واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > توحید



توحید توحید


مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور فتنہ دینِ الٰہی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-06-11, 04:11 PM  
مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور فتنہ دینِ الٰہی
M A Ansari M A Ansari آف لائن ہے 23-06-11, 04:11 PM

مجدد الف ثانی اور فتنہ دین الہی

یہ بیان اس عظیم شخصیت کے بارے میں ہے جسے دنیا ہزار سالہ مجدد کے نام سے جانتی ہے ہر مجدد اپنی صد ی کا مجدد ہوتا ہے جس کا عرصہ سو سال پر محیط ہوتا ہے لیکن مجدد الفِ ثانی پچھلی ہزار سالہ عرصے پر محیط مجدد گزرے ہیں آپ کی شخصیت ایک بہت بڑے مقام پر فائز تھی آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء میں ہوتا تھا آپ سلسلہ نقشبندیہ کے امام تھے آپ نے حضرت باقی با اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ابتدائی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا تھا اور اپنے دور کا سب سے بڑا فتنہ، جسے دنیا دین الٰہی کے نام سے جانتی ہی،کا قلعہ قمہ کیا جو اکبر کی اپنی اختراع تھی ۔

یہ مختصر سا تعارف یقینا اس ہستی کی پوری آب و تاب کا احاطہ نہیں کرسکتا جس کی دھوم آسمانوں پر بھی تھی اور زمین پر بھی آپ کے علمی اور روحانی فضائل سے دنیا کما حقہ ہو آگاہ نہیں ہے اس لئے میں نے سوچا کہ آپ کے فضائل بیان کئے جائیں اور ان معاملات پر بھی روشنی ڈالی جائے جو دین الہی کے وجود میں آنے کا موجب بنے ۔لیکن اس سے پہلے شیخ احمد سرہندی کے علمی اور روحانی کمالات پر روشنی ڈالی جائے تاکہ آپ کی منقبت کہنے والوں میں ہمارا بھی نام شامل ہوجائے اور اللہ تعالی ان کے روحانی برکات سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے ۔ آمین


حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی قبر پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہیں وہ صاحب اسرار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گر مئی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبر دار


حضرت مجدد علیہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد بزرگوار شیخ عبدالاحد اپنے زمانے کے عارفان کامل میں سے تھے اور جملہ کتب معقول و منقول بڑی صحت کے ساتھ طلباء کو پڑھاتے تھے فقہ اور اصول فقہ میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان حق کو علوم باطنی سے بھی بہر ہ مند کیا کرتے تھے ۔

حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ کی ولادت با سعادت ۱۷۹ھ 1564ء سرہند میں ہوئی ، خواجہ محمد ہاشم کشمی تحریر فرماتے ہیں،یہ آفتابِ ولایت اپنے پیر بزرگوار (خواجہ محمد باقی بااللہ ) کی طرح ۱۷۹ھ میں طلوع ہوا۔ حضرت صاحب خود بھی یہی انداز فرماتے تھے اور اس غلام نے بھی بعض عمر رسیدہ رشتہ داروں سے دریافت کیا تو وہ بھی کہتے تھے ۔ کلمہ " خاشع سے سال ولادت معلو م ہوسکتا ہے ، آپ سرہند شریف میں پیدا ہوئے ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب نے بھی انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں یہی سنہ تحریر کی ہے ۔سی ،اے ، اسٹوری نے بھی یہی سنہ لکھا ہے ۔ امام ربانی محبوب سبحانی ،مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ ۱۷۹ھ 1563-4 میں سر ہند میں پیدا ہوئے ۔

حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ نے اپنے والد بزرگوار شیخ عبد الا حد سے علوم معقول و منقول کی تحصیل کی ،خواجہ محمد ہاشم کشمی اور ان کے علاوہ دیگر سوانح نگاروں نے یہی لکھا ہے کہ حضرت مجدد علیہ رحمۃ نے ابتدائی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا ۔ کتب حدیث کی سند حضرت شیخ یعقوب کشمیری سے حاصل کی اور اس زمانے میں ایک مستند عالم حضرت قاضی بہلول بد خشانی تھے ، ان سے حسب ذیل کتب کا درس لیا اور سند حاصل کی ، امام واحدی کی تفسیر بسیط ، تفسیر و سیط، اسباب النزول ، قاضی بیضاوی کی تفسیر او ر دوسری تصنیفات مثل منہاج الوصول ، الغایہ القصویٰ وغیرہ اور امام بخاری کی صحیح اور دوسری تالیفات مثل ثلاثیات ، ادب المفرد، افعال العباد اور تاریخ وغیرہ ذالک ،مشکوٰۃ المصابیح ، شمائیل ترمذی ، جامع صغیر للسیوطی اور قصیدہ بردہ شریف اور مولانا کمال کشمیری سے عضدی پڑھی تھی ، غر ض یہ کہ ہر علم و فن کو اس کے مشہور اور مستند اساتذہ سے حاصل کیا ۔

حضرت مجدد علیہ رحمہۃ کو سلسلہ نقشبندیہ میں خرقہ خلافت خواجہ محمد باقی با اللہ علیہ رحمۃ نے عطا فرمایا تھا ۔ ان تینوں نسبتوں کا آپ اس طرح ذکر فرماتے ہیں ۔مجھے حضرت محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے واسطوں سے نسبت حاصل ہے ۔ طریقہ نقشبندیہ پر اکیس واسطوں سے طریقہ قادریہ میں پچیس واسطوں سے اور طریقہ چشتیہ میں ستائیس واسطوں سے ۔ تینوں سلسلوں میں حضرت مجدد علیہ رحمۃ کو سلسلہ نقشبندیہ سے خاص لگاؤ تھا اس لئے اس نسبت کے متعلق ذرا تفصیل سے عرض کیا جاتا ہے ۔

6 دہلی سے سرہند آنے کے بعد حضرت مجدد علیہ الرحمۃ دوبارہ خواجہ باقی با اللہ علیہ الرحمۃ کی خدمت بابر کت میں دہلی حاضر ہوئے اور عرصہ دراز تک شیخ کی صحبت فیض اثر سے مستفیض ہوتے رہے ان صحبتوں نے دونوں بزرگوں کے درمیان موانست و مؤدت میں بہت اضافہ کر دیا ۔شہزادہ دارلشکوہ نے اس کمال محبت اور باہمی کمال ادب و احترام کو عجائبات زمانہ میں شمار کیا ہے خواجہ محمد ہاشم کشمی تحریر فرماتے ہیں " یہ صحبت و سلوک جوان دونوں پیر مرید کے درمیان دیکھا گیا کسی اور کے متعلق نہ سنا گیا یہ زمانے کے عجائبات سے ہے جس کو دیکھ کر آنکھ والے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں ۔

ابھی حضرت مجدد علیہ الرحمۃ لاہور ہی میں تھے کہ ۵۲ جمادی الاخر ۲۱۰۱ھ کو دہلی میں حضرت خواجہ علیہ الرحمۃ کا وصال ہوگیا یہ جانکاہ خبر لاہور پہنچی تو آپ فوراً دہلی روانہ ہوگئے ۔ یہ چوتھا سفر تھا دہلی پہنچ کر مزار مبارک کی زیارت کی اور فاتحہ خوانی اور اہل خانہ سے تعزیت کے بعد سر ہند واپس تشریف لے گئے ۔
اس کے کچھ عرصے بعد اس عظیم فتنہ کا آغاز ہوا جس نے آگے چل کر دین الہی کا نام اختیار کیا اور مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ اس کے خلاف کمر بستہ ہو گئے ۔


دین الہی کے محرکات

اس سے قبل کہ ہم حضرت مجدد علیہ الرحمۃ کی اصلاحی و تبلیغی مساعی حالات کا جائزہ لیں بہتر ہوگا کہ اس کا تاریخی پس منظر پیش کر دیں تاکہ محرکات کا پتہ چل سکے ۔شیخ مبارک ناگوری اور ابو الفیض نے اکبر کو لادینیت کی طرف مائل کردیا اور با لآخر ۰۹۹ھ 1582 ء میں " دین الٰہی کا اعلان کر دیا گیا پو ویل پرائس( powell price ) خاندان شیخ مبارک کے لئے لکھتا ہے ۔

" شیخ مبارک کا خاندان اس راہ کو وضع کرنے کا پورا ذمہ دار ہے جو دین الٰہی کی تشکیل کا سبب بنی " فیضی (شاعر) اور ابو الفضل (معتمد و مؤرخ ) اس دین کے خاص نمائندے تھے ، ان کے ساتھ راجہ بیر بل بھی شریک تھا ، ابو الفضل کے متعلق تو خود جہانگیر کے یہ تا ثرات تھے "

جس نے اپنے ظاہر کو زیور اخلاص سے آراستہ کے بہت گراں قیمت پر میرے باپ کے ہاتھ بیچا تھا " جہانگیر تو ابو الفضل سے اتنا متنفر تھا کہ با الٓاخر بیر سنگھ دیو کے ہاتھوں۱۱۰۱ھ 1602 ء میں اس کا سر قلم کرواکے الہ آباد منگوایا ۳۸۹ھ 1575 ء میں ایک عمارت تعمیر ہوئی جس کا نام عبداللہ نیازی سہر ندی نے " عبادت خانہ " رکھا۔

چونکہ اکبر کو ہر وقت اصولی و فروعی مسائلِ دین کی تحقیق کا ایک چسکا سالگا ہوا تھا ، اس لئے اس عبادت خانے میں ہر جمعہ کو رات کے وقت ایک مجلس ہوا کرتی تھی جس میں ہر مکتب و فکر کے علماء و مشائخ شریک ہوتے تھے ، بادشاہ الطافِ خسروانہ سے بھی نوازتا تھا ۔ ان ہی خسروانہ نوازشوں نے علماء کے اندر بغض و عناد کا بیج بو دیا ۔ عبد القادر بد ایونی کے قول کے مطابق اس مجلس میں سو سے زیادہ علماء شریک ہوتے تھے ۔ مباحثین و مناظرین محقق و مقلد تقریباً سو سے متجاوز ہوں گے ۔

علماء میں سب سے پہلے نشستوں پر باہمی چپقلش شروع ہوئی اس قسم کی لچر باتوں سے اکبر کے دل میں علماء کا وقار کم ہونے لگا ۔ اس کے بعد مختلف مسائل میں علماء بجائے حکیمانہ و عادلانہ و عالمانہ تبادلہ خیال کر نے کے اس طرح لڑنے جھگڑنے لگے گویا ایک دوسرے کو کھا جائیں گے ،بقو ل ملا عبد القادر بد ایونی " آپس میں تیغ زبان کھینچ کر مقابلے پر آجاتے اور ایک دوسرے کو کھلم کھلا کافر و گمراہ کہا کرتے تھے " اور شاہانہ ادب و احترام کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے عامیانہ طریقے پر غصہ سے علماء عصر کی رگیں پھول جایا کرتی تھیں اور پھر خوب ہی غل و شور مچتا ۔

حاجی ابراہیم سرہندی کے فتویٰ پر علماء اتنے برہم ہوئے کہ ایک دوسرے کو مارنے کے لئے اپنے اپنے عصاء اٹھالئے اس قسم کی مذہبی اور اخلاق سے گری ہوئی باتوں کو دیکھ کر اکبر علماء سے بد ظن ہوگیا ۔ علماء کے دو گر وہ ہوگئے ، حاجی ابراہیم سرہندی اور ابو الفضل ایک طرف اور مخدو م الملک اور مولانا عبد اللہ سلطان پوری دوسری طرف اور پھر خوب خو ب مقابلے ہوئی، شیخ مبارک اور فیضی بھی شریک تھے ، بہر کیف ایک طرف متشدد سنی علما ء اور دوسری طرف آزاد منش علماء تھے ۔ (owell price ) لکھتا ہے اول یہ مباحثے اور مناظرے مسلم علماء تک محدور رہے ، چنانچہ علماء اہل سنت کے صدر مخدوم الملک اور شیخ عبد النبی خاص مناظرین میں تھے ، ان کے بر خلاف شیخ مبارک اور انکے صاحبزادگان فیضی (شاعر) اور ابو الفضل ایسی رواداری کے حامی تھے جس میں آزادی فکر کی پوری پوری افازت ہو ، اس طرح ان مباحثات کی تیزی اور تندہی بڑھتی ہی گئی

،، اکبر سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر ،، صلح کل کا حامی تھا ، اس میں اس کی ہندو بیویوں کے اثرات بھی شامل تھے ، شیخ مبارک اور ابو الفضل و فیضی نے بھی یہی روش اختیار کر لی تھی ، نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ کی نظر میں وہ تو محبوب ہوگئے اور دوسرے علما ء معتو ب ٹھرے ، پوویل پرائس لکھتا ہے ،، سنی علماء کے تشدد اور باہم سب و شتم نے اکبر کو ان سے بیزار کر دیا تھا ، چنانچہ اس نے مخدوم الملک اور شیخ عبد النبی کو (جلا وطن کر کے ) مکہ مکرمہ بھیج دیا ،،۔

۳۸۹ھ / 1575ء میں گیلان سے حکیم ابو الفتح اور ان کے دونوں بھائی حکیم ہمام او ر نور الدین قراری ہندوستان آئے اور اول الذکر ندیم شاہی ہوئے ، اکبر کے بگاڑنے میں بھی یہ ابولفضل کے شریک کار ہوگئے ،حتی کہ اس کو وحی اور نبوت سے بھی منکر کر دیا ۔ بہر حال علماء سے بادشاہ کی بد گمانی زیادہ تر خود ان کی اپنی روش کی وجہ سے تھی ، چوں کہ اکبر ان پڑھ تھا ۔ اس لئے اس نے انہی "مغضوب" علماء کے حال کو اسلاف کے حال پر محمول کر لیا اور ا ن سے بھی بد ظن ہوگیا ، ملاعبد القادر بد ایونی تحریر کرتے ہیں ۔

"اکبر اپنے عہد کے علماء کو امام غزالی اور امام رازی سے بھی بہتر جانتا تھا ، جب اس نے ان کی رکاکتوں کو دیکھا تو پھر حاضر کو غائب پر قیاس کر کے اسلاف سے بھی بیزار ہوگیا" ۔

ایک روز اکبر نے شیخ مبارک ناگوری سے کہا ۔

"ہم کو ان ملاؤں کے احسان سے کیوں نجات دلواتے"

شیخ مبارک موقع کی تلاش میں تھے ہی ، چنانچہ ۷۸۹ھ / 1579 ء میں انہوں نے ایک محضر نامہ تیار کیا اور اس پر علماء کے دستخط لے لئے ، سب کو طو عا ً و کرہاً دستخط کر نے پڑے اس محضر نامے کی آخری عبارت یہ ہے

" جن مسائل دین مجتہد ین میں ختلاف پایا جاتا ہے ، اگر بادشاہ اپنے "ذہن ثاقب" اور "فکر ِ صائم" سے اس اختلاف کو رفع کرے اور معیشت بنی آدم کی سہولت اور انتظام عالم کی مصلحت کی بناء پر کوئی خاص راستہ اختیار فرمالیں اور حکم دیں تو وہ متفق علیہ سمجھا جائے گا ۔ اس کی اتباع عوام پر لازم اور لابدی ہوگی ، اگر اپنی رائے صائب کی بناء پر ایسا حکم صادر فرمائیں جو نص کے مخالف نہ ہو اور اس میں رفاہ عامہ ہو تو اس پر عمل کرنا ہر ایک کے لئے لازم اور ضروری ہوگا ، اس کی مخالفت دینی اور دنیوی بربادی اور خسران واخروی مواخذہ کی مستوجب ہوگئی،۔

یہ تھا وہ محضر نامہ جس نے آگے چل کر الحاد و بے دینی کا در وازہ کھولا ، اس نامہ کی رو سے بادشاہ کو "سلطانِ عادل" اور "امام عادل" قرار دیا گیا اور فیصلے کو حجت قاطع ۔ اب علماء کا تفوق ختم ہوگیا ۔

" امام عادل " بننے کے بعد ہی کا یہ واقعہ ہے کہ ایک روز اکبر فتحپور سیکری کی جامع مسجد میں جمہ کے روز حافظ محمد امین خطیب کو ہٹا کر خود خطبہ پڑہنے کھڑا ہوگیا یہ خطبہ منظوم تھا اور فیضی نے لکھا تھا ، چند ہی شعر پڑھے ہوں گے اچانک بدن پر لرزہ طاری ہوگیا اور فورا نیچے اتر آیا اور خطیب موصوف کو کھڑا کیا۔

اکبر کی اس بے راہ روی کو دیکھ کر ۸۸۹ھ 1580ء میں جونپور کے قاضی القضاء ملا محمد یز دانی نے عل الاعلان فتویٰ دیا کہ بادشا ہ بدمذہب ہوگیا ہے اسکے خلاف جہاد واجب ہے ، دربار میں قطب الدین خان کنبوہ اور شہباز خان کنبوہ نے بڑی جرت سے بادشاہ کو سمجھایا ، لیکن حکومت اور اقتدار کا نشہ برا ہوتا ہے اکبر اور بگڑ گیا ، قطب الدین خان اور شہباز خان کو برا بھلا کہا اور ملا یز دی اور معز المک وغیرہ کو ایک بہانے سے بلا بھیجا جب وہ آگرے سے دس کوس فیروزآباد پہنچے تو حکم بھیجا کہ ان دونوں کو الگ کرکے دریائے جون کے راستہ گوالیار پہنچا دو، جہاں مجرمان سلطنت کا جیل خانہ تھا ، پھر حکم ہوا کہ ان کا خاتنہ کردو ، چنانچہ پہرے داروں نے دونوں کو ایک ٹوٹی ہوئی کشتی میں ڈالاتھوڑی دور آگے جا کر گرداب ی گود میں دفن کر دیا ، کچھ عرصہ بعد قاضی یعقوب بھی بلائے گئے اور انہیں دوسرے علماء کو جن پر شبہ تھا ایک ایک کر کے عدم کے تہ خانے میں بھیج دیا اسی سن میں یعنی 1580ء میں عبادت خانے کی محفلوں میں غیر مذاہب کے علماء بھی شریک ہونے لگے چنانچہ powell price لکھتا ہے

"اب اکبر نے نہ صرف مسلم علماء کو بلکہ جینی ، ہندو ، زردشتی اور بودھ علماء کو بھی ان مباحثوں میں شامل کرلیا تھا اور جلد ہی ایک عیسائی تبلیغی جماعت کو بھی بلا بھیجا ۔

اکبر نے پر تگالی نو آبادی گوا سے عیسائی پادریوں کو بلایا تھا اس جماعت میں یہ لوگ شریک تھے انٹو نیو مونسیرٹ (ntonio Monserrate ) ، روڈلف اکواویوا (odolpho Acquaviva )، اور فرانسسکو انیری (rancisco Enriques )

یہ جماعت 1578 ء کے آخر میں گوا سے روانہ ہوئی اور 1580 ء میں اکبر آباد پہنچی، دربار میں حاضر ہوئی ، عبادت خانے کی محفلوں میں شریک رہی ، ان لوگوں نے اسلام کے خلاف بہت کچھ زہر اگلا ، مگر اکبر خاموشی سے تماشہ دیکھتا رہا بلکہ انکی تقاریر متاثر بھی ہوا ، یہ اسی تاثیر کا نتیجہ تھا کہ شہزادہ سلیم اور شہزادہ مراد کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے تیما انجیل کے چند اسباق پڑھ لیں چنانچہ ابو الفضل نے تر جمانی کے فرائض انجام دئے ۔ 1582 ء میں عیسائی تاجروں کی ۹ ایک جماعت ملکہ الزبتھ 1585 تا 603 ء کا پیغام لے کر اکبر آباد پہنچی تھی ۔ اس جماعت میں یہ تین افراد شامل تھے ریلف فٹشے ، جان نیو بری، اور ولیم لیڈس (alph Fitch,John Newbery and William Leeds) ۔

بقول ملا ء عبد القادر بدایونی اکبر کے دربار میں ہندو اور بدھ رشی اکثر باریاب ہوتے تھے ، شاہی ملاقاتوں میں ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ اسلام کو دین باطل ثابت کر کے اپنے مذہب کی حقانیت کو ظاہر کردیں ، چنانچہ یہ لوگ مذہب اسلام پر بے باکانہ حملے کرتے تھے اور اکبر اطمنان و سکون سے سنتا رہتا تھا ۔ انہی لوگوں کے اثرات کی وجہ سے اکبر نے ہندوؤں کی مذہبی کتابوں اتھروید ، رامائن اور مہابھارت وغیرہ کے تر جمے کا حکم دیا تھا ۔ تاکہ بہ خوبی واقفیت پیدا کی جا سکے اسی طرح انجیل کے تر جمہ کے لئے ابو الفضل کو حکم ملا تھا ہندو رشیوں کے اس اختلاط کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ بادشاہ کو عربی زبان سے نفرت سی ہوگئی چنانچہ اس نے موتم نامی ایک بر ہمن سے چیزوں کے عربی نام کے بجائے سنسکرت نام تجویز کرنے کی فرمائش کی ، عربی حروف تہجی کو تلفظً ساقط کر دیا گیا ۔ دیبی نامی ایک اور برہمن جس نے مہا بھار ت کی شرح بھی لکھی تھی، اکثر باریاب ہوتا تھااس نے اکبر کو بتوںکی پوجا پاٹ کے طریقے سکھائے، آگ ، سورج اور ستاروں کی پوجا کے بھی طریقے بتائے اور اپنے دیو تاؤں کی پر ستش کے آداب بھی سکھائے۔ شدہ شدہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ پانچ چھ سال کے اندر اندر اسلام کا نام و نشان باقی نہ رہا اور معاملہ بر عکس ہوگیا ۔

580 ء میں اکبر نے مدد و معاش کے لئے علماء و صوفیا کو بلایا تو بہت سے نفس پرست لوگ بھی پہنچے ، ان ہی میں ایک عالم مولانا شیرازی تھے ان صاحب نے اکبر کو یہ یقین دلایا کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہو چکی ہے چنانچہ اب مہدی موعود کا وقت آپہنچا ہے اور اس سے اشارہ خود بادشا ہ ہی کی طرف تھا غرض بادشاہ کو طرح طرح سے بہکایا گیا اور وہ اپنی جہالت کی وجہ سے بہک بھی گیا۔ ان تمام باتوں کے نتائج نہایت بھیانک اور گھناؤنے نکلے ۔

"دین الٰہی (مذہب نو ) کی بنیاد 90 ھ 582ء میں رکھی گئی امریکن مورخ پویل پرائس (owell Price ) لکھتا ہے 1582 ء میں دین الٰہی کی بنیاد رکھی گئی یہ (مذہب نو) نظریہ توحید و جودی کی ایک مبہم و غیر واضح شکل ہے جس میں مختلف ادیان و مذاہب کے معتقدات شامل ہیں زردشتی ، جینی ، ہندو ، بدھ وغیرہ سب کا معجون و مرکب ہے او ر اسلام کے نظر یہ توحید کو اس میں برائے نام جگہ دی گئی ہے ۔ اکبر کے خیالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مذہب نو میں تمام مذاہب کے معتقدات شامل تھے ، ابو الفضل نے اکبر نامہ میں اکبر کے خیالات کو اس طرح پیش کیا ہے

"ایک مر تبہ اعلی حضرت نے فرمایا انسان تو وہ ہے جو عدل کو راہ کا پیشوا بنائے اور ہر مذہب و ملت سے جو عقل کے مطابق ہو قبول کرلے شاید اسی طرح وہ قفل کھل جائے جس کی کنجی کھو گئی ہے" ۔

اکبر نے عملی طور پر جملہ مذاہب کے معتقدات کو اپنایا تھا ملا عبد القادر بد ایونی نے اس پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے لکھتے ہیں " صبح و شام ، دوپہر اور آدھی رات چار وقت آفتاب کی عبادت کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا ،آفتاب کے ایک ہزار نام یاد کر لئے تھے جو دوپہر کو آفتاب کی طرف حضور قلب سے متوجہ ہو کر جپا کرتے تھے (عبادت کا یہ طریقہ تھا) اپنے دونوں کان پکڑ کر ایک ایک چکر کھا کر کان کی لو پر گھونسے لگا یا کرتے تھے ، اس قسم کی او ر بھی بہت سی حر کتیں کرتے تھے قشقہ بھی لگایا کرتے تھے یہ بھی حکم دیا تھا کہ آدھی رات کو اور طرع آفتات کے وقت نوبت و نقارہ بجاکرے ۔

آفتاب کی عبادت پر ہی بس نہیں تھا بلکہ ہر چیز کی عبادت شروع کردی تھی ، ہندوؤں کی پختہ زناری کا یہ حال تھا اور ان کے خلاف مرزا جانی حاکم ٹھٹھ جیسے بھی موجود تھے اس نے اکبر کو اس قسم کا حلف نامہ بھیجا تھا۔

میں فلاںبن فلاں اپنی طوع و رغبت شوق قلبی سے دین اسلامی حجازی و تقلیدی جو میں نے اپنے باپ دادا کا دیکھا تھا اوران سے سنا تھا، اس پر تبرا بھیجتا ہوں اور اکبر شاہی دین الٰہی کو اختیار کرتا ہوں اکبر نے جو سجدہ تعظیمی فرض کیا تھا وہ بھی صوفیانِ خام ہی کی ستم ظریفی تھی ملا عبد القادر نؤبد ایونی لکھتے ہیں کہ شیخ تاج العارفین بن شیخ زکریا اجودھنی نے اس کے لئے (اکبر) سجدہ تجویز کرکے اس کا نام " زمین بوس رکھا اور آداب شاہی کو فرض عین کا درجہ دیا اس کے چہرے کو کعبہ مرادات اور قبلہ حاجات کہا کرتے تھے اور بہت ہی ضعیف روایات اور ہندوستان کے بعض مشائخ کے مریدوں کے عمل کو بطور حجت پیش کرتے تھے۔

ان بیانات سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکبر گو ابتدا ء میں ایک دیندار مسلم تھا مگر رفتہ رفتہ لا دین ہوگیا تھا اور اس کی حکومت نے اسلام اور اہل اسلام کی حمایت نہیں بلکہ اس کا استیصال کیا ۔ جن متصوفہ نے اکبر کے لئے سجدہ تعظیمی جائز قرار دیا تھا وہ خود بھی مسجود تھے چنانچہ شیخ نظام تھا نیسری کے خلفاء اپنے مریدوں سے سجدہ تعظیمی کرایا کرتے تھے اس پر حضرت مجدد علیہ رحمۃ نے شیخ موصوف کو ایک مکتوب میں فرمایا۔ معتمد لوگوں سے سنا ہے کہ تمہارے بعض خلفاء کو ان کے مرید سجدہ کرتے یں ۔ متصوفہ کا حال تو گزر چکا ہے عوام کا حال یہ تھا دیوالی کے ایام میں مسلمان جاہل با الخصوص ان کی عورتیں کافروں کی رسمیں ادا کرتی ہیں اور اپنی عید مناتی ہیں ۔ مسلمان جاہلوں میں یہ مشہور ہو گیا ہے اگر بتوں اور دیو تاؤں سے استمداد کی جائے تو مختلف امراض اور عوارض کتم ہوسکتے ہیں ۔ الغرض پورے کا پورا معاشرہ بگڑ گیا تھا اور ایک ہمہ گیر تباہی برپا تھی ، جس کا نقشہ حضرت مجدد علیہ رحمۃ اس طرح کھینچتے ہیں ۔

"ایک دنیا بدعت کے دریا میں ڈوبی ہوئی ہے اور بدعت کی تاریکییوں میں آرام کر رہی ہے کس کی مجال ہے کہ بدعات کو ختم کرنے کے لئے دم مارے اور احیائے سنت کے لئے لب کھولے اس زمانے کے اکثر علماء نے بدعات کو رواج دیا ہے اور سنت کو مٹا یا ہے" ۔ مگر احیائے سنت اور بدعات کی یہ سعادت مجدد علیہ رحمۃ کے حصہ میں آئی۔

اس کے آگے مجدد الف ثانی رحمۃ علیہ رحمۃ کے علمی اور عملی کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے اور جدو جہد کا ایک وسیع سلسلہ ہے جس کا منتہا اکبر کے دین الہی کے اختتام سے بھی آگے تک جاتا ہے جس کو ہم مختصرً بیان کریں گے ۔

مجدد الف ثانی کی عظیم جدو جہد کا مرکز کوئی ایک محاز نہیں تھا بلکہ مختلف محاز اور گونہ گو مسائل میں آپ کی شخصیت کے پہلو نظر آتے ہیں ۔ کہیں آپ نے خطوط کے ذریعے کام کیا کہیں آپ نے زبان کے جادو سے کام لیا حد یہ کہ عالم اسیری میں بھی آپ نے متعدد لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام کیا اور اسلام کی اصل روح کو پیش کیا کہیں ردِ بدعت کی کہیں دلائل سے قائل کیا ۔

مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ کے مناقب لکھنے کے لئے ہمیں دفتر کے دفتر درکار ہیں چونکہ آپ کا مقام بہت بلند ہے بہت کم اس پائے کے بزرگ گزرے ہیں آپ کا تذکرہ اکثر کتابوں میں نہیں ملتا آپ کا تذکرہ کثر عالم کے طور کیا جاتا ہے لیکن آپ کا روحانی پہلو اس طور اجاگر نہیں ہے جیسا کہ علمی پہلو ہے لیکن آپ کے اقوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ آ پ کس مقام اور کس بلند درجے پر فائز تھے ۔ ہم آپ کے ارشادات بھی آخر میں بیان کریں گے تاکہ لوگ آپ کے عرفان اور بلندی کا اندازہ کر سکیں ۔

حضرت مجدد رحمۃ علیہ قریب قریب 1 سال قید میں رہے کئی حوالوں سے یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے جب جہانگیر تحت پر بیٹھا تو اس نے آپ کو بلوا یا اور خلعت اور ہزار روپے عنایت کئے اور آزاد کیا اور یہ اختیار دے دیا کہ چاہے آپ سر ہند واپس چلے جائیں یا اس کے پاس کی رہیں۔

ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور ابو الفیض کمال الدین محمد احسان اللہ عباسی وغیرہ نے لکھا ہے کہ جب جہانگیر نے حضرت مجدد علیہ رحمۃ کو دربار میں طلب تو آپ نے یہ شرائط پیش کیں ۔

۱۔ سجدہ تعظیمی موقوف کیا جائے

۲۔ مسجدیں جو ویران ہو چکی ہیں انکو آباد کیا جائے

۳۔ گاؤ کی مما نعت کے احکام منسوخ کئے جائیں

۴۔ قاضی و محتسب مقررکئے جائیں

۵۔ ذمیوں سے جز یہ لیا جائے

۶۔ احکام شریعت کی ترویج اور بدعات کا انسداد کیاجائے

۷۔ تمام سیاسی قیدیوں کو آزاد کیا جائے


ارشادات مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ

۱۔ حضور اکرم ؐ کی خلقت کسی بشر کی خلقت کی طرح نہیں بلکہ علم ممکنات کی کوئی بھی چیز حضور اکرم ؐ کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتی کیونکہ حضور پاک ؐ کو اللہ تعالی نے اپنے نور سے پیدا فرمایا ہے
مکتوب 100 جلد سوئم صفحہ 187

۲۔ عالم امکان کو (جو تحت الثریٰ سے عرش تک کی جملہ موجودات و کائنات کا محیط ہے ) جس قدر بھی دقت نظر کے ساتھ دیکھا جاتا ہے حضور اکرم ؐ کا وجود پاک اس کے اندر نظر نہیں آتا ہے ۔ سرکار دو عالم ؐ اس بزم امکان سے بالا تر ہیں ۔ اسی لئے حضور اکرم ؐ کا سایہ نہ تھا ۔
مکتوب 100 جلد سوم صفحہ 187


۳۔ مجھے اللہ تعالی کے ساتھ اس لئے محبت ہے کہ وہ محمد ؐ کا رب ہے ۔
(مکتوب 221 جلد سوم صفحہ 224 ۔

۴۔ جو علم غیب اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے اس پر وہ اپنے خاص رسولوں کو مطلع فرماتا ہے ۔
(مکتوب66 جلد اول26 ۔

۵۔ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ حضر ت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ و سیدنا طلحہٰ و سیدنا زبیر و سیدنا امیر معاویہ و سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی لڑائیاں ہوئیں ۔ ان سب میں مولی علی کرم اللہ وجہہ حق پر تھے اور یہ حضرات خطا پر ، لیکن وہ خطا عنادی نہ تھی بلکہ خطائے اجتہادی تھی ۔ مجتہد کو اسکی خطا ئے اجتہادی پر بھی ایک ثواب ملتا ہے ۔ ہم کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت رکھنے ان سب کی تعظیم کرنے کا حکم ہے جو کسی صحابی کے ساتھ بغض و عداو ت رکھے وہ بد مذہب ہے ۔
(مکتوب 266 جلد اول صفحہ 232 ۔

۶۔ انبیاء و اولیاء کی روحوں کو عرش سے فرش تک پر جگہ برابر کی نسبت ہوتی ہے کوئی چیز ان سے نزدیک دور نہیں ۔
(م89 ج 1 ص 234

۷۔ عارف ایسے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے کہ عرض ہو یا جوہر ، آفاق ہو یا انفس تمام مخلوقات اور موجودات کے ذروں میں سے ہر ایک ذرہ اسکے لئے غیب الغیب کا دروازہ بن جاتاہے اور ہر ذرہ بارگاہ الہی کی طرف اس کے لئے ایک سڑک بن جاتی ہے ۔

۸۔ حضور پر نو ر سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے یہ قدرت عطا فرمائی ہے کہ جو لوح محفوظ میں بشکل مبرم لکھی ہوئی ہے اور اسکی تعلیق صرف علم خدا وندی میں ہوایسی قضاء میں بھی با ذن اللہ تصرف فرما سکتے ہیں ۔
( مکتوب 217 جلد اول صفحہ24 ۔

۹۔ حضور اقدس کی امت کے اولیاء کرام کا طواف کرنے کیلئے کعبہ معظمہ حاضر ہوتا ہے اور ان سے بر کتیں حاصل کرتا ہے ۔

۰۱۔ اکمل اولیاء اللہ کو اللہ تعالی یہ قدرت عطا فرماتا ہے کہ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں آپ علیہ رحمۃ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

Last edited by کنعان; 23-06-11 at 07:49 PM.. وجہ: صرف ری-آرگنائز کیا ھے تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو۔

M A Ansari
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1734
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-06-11), کنعان (23-06-11), ننھا بچہ (23-06-11), مہتاب (01-07-11), محمد یاسرعلی (24-06-11), آبی ٹوکول (23-06-11), عروج (23-06-11)
پرانا 26-06-11, 02:05 PM   #31
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,760
شکریہ: 52,505
11,166 مراسلہ میں 35,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تنقید اور اختلاف کا طریقہ کار:
میری جرات تو نہیں کہ اتنی قابل علما کے سامنے تجاویز رکھ سکوں ۔ تاہم معذرت کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ شخصیات پر تنقید کرنے کا طریقہ کار ہی نہایت غلط اختیار کیا جاتا ہے۔
مثلاً یہ کہنا کہ فلانے نے اتنے شیعیہ مسلمان قتل کروائے، اتنے بادشاہوں کو گرفتار کروایا وغیرہ اگلے کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی جوابی طور پر ایسے ہی الزامات لگائے کہ جن کے ساتھ کوئی دلیل منسلک نہ ہو۔
براہ راست شخصیت پر بات کیے بغیر اس کے اقدامات کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ جاہل انسانوں کی طرح ایک دوسرے پر سب و شتم کیا جائے؟
اس کا سادہ سا طریقہ یہی ہے کہ اُس شخصیت کا ایک فیصلہ لیں۔ اس فیصلے سے پہلے کے حالات بیان کریں۔ اور پھر اس فیصلے کے نتائج بیان کر دیں۔ آخر میں یہ بھی بتا دیں کہ وہ اس فیصلے کے بجائے یہ یہ فیصلے لیتا تو زیادہ بہتر تھا۔

دوسری بات جس کی طرف میں بار بار اشارہ کرتا آیا ہوں وہ یہ ہے کہ سوال جواب کی نشست کسی ماڈریٹر یا میزبان کی موجودگی میں تو چل سکتی ہے، اس قسم کے مباحثوں میں نہیں۔ کیونکہ کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
بہتر یہ ہوتا ہے کہ اپنی بات کو دلائل کے ساتھ ایک پیراگراف میں پیش کر دیا جائے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-06-11), نبیل خان (28-08-11)
پرانا 26-06-11, 02:08 PM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,171
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ کو ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ ہم جمع ہی اس لئے ہوتے ہیں‌کہ ہم اس بات پر متفق ہیں‌ کہ ہمارا اختلاف رائے ہے۔ لہذا تنقید اور اختلاف پر پابندی ۔۔ چہ معانی دارد؟؟؟‌
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (26-06-11)
پرانا 26-06-11, 02:13 PM   #33
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,760
شکریہ: 52,505
11,166 مراسلہ میں 35,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لہذا تنقید اور اختلاف پر پابندی ۔۔ چہ معانی دارد؟؟؟‌
مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی بات نہیں سمجھا پا رہا ۔ یا آپ نے میرا مراسلہ نمبر 30 نہیں پڑھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو درخؤاست کرتا ہوں کہ وہ پڑھ لیں۔
تنقید اور اختلاف پر پابندی نہیں ہے۔ تنقید اور اختلاف کے طریقہ کار پر پابندی ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 26-06-11, 02:19 PM   #34
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,612
کمائي: 31,171
شکریہ: 7,116
2,944 مراسلہ میں 8,723 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کس کا کیا طریقہ کار ہے اور کس طرح بات کرتا ہے ، یہ اس پر منحصر ہے۔ایسے اصول کہ بات کہو ، سوال نا کرو۔ میرے بھائی آپ کو میں‌نے کسی قسم کا جج مقرر نہیں‌کیا۔

مزید اصول
آپ اختلاف نا کریں‌۔، تنقید نا کریں ۔ آپ سوال نا کریں ۔ صرف بیان کریں

مزید کوئی اصول ہیں‌تو وہ بھی حکم کردیجئے کیا ضروری ہے کہ آپ کے انداز میں‌بات کی جائے‌؟ یا آپ سے متفق ہونا ضروری ہے ؟؟؟؟

ناراضگی مقصد نہیں‌۔ آپ کی سوچ تھوڑی سی جاگ جائے ۔۔۔ مقصد ہے۔۔۔

آپ اپنا احتجاج رجسٹر کراتے رہتے ہیں ۔ میں‌ نے اپنا احتجاج رجسٹر کرا دیا۔۔۔

آپ جانتے ہیں کہ میں اس انسٹی ٹیوشن کا حامی ہو جس کو سرسید احمد خان نے زندہ کیا۔۔۔۔ اس انسٹی ٹیوشن کا حامی نہیں‌جس کے سرسید احمد خان مخالف تھے۔۔۔ اس کے باوجود میں‌ نے کوئی دھاگہ سرسید احمد خان پر نہیں‌لکھا۔۔۔۔۔ جب لکھوں‌ تو برادران اپنا احتجاج وہاں‌ رجسٹر کروا سکتے ہیں‌۔۔

جہاں‌بھی بادشاہ گروں کو اعزازات سے نوازا جائے گا وہاں میرا اختلاف آپ کو ملے گا۔ تنقید بھی ملے گی ۔۔۔ اور مجھے اس کا جواب بھی ملے گا۔ معاملہ جب تک شائستگی کے دائرے میں‌ہے ۔۔۔ آپ کا یا کسی کا بھی پریشان ہونا بے معانی ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ سب کو ان کی سوچوں کے اظہار کرنے پر پہرے بٹھائے جائیں‌ ۔ صرف اس خوف سے کہ کل بات زیادہ نا بڑھ جائے ؟؟؟؟ بات شائستگی کی حد تک رہے تو بڑھ ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-06-11), حیدر (26-06-11)
پرانا 26-06-11, 02:39 PM   #35
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,760
شکریہ: 52,505
11,166 مراسلہ میں 35,226 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
مزید کوئی اصول ہیں‌تو وہ بھی حکم کردیجئے
مراسلہ نمبر 31 کا پہلا جملہ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ وہ محض میری ذاتی رائے ہے۔ پسند آتی ہے ٹھیک۔ ورنہ رد کر دیں۔ جیسے پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس کو انتظامیہ کا حکم نہ بنائیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 01-07-11, 09:11 AM   #36
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,563
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منصور صاحب بہت اچھا مضمون پیش کیا ہے اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (01-07-11)
پرانا 01-07-11, 10:54 AM   #37
Senior Member
مقبول
 
اعجازلاثانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 199
کمائي: 2,500
شکریہ: 276
125 مراسلہ میں 228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی ڈاکٹر اقبال رحمہ نے بہت خوب لکھا

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی قبر پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہیں وہ صاحب اسرار
اعجازلاثانی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے اعجازلاثانی کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (28-08-11), مہتاب (28-08-11), ملک اظہر (07-11-11), آبی ٹوکول (01-07-11)
پرانا 01-07-11, 12:19 PM   #38
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
مراسلہ نمبر 31 کا پہلا جملہ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ وہ محض میری ذاتی رائے ہے۔ پسند آتی ہے ٹھیک۔ ورنہ رد کر دیں۔ جیسے پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس کو انتظامیہ کا حکم نہ بنائیں۔
میرا تو خیال ہے جیسا کہ پہلے بھی میرا یہی خیال تھا کہ پاک نیٹ پر شخصیات کہ بارے میں لکھنے پر اس بے جا پابندی کو ختم کردینا چاہیے اور اسکے متبادل کوئی ایسا نظام وضع کرنا چاہیے کہ جس سے ایک طرف عظیم ہستیوں کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی جاسکے اور دوسرے وہ نظام اس قسم کی پابندی کا بھی ایک طرح سے نعم البدل یا متبادل ہو اب دیکھیں ناں میں نے شیخ علامہ ابن تیمیہ پر ایک تحقیقی مضمون تصوف اور علامہ ابن تیمیہ لکھنا ہے بلکہ کب سے لکھنا چاہ رہا ہوں مگر اس پابندی کی وجہ سے رکا ہوا ہوں اسی طرح فاضل بریلوی اور عقیدہ تو حید و رد بدعات وغیرہ پر بھی لکھنا چاہ رہا ہوں مگر افسوس کہ کچھ بھی نہیں کر پارہا ؟؟؟؟
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (01-07-11), نبیل خان (28-08-11), ملک اظہر (07-11-11)
پرانا 01-07-11, 11:05 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
منصور صاحب بہت اچھا مضمون پیش کیا ہے اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے
شکریہ مہتاب بھائی ورنہ بھائی لوگوں نے تو اسے انا کا مسئلہ بنا لیا
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-08-11, 07:52 PM   #40
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
عمر: 23
مراسلات: 127
کمائي: 2,897
شکریہ: 37
95 مراسلہ میں 353 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان مسلم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان مسلم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : M A Ansari مراسلہ دیکھیں

حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی قبر پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہیں وہ صاحب اسرار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گر مئی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبر دار
آمین۔
کیا بات ہے اقبال کی۔۔۔۔
عرفان مسلم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-08-11, 09:20 PM   #41
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,563
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہیں وہ صاحب اسرار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گرمئی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبر دار
عرفان صاحب پسندیدگی کا شکریہ ، واقعی علام اقبال علیہ رحمہ بہت اچھے انسان ہیں
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-08-11, 09:31 PM   #42
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,033
کمائي: 22,563
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حضرت ابراہیم آغا سرہندی



حضرت مولانا ابراہیم آغا صاحب حضرت امامِ ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی آل پاک میں سے ہیں
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (29-08-11)
جواب

Tags
فن, ہندو, فرض, کمر, پھول, قید, قرآن, مکہ, مواخذہ, مسجد, معاشرہ, توحید, تلاش, جیل, جاہل, حدیث, خدا, دریافت, ستارے, طالبان, عقل, عبادت, صحابہ, صحابی, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger