۔ (4) تھوڑے تھوڑے وقفے سے اگر کارروائی کو مختصراً دہرادیا جائے تو بات ذہن نشین ہوجاتی ہے کیونکہ کبھی کبھی ہم بحث میں الجھ کر اصل موضوع سے بہت دور ہٹ جاتے ہیں۔ (5) نئے خیالات اور نظریات متعارف کرانے کی رفتار شرکاءکی سمجھنے کی صلاحیت کے مطابق ہونی چاہئے۔ اگر رفتار سُست ہو تو لوگوں کو وقت کے زیاں کا احساس ہوتا ہے اور اگر تیز ہو تو وہ دلچسپی برقرار نہیں رکھ پاتے۔ (6) ہر خیال الگ الگ بیان کیا جانا چاہئے۔ دو تین باتیں ایک ساتھ بتادی جائیں تو ذہن گنجلک ہوجاتا ہے۔ (7) گروپ بناتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ممبران کی سمجھ کے معیار اور تجربات میں خاصی حد تک یکسانیت ہو۔ ( کوشش ہونی چاہئے کہ علم صرف نظریاتی نہ ہو بلکہ زور اس پر دینا چاہئے کہ اسے شرکاءاپنے کام میں کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔(9) تربیتی پروگرام کے دوران شرکاءکو موقع دینا چاہئے کہ وہ منصوبے بناسکیں کہ اس علم کو اپنے کام میں کیسے اور کب استعمال کریں گے۔ (10) اگر ممکن ہو تو یہ گنجائش بھی رکھنی چاہئے کہ شرکاءاپنی کارکردگی کا خود تجزیہ کرسکیں۔ (11) لمبی لمبی تقریروں سے پرہیز کریں۔ (12) پروگرام کے دوران ہی اندازہ لگاتے جائیں کہ آپ مقاصد کو حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں۔ (13) شرکاءکو سوال کا جواب دینے کے لئے کافی وقت دیجئے۔ (14) تربیت دینے کے ایک سے زیادہ طریقے استعمال کریں لیکن طریقوں کا انتخاب حالات اور لوگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ (15) اپنے انداز میں لچک رکھئے لیکن اتنی بھی نہیں کہ شرکاءکو یہ احساس ہونے لگے کہ آپ کو حالات پر بالکل قابو نہیں۔ (16) تربیتی پروگرام کا اختتام دلچسپ بنائیے جس میں پورے پروگرام کا جائزہ بھی ہو اور لوگ اچھی یادیں بھی ساتھ لے کر جائیں۔ یہ یاد رکھیئے کہ بالغ آسان‘ سادہ‘ مختصر اور کم خرچ طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے صبیحہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
ہم تو ابھی بچے ہیں
بڑھے ہو کر دیکھیں گے ۔۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوبصورت شیئرنگ ہے
شخصی نشو و نما کے عمل سے متعلق افراد کے لیے راہنما اصول ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,903
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() یار ایک سوال ہے بالغ ہونے کے بعد بھی تعلیم کی ضرورت رہتی ہے؟؟ |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,653
کمائي: 32,916
شکریہ: 9,769
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
راجہ صاحب کلاسیں کب شروع ہیں؟ میرا داخلہ پکا لیکن تعلیم بالغاں سے آ گے والی کلاس میں ، کیا کہیں گے اس کلاس کو آپ-
صبیحہ بیٹا! ناراض مت ہونا، آپ کی مرضی ہے مشورہ مانو یا نا مانو۔ اگر آپ چاہتی ہو کہ آپ کے بارے میں دوسرے کے ذہنوں میں آنے والا تصور بہن ،بیٹی، بھانجی جیسا ہو تو اپنی نمائندہ تصویر پر نظر ثانی کر لو۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہم نے تو ابھی تعلیم بالغان بھی مکمل نہیں کی اور آپ اس کے بعد کی باتاں کر رہے ہیں۔ کلاس شروع تو کر دیں لیکن میری کلاسوں کی فیس بہت زیادہ ہوتی ہے۔۔ اس لئے آج تک کوئی میرے پاس تعلیم حاصل ہی نہیں کر سکا
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | احمد بلال (30-04-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: my home
مراسلات: 413
کمائي: 4,719
شکریہ: 431
333 مراسلہ میں 736 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,653
کمائي: 32,916
شکریہ: 9,769
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, communication, education, کہانی, کوشش, کرنی, وقت, مکمل, موقع, ممکن, متعارف, انداز, امتحان, استاد, بچوں, جواب, رفتار, شاگرد, علم, عزت, غلطیوں, صلاحیتوں, صحیح, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حصول تعلیم کے لیے ولایت کا سفر | معظم | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 124 | 29-11-11 03:23 AM |
| ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں | فیصل ناصر | عمومی بحث | 36 | 08-10-09 03:03 AM |
| صوفیاکرام واولیا عظام نے قرآن سنت کی تعلیم کو عام کیا،ساجد الرحمن | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 16-04-08 08:25 AM |
| سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 10:24 AM |
| سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 26-10-07 10:57 AM |