واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > توحید



توحید توحید


تفسیرسورۃ الزمر (توحید قرآن کی روشنی میں)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-06-08, 05:51 PM   #1
تفسیرسورۃ الزمر (توحید قرآن کی روشنی میں)
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 01-06-08, 05:51 PM


بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ اِنَّا اَنزَلْنَا اِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّينَ َلَا لِلَّہِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِہِ اَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُونَا اِلَى اللَّہِ زُلْفَى اِنَّ اللَّہَ يَحْكُمُ بَيْنَھُمْ فِي مَا ھُمْ فِيہِ يَخْتَلِفُونَ اِنَّ اللَّہَ لَا يَھْدِي مَنْ ھُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ (آیت 1 تا 3)

ترجمہ:
"یہ کتاب اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والے کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے لہٰذا آپ خالصتا اس کی حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کیجیے۔ یاد رکھو، بندگی خالصتا اللہ ہی کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ کارساز بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔ جن باتوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں یقینا اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ اللہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور حق کا منکر ہو" (ترجمہ از عبدالرحمٰن کیلانی رحمہ اللہ)
نکات:
1۔ مکی سورتوں کا آغاز عموما اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی شان کے بیان سے ہوتا ہے جیسا کہ اس سورت کی پہلی آیت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سب پر غالب اور زبردست ہونے کا عقیدہ شرک کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
2۔ دوسری آیت میں بیان ہے کہ عبادت اسی صورت قبول ہو سکتی ہے جب وہ خالص اللہ کے لیے کی جائے اگر اس میں کسی دوسرے کی بندگی کا ذرہ برابر حصہ بھی شامل ہو گیا تو وہ اکارت جائے گی۔ بندگی اور عبادت خالص ہونی چاہیے اور صرف اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے یہ پہلی شرط ہے۔
3۔ تیسری آیت میں مشرکین کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ "ہم غیراللہ کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ چھوٹے معبود ہماری معروضات اللہ تک پہنچا دیں۔"
ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں براہ راست نہیں سنتا اس لیے انہوں نے اللہ کے سامنے سفارشی گھڑ رکھتے تھے جو ان کی دانست میں اللہ کے سامنے ان کی سفارش کرتے تھے۔ مشرکین کا کہنا تھا کہ ہم ان چھوٹے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ انہیں اللہ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں"۔ اس آیت سے مشرکین مکہ کی اپنے معبودوں کے بارے میں عقیدے پر روشنی پڑتی ہے۔ قرآن کریم کی کئی دوسری آیات سے ثابت ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق مانتے تھے، اقرار کرتے تھے کہ انہیں اللہ نے تخلیق کیا ہے اور اللہ ہی وہ ہستی ہے جو پناہ دیتی ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اللہ رب العرش العظیم ہے وغیرہ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسلام نے انہیں مشرک قرار دیا جس کا اصل سبب وہ عقیدہ تھا جسے مذکورہ بالا آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 30-06-09 at 11:29 PM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2558
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ahmed raheel (21-06-08), arshad khan (24-02-09), arslansun (18-02-09), میاں شاہد (03-11-08), موجو (18-12-09), ملک بھائی (26-06-09), محمد کاشف حبیب (11-06-08), محمد عاصم (04-10-10), مرزا عامر (05-07-10), مسٹر گرزلی (01-06-08), مسلم (12-06-08), مسلم بھائی (09-06-10), ام طلحہ (05-11-08), حیدر Rehan (18-06-09), عبداللہ آدم (10-06-10)
پرانا 10-06-08, 12:01 AM   #2
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لَوْ اَرَادَ اللَّہُ اَنْ يَتَّخِذَ وَلَداً لاصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَہُ ھُوَ اللَّہُ الْوَاحِدُ الْقَھارُ (4) خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالاَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّھَارِ وَيُكَوِّرُ النَّھَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لاَجَلٍ مُسَمًّى اَلا ھُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ (5) (سورۃ الزمر آیت 4 تا 5۔ پارہ نمبر 23)
ترجمہ:
“اللہ اگر کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن سکتا تھا مگر وہ تو ایسی باتوں سے پاک ہے وہ یکتا ہے، سب پر غالب ہے۔ اس نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ تخلیق کیا۔ وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہر ایک، ایک مقررہ وقت تک یونہی چلتا رہے گا۔ یاد رکھو! وہی سب پر غالب اور بخش دینے والا ہے۔
نکات:
جیسا کہ پچھلی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے تھے کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کر دیں۔ وہ فرشتوں کے بت بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے (نعوذ باللہ) اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہاں ان کے اسی عقیدے کی تردید ہے۔ سب چیزیں اللہ کی مملوک اور مخلوق ہیں اور اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا یا بیٹی نہیں بنایا۔ وہ ان باتوں سے پاک ہے۔ وہ سب پر قدرت رکھتا ہے، زبردست ہے کوئی اس پر غالب نہیں آ سکتا۔ کوئی اس سے بزور اپنی بات نہیں منوا سکتا۔ ایسی قدرت رکھنے والا ہے کہ سورج، چاند اور بے شمار عظیم الجثہ کروں سے کام لے رہا ہے۔ کائنات کی وسعت کے بارے میں اپنے ایک سابقہ مضمون کے اقتباسات دے رہا ہوں جس سے موضوع زیر بحث کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
“کائنات میں ہمارا سفر زمین سے شروع ہوتا ہے۔ زمین پر کھڑے ہوں تو یہ چپٹی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن درحقیقت ہماری زمین (Earth) بیضوی شکل کا ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد مخصوص راستے پر چکر لگا رہی ہے۔ یہ نظام شمسی (Solar System) کا حصہ ہے۔ نظام شمسی کے وسط میں سورج واقع ہے جس کےگرد سیارے اور سیارچے خاص راستوں پر گھومتے ہیں، ان راستوں کو سیاروں کے مدار کہا جاتا ہے۔ ستارے (Star) اور سیارے (Planet) میں فرق یہ ہے کہ ستارہ خود روشن ہوتا ہے جبکہ سیارہ خود روشن نہیں ہوتا اور دوسرے ستاروں سے آنے والی روشنی کو منعکس کرنے کی وجہ سے روشن نظر آتا ہےمثلًا سورج ایک ستارہ ہے جس کے اندر ہر وقت ہونے والے ایٹمی دھماکوں سے روشنی پیدا ہوتی ہے جو اسے روشن رکھتی ہےاور زمین ایک سیارہ ہے کیوں کہ اس کی اپنی روشنی نہیں ہے بلکہ یہ سورج سے آنے والی روشنی کو منعکس کرتی ہے۔ستاروں کے مجموعے کو کہکشاں (Galaxy) کہا جاتا ہے۔ کہکشاں میں ستاروں کی تعداد اربوں ہو سکتی ہے۔
ہماری زمین کا قطر تقریبًا 12٫756 کلومیٹر ہے۔ جبکہ یہ سورج کے گرد ایک لاکھ سات ہزارکلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔غور کریں کہ خالقِ کائنات نے کیسا زبردست نظام بنایا ہے کہ اس قدر تیز رفتاری کے باوجود زمین پر موجود مخلوقات کو اس کی حرکت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں زمین کو ایک سال لگتا ہے اور اس عرصے میں وہ تقریبًا چھیانوے کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے“
“ہمارےنظام شمسی کا دوسرا اہم اور سب سے بڑا رکن سورج ہے۔ اس کا قطر تقریبًا 1391016 کلو میٹر ہے۔ یہ اتنا بڑاستارہ ہے کہ اس کے اندر تیرہ لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں۔ سورج ہمیں ہمہ وقت 3.83 ×10 26 واٹ کے برابر روشنی فراہم کر رہا ہے۔یہ اللہ تعالی کی کتنی بڑی نشانی ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کے لیے لاکھوں کلو میٹر دور سے روشنی اور حرارت کا انتظام فرمایا۔ ہم زمین پر موجود تمام وسائل استعمال کر لیں تب بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنے لیے روشنی کی اتنی بڑی مقدار پیدا کر سکیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر سورج کی روشنی نہ ہوتی یا آج یہ روشنی ختم ہو جائے تو زمینی مخلوقات کا انجام کیا ہوگا“
“سورج جس کہکشاں (Galaxy) میں واقع ہے اس کا نام مِلکی وے (Milky Way) ہے ، ملکی وے میں 400بلین ستاروں کے موجود ہونے کا اندازہ لگا یا گیا ہے یہ ستارے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں کہ اسے ناپنےکے لیے روایتی پیمانے کم پڑ جاتے ہیں۔ ان کی پیمائش کے لیے ہیئت دانوں نے نوری سال (Light Year) کی اصطلاح وضع کی ہے۔نوری سال کو سمجھنے کے لیے ذہن میں یہ بات تازہ کر لیجیے کہ روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ سورج سے زمین تک 150 ملین کلو میٹر فاصلہ طے کرنے میں اسے تقریبًا آٹھ منٹ لگتے ہیں۔اگر روشنی اسی رفتار سے ایک سال تک چلتی رہے تو اسے ایک نوری سال کہا جاتا ہے۔ مِلکی وے کا قطر(Diameter) ایک لاکھ نوری سال ہے۔ جبکہ کہکشاں کے مرکز سےسورج تک کا فاصلہ 26٫000 نوری سال ہے۔ اس میں موجود ستاروں میں سے بعض سورج سے کروڑہا گنا بڑے ہیں۔ مثلاً ستارہ Antaresسورج سے 3500 گنا زیادہ روشن ہے اور اپنے اندر چھ کروڑ سورج سمو سکتا ہے۔ یہ ہم سے تقریباً 400 نوری سال دور ہے۔ اس سے بھی بڑا ایک اور ستارہ Betelgeuse سورج سے 17000 گنا زیادہ روشن اور ہم سے 310نوری سالوں کی دوری پر ہے۔ Scheat, Riegel, W. Cephai, Aurigai اور Hereules ان سے بھی بڑے ستارے ہیں، انھیں Super giants کہتے ہیں۔ ان سے اٹھنے والے کروڑہا کلومیٹر بلند شعلے اللہ تعالی کی جلالی قدرت کے مظہرہیں۔ اگر ان ستاروں کو سورج کی جگہ پر رکھ دیا جائے تو نہ صرف ہماری دنیا بلکہ ہمارے سارے نظام شمسی میں سوائے آگ کے کچھ نہ ہو۔ مثلاً اگر Scheat کو سورج کے مقام پر رکھ دیا جائے تو زہرہ اس کے محیط میں آجائے اور اگر Betelguse سورج کی جگہ آجائے تو ہماری زمین اور مریخ تک کی جگہ کو اپنے اندر نگل لے اور اگر Aurgai سورج کے مقام پر آجائے تو سیارہ Uranus اس کے محیط میں آجائے گا۔ یعنی سورج سے لے کر یورینس تک آگ ہی آگ ہوگی اور نظام شمسی کی آخری حدود تک شعلے ہی شعلے ہوں گے۔
اس سے آگے چلیں تو خود ہماری کہکشاں کا کائنات میں کوئی مقام نہیں ہے۔ اینڈرومیڈا کہکشاں (Andromeda Galaxy) ہم سے اکیس لاکھ اسی ہزار نوری سال دور ہے۔ اس میں 300 سے 400 بلین ستاروں کے موجود ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔جبکہ اربوں کہکشائیں ایسی بھی ہیں جنھیں محض عام انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ انھیں دیکھنے کے لیے انتہائی طاقت ور دوربینیں درکار ہیں۔ ان کے درمیان لاکھوں کروڑوں نوری سال کے فاصلے ہیں۔ یہ سب ساکن نہیں، بلکہ اپنے مرکز کے گرد گھوم رہی ہیں اور خلا میں بھی چل رہی ہیں۔ ان میں سے بعض کی رفتار کروڑ ہا میل فی گھنٹا ہے ۔ ہیئت دانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں موجود کہکشاؤں کی تعداد 125 بلین کے قریب ہے“
یہ اقتباسات میں نے اس لیے دیے ہیں کہ قرآن کریم میں جب “زمین و آسمان کی حق کے ساتھ تخلیق“ کا ذکر ہوتا ہے تو ہم اس پر سرسری طور پر گزر جاتے ہیں لیکن ذرا گہرائی میں‌ جا کر غور کرنے سے ایسے ایسے معجزات سامنے آتے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر کے اس وسیع و عریض کائنات کا سفر کیجیے جس میں ارب ہا ستارے رواں دواں ہیں، ایک ایک ستارہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں لاکھوں کروڑوں زمینیں سما سکتی ہیں۔ زمین کی نسبت کائنات کے ساتھ وہ بھی نہیں ہے جو صحرا میں ریت کے ذرے کی صحرا کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ آرائی نہیں ہے بلکہ آسٹریلیا کے ہیئت دانوں‌ نے اندازہ لگایا تھا کہ ستاروں کی تعداد اتنی ہو سکتی ہے جتنی ساحل سمندر پر ریت کے ذرے ہوتے ہیں۔ اب سوچیے کہ جو رب اتنی بڑی کائنات کو چلا رہا ہے اور اسے چلانے میں اسے کسی دوسرے کی ذرہ برابر مدد کی ضرورت نہیں، کسی کو اس کا شریک ٹھیرا دینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ وہ کہتا ہے میں اکیلا سب کے لیے کافی ہوں مشرکین کہتے ہیں نہیں جب تک ہمارے معبود ساتھ شامل نہ ہوں اللہ کچھ نہیں کر سکتا (نعوذباللہ)۔ اللہ کہتا ہے “میں ساری کائنات کا انتظام و انصرام سنبھالے ہوئے ہوں“ (یدبر الامر یفصل الآیات سورۃ الرعد)۔ مشرکین کہتے ہیں “نہیں، نہیں۔ اللہ کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اکیلا سارے انسانوں اور ساری دنیا کے معاملات کو سنبھال سکے اس لیے اس نے چھوٹے چھوٹے معبودوں کو اپنا نائب بنا لیا ہے (ہندو اور بدھ مت میں یہ عقیدہ خاص طور پر قابل ذکر ہے)۔ عقل سلیم رکھنے والے انسان کے لیے آفاق کی یہ نشانیاں اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دینے اور معبودان باطلہ کا پول کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔
جناب ہارون یحیٰی نے کائنات میں پھیلی نشانیوں پر گراں قدر کام کیا ہے۔ “ کائنات کی تخلیق“ پر ان کی کتاب "The creation of the universe" زبردست چیز ہے۔ اس لنک سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ لنک
اردو قارئین یہ ویب سائٹ دیکھیں۔ باقی آیات کی تشریح ان شاء اللہ اگلی قسط میں ہو گی۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 10-06-08 at 12:08 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (24-02-09), arslansun (18-02-09), میاں شاہد (03-11-08), موجو (18-12-09), محمد کاشف حبیب (11-06-08), محمد عاصم (04-10-10), مرزا عامر (05-07-10), مسٹر گرزلی (10-06-08), مسلم (12-06-08), مسلم بھائی (09-06-10), تفسیر حیدر (22-06-08), عبداللہ آدم (10-06-10)
پرانا 03-11-08, 04:31 PM   #3
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: توحید، قرآن کریم کی روشنی میں

خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنْ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ۔ إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ۔ (الزمر آیت6۔7)
ترجمہ:
اس نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے۔ وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کر رکھا ہے کہ ہرایک ایک وقت مقرر تک چلے جارہا ہے۔ جان رکھو، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔ اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے۔ وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے، پھر تم کدھر سے پھرائے جارہے ہو؟ ۔اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا)، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔ آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔
نکات:
ان آیات کے شروع میں‌ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور توحید کی نشانیاں بیان کرنے کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ تم کدھر پھرے جارہے ہو۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ تم کدھر سے پھرائے جارہے ہو۔ یعنی کوئی دوسرا ہے جو تم کو اُلٹی پٹی پڑھارہا ہے اور تم اس کے بہکائے میں آ کر ایسی سیدھی سی بات بھی نہیں سمجھ رہے ہو۔ دوسری بات جو اس اندازِ بیان سے خود مترشح ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ تم کا خطاب پھرانے والوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو ان کے اثر میں آکر پھر رہے تھے۔ اس میں ایک لطیف مضمون ہے جو ذرا سے غور فکر سے بآسانی سمجھ میں آجاتا ہے ۔ توحید سے پھرانے والے لوگ شرک میں مبتلا معاشرے میں سب کے سامنے موجود ہوتے ہیں اور ہر طرف اپنا کام علانیہ کرتے ہیں، اس لیےان کا نام لینے کی حاجت نہ تھی۔ ان کو خطاب کرنا بھی بیکار تھا، کیونکہ وہ اپنی اغراض کے لیے لوگوں کو ایک اکیلے اللہ کی بندگی سے پھیرنے اور دوسروں کی بندگی میں پھانسنے اور پھانسے رکھنے کی کوششیں کر تے ہیں۔ ایسے لوگ ظاہر ہےکہ سمجھانے سے سمجھنے والے نہ تھے، کیونکہ نہ سمجھنے ہی سے ان کا مفاد وابستہ تھا ، اور سمجھنے کے بعد بھی وہ اپنے مفاد کو قربان کرنے کے لیے مشکل ہی سے تیار ہوسکتے تھے۔ البتہ رحم کے قابل ان عوام کی حالت ہے جو ان کے چکمے میں آ رہے ہیں ۔ اُن کی کوئی غرض اس کاروبار سے وابستی نہیں، اس لیے وہ سمجھانے سے سمجھ سکتے تھے۔ اور ذرا سی آنکھیں کُھل جانے کے بعد وہ یہ بھی دیکھ سکتے تھے کہ جو لوگ انہیں اللہ کے آستانے سے ہٹا کر دوسرے آستانوں کا راستہ دکھاتے ہیں وہ اپنے اس کاروبار کا فائدہ کیا اُٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ کرنے والے چند آدمیوں سے رُخ پھیر کر گمراہ ہونے والے عوام کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔
اس کے بعدمزید تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم اپنے کفر اور شرک پر ڈٹے رہنا چاہتے ہو تو اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ تم مانو گے تب بھی وہ رب العالمین ہے، اور نہ مانو گے تب بھی وہ مالک الملک ہے اور رہے گا۔ اس کی فرمانروائی اپنے زور پر چل رہی ہے، تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا عبادی لو ان اول کم و اٰخر کم و انسکم و جنکم کا نو اعلیٰ افجر قلب رجل منکم ما نقص من ملکی شیئاً۔ اے میرے بندو ، اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جِن اپنے میں سے کسی فاجر سے فاجر شخص کے دل کی طرح ہو جاؤ تب بھی میری بادشاہی میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔‘‘ (مسلم)
پھر یہ حقیقت بیان فرمائی کہ وہ اپنے کسی مفادکی خاطر نہیں بلکہ خود بندوں کے مفاد کی خاطر یہ پسند نہیں کرتا کہ ہو کفر کریں ، کیونکہ کفر خود انہی کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور رضا دوسری چیز ۔ دنیا میں کوئی کام بھی اللہ کی مشیت کے خلاف نہیں ہو سکتا ، مگر اس کی رضا کے خلاف بہت سے کام ہوسکتے ہیں اور رات دن ہوتے رہتے ہیں۔مثلاً دنیا میں جباروں اور ظالموں کا حکمراں ہونا ، چوروں اور ڈاکوؤں کا پایا جانا، قاتلوں اور زانیوں کا موجود ہونااسی لیے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بنائے ہوئے نظام قدرت میں ان برائیوں کے ؓظہور اور ان اشرار کے وجود کی گنجائش رکھی ہے ۔ پھر ان کو بدی کے ارتکاب کے مواقع بھی دیتا ہے اور اسی طرح دیتا ہے جس طرح نیکوں کو نیکی کے موقع دیتا ہے۔ اگر وہ سرے سے ان کاموں کی گنجائش ہی نہ رکھتا اور ان کے کرنے والوں کو مواقع ہی نہ دیتا تو دنیامیں کبھی کوئی برائی ظاہرنہ ہوتی۔ یہ سب کچھ بر بنائے مشیت ہے ۔ لیکن مشیت کے تحت کسی فعل کا صدور یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ کی رضا بھی اس کو حاصل ہے۔مثال کے طور پر اس بات کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص اگر حرام خوری ہی کے ذریعہ سے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ اسی ذریعہ سے اس کو رزق دے دیتا ہے۔ یہ ہے اس کی مشیت ۔ مگر مشیت کے تحت چور یا ڈاکو یا رشوت خوار کو رزق دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چوری ، ڈاکے اور رشوت کواللہ پسند بھی کرتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ یہاں فرمارہا ہے کہ تم کفر کرنا چاہو تو کرو ،ہم تمہیں زبردستی اس سے روک کر مومن نہیں بنائیں گے۔ مگر ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ تم بندے ہو کر اپنے خالق و پروردگار سے کفر کرو، کیونکہ یہ تمہارے ہی لیے نقصان دہ ہے ، ہمارا اس سے کچھ بھی نہیں بگڑتا
کفر کے مقابلے میں یہاں ایمان کے بجائے شکر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کفر در حقیقت احسان فراموشی و نمک حرامی ہے ، اور ایمان جی الحقیقت شکر گزاری کا لازمی تقاضا ہے۔ جس شخص نہیں اللہ جلّ شانہ کے احسانات کا کچھ بھی احساس ہو وہ ایمان کے سوا کوئی دوسری راہ اختیار نہیں کرسکتا ۔ اس لیے شکر اور ایمان ایسے لازم و ملزوم ہیں کہ جہاں شکر ہوگا وہاں ایمان ضرور ہوگا ۔ اور اس کے برعکس جہاں کفر ہوگا وہاں شکر کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ کفر کے ساتھ شکر کے معنی نہیں ہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (24-02-09), میاں شاہد (03-11-08), موجو (18-12-09), محمد عاصم (04-10-10), مرزا عامر (05-07-10), عبداللہ آدم (10-06-10)
پرانا 04-11-08, 03:47 PM   #4
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: توحید، قرآن کریم کی روشنی میں

وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُواْ إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُواْ رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ آیت 8۔ 9
انسان پر جب کوئٰ آفت آتی ہےتو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرکے اسے پکارتا ہے۔ پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نوازدیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہے پکار رہا تھا۔ اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہےتاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے۔ (اے نبیؐ) اس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھالے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے۔ (کیا اس شخص کی روش بہتر ہے یا اس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے؟ ان سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔ع
ان آیات میں پیش کی گئی حقیقت ہر انسان اپنی زندگی میں جان سکتا ہے۔خود مشرکین مکہ کا عمل قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان ہوا ہے کہ جب سمندر میں کشتی کسی بھنور میں پھنس جاتی اور ہر طرف سے امیدیں منقطع ہو جاتیں تو وہ صرف اللہ کو مدد کے لیے پکارتے لیکن نجات ملتے ہی دوبارہ شرک کرنا شروع کر دیتے۔
8 اکتوبر کے زلزلے میں مجھے اس حقیقت کا بچشم خود مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ ہمارے ایک جاننے والے تھے جن کی زبان سے بچپن سے لے کر اب تک ہم نے کبھی "یا اللہ" نہیں سنا تھا۔نعمت و مصیبت دونوں اللہ کی بجائے کسی دوسرے کی خوشی یا ناراضی کا نتیجہ سمجھتے۔ لیکن ہولناک زلزلے کے بعد خوف کے عالم میں کہہ رہے تھے "آج اللہ نے بچا لیا"۔
مریض کو ہر طرف سے جواب ہو جائے تو کہتے ہیں "اب بس اللہ ہی ہے جو بچائے"۔ اولاد نہ ہو تو دربدر کی ٹھوکریں کھا کر اور بعض اوقات ایمان کی دولت بھی لٹا کر جب مایوسی طاری ہونے لگتی ہے تو کہتے ہیں "بس جی، اب تو اللہ ہی ہے"۔
یہی حقیقت ان آیات میں بیان ہوئی ہے کہ ایسے وقت انسان کو وہ دوسرے معبود یاد نہیں آتے جنہیں وہ اپنے اچھے حال میں پکارا کرتا تھا، بلکہ ان سب سے مایوس ہو کر وہ صرف اللہ ربّ العالمین کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں دوسرے معبودوں کے بے اختیار ہونے کا احساس رکھتا ہے اور اس حقیقت کا شعور بھی اس کے ذہن میں کہیں نہ کہین دبا چھپا موجود ہے کہ اصل اختیارات کامالک اللہ ہی ہے۔ لیکن دعا قبول ہونے کے بعد وہ بُرا وقت پھر اسےیاد نہیں رہتا جس میں وہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہٗ لاشریک سے دعائیں مانگ رہا تھا۔ پھر دوسروں کی بندگی کرنے لگتا ہے۔ انہی کی اطاعت کرتا ہے، انہی سے دعائیں مانگتا ہے، اور انہی کے آگے نذر و نیاز پیش کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود گمراہ ہونے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو بھی یہ کہہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ جو آفت مجھ پر آئی تھی وہ فلان حضرت یا فلاں دیوی یا دیوتا کے صدقے میں ٹل گئی ۔ اس سے دوسرے بہت سے لوگ بھی ان معبود ان غیر اللہ کے متعقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربات بیان کر کر کے عوام کی اس گمراہی کو بڑھاتا چلا جاتا ہے

Last edited by عبداللہ حیدر; 04-11-08 at 11:30 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (24-02-09), میاں شاہد (04-11-08), موجو (18-12-09), محمد عاصم (04-10-10), مرزا عامر (05-07-10)
پرانا 05-11-08, 02:50 PM   #5
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: توحید، قرآن کریم کی روشنی میں

قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ذَلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُوْلَئِكَ هُمْ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ
(اے نبیؐ )کہو، اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، اپنے رب سے ڈرو۔ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے۔ اور اللہ کی زمین وسیع ہے، صبر کرتے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
(اے نبیؐ)ان سے کہو ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس کی بندگی کروں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں۔ کہو ، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کاخوف ہے۔ کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اسی کی بندگی کروں گا، تم اس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو۔ کہو ، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا۔ خوب سن رکھو ، یہی کھلا دیوالیہ ہے۔ ان پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی۔ یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس ا میرے بندو، میرے غضب سے بچو ۔ بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔ پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے ان بندوں کو جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں۔

نکات:
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arslansun (18-02-09), موجو (18-12-09), محمد عاصم (04-10-10), مرزا عامر (05-07-10), عبداللہ آدم (10-06-10)
پرانا 09-06-10, 06:14 PM   #6
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
مشرکین کا کہنا تھا کہ ہم ان چھوٹے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ انہیں اللہ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں"۔ اس آیت سے مشرکین مکہ کی اپنے معبودوں کے بارے میں عقیدے پر روشنی پڑتی ہے۔ قرآن کریم کی کئی دوسری آیات سے ثابت ہے کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق مانتے تھے، اقرار کرتے تھے کہ انہیں اللہ نے تخلیق کیا ہے اور اللہ ہی وہ ہستی ہے جو پناہ دیتی ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا، اللہ رب العرش العظیم ہے وغیرہ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسلام نے انہیں مشرک قرار دیا جس کا اصل سبب وہ عقیدہ تھا جسے مذکورہ بالا آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
ماشاء اللہ عبداللہ بھائی برائے مہربانی جس عقیدہ کی اس آیت میں مزمت بیان کی گئی ہے زرا اسکی تفصیلی وضاحت فرمادیں ۔ ۔ ۔ شکریہ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (05-07-10)
پرانا 10-06-10, 12:54 AM   #7
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
ان آیات میں پیش کی گئی حقیقت ہر انسان اپنی زندگی میں جان سکتا ہے۔خود مشرکین مکہ کا عمل قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان ہوا ہے کہ جب سمندر میں کشتی کسی بھنور میں پھنس جاتی اور ہر طرف سے امیدیں منقطع ہو جاتیں تو وہ صرف اللہ کو مدد کے لیے پکارتے لیکن نجات ملتے ہی دوبارہ شرک کرنا شروع کر دیتے۔
8
السلام علیکم:

عبد اللہ بھائی آج کل تو یہ زیادہ دیکھا جا رہا ہے کہ لوگ سخت مصیبت میں بھی "مرشد پاک" اور "غوث اعظم" اور دوسرے شرکیہ سہارے پکڑنے بھاگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں جب کسی در سے کچھ نہیں ملتا تو پھر اللہ یاد اتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر کام اللہ کر دیں تو اسے اپنے شرکیہ وسیلوں سے منسوب کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ما قدر اللہ حق قدرہ

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (10-06-10), مرزا عامر (05-07-10), عبداللہ حیدر (10-06-10)
پرانا 10-06-10, 01:50 AM   #8
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
ماشاء اللہ عبداللہ بھائی برائے مہربانی جس عقیدہ کی اس آیت میں مزمت بیان کی گئی ہے زرا اسکی تفصیلی وضاحت فرمادیں ۔ ۔ ۔ شکریہ ۔ ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، اس عقیدے کی وضاحت میں مفسرین کرام نے قتادہ رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے:
كانوا إذا قيل لهم: من ربكم، وخالقكم، ومن خلق السمٰوات، والأرض، وأنزل من السماء ماء؟ قالوا: الله، فيقال لهم: ما معنى عبادتكم للأصنام؟ قالوا: ليقرّبونا إلى الله زلفى، ويشفعوا لنا عنده
"جب مشرکین سے سوال کیا جاتا کہ تمہارا رب کون ہے؟‌تمہارا خالق کون ہے؟‌ آسمان اور زمین کس نے بنائے ہیں؟‌آسمان سے بارش کون برساتا ہے؟
توان کا جواب ہوتا "یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں"
پھر پوچھا جاتا "جب یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں تو پھر یہ بتوں کی عبادت کیا معنی رکھتی ہے"؟؟؟؟؟

وہ جواب میں‌کہتے "‌اجی!‌ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں‌اور اس کے حضور ہماری سفارش کر دیں"

(تفسیر فتح القدیر، تفسیر ابن کثیر، تفسیر القرطبی)
یعنی وہ کہتے تھے کہ ان بتوں، فرشتوں اور اللہ کے نیک بندوں میں سے عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ کا اللہ کے ہاں جو مقام ہے وہ ہمارا نہیں، اللہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی موڑتا نہیں۔ ہمیں لائق نہیں کہ اللہ سے مانگیں لہٰذا ہمارے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے درمیان ان مقربین کاواسطہ ہونا چاہیے، اس تک پہچنے کے لیے کوئی سیڑھی ہونی چاہیے چنانچہ رزق کی فراخی، دشمن کے مقابلے میں مدد یا دنیا کو کوئی دوسرا کام ہو ہم اپنی حاجات ان مقربین کے سامنے پیش کرتے ہیں، پھر یہ اللہ سے سفارش کر کے ہماری دعائیں قبول کراتے ہیں۔
مزید تفصیل کے لیےامام شوکانی کی تفسیر فتح القدیر، امام ابن کثیر کی تفسیر القرآن العظیم، اور امام قرطبی کی الجامع لاحکام القرآن ملاحظہ کریں۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (10-06-10), مرزا عامر (05-07-10), آبی ٹوکول (10-06-10), طلحہ (11-06-10), عبداللہ آدم (10-06-10)
پرانا 10-06-10, 06:11 PM   #9
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، اس عقیدے کی وضاحت میں مفسرین کرام نے قتادہ رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے:
كانوا إذا قيل لهم: من ربكم، وخالقكم، ومن خلق السمٰوات، والأرض، وأنزل من السماء ماء؟ قالوا: الله، فيقال لهم: ما معنى عبادتكم للأصنام؟ قالوا: ليقرّبونا إلى الله زلفى، ويشفعوا لنا عنده
"جب مشرکین سے سوال کیا جاتا کہ تمہارا رب کون ہے؟‌تمہارا خالق کون ہے؟‌ آسمان اور زمین کس نے بنائے ہیں؟‌آسمان سے بارش کون برساتا ہے؟
توان کا جواب ہوتا "یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں"
پھر پوچھا جاتا "جب یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں تو پھر یہ بتوں کی عبادت کیا معنی رکھتی ہے"؟؟؟؟؟

وہ جواب میں‌کہتے "‌اجی!‌ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں‌اور اس کے حضور ہماری سفارش کر دیں"

(تفسیر فتح القدیر، تفسیر ابن کثیر، تفسیر القرطبی)
اسلام علیکم عبداللہ بھائی ! شکریہ مزید وضاحت کا مگر میرا سوال ابھی بھی وہیں کا وہیں ہے ؟؟؟ چلیں میں آپکی اور قارئین کرام کی آسانی کے لیے سوال کو مزید آسان کیئے دیتا ہوں ؟؟؟؟؟؟؟؟
آیا مشرکین نے جو اللہ پاک کے ہاں اپنے خود ساختہ سفارشی مقرر کررکھے تھے اور انکی عبادت کرتے تھے تو اس آیت میں مذمت ان کے کس فعل کی ہے آیا خود ساختہ سفارشی بغیر دلیل کے مقرر کرنے کی یا پھر ان سفارشیوں کو معبود بنا لینے کی یعنی انکی عبادت کرنے کی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (05-07-10)
پرانا 03-10-10, 09:36 PM   #10
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,500
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 284 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جزاک اللہ

محترم بھائی عبداللہ
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ
جزاک اللہ
توحید پر یہ مضامین لکھنے کا اجر آپ کو اللہ ہی دے گا۔ اللہ آپ کو مزید توفیق عطا فرمائے۔
دعاگو
آپکا بھائي
Aurangzeb Yousaf آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (04-10-10), مرزا عامر (03-10-10), عبداللہ آدم (04-10-10), عبداللہ حیدر (22-10-10)
جواب

Tags
color, php, system, ہندو, گمان, پاک, ویب, قرآن, نظر, مکہ, مکمل, ممکن, معلوم, آج, اللہ, اسلام, بندگی, توحید, دعائیں, سیارے, ستارے, شخص, عقل, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
توانائی کے مسئلہ پر سیاست سے نہیں اخلاص سے کام لیا جائے ALI-OAD اپکے کالم 0 18-12-10 08:25 PM
جنرل کیانی پاکستان میں سیاست کی طاقتور ترین شخصیت ہیں: ہالبروک گلاب خان خبریں 5 18-08-10 02:35 AM
سورۃ توبہ سے پہلے بسم اللہ کیوں نہیں لکھی جاتی؟ فیصل ناصر متفرقات 7 05-01-10 01:01 PM
:::کینیڈا میں برفانی تودہ گرنے سے آسٹریلوی سیاح سمیت 4 افراد ہلاک::: ابو کاشان خبریں 0 09-01-08 11:08 PM
سیاسی جماعتیں فرد واحد کی آئینی ترامیم کی پارلیمنٹ میں توثیق نہ کریں،سپریم کورٹ کے سابق ججوں کا مطالبہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 19-12-07 07:33 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:27 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger