| تعلیم و تربیت !Forum description |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,653
کمائي: 32,921
شکریہ: 9,769
1,374 مراسلہ میں 4,249 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمارے سروں سے ہزاروں میل اوپر سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کے نقشے ترتیب دیتاہوں یا سمندر کی تہوں میں سرنگ کے منصوبے ہوں ، ٹسٹ ٹیوب اور ما ئیکرو سکوپ کے ساتھ تحقیق ہو یا پچیدہ مشینری کو پو ری مہارت کے ساتھ استعمال کرنا ہو، نئی سے نئی کار کے خاکوں کو کمپیوٹر سکرین پر پیش کرنا ہو یا پچیدہ آلات کو چلتے ہو ئے درست کرنا ہو، آسمان کو چھوتی عمارات اور تا حد نظر پلوں کی تعمیر کے لیے تازہ ہدایات دینا ہو یا جدید ترین ٹیکنالوجی کی تنصیب کا کام ہو اور باہر کاروباری مذاکرات کرنا ہوں یہ سب کام انجینئرنگ کے ہیں ۔
انجینئرز کے بے شمار شعبے اور لاتعدادکام ہیں۔انجینئرز، سہولت دینے والے اور مسائل ومشکلات کو کم کرنے والے یہ لوگ ریاضی ‘ فزکس اور کیمسٹری کے علوم و فنون کو یکجا کرکے اس دنیا کورہنے کے قابل بناتے ہیں ۔ آپ اگر اپنی زندگی کے روزوشب پر غور کریں،صبح سے شام اور رات کا اندازہ کریں ‘ آپ کے کام آنے والی ہر چیز اور آپ کو سہولت پہنچانے والا ہر پہلو ،کسی نہ کسی شعبہ ہائے انجینئرنگ سے تعلق رکھتا ہے۔صبح اٹھتے ٹوتھ برش اور پیسٹ کا استعمال ہو‘کھانے اور ناشتے کی تیاری ہو‘کپڑوں کواستری کرنا ہو‘سکول‘کالج اور دفاتر کے لئے سائیکل ،موٹرسائیکل‘وین‘کاریا بس کا استعمال ہو‘کپڑوں اور جوتوں کے لئے میٹریل کا حصول اور ان کی تیاری ہو ۔ سپرسانک جیٹ ہوں یا باریک ترین سوئی‘انسانوں کی بیماریوں کے لئے ادویات کی تیاری اور فراہمی، پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا ہو یا مچھلیوں کی طرح پانی میں تیرنا ہو‘غرض چکا چوند کرنے دینے والی یہ موجودہ دنیا انجینئرنگ کی مرہون منت ہے۔ پتھر کے زمانے کے انسان نے پہیے کو ایجاد کیا۔یہ سائنس کا کمال تھا یا انجینئرنگ کا جمال۔اس میںکوئی شک نہیں کہ سائنس دان اور انجینئر، طبعی طور پر متجسس (جستجو کرنے والا ، تلاش کرنے والا) ہونے کی بنا پر ، کائنات میں ہونے والی حرکات وسکنات پر سوال اٹھانا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔ لیکن دونوں کے زاویے ہائے نظر اور نقطہ ہائے فکر میں بنیادی فرق ہے۔سائنس دان اشیاءکی حقیقت اور اس کے فہم پر توجہ دیتا ہے جبکہ انجینئراشیاءکے استعمال اور انسانوں کے لئے اسے مفید بنانے پر توجہ دیتا ہے۔ آسان اور مختصر الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”انجینئرنگ، سائنسی ایجادات اور دریافتوں کی وہ عملی شکل ہے جس سے روزمرہ زندگی کے معیارکو کم از کم اخراجات کے ساتھ بہتربنایاجاسکے“۔ انجینئرنگ کے شعبے : انجینئرنگ ایک ایسا وسیع میدان ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ علوم وفنون کی ترقی نے تخصص(Spaciafaction) کو پروان چڑھایا۔ لہٰذا انجینئرنگ میں بھی شعبہ جاتی تقسیم عمل میں آئی ۔ انجینئرنگ کے ہر طالب علم کو کسی ایک شعبہ کے لئے تیارکیاجاتا ہے ۔لیکن ایک انجینئر اپنے سے قریب دوسرے شعبوں کے بارے میںمعلومات نہ رکھتا ہو تو عملی میدان میں اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مثلاً اگر ایک مکینیکل انجینئر، اگر الیکٹریکل اور الیکٹرانکس کے شعبوں کی معلومات نہ رکھتا ہو تو بڑی صنعت اور مشینری پر کام کرنا تو دور کی بات ہے محض واشنگ مشین کا بنانا بھی دشوارہوجائے گا۔اسی لئے انجینئرنگ کے ہر طالب علم کو ابتداً اور مشترک مضامین پڑھائے جاتے ہیں اور بعد میں سپیشلائزیشن کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔ لہٰذا ایک کامیاب اور اچھا انجینئر وہی ہوگا جو اپنے شعبے کے ساتھ ساتھ قریب قریب کے دوسرے شعبوں کے بارے میں مناسب حد تک معلومات رکھتا ہوگا۔ انجینئرنگ کے تمام شعبے یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ان میں اعلیٰ یا ادنیٰ کا کوئی تصور نہیں۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ طالب علم کی شخصیت اور صلاحیت سے کون سا شعبہ مطابقت رکھتا ہے۔بالعموم معاشرے میں تمام شعبوں کی طلب ایک جیسی ہی رہتی ہے مگر کچھ خاص حالات میں تھوڑاسا فرق ضرور آتا ہے۔ کسی ملک کی وقتی ضروریات کے پیش نظر کوئی خاص شعبہ کچھ عرصے کے لئے آگے نظر آتا ہے۔ انجینئرنگ کی تعلیم: اب سوال یہ ہے کہ آپ انجینئربن کیسے جاتے ہیں؟انجینئرنگ کے سفر کا باقاعدہ آغاز نویں جماعت میں سائنس کے مضامین رکھ کر گیارھویں اور بارھویں میں پری انجینئرنگ (ریاضی‘فزکس اور کیمسٹری) کے مضامین اختیار کرکے کیاجائے گا۔ پاکستان میں بی ایس سی (B.Sc. Engg.)یا بی ای(B.E.)کی ڈگری کے ساتھ ۹۳ مختلف شعبوں میں تعلیم دی جارہی ہے۔ یہ چارسالہ ڈگری سرکاری اور نجی جامعات یا انجینئرنگ کالجز میں دی جارہی ہے ۔ البتہ تین (آرکیٹکچریل انجینئرنگ ، بائیو میڈیکل انجینئرنگ اور بائیو انجینئرنگ) شعبہ جات ایسے ہیں جو پانچ سالہ ہیں۔ آپ کی سہولت کے لیے انجینئرنگ کے تمام شعبہ جات کو چھ (۶) گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔ تاکہ آپ آسانی سے جان سکیں کہ کون سا شعبہ کس کے قریب ہے اور اپنے لیے فیصلہ کرتے ہوئے مستقبل کے منظر نامے کو سمجھ سکیں۔ داخلے کا طریقہ کار: پاکستان میں انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں میںداخلے کے لئے ہر صوبے کا اپنا اپنا الگ نظام اور طریقہ کار ہے۔ ۱۔ وہ طلبہ جنہوں نے ایف ایس سی (پری انجینئرنگ ) کے ساتھ کی ہو ، وہ انجینئرنگ میں داخلہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں ۲۔ وہ طلبہ جنہوں نے آئی سی ایس (ریاضی ، فزکس اور کمپیوٹر) کے ساتھ کیا ہو ، وہ الیکٹریکل ، الیکٹرانکس ، کمپیوٹر ، میکاٹرونکس ، ٹیلی کمیونیکیشن، ایویوانکس اور سوفٹ وئر انجینئرنگ کے لیے داخلہ درخواست دے سکتے ہیں۔ ۳۔ وہ طلبہ جنہوں نے ایف ایس سی (پری میڈیکل) کی ہو وہ چند اداروں میں بائیو انجینئرنگ اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے لیے داخلہ درخواست دے سکتے ہیں۔ ۴۔ وہ تمام طالب علم جو کسی پاکستانی بورڈ کے علاوہ کسی اور سسٹم مثلاً او لیول / اے لیول / امریکن سسٹم / عرب سسٹم وغیرہ سے پڑھے ہوں انہیں مساوی سند حاصل کرنا ہو تی ہے۔ ۵۔انجینئرنگ میں داخلے کے لئے F.Sc(پری انجینئرنگ )میں ساٹھ فیصد سے زائد نمبر لینا ضروری ہے۔ ۶۔ طالب علم کی عمر ۳۲ سال سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ ۷۔ سرکاری تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے کے لیے طالب علم کے پاس ڈومیسائل کا ہونا ضروری ہے۔یادرکھیں ڈومیسائل طالب علم کے آبائی ضلع سے جاری ہوتاہے۔ ۸۔صوبہ پنجاب اور سرحد میںتمام اداروں میں داخلے کے لیے ایک ہی انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ ،بلوچستان اور کشمیر میں تمام ادارے اپنا الگ الگ انٹری ٹیسٹ منعقد کرتے ہیں۔ ۹۔ٹیسٹ کا رزلٹ آنے کے بعد طالب علم کو اپنی پسند کے تعلیمی اداروں میں داخلہ فارم جمع کرانا ہوتا ہے ۔ ۰۱۔اس داخلہ فارم میں طالب علم کو اپنی پسند کے تمام شعبوں کے نام لکھ دینے چاہئیں۔ ۱۱۔داخلہ فارم (انٹری ٹیسٹ کے بعد ) جمع کرانے کی آخری تاریخ گزرنے کے کچھ دن بعد کامیاب امیدواروں کا اعلان کردیاجاتا ہے ۔ ۲۱۔امیدواروں کی کامیابی کا تعین میرٹ کے مطابق کیا جاتا ہے ۔ہر صوبے کا میرٹ کا نظام مختلف ہے مگر اصول ایک ہی ہے۔عمومی طور پر میرٹ بناتے وقت میٹرک اور F.Scکے نمبروں اور انٹری ٹیسٹ کی مقررہ شرح کی بنیاد پر تیار کیاجاتا ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں کے میرٹ بنانے کا فارمولا الگ سے دیا جارہا ہے۔ ۳۱۔کامیاب امیدوارمقررہ تاریخ تک فیس جمع کراتے ہیں۔ ۴۱۔سیلف فنانسنگ کی بنیاد پر داخلہ لینے والوں کا بھی ٹیسٹ میں شامل ہونا ضروری ہے۔جبکہ ان کا میرٹ الگ بنتا ہے۔ ۵۱۔ سیلف فنانسنگ کی بنیاد پر داخلہ لینے والے طلبہ اوپن میرٹ پر بھی اپلائی کر سکتے ہیں۔ ۶۱۔GIKI, NUSTاور دیگر نجی اداروں کا ٹیسٹ اور داخلوں کا طریقہ کاراپنا ہے۔ ۷۱۔بعض تعلیمی ادارے ٹیسٹ کی جگہ SAT-IIکا رزلٹ تسلیم کرتے ہیں۔ ۸۱۔ مخصوص نشستوں پر داخلے کے لیے ٹیسٹ میں شامل ہونا ضروری ہے۔ ۹۱۔وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں تمام صوبوں کے رہنے والے طلبہ داخلہ کی درخواست دے سکتے ہیں۔البتہ ہر ادارے کا طریق کار مختلف ہے۔ تعلیمی ادارے: پاکستان میں اس وقت 66 ادارے انجینئرنگ کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ ان میں یونیوڑسٹی ، کالج ، انسٹی ٹیوٹ اور ذیلی ادارے سب شامل ہیں ۔ ان کے شعبہ جات/ مضمون کو پاکستان انجینئرنگ کونسل کی منظوری حاصل ہے۔ نوٹ: طلبہ‘اساتذہ اور والدین کو یہ بات مد نظر رکھنا چاہیے کہ جس شعبے میں آپ داخلہ لینے جارہے ہیں وہ شعبہ پاکستان انجینئرنگ کونسل سے منظور شدہ ہونا چاہیے۔یادرکھیں پاکستان انجینئرنگ کونسل تعلیمی ادارے کو منظور نہیں کرتی بلکہ اس میں پڑھائے جانے والے مضمون کو کرتی ہے ۔لہٰذا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک یونیورسٹی میں ۸یا۹ شعبے تو منظورشدہ ہوں مگر کوئی دو شعبے ایسے ہوں جو منظور شدہ نہ ہوں۔ اخراجات: پاکستان میں سرکاری تعلیمی اداروں میںمجموعی فیس 40,000سے لیکر 70,000 روپے تک ہے ۔ البتہ NUST میں 270,000, روپے تک ہے۔ جبکہ نجی اداروں میں2 لاکھ سے 5لاکھ روپے تک جبکہ GIKI میں 10لاکھ روپے تک ہے۔ کیامجھے انجینئرنگ کو اپنا کیرئیر بنانا چاہیے۔ اگر آپ انجینئرنگ میں جانے کا شوق رکھتے ہیں تو ذیل میں دیے گئے نکات پر توجہ دیں۔ ان پر بار بار غور کریں ۔ بڑوں کی مشاورت بھی حاصل کریں اور اپنے آپ کے بارے میں بالکل درست فیصلہ کریں۔ ۱۔متجسس ( Curious): کیا مختلف موقعوں پر اور مختلف اشیاءکو دیکھ کر ، آپ کے ذہن میں سوالات ابھرتے ہیں جیسے کیوں اور کیسے وغیرہ ۔ ۲۔ریاضی(Math): آپ کی ریاضی بہت اعلیٰ سطح کی ہونی چاہیے۔یادرکھیں اوسط درجے (Average)کی ریاضی کے ساتھ آپ انجینئرنگ میں بہتر انداز سے نہیں چل سکیں گے۔ ۳۔ فزکس (Physics): فزکس نہ صرف آپ کو اچھی طرح آنی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ آپ کی دوستی ہونا ضروری ہے ۔ سکول کی سطح پر پڑھی ہوئی فزکس عمر بھر آپ کے ساتھ رہے گی ۔ لہذا فزکس میں گہری دلچسپی کے بغیر آپ کامیابی کی منزلیں طے نہیں کر سکتے۔ ۴۔جدت پسند: معاشرتی ضروریاتی اور مشکلات کو نئے سے نئے اور بہتر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ ۵۔تجزیاتی: تخلیق کی جانے والی شئے اور اس کے تمام اجزاکا مختلف حالات ، ضروریات اور مدت کے لحاظ سے تجزیہ کرنا ایک انجینئر کا بنیادی کام ہے ۔ ۶۔ٹیم ممبر: دوسرے شعبوں سے مختلف انجینئرنگ میں آپ کو یا تو ٹیم ممبر کے طور پر کام کرنا پڑتا ہے یا پھر آپ ٹیم لیڈر ہوں گے ۔ لہذاآپ کو دوسروں کے ساتھ مل کر ہی کام کرنا ہوگا۔ انجینئرنگ اور عملی زندگی: یہ شعبہ ان چند شعبوں میں سے ایک ہے۔جس کے کامیاب طلبہ کی بڑی تعداد انجینئرنگ کے آخری سال میں ہی کسی کمپنی کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے ۔ یہ کام دو طرح سے ہوتا ہے۔ ۱۔بعض بڑی کمپنیاں آخری سال میں یونیورسٹی میں ہی انٹرویو کرتی ہیں اور انتخاب کرلیتی ہیں۔ ۲۔طلبہ کو آخری سال میں پراجیکٹ کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام اساتذہ کی راہنمائی میں اور بڑی کمپنیوں سے مل کر مکمل کیاجاتا ہے۔اگر پراجیکٹ میں کارکردگی بہتر رہے تو عام طو رپر کمپنیاں ملازمت کی پیش کش کردیتی ہیں۔ جو طلبہ ان دونوں مذکورہ طریقوں سے ملازمت حاصل نہ کرسکیں وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد خود ملازمت تلاش کرلیتے ہیں ۔ کچھ طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اندرون ملک یا بیرون ملک کی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ یہاں ایک بڑااہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ انجینئر عملی زندگی میں کس طرح کے کام کرتا ہے۔ہرشعبے کے انجینئرکو مختلف موقعوں پر مختلف نوعیت کے کام کرنے ہوتے ہیں ۔ پیداوار کے لئے تحقیق کا کام ہو یااس تحقیق کی بنیاد پر اس کی تیاری ، خاکہ بنا کر اس میں رنگ بھرکر ادار ے کی انتظامیہ سے اس کی منظوری اور پھرپیداواری ضروریات کی فراہمی، مقررہ جگہ پر تمام تر ضروری سامان فراہم کرکے منصوبے کو عمل میں لانا اور تمام تر پیداوار کا تجزیہ کرکے مقررہ معیار کے مطابق مارکیٹ میں برائے فروخت پیش کرنا۔یہ سارے کام انجینئرز ہی کے ہیں۔ انجینرنگ کے شعبہ کو اختیار کرنے والوں کا طرززندگی کو ئی لگا بندھا نہیں ہو تا۔ انجینئرکی زندگی کا کوئی دن بھی محض روایتی دن نہیں ہوتا۔ ان کا لباس وہی بہتر ہو تا ہے جو اس دن کے کام کے لیے مناسب ہو تا ہے۔ ٹی شرٹ سے لیکر سوٹ تک ہر چیز درست ہے اگر وہ اس مو قع کی مناسبت سے درست ہے۔ صبح ۹ سے شام ۵ بجے تک صرف میز پر بیٹھ کر کام کام کوئی تصور نہیں ہے ۔ انجینئرنگ میں بہت متحرک رہتے ہوئے آفس اور سا ئٹ کو ایک ساتھ رکھنا ہو تا ہے۔ (یوسف الماس) کیاآپ انجینئرنگ کرنا چاہتے ہیں؟ (یوسف الماس) - Open Source تعلیمی مضامین , KARA ربط
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | asakpke (05-07-11), فیصل ناصر (04-07-11), فاروق سرورخان (05-07-11), کنعان (05-07-11), محمدمبشرعلی (04-07-11), معظم (05-07-11), wajee (04-07-11), اویسی (05-07-11), احمد بلال (06-07-11), طارق راحیل (04-07-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت خوب کافی تفصیلی مضمون لکھا گیا ہے
مبارک باد قبول فرمایئے لوگوں کی رہنامئی ہوگی کافی |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
بغور دیکھئے، دنیا کی ہر چیز دو بار بنی ہے ۔ ایک بار کسی انجینئر کے تصور میں اور دوسری بار اس انجینئر کے ھاتھ سے ۔ دنیا میںسب کچھ انجینئروںنے ہی بنایا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ بھی کوئی بناتا ہے وہ انجینئر ہوتا ہے
![]() حتی کہ جن آلات سے ڈاکٹر علاج کرتا ہے وہ بھی کسی انجینئر نے ہی بنائے ہوتے ہیں۔ کسی عمارت کو دیکھئے کار کو دیکھئے ، مشینری کو دیکھئے الیکٹرانکس آلات کو دیکھئے۔ سب انجینئرز کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ اگر انجینئرز نے اس دنیا کی تعمیر میںبہت بڑا کردار ادا کیا ہے ۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,087
کمائي: 19,170
شکریہ: 9,216
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
معلومات میں اضافہ کرنے کا بہت بہت شکریہ
کیا یہ اخراجات ماہانہ ہیں یا سالانہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اقتباس:
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فارم, فروخت, کمپیوٹر, کمال, پاکستان, پاکستانی, پسند, لوگ, نظر, مکمل, موجودہ, مسائل, انتظامیہ, اعلیٰ, تلاش, تعلیم, حل, درخواست, زندگی, سفر, سائنس, شام, صلاحیت, صنعت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ** عافیہ صدیقی کیلئے کوئی محمد بن قاسم نہیں؟ | رانا امر | خبریں | 7 | 13-06-11 04:01 PM |
| اختلاف کیا ہے؟ اختلاف کس کو کہتے ہیں؟ | خرم شہزاد خرم | عمومی بحث | 40 | 20-11-09 04:19 PM |
| کیا کرسکتے ہیں؟ | اکرم | مائیکروسوفٹ ایکسیس | 2 | 01-07-09 06:58 AM |
| کیا آپ ینکریمنٹ لینا چاہتے ہیں؟ | ام طلحہ | قہقہے ہی قہقے | 0 | 17-10-08 09:32 AM |