سَل بَنیِ اسرَآءِیل کَم اٰتَینٰھُم مِّن اٰیَتٍم بَیِّنہ وَمَن یُّبَدِّل نِعمَتَ اللہِ مِن بَعدِمَاجَآءَتہُ فَاِنَّ اللہَ شَدِیدُالعِقَاب(سورہ بقرہ آیت۔211) ترجمہ۔بنی اسرائیل سےپوچھوھم نےکتنی روشن نشانیاں انہیں دیں(1)اورجواللہ کی آئی ھوئی نعمت کوبدل دے(2)توبےشک اللہ کاعذاب سخت ھے۔ (تشریح)(1)کہ انکےانبیاءکےمعجزات کوانکےصدقِ نبوت کی دلیل بنایااُنکےاِرشاداوراُنکی کتابوں کودینِ اِسلام کی حقانیت کاشاہدکیا۔ (2)اللہ کی نعمت سےآیاتِ الہیہ مرادھیں جوسببِ رُشدوھدایت ھیں اورانکی بدولت گمراہی سےنجات ھوتی ھےانہیں میں سےوہ آیات ھیں جنمیں سیدِ عالم

کی نعت وصفت اورحضور

کی نبوت ورسالت کا بیان ھےیہودونصٰارٰی کی تحریفیں اس نعمت کی تبدیل ھے۔ یادرھےیہودونصارٰی اُن آیات کوعوام الناس سےچھپاتےتھےجن آیات میں "توریت وانجیل"میں حضور

کی آمدکےتذکرےتھےاس آیت سےرسالت کی اھمیت کااندازہ ھوتاھےکہ اللہ نےرسالت کواپنی پہچان کاذریعہ بنایاحالانکہ وہ بغیرِ رسالت کےیاواسطےکےاپنی پہچان کروانےپرقادرتھاچونکہ قرآنِ مجیدرھتی دنیاتک کےلیئےضابطہِ حیات ھےتواِس دورکےمسلمانوں کےلیئےبھی درس ھےکہ نبی

کی شان نہ چھپاناکہ یہودونصارٰی کاطریقہ ھےجولوگ نبی

کوصرفMessenger(پیغام رسانی)کاذریعہ سمجھتےھیں یاکچھ عمل کرکےاپنےآپکواُنکےمثل سمجھتےھیں وہ سخت غلطی پرھیں کیونکہ اُردو میں ایک محاورہ مشہورھے"باادب بانصیب بےادب بے نصیب۔ (((((((((اس آیت کاترجمہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کاترجمہ"کنزلایمان"سےاورتفس یرمولانانعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ کی"خزائن العرفان"سےہو بہولی گئی اورآخرمیں کچھ اپنی طرف سےحق کشائی کی کوشش کی ھے۔))))))))۔