واپس چلیں   پاکستان کی آواز > پروفیشنلز > تعلیم و تربیت



تعلیم و تربیت !Forum description


کسوة الکعبہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-02-11, 04:57 PM   #1
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,853
کمائي: 278,074
شکریہ: 1,154
6,266 مراسلہ میں 14,143 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کسوة الکعبہ

کسوة الکعبہ

السلام علیکم

غلاف کعبہ کو عربی میں ”کسوة الکعبہ“ کہتے ہیں اسے ہر سال بیب اللہ کو زیب تن کیا جاتا ہے، جو کہ بیت اللہ کی دیواروں کو ڈھانپتا ہے اور دیکھنے والوں کیلئے جاذبیت کا باعث بنتا ہے۔ یہ غلاف اب سعودی عرب کے شہر مکہ المکرمہ میں ام الجود نامی علاقے میں جدہ کے قدیم روڈ پر حدیبیہ کے مقام پر واقع ایک بہت بڑی فیکٹری میں تیار کیا جاتا ہے۔ یہ فیکٹری ایک سال کیلئے صرف 2 عدد غلاف کعبہ اللہ تیار کرتی ہے۔ ایک غلاف جو عام طور پر سب کو نظر آتا ہے بیرونی دیوار پر ڈالا جاتا ہے جب کہ دوسرا غلاف بیت اللہ کی اندرونی دیواروں پر ڈالنے کیلئے سبز رنگ کا ہوتا ہے۔ غلاف کعبہ حاکم وقت سعودی عرب کی طرف سے اللہ کے گھر کے لیے ہدیہ ہوتا ہے غلاف کے سامنے کی طرف سونے کے حروف سے عبارت کندہ کی جاتی ہے۔

غلاف کعبہ کا رنگ

غلاف کعبہ سیاہ رنگ کے ریشمی دھاگے سے بنے ہوئے کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے، یہ ہاتھ کی کھڈیوں اور جدید ترین مشینوں کے ڈریے ہوتا ہے اور نہایت خوب صورت طریقے سے اس کے اندر لفظ ”یا اللہ “ اور ”لا الہ الا اللہ“ کپڑے کے اندر ہھی لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ ابتداء میں غلاف کے تبدیل کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ کبھی سال میں ایک دفعہ اور کبھی ناقابل استعمال ہونے تک اسی طرح رہنے دیا جاتا تھا۔

زمانہ جاہلیت میں غلاف کعبہ کا ذکر

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے اسعد الحمیری کو گالی گلوچ کرنے سے منع فرمایا۔ یہ شخص یمن کے بادشاہوں میں سے ایک ہے۔ کیوں کہ یہ پہلا وہ شخص ہے جس نے بیت اللہ کو غلاف ڈالا اور ابن جریج نے نقل کیا ہے اہ اس نے تانے پر بنا ہوا سفید کپڑے کا غلاف ڈالا اور ایک دروازہ رکھا۔ حضرت زید بن ثابتؓ کی ماں بیان کرتی ہیں کہ جب انہوں نے زید بن ثابتؓ کو جنا تو اس وقت بھی بیت اللہ پر مختلف رنگوں کے کپڑوں سے بنا ہوا غلاف موجود تھا۔ ولید الوزرقی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نبی اکرم مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے بیت اللہ کی طرف دیکھ رہے تو اس پر مختلف ٹکڑوں سے بنا غلاف موجود تھا۔ قریش مکہ زمانہ جاہلیت میں غلاف کعبہ کے لیے مختلف قبائل سے چندہ جمع کرتے اور اس رقم سے غلاف تیار کروا کر بیت اللہ کو ڈالتے۔ یہاں تک کہ ابو ربیعہ المخزومی نامی تاجر یمن میں تجارت کرتا تھا۔ اس نے قریش سے مخاطب ہو کر کہا کہ ایک سال آپ غلاف ڈالیں اور ایک سال میں اکیلا بیت اللہ کو غلاف ڈالوں گا۔

غلاف کعبہ کا اسلام میں ذکر

خالد بن ابی المہاجرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عاشورہ) 10 محرم کو لوگوں سے خطاب فرمایا، یہ عاشورہ کا دن ہے اس دن سن ہجری مکمل ہوتی ہے اور بیت اللہ کو غلاف پہنایا جاتا ہے اور لوگوں کے اعمال اوپر بھیجے جاتے ہیں اور ابن جریج نے کہا کہ اسلام سے پہلے بیت اللہ کو غلاف اس وقت پہنایا جاتا تھا جب ہر شخص حج کیلئے مکہ سے نکل جاتا یہاں تک کہ بنو ہاشم کے تمام لوگ مکہ سے نکل جاتے تب لوگ بیت اللہ کو (9ذی الحجہ) یوم الترویہ کو غلاف ڈالتے جو کہ ریشم سے بنا ہوتا لوگوں کو بیت اللہ خوب صورت اور عظمت و شان والا دکھائی دیتا اور جب 10 محرم ہوتی تو اسے چار اوڑھا دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے زمانہ میں غلاف کعبہ دو حصوں میں ہوتا تھا یعنی ایک اوپر والی سائڈ کو رواء کہا جاتا اور نیچے کی سائڈ جسے ازار کہا جاتا۔ اور ابو لید الازوقی نے اپنی کتاب تاریخ مکہ میں ذکر کیا ہے کہ زمانہ جاہیت میں بیت اللہ کو چمڑہ کا خلاف ڈالا جاتا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی کپڑے سے غلاف ڈالا پھر حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ نے اپنے اپنے زمانہ میں مصری کا ٹن سے بنے ہوئے کپڑے کا غلاف تیار کروایا پھر ان کے بعد حجاج بن یوسف نے اپنے عہد میں ریشمی منقش کپڑے کا غلاف ڈالا۔ حبیب بن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو غلاف ڈالا، ابوبکرؓ، عمر فاروقؓ، عثمانؓ اور علی کرم اللہ وجہؓ نے بھی بیت اللہ کو غلاف ڈالا۔ ان کے بعد حجاج، عبداللہ بن زبیرؓ اور پھر امیر معاویہؓ اور ان کے بعد عبدالملک بن مروان نے بھی غلاف ڈالا اوجب مامون کا زمانہ خلافت آیا تو ان کو اہل مکہ نے خط لکھا کہ بیت اللہ کا غلاف پھٹ گیا ہے اور وہ بوسیدہ اور میلا ہو گیا اہر عیدالفطر قریب آ رہی ہے غلاف تبدیل کیا جائے تو خلیفہ نے سفید ریشم سے غلاف تیار کرنے کا حکم دیا جو 206 ہجری کو پہنایا گیا لہٰذا معلوم ہوا کہ زمانہ ابتداء کے اسلام میں مختلف رنگ اور مختلف کپڑوں سے غلاف تیار کیا جاتا رہا۔

مکہ المکرمہ کے جنوب میں شارع جدہ قدیم پر واقع فیکٹری ہے جوہر سال میں صرف غلاف ہی تیار کرتی ہے۔ یہ فیکٹری 1972ء کو وجود میں آئی کیوں کہ اس سے پہلے مختلف ممالک کی طرف سے مختلف رنگوں میں بنتا تھا جو بعض دفعہ ناقص بھی ہوتا تھا جسے سعودی حکمرانوں نے اپنے لیے معیوب سمجھا اور جلالہ الملک عبدالعزیز آل سعود نے سن 1392ھ الموافق 1972ء میں فیکٹری کی بنیادی رکھی جس میں کام کرنے کے لیے صرف سعودی باشندے مقرر کیے گئے جب سے فیکٹری میں آج کے دن تک غلاف کعبہ تیار ہو رہا ہے۔ رقم کئی دفعہ اس فیکٹری کا دورہ کر چکا ہے اس دفعہ سفر حج پر حجاج کو بطور خاص اس فیکٹری کا دورہ کرایا گیا تو کئی شعبہ جات کے متعلق معلومات اکٹھی کیں جومندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ قسم النسیج الیدوی:
ہاتھ سے کپڑا بننے والی کھڈیوں کا یونٹ، جس میں مختلف عربی باشندے ہاتھ اور پاﺅں سے چلنے والی کھڈیاں چلاتے ہیں جس پر اکثر گونگے بہرے لوگ کام کرتے ہیں اور تحریری چھاپے کے اوپر سے کڑھائی سونے کے تار سے کرتے ہیں۔

2۔ قسم النسیج الالی:
الیکٹرانک مشین کے ذریعے کپڑا تیار کرنے والا یونٹ، جس میں دنیا کی جدید ترین مشینوں کے ذریعے غلاف کا کپڑا تیار کیا جاتا ہے جس میں دھاگہ سے کپڑا بنانے، اس میں ڈیزائن ڈالنے اور دیگر کئی مراحل سے گزرتے ہوئے کپڑا تیار کرنے کا کام کیا جاتا ہے۔

3۔ المختہر:
لیبارٹری جس میں دھاگے کورنگا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ فیکٹری میں ایک اسٹور، ایک مینجمنٹ اور ایک پرنٹنگ کا شعبہ بھی ہے۔


غلاف کعبہ کا حدود اربعہ:

غلاف کعبہ کی لمبائی 41 میٹر ہوتی ہے اس کے اوپر والے ایک تہائی حصہ میں غلاف کعبہ کو باندھنے والی چوڑی پٹی ہوتی ہے جس کی چوڑائی 95 سینٹی میٹر تقریباً ایک گز ہوتی ہے اور اس پر چاندی پر پالش کیے ہوئے سونے سے قرآنی آیات لکھی جاتی ہے۔ اس چوڑی پٹی والے ٹکڑے کی لمبائی 47 میٹر ہوتی ہے جو 16 مجموعوں پر محیط ہوتی ہے اور بیت اللہ کے چاروں طرف غلاف کی چوٹی پر نصب ہوتی ہے جس پر اسلامی خطاطی میں سورة اخلاص اور قرآنی آیات الگ الگ مربع کی شکل میں خط ثلث میں تحریر کی جاتی ہیں جو عربی میں سب سے زیادہ خوب صورت خط ہے۔ جو بیت اللہ کے دروازے پر ڈالا جاتا ہے جس کے اوپر نہایت ترتیب اور خوب صورت کتابت سے قرآنی آیات اور دیگر اسلامی عبادتیں منقش ہوتی ہیں جو اسے غلاف کے دیگر حصوں سے زیادہ خوب صورت بنا دیتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق بیت اللہ کے غلاف پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً دو کروڑ ریال سے زیادہ ہیں جسے سعودی فرماں روا اپنی جیب سے خوش دلی سے ادا کر رہے ہیں۔

Taken from my Sis' diary. Thanks to her

زارا
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, قرآنی, نظر, مکہ, مکمل, ماں, معلوم, آج, اللہ, امیر, اسلام, اسلامی, تحریری, حکم, خوش, خلاف, خطاطی, زمانہ, سفر, سال, شہر, شخص, عہد, عظمت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 13-08-09 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger