| تعلیم و تربیت !Forum description |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جامعہ دارالعُلوم کراچی، دینی درس گاہوں کے اس مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہے جو اس برّصغیر میں اللہ کے کچھ نیک بندوں نے انگریزی استعمار کی تاریک رات میں دین کی شمعیں روشن رکھنے کے لئے قائم کیا تھا دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور حضرت مولانا رشید احمدگنگوہی رحمة اللہ علیہما اور ان کے رفقاءانگریز کے خلاف ۱۸۵۷ء کے جہاد میں بنفس نفیس شریک تھے۔
لیکن انگریز کے سیاسی اقتدار کے مستحکم ہونے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ اب محاذجنگ تبدیل ہوچکاہے، اب انگریز کی کوشش پوری منصوبہ بندی کے ساتھ یہ ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر زیر کرنے کے بعدفکری طور پر بھی اپنا غلام بنایا جائے۔ جس کے لئے وہ ایک ایسا نظام رائج کررہاہے جو مسلمانوں کے دل پر مغربی افکار کا سِکہّ جمائے اس کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم کو سینے سے لگانے والوں پر معاش کے تمام دروازے بند کردےئے گئے تھے۔ اس لئے انہوں نے رُوکھی سوکھی کھاکر، اور موٹاجھوٹا پہن کر دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی، اور ایسے سر فروش علماءکرام کی ایک بڑی جماعت تیار کردی جو دنیا کی چمک دمک سے منہ موڑ کر کچے مکانوں اور تنگ حجروں میں دینی علوم کے چراغ کو وقت کی آندھیوں سے بچاتے رہے، تاکہ اس سیاسی مغلوبیت کے دور میں مسلمان اپنی معاشرت، اخلاق، عبادت اور باہمی معاملات میں اسلامی احکام و اقدار کو چھوڑکر غیروں کے طریقوںکی تقلید نہ کرنے لگیں، اور پھر جب کبھی مسلمانوں کو سیاسی اقتدار واپس ملے تو انہیں سرورِ کونین، محسن انسانیت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا لایاہوا دین اپنی صحیح شکل و صورت میں محفوظ مل جائے۔ اس طرح حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کا لگایا ہوا چمن جس پر خزاں نے ڈیرے جمالےے تھے، وہ دوبارہ سرسبز و شاداب ہونے لگا۔دارالعلوم دیوبند سے علم و فضل، علمی تبحر، اتباعِ سنت اور زہد و تقویٰ کے جو آفتاب و ماہتاب نمودار ہوئے ان کے پاکیزہ کردار سے صحابہ و تابعین کی حسین یادیں تازہ ہوگئیں، اور ان کی تعلیم و تبلیغ کے فیض سے برصغیر کا ہرگوشہ سیراب ہوا۔ ان کی علمی تحقیقات اور تربیت اخلاق سے شریعت و طریقت کی وہ گتھیاں حل ہوئیں جو مسلمانوں کے دورِ انحطاط میں عرصے سے سربستہ راز بنی ہوئی تھیں۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن صاحب قدس سرہ کی قیادت میں انہی علماءکرام کی مخلصانہ جدوجہدنے ہندوستان کو انگریز کی غلامی سے نجات دلانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔حکیم الامت، مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمة اللہ علیہ کے ایماءپر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی صاحبؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحبؒ اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ نے قیامِ پاکستان کے لئے جو تاریخ ساز اور فیصلہ کن جدوجہد فرمائی وہ بھی اسی دارالعلوم دیوبند کا فیضان ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جب حکومت مسلمانوں کو ملی، مناسب یہ تھا کہ سب سے پہلے ایک اسلامی حکومت کے شایان شان ایسا نظام تعلیم رائج کیا جاتاجس میں قرآن و سنت کی پوری مکمل تعلیم کے ساتھ جدید علوم و فنون کو لادینی جراثیم سے پاک کرکے ان کی مکمل و معیاری تعلیم و تربیت ہوتی اور دینی و دنیوی تعلیم کی خلیج پاٹ دی جاتی، نہ یہاں دارالعلوم کی وہ حیثیت کافی تھی جو انگریز کے لادینی دور میں ہندوستان کے اندر مجبوراً رکھی گئی تھی اور نہ علی گڑھ کی محکومانہ تعلیم کی یہاں کوئی گنجائش تھی اور نہ ہی ندوة کی وہ تعلیم کافی تھی جس میں اسلامی علوم میں سے صرف تاریخ و ادب کو اسلامیات کا محور بنالیا گیاتھا، ضرورت اس کی تھی کہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کی مکمل معیاری تعلیم و تربیت پورے ملک میں عام کردی جاتی، مگرپاکستان اپنی ابتداءسے لے کر آج تک مختلف پارٹیوں اور گروہوں کی رسہ کشی کے جس طوفان سے گزر رہاہے وہ سب کے سامنے ہے، اس طویل عرصے میں یہاں کا نظام حکومت اور قانون بھی صحیح معنی میں مسلمانوں کے دل کی آواز نہ بن سکا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک انگریز کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر یہاں کے اسکولوں، کالجوں کی تعلیم جاری ہے، جو علوم وفنون کے ماہرین پیداکرنے کے بجائے صرف دفتری ملازمین پیداکررہی ہے۔ اور وہ بھی نہایت ناقص انداز میں، اور دینی تعلیم و تربیت کا وہاں یا تو گزر نہیں، یاہے تو محض برائے نام۔ اس کے علاوہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ علم، بالخصوص علمِ دین کے ساتھ جب تک اتباع سنت اور عظمت اسلاف کی روح نہ ہو، اور جب تک اس کے مطابق وضع قطع سے لے کر مزاج و انداز تک ہرچیز کی تربیت کا اہتمام نہ ہو، اُس وقت تک وہ علم خواہ تحقیق و ریسرچ کے جس بام کمال تک پہنچ جائے، اسلام کے نزدیک اس کی کوئی وقعت نہیں۔انگریزی نظام تعلیم نے ایک صدی سے زائد کے عرصہ میں دل و دماغ اس درجہ مسموم کر دئے ہیں کہ اگر بالفرض عام تعلیمی اداروں میں علوم اسلامیہ کی تعلیم کا انتظام ہو بھی جائے تو اتباع سنت، عظمت اسلاف اور ٹھیٹھ دینی تربیت کا وہ انداز جو اسلامی مدارس میں متوارث چلا آتاہے، اور ان مدارس کی حقیقی روح ہے اس کے ان جدید تعلیمی اداروں میں مکمل طور پر منتقل ہونے کے لئے بہت طویل اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہوگی جس میں کامیابی کے آثار مستقبل قریب میں نظر نہیں آتے اور جب تک عام تعلیمی ادارے اس ٹھیٹھ دینی مزاج و مذاق میں پوری طرح رنگ نہ جائیں، اس وقت تک ایک موہوم امید کے سہارے دینی تعلیم کو ملتوی نہیں کیاجاسکتا، اور جہاں ایسا کیا گیا ہے وہاں عوام کی دینی حالت کی ابتری کھلی آنکھوں سامنے ہے۔ اس لئے دین کی حفاظت کاجذبہ رکھنے والے علماءاور عوام نے پاکستان میں قدیم طرز کے اسلامی مدارس کا قیام اور ان کا جاری رہنا ضروری سمجھا۔ کراچی میں دارالعلوم کا قیام: ہجرت پاکستان کے بعد فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ نے دو کاموں کا اپنا مقصد زندگی بنالیا تھا۔ ایک پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کے لئے جدوجہد، دوسرے کراچی میں یہاں کے شایان شان دارالعلوم کا قیام۔ابتدائی دوسال تو قرارداد مقاصد اور اسلامی دستور کی جدوجہد میں، جو انتہائی بے سروسامانی کے ساتھ ہورہی تھی، اتنی مشغولیت رہی کہ دارالعلوم کے قیام میں کامیابی نہ ہوسکی۔کراچی جو قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا دارالحکومت ہونے کے علاوہ لاکھوں مسلمانوں کی عظیم آبادی کا شہر تھا، اس میں کوئی ایسا مرکزنہ تھا جو یہاں کی دینی ضروریات کی کفالت کرسکے، اس لئے شدید ضرورت تھی کہ یہاں کوئی ایسا مرکز قائم ہو۔ چنانچہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نوراللہ مرقدہ نے نہایت بے سروسامانی کے عالم میں محض توکلاًعلی اللہ، صرف دو اساتذہ اور چند طلباءسے محلہ نانک واڑہ میں ایک پرانے اسکول کی بلڈنگ میں ایک مدرسہ اسلامیہ قائم فرمادیا جس کا نام دارالعلوم کراچی قرار پایا۔ یہ دارالعلوم شوال۱۳۷۰ھ مطابق جون ۱۹۵۱ء میں قائم ہوا۔ دارالعلوم کے قیام کے بعد پاکستان کے تمام صوبوں اور اضلاع سے طلباءجمع ہوگئے مزید برآں، ہندوستان، برما، انڈونیشیا، ملائشیا، افغانستان، ایران، ترکی وغیرہ اسلامی ممالک سے طلباءکا رجوع ہوا، جس سے بحمداللہ دارالعلوم کراچی نے بہت قلیل عرصہ میں عالم اسلام میں دین کے مضبوط قلعہ کی حیثیت اختیار کرلی جو دیکھتے ہی دیکھتے طالبان علوم نبوت اور داعیان دین کا مرکز بن گیا۔ اور بظاہر ایک بڑی عمارت بھی طلبہ کی کثرت سے آمد کے سبب تنگ محسوس ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی مسلسل دعاﺅں اور ان کے جذبہ صادقہ کی بدولت کورنگی میں چھپن (۵۶) ایکڑ کا وسیع رقبہ زمین مع ایک دو منزلہ عمارت اور پختہ کنویں اور ڈیزل انجن وغیرہ کے، جناب حاجی ابراہم دادابھائی مقیم جنوبی افریقہ نے لوجہ اللہ دارالعلوم کے لئے وقف فرمادیا۔ شکراللہ سعیہ و جزاہ فی الدارین خیر الجزائ۔ اس زمین پر جناب حاجی عبدالطیف صاحب باوانی مرحوم نے ایک لاکھ روپیہ خود اپنی ذات اور خاندان سے اور اٹھاون ہزار روپے اپنے حلقہ احباب سے فراہم کرکے تعمیر پر خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو دارین کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ چنانچہ شعبان ۱۳۷۶ھ مطابق ۱۷ مارچ ۱۹۵۷ء کو دارالعلوم، کورنگی کی موجودہ عمارات میں منتقل ہوگیا اور نانک واڑہ میں حفظ ناظرہ اور تجوید و قرات کے شعبے باقی رہ گئے۔ جامعہ دارالعلوم کراچی، پاکستان میں علوم دینیہ کا عظیم مرکز ہے، یہی وہ دارالعلوم ہے جس نے ہزاروں علمائ، فضلا، محدث ،مفسر، فقیہ و ادیب، قاضی و مفتی، زہّاد واتقیائ، سرفروش مجاہدین اور مبلغین اسلام کی جماعتیں تیار کرکے ہر لمحہ دین کی حفاظت و اشاعت میں نمایاں حصہ لیا، یہ مرکزِ علم و حکمت اس مادی دنیا میں ایک روشن مینار ہے جس کی شعاعیں اکناف عالم میں پھیل رہی ہیں۔ والحمدللہ علیٰ ذلک۔ بحوالہ جامعہ دار العلوم كراچي كا تعارف بزباني مولانا مفتي محمد تقي عثماني صاحب تعارف جامعہ دار العلوم كراچي
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ Last edited by شمشاد احمد; 03-09-11 at 02:30 PM. |
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (03-09-11), ھارون اعظم (04-09-11), قاسمی (23-02-12), نبیل خان (25-02-12), مرزا عامر (25-02-12), آبی ٹوکول (05-09-11), ابوسعد (28-02-12), حیدر (05-09-11), حسن قادری (05-09-11), سیفی خان (05-09-11), عبیداللہ عبید (03-09-11), عبداللہ آدم (25-02-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
شمشاد بھائی ! جزاک اللہ ، عمدہ تعارف دیا ہے آپ نے ۔ مجھے بہت شوق ہے یہ ادارہ دیکھنے کا لیکن کبھی کراچی جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔آپ کی وجہ سے اس کا کچھ دیدار تو ہوا ۔
میں نے سنا ہے کہ اس دینی ادارے میں ایک بڑی علمی لائبریری ہے ۔ کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اس دارالعلوم میں علم ِحدیث کے موضوع پر کیا نیا کام ہورہا ہے ؟ یہ بات میں نے کسی سے سنی ہے لیکن تفصیلات کا اسے بھی علم نہیں تھا ۔اور ادارے کی ویب سائٹ وغیرہ پر بھی اس کی کوئی تفصیل نظر نہیں آئی۔ ان کا ایک عربی سہ ماہی مجلہ میرے پاس آتا ہے لیکن اس دفعہ اس کی وصولی میں بھی تاخیر ہوئی ۔اس میں بھی اس موضوع پر کچھ نظروں سے نہیں گزرا۔ Last edited by عبیداللہ عبید; 03-09-11 at 10:03 PM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا | قاسمی (23-02-12), نبیل خان (25-02-12), ابوسعد (28-02-12), حیدر (05-09-11), شھزادباجوہ (05-09-11), شمشاد احمد (03-09-11), عبداللہ آدم (25-02-12) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جي عبيد بھائي دار العلوم كراچي كي لائبريري كافي بڑي ہے۔ جس عمارت ميں قائم ہے وہ تين منزلہ ہے جس كي اوپر كي دو منزلوں ميں لائبري تھي جبكہ كے نيچے والي منزل ميں دار الافتاء قائم تھا۔ يہ عمارت كوئي عام عمارت نہيں بلكہ اچھي خاصي طويل عمارت ہے۔۔ جس كا اندازہ آپ لائبريري كي اس تصوير كو بغور ديكھ كر لگا سكتے ہيں۔
![]() اس ميں كتابوں كے لئے ركھے گئے شيلف كافي سارے ہيں جو كہ اس طرح كے ہيں۔ ![]() لائبري ميں بلاشبہ ہزاروں كے حساب سے كتب ہيں جو جن ميں اسلامي موضوعات پر آپ كو ہر قسم كے موضوع پر تمام متداول كتب مل جائيں گے۔۔ اس كے علاوہ بھي بہت سي كتب كا ايك قيمتي ذخيرہ يہاں موجود ہے جن سے استفادے كے لئے موضوعات، مصنفين اور كتب كے اعتبار سے ايك منظم كٹلاگ بھي علم كے متلاشيوں كو كتاب تك پہنچنے ميں آساني فراہم كرتي ہے۔۔ آپ ديكھ سكتے ہيں۔ ![]() اپني پسنديدہ يا ضرورت كي كتب لے كر آپ الگ سے بنائي گئي مطالعہ گاہ ميں پرسكون ماحول ميں علم و تحقيق كا كام سر انجام دے سكتے ہيں۔۔ ![]() ليكن دار العلوم كے مستقبل كے جو تعميري منصوبہ جات تھے ۔الحمد للہ بيشتر پايہ تكميل تك پہنچ چكے ہيں ان ميں دار الافتاء الگ سے بنايا جانا بھي تھا جو كہ اب بن چكا ہے۔۔ اور اس طرح عمارت كي تينوں منزليں مكمل طور پر لائبريري كے لئے مختص ہو گئي ہے۔۔ ذيل ميں ايك ويڈيو لگا رہا ہوں اس ميں57 سيكنڈ سے 2 منٹ تك دار العلوم كي لائبري كے مختلف مناظر دكھائے گئے ہيں جن ان كو ديكھ كر آپ كو اس كي اس كي وسعت اور سہوليات كا اندازہ لگا سكتے ہيں۔۔۔ اس ميں آپ كو كچھ پراني كتب بھي نظر آئيں گي جن كے سامنے لوہے كے بكسے ركھے ہوں گے۔۔ يہ بعض قديم م كتب اور خطوطات كے علاوہ حضرت مفتي محمد شفع صاحب رحمة اللہ عليہ كي كتب ہيں۔۔ جو اس لائبريري كے اوپر كے ايك الگ پورشن ميں ركھے ہوئے ہيں۔ ذيل كي ويڈيو ميں5:40 منٹ سے ليكر 6:45 تك بھي لائبريري كے كچھ مزيد مناظر بھي ديكھے جا سكتے ہيں۔۔ موسوعة الحديث: حديث پر كيے جانے والے جس كام كا آپ نے پوچھا ہے اس كا وہ موسوعہ الحديث كے نام سے گذشتہ كئي برسوں سے ہو رہا ہے جس اس كام كا خلاصہ يہ ہے كہ يہ احاديث نبويہ صلي اللہ عليہ والہ وسلم كا ايك جامع انسائيكلو پيڈيا تيار ہو رہا ہے۔۔ جس پر تقريا گذشتہ ايك دھائي سے ايك ٹيم ماہرين كي زير نگراني كام كر رہي ہے۔۔۔۔ اللہ تعالي سے دعا ہے كہ ہماري زندگيوں ميں ہي جلد از جلد يہ خزيہ تيار ہو جائے تا كہ ہم بھي اس سے استفادہ كر سكيں۔۔۔ Last edited by شمشاد احمد; 04-09-11 at 12:56 AM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (04-09-11), قاسمی (23-02-12), مرزا عامر (25-02-12), آبی ٹوکول (05-09-11), حیدر (05-09-11), حسن قادری (05-09-11), عبیداللہ عبید (04-09-11) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
یہ موسوعۃ الحدیث کس قسم کا ہے کیونکہ علمِ حدیث کے مختلف موسوعات تیار بھی ہوچکے ہیں ، میرا مطلب یہ ہے کہ فقہی نقطہ نظر سے ہے یا کسی اور جہت سے ؟؟ کچھ تفصیل فراہم کریں ۔ کیا اس لائبریری میں طب کے موضوع پر کچھ عربی فارسی قدیم کتب ہیں ؟؟ اگر ہیں تو کیا ان کی فوٹو کاپی مل سکتی ہے قیمتا ؟؟؟ Last edited by عبیداللہ عبید; 04-09-11 at 11:08 AM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
باقي طب كے حوالے سے يقينا يہاں كتب ہوں گي۔۔۔ ليكن وہ كتني قديم ہيں اور كون كون سي يہ تو لائبريري سے ہي معلوم ہوسكتا ہے۔۔ ذيل ميں ديئے گئے پتہ اور فون نمبرز سے آپ معلومات حاصل كر سكتے ہيں۔۔۔ اگر فون كريں تو آپريٹر سے لائبريري كے انچارج سے بات كرنے كا كہيں۔۔ اور ان كو اپنا مسئلہ بيان كريں۔۔۔ انشاء اللہ كوئي راستہ نكل آئے گا۔۔۔ جامعہ دارالعلوم کراچی ، کورنگی انڈسٹریل ایریا ، کراچی پاکستان ۔ پوسٹ کوڈ:75180 فون جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی 021-35049774-6 021-35042705 021-35046882 021-35045338 فیکس 021-35032366 021-3504192 بحوالہ |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (22-02-12), قاسمی (23-02-12), نبیل خان (25-02-12), مرزا عامر (25-02-12), حیدر (05-09-11), حسن قادری (05-09-11), شھزادباجوہ (05-09-11), عبیداللہ عبید (05-09-11) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دار العلوم کراچی واقعی ایک عظیم درسگاہ ہے، علمی لحاظ سے بھی اور تعمیرات کے لحاظ سے بھی
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | قاسمی (23-02-12), حیدر (05-09-11), حسن قادری (05-09-11), شمشاد احمد (05-09-11), عبداللہ آدم (25-02-12) |
|
|
#7 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 67
کمائي: 1,877
شکریہ: 1,115
56 مراسلہ میں 117 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شمشاد بھائی بہت شکرایہ دار العلوم کراچی واقعہ ھی عظیم درسگاہ ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شھزادباجوہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
جزاک اللہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ تمام احباب كا شكريہ۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
جزاک اللہ شمشاد بھائی۔ 65 ایکڑط پر مشتمل وسیع وعریض عظیم الشان جامعہ
کا جامع انداز میں تعارف کرادیا |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 6
کمائي: 445
شکریہ: 12
4 مراسلہ میں 8 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ شمشاد بھائی
آپ نے دارلعلوم کا تعارف کرا کے کیا طالبعلمی کے ایّام یاد دلا دیے دارلعلوم میں گزارے ھوئے ایّام یاد دلانے کا شکریہ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,175
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مہینے میں ایک آدھ جمعہ تو دارلعلوم میں ہوہی جاتا ہے
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مجیب انڑ کا شکریہ ادا کیا | نبیل خان (25-02-12), شمشاد احمد (27-02-12) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,507
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ شمشاد بھائی
|
|
|
|
| نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (27-02-12) |
![]() |
| Tags |
| feature, pdf, url, کوئی, کراچی, گے, پسند, كا, ویب, نظر, مولانا, موضوع, محمد, www, اللہ, بھائی, تعارف, جانے, جامعہ, دفعہ, دعا, سنی, علمی, عمدہ, عربی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| یوسف رضاگیلانی تعاون کرنے والے وزیراعظم ہیں، چیف جسٹس کی تعریف | گلاب خان | خبریں | 0 | 12-03-11 06:43 AM |
| ::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب | ابن یعقوب | اقسام حدیث | 16 | 24-05-10 10:03 PM |
| تعارف | اداس ساحل | تعارف | 4 | 17-04-10 03:25 PM |
| میری ڈائری کا تعارف | بنت آدم | میری ڈائری | 23 | 04-04-10 03:26 AM |
| سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 20-02-08 02:34 AM |