| تعلیم و تربیت !Forum description |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
تخلیقی صلاحیت کسی کی میراث نہیں ،ذہن کا مثبت استعمال کرنا سیکھئے ،
صرف 6 بنیادی اصولوں پر عمل کر کے آپ بھی تخلیقی سوچ کے مالک بن سکتے ہیں سائنسی ایجادات نے ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے ،گزشتہ برسوں کے مقابلے میں آج سائنسی ایجادات کی بدولت زندگی نہایت سہل اور آسان سے آسان تر ہو تی جارہی ہے ۔ چاہے گھریلو کا م ہوں یا بڑے پیمانے پر کارخانوں کے معمولات ہر شعبہ ہائے زندگی میں نت نئی سائنسی ایجادات اورآلات کی آمد نے انسان کی زندگی کو بہت آرام پہنچایا ہے اور بلا شبہ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ معاشرے کی ترقی میں سائنسی ایجادات نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔معاشرتی ترقی کی بہترین مثال جاپان کے جدیدترین ٹیکنالوجی سے تیار کر دہ روبوٹس ہیں جن کو دنیا بھر میں شہرت ملی ۔اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں میں ٹیکنالوجی کی آمد نے بھی تہلکہ مچایا ہے اور اس ٹیکنالوجی کی بدولت ہی آج معاشی ترقی عروج پر ہے ۔ان سائنسی آلات کی تخلیق کے پیچھے جن افراد کا ہاتھ ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے ۔دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے موجدین نے اپنی لگن اور جستجوکے باعث دنیا میں اپنی موجودگی اور اہمیت کو اجاگر کیا اور ان کی ایجاد کردہ تخلیقات کی بدولت انسانی تہذیب کی ترقی کے نئے دروازے کھلی۔معاشرے کے ایک عام فرد کے لئے یقینا یہ موجد باعث حیرت ہوں گے اور معاشرہ میں بسنے والا ہر عام فرد ضرور یہ سوچتا ہوگا کہ ایسی کون سی صلاحیت ہے جس کی بنا پر معاشرے میں بسنے والے یہ لوگ عظیم تخلیقات کے موجد بن جاتے ہیں ۔ سائنسدانو ں کی متفقہ رائے ہے کہ ہر انسان سوچنے ، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اگر و ہ ان صلاحیتوں کو بروقت اور صیح معنوں میں استعمال کرے تو کامیابی اور دولت اس کے قدم چومے گی ۔برطانیہ کے ایک عام شہری کا قصہ زیر غور لائیں ۔جان کاتھوپ جو کہ لندن کا رہائشی تھا اس کو اپنے وسیع و عریض لان کی صفائی اور پودوں کی تراش خراش میں سخت دقت کا سامنا تھا ۔وہ اپنے ویکیوم کلینرvacuum cleaner)کے ذریعے جب بھی اپنے لان کی صفائی شروع کرتا تو دو مسئلے ہمیشہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ۔پہلا مسئلہ تو یہ پیدا ہوتا کہ اس کے ویکیوم کلینر کے پنکھے میں گیلے پتے پھنس جاتے اور یہ پتے کلینر کو جام کردیتے جبکہ دوسری طرف کلینر کا بیگ جب بھرجاتا تو ویکیوم کلینر صفائی کرنا بند کردیتا۔جان کے نزدیک یہ بہت مشکل کام تھا ۔جب بھی جان کا اس مسئلے سے واسطہ پڑتا وہ پریشان ہوجاتا ۔ایک ایسے ہی دن جب جان کے لئے ویکیوم کلینو سے مزید کام لینا مشکل ہوگیا اور وہ مکمل طور پر ہمت ہار چکا تو وہ مایوس ہو کر اپنے لان میں بسکٹوں کے ساتھ چائے نوش کرنے لگا ۔چائے پیتے پیتے وہ سوچ میں گم ہوگیا اور بالآخر اس کو مسئلے کا حل مل گیا اور کچھ عرصہ بعد جان نے اپنے دیرینہ مسئلے سے چھٹکارہ پالیا ۔جان نے اپنے ویکیوم کلینر میں ایک اضافی پائپ کا اضافہ کیا جس کے ذریعے سے گارڈن کا تمام کچرا الگ سے منسلک ایک چیمبر میں جمع ہوجاتا اور پھر نہ جان کے ویکیوم کلینر میں گیلے پتے پھنستے اور نہ ہی جان کو بیگ بھرجانے کی شکایت ہوتی ۔آج دنیا بھر میں جان کی تخلیق کردہ ایجاد کو استعمال کیا جا تا ہے جس کے باعث گھنٹوں کا کام منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہی۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آپ بھی کسی ایسی چیز کے موجد ہو سکتے ہیں؟ ؎؎؎کائنات میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ حیر ت کا سبب ہے تووہ ’’دماغ ‘‘ ہے ۔ حالیہ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دماغ ایک سیکنڈ میں 400کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 10لاکھ نیورونز الیکڑوکمیکل سگنلز کے ذریعے دماغ اور جسم کے دیگر حصوں سے رابطے کا کام کر تاہے ۔ آپ لوگوں نے بے شمار کامیاب ترین لوگوں کی سوانح حیات کا روز مطالعہ کیا ہو گا ، جو کبھی کسی پسماندہ گائوں یا کسی شہر میں گم نام زندگی بسر کر رہے تھے لیکن صرف اس وقت تک جب انہوںنے کچھ کر گزرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ اپنے دماغ کو استعمال کر کے آ پ اپنے کئی مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں؟ زیڈ ایکس (ZX)سیریز کمپیوٹر کے موجد سرکلائیو سن کلیئر بلا ناغہ ورزش کر تے ہیں ۔ انہوںنے اپنی تخلیق کر دہ کمپیوٹر کی کامیابی میں ورزش کو سنگ میل قرار دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جب آپ ورزش کرتے ہیں تو دماغ ایک خاص پر سکون کیفیت میں چلا جا تاہے اس کیفیت میں انسان کا دماغ مثبت اور بہتر انداز میں کام کر تا ہے تخلیقی خیالات جنم دینا شروع کر دیتا ہی۔ انہوں نے بتایا کہ عموماً لوگ ورزش کو جسم مضبوط بنانے کیلئے کر تے ہیں جن کامقصد محض زیادہ سے زیادہ اپنے جسم کو مشقت میں ڈالنا ہو تا ہے جس کی وجہ سے دن بھر جسم میں درد محسوس کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورزش کرتے وقت اپنے ذہن اور جسم کو پر سکون رکھیں اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہوں۔ سن کلیئر کو اس وقت شدید اضطراب کا سامنا کر نا پڑا جب وہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی موٹر سائیکل کے ٹائرز میں کاربن فائبر کا استعمال کر ے یا میگنیشم کا۔ سن کلیئر نے بتایا کہ مجھے میرے سوال کا جواب ورزش کے دوران آیا۔ اس سے مجھے پتہ چلا کہ میں اگر اپنے دماغ کا استعمال پرسکون انداز سے کروں تو میں اپنے مسائل کا حل باآسانی تلاش کرسکتا ہوں۔اپنا قلم اور ڈائری ہر وقت تیار رکھیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سوسن گرین فیلڈ ، جنہوں نے اپنی تصنیفThe Human Brain"لکھی ہے کا کہنا ہے کہ انسان کا دماغ ایک خاص کیفیت اور انداز میں کام کر تا ہے اور کسی وقت بھی اہم نوعیت کے مسائل کا حل پیش کر دیتا ہے ۔ انہوںنے کہا ایک محتاط اندازے کے مطابق کسی پر یشانی کا حل ہو یا تخلیقی خیالات کی آمد عموماً کسی کام کے دوران یا رات بستر میں نیم غنودگی کی حالات میں ظہور پزیر ہو تے ہیں ۔اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ مسئلے کے حل یا تخلیقی خیالات پر نیند کو اہمیت دیتے ہیں اور اسطر ح صبح کی آمد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیںاور ایک خواب کی طرح خیال بھی اپنی ایک مدہم سی تصویر چھوڑ جا تاہے ۔بیک اسٹریچر ایجاد کرکے عالمی شہرت حاصل کرنے والے موجد نیل سمر اپنے کامیاب تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک رات جب میں اپنے بستر پر نیم سرگوشی کی حالت میں تھاکہ اچانک میرے دماغ میں بیک اسڑیچر ایجاد کرنے کے خیال نے جنم لیا اور میں نے اپنے بستر چھوڑ کر قلم اور کاپی پر اپنے خیالات کو تفصیل سے لکھ لیااور یہ ہی میر ی کامیابی کی پہلی سیڑھی تھی۔نیل سمر کا طریقہ کار ہمارے معاشرے میں عیب کا باعث سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ آک کل کے زمانے میں کاغذ اور قلم کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے اور اگر کوئی شخص اپنے پاس کاغذاور قلم رکھتا ہے تو اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر ہمیں نیل سمر کے جذبے کو اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے پاس موجود کاغذ اور قلم کی ہی بدولت وہ اپنے خیال کو تحریری شکل میں لکھنے میں کامیاب ہوگیا اور اسی کی بدولت اس نے بیک اسٹریچر جیسی بہترین ایجاد دنیا میں پیش کی۔ تنقید کامیابی کی ضمانت ہے دنیا کے کامیاب اشخاص کی شخصیت کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان اشخاص نے ہر مقام پرمثبت تنقید کا سامنا کیا۔ مثبت تنقید آپ کے خیالات کو مزید نکھار سکتی ہے ۔ اپنے خیالات کو دیگر دوست و احبا ب سے شیئر کریں ان کے منفی اور مثبت پہلوئوں پر نظر ثانی کریں اور اپنے دوست کی تنقید کو سمجھنے کی کوشش کر یں اور کوئی حل تلاش کریں ۔ اگر کوئی آپ کے خیالات پر تبصرہ کرنے کو تیار ہوتا ہے تو اس کا مطلب وہ شخص آپ کے خیالات میں دلچسپی رکھتا ہی۔پام اور فل رچرڈسن ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزاررہے ہیں ۔اپنی پیشہ وارانہ زندگی سے رٹیائرڈ ہونے کے بعد دونوں نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو ضائع نہیں ہونا دیا اور اپنے تجربے کی بنیاد پر انہوںنے میڈیکل سائنس سے منسلک ایک آلہء ایجاد کیا۔ پام کہتا ہے کہ میں ہر صبح فل کے ساتھ اپنے خیالات پر بحث کر تا ہوں۔ اس نے کہا کہ میرا مزاج فل کے مقابلے میں بہت مختلف ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو میں نے سوچ لیا اسکو با آسانی کیا جا سکتا ہے جبکہ فل بنیادی طور پر ٹیکنیکل شخصیت کی حامل ہے وہ ان مسائل کی جانب میر ی توجہ دلاتی ہے اس طرح ہم کسی حتمی فیصلہ پر پہنچ جا تے ہیں۔ پام نے کہا کہ بعض اوقات میرے خیالات کا نا سر ہو تا ہے اور نہ ہی پیر لیکن میں ان خیالات کو قید نہیں کر سکتا ۔ ہم دنوں میڈیکل کے مختلف آلات پر بحث کر تے ہیں اور آخر کار اپنے مسئلے کا حل تلاش کرلیتے ہیں اسطرح ہمارا وقت برباد ہونے سے بچ جا تا ہے اور تھوڑے وقت میں ہی بہتر انداز میں کام سر انجام ہو جا تاہے ۔ ماحول کی تبدیلی بھی کار آمد ہو سکتی ہے سر کلائیو سن کلیئر جو کہ zeta 3کے بھی موجد ہیں نے بتایاکہ جب کبھی میں دوسری جگہ جاتا ہوں یعنی کسی دوسرے شہریا ساتھ والے ٹائون میں تو عموماً میرے ذہین میں مختلف خیالات جنم لیتے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ سائیکل کے ساتھ منسلک zeta 3کا الیکڑونک آلہ بنانے کا خیال مجھے ہانگ کانگ سے لندن جاتے ہوئے آیا۔ پروفیسر گرین فیلڈ کے مطابق ماحول کی تبدیلی انسان کو دو بارہ زندہ کر دیتی ہے اور وہ اپنے اردگر د کی چیزوں کو باغور جائز ہ لیتا ہے جس کی وجہ سے دماغ کی اس خاص کیفیت میں خیالات کے آمد بھی ہو جاتی ہی۔ یقین کیجئے آپ کر سکتے ہیں، وہ سب کچھ جوآپ سوچتے ہیں یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی دماغ کچھ مخصوص گھنٹے کام نہیں بلکہ انسانی زندگی کے آخری سانس تک اسکا دماغ کام کر تا ہے ۔ انسان اپنی ذمے داری سے اگر بے نیاز ہو جائے تو دماغ کو بھی زنگ لگ جا تا ہی۔ لیکن اگر وہ معاشرتی مسائل کے حل یا کسی گھریلومیشن کی ا یجاد کیلئے اپنے زہین پرزور دیتا ہے تو مسلسل محنت کے بعد وہ اپنے مسائل کا حل تلاش کر لیتا ہے ۔ وہ حل معاشرتی مسائل ہو یا کسی مشین یا آلہٰ کی ایجاد۔ اسکو ٹ لینڈ اور یو کے کے نامور بزنس مین بیری جنز کو اس وقت سخت تشویش ہو ئی جب ایک بلڈنگ کے ایک فولر پر اچانک آگ بڑھ ک اٹھی اور یکھتے ہی دیکھتے پورے فلور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ فائر بریگیڈ کی آمد سے قبل بے شمار لو گ لقمہ اجل بن چکے تھی۔ اس المناک وااقعے کے کچھ روز بعد بیری اپنیکمرہ خوابگواہ میں ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال نے جنم لیا جس نے بیری کو ایک کامیاب بزنس مین بنادیا۔ بیری کے ideaکے متعلق سوال کیا تو اس نے کہا کہ گزشتہ دونوں ایک حادثے میں آگ سے ہلاک ہونے والی کی بڑی تعداد نے میری شخصیت کو بہت متاثر کیا اور میں سوچ میں رہتا تھا کہ کوئی ایسا طریقہ ہو نا چاہئے جس سے لوگ اپنی جان بچا سکیںناکہ فائر بریکیڈ کے آنے کا انتظار کریں۔ بیری نے بتایا کہ میں نے ٹیلی ویژن پر ایک جادوگر کو دیکھا جو ٹیلی اسکوف کو کھینج کر کھول اور بند کر رہا تھا یہ ہی وقت تھا جب میں نے ایسی سیڑی بنائی جو کو باآسانی کھول اور بند کیا جاسکے جو ایک بیڈ کے نیچے آرام سے آسکے۔ لندن کے تخلیقی مضامین پر مشتمل میگزین کے ایڈیٹر ڈیوڈ وارڈل کا کہنا ہے کہ: ’’ہر وہ شخص جو کسی بھی چیز میں بہتری پیدا کرنے کے لئے تخلیقی سوچ رکھتا ہے وہ موجد ہے " تحریر:وقاص علی ارشاد
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ Last edited by نورالدین; 16-11-11 at 02:16 PM. |
|
|
|
| 17 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (17-11-11), ننھا بچہ (29-11-11), نبیل خان (16-11-11), محمد یاسرعلی (16-11-11), محمدمبشرعلی (25-01-12), مرزا عامر (16-11-11), wajee (16-11-11), آصف رضا (01-12-11), ایکسٹو (16-11-11), احمد نذیر (18-11-11), بنت حوا (28-11-11), تبتیلا انجم (16-11-11), حیدر (16-11-11), راجہ اکرام (16-11-11), شمشاد احمد (16-11-11), عبداللہ آدم (02-12-11), عروج (28-11-11) |
| کمائي نے نورالدین کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 17-11-11 | shafresha | کیا آپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے واقف ہيں ؟ | 30 |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
جی بالکل ۔ آپ ایسا کر سکتے ہيں ۔
یہ مضمون مڈویک 10 نومبر 2011 جنگ کے میگزین میں چھپ چکا ہے ۔ تو آپ کے بلاگ پر لگانے میں بھی کوئی مسئلہ نہيں ۔ (لنک یہاں دے دیجیے گا ) رہی بات مصنف وقاص بھائی کی تو وہ ہمارے پرانے دوست ہيں ۔ اور میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہيں ۔ ہیلتھ ٹی وی پر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہيں ۔ میری درخواست پر اس کی سافٹ کاپی مجھے عنایت کی تھی ۔ کہ میں شیئڑ کروں ۔ یقینا اتنا تعمیری مضمون مزید شیئر کرنے پر انہيں کوئی اعتراض نہيں ہوگا ۔ وقاص علی بھائی کی طرف سے تمام افراد کی پسندیدگی کا شکریہ ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | wajee (16-11-11), عبداللہ آدم (02-12-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
مضمون پڑھنا شروع کیا لیکن پھر چھوڑ دیا تھوڑا سا پڑھا ہے اصل میں اس وقت سر درد سے پھٹ رہا ہے ابھی پڑھا تو سر کے اوپر سے ہی گزر جائے گا خیر مجھے ایسے مضامین پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے لیکن عمل کرنے میں بہت ہی سست ہوں۔ شئیر کرنے کا بہت بہت شکریہ
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب https://www.facebook.com/groups/pak.net دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔ |
|
|
|
| محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (16-11-11) |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,159
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھم اکثر اپنی پریشانیوں میں موجودہ صلاحیت کو نظر انداز کر دیتے ھیں حالانکہ اسی لکھنے کی صلاحیت سے ھم اپنے ڈپریشن کے فیز سے نکل سکتے ھیں ،یہ صلاحیت وقت کا نہیں بلکہ بعد میں پیسے کےضیاع سے بھی بچاتی ھے۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (30-11-11), عبداللہ آدم (02-12-11) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
زبردست بھئ! بہت دماغ کھول دینے والی تحریر ہے.
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| brain, کمپیوٹر, وقاص علی ارشاد, ورزش, قدم, قصہ, لوگ, لندن, نیند, نظر, مکمل, میراث, موٹر سائیکل, مسائل, معلوم, معاشرہ, آج, انسان, اعلیٰ, بہترین, تلاش, تحریری, تخلیقی صلاحیت, تصویر, جواب, دوست, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لو جي بتائيں اسلام آباد ميں سينما كيوں نہيں ہے؟ | شمشاد احمد | خبریں | 22 | 02-08-11 05:07 AM |
| اعمال کا مدار نیتوں پر ہے | عرفان مسلم | علوم حدیث | 5 | 26-06-11 12:01 AM |
| جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں | بزم خیال | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 31-03-11 10:55 AM |
| جاگنگ سے ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ | ایکسٹو | خبریں | 0 | 08-12-10 09:29 PM |
| اقلیتوں کو مذہبی آزادی | فرحان دانش | عمومی بحث | 13 | 16-11-09 01:24 AM |