واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > توحید



توحید توحید


حقیقت،عبادت اور رویے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-06-10, 10:55 AM   #1
حقیقت،عبادت اور رویے
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 15-06-10, 10:55 AM

حامد محمود


اﷲ کے دین کی حقیقت معلوم ہونا انسان کے لیے دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہوسکتی ہے !

یہ ’دین‘ کیا ہے جس کی حقیقت معلوم ہونا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے؟

وہ سب جذبات جو بندگی اور پرستش کے الفاظ سن کر آپ کے تخیل میں سما سکیں! وہ سب احساسات جو کسی بڑی طاقتور ہستی کا شدید خوف آنے سے دل پر کبھی گزر جا ئیں! ایسی وارفتگی جو کسی کی چاہت اور محبت میں سب کچھ بھلا دے! ایسی عاجزی اور حاجتمندی جو انسان کو اپنی ہر سکت سے بے خبر کردے ! وہ کیفیت جو وفا اور رضا جوئی کی انتہا ہو او ر دل میں آپ سے آپ موجزن ہو ۔ ایسا کردار جس میں اطاعت اور فرما نبرداری مجسم ہو کر ’انسان‘ کی شکل دھارلے.... !!!

’دین‘ حقیقت میں خشیت اور محبت کا ایک ایسا ہی بے اختیار جذبہ ہے ۔ بندگی کا ایک لطیف احساس ہے اور کردار کی ٹھوس حقیقت!

اتنی وسعت اور گہرائی تو ابھی لفظِ ’دین‘ کی ہے! !!

مگر جب یہ ’دین‘ اﷲ وحد ہ لاشریک کے لیے ہو جائے پھر تو اس کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ اس کیفیت کی تعبیر کے لیے تب انسان کے پاس تکبیر اور تسبیح کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا ! جتنا بڑا معبود ہوگا اتنا ہی بڑا اس کا تعارف !!! اب اﷲ سے بڑا کون ہے؟ زمین میں یاآسمانوں میں ؟؟ ؟ وہ تمام جہانوں کا رب ہے!!! رب الاولین والآخرین!!!جو کچھ نظر آتا ہے، جو بڑی سے بڑی چیز ذہن کو متاثراور مرعوب کرسکتی ہے ، اسکی ہے!!! جس ہولناک سے ہولناک مخلوق کا دل پر خوف اور لرزہ طاری ہوسکتا ہے، اسکی ہے اور اس کے عذاب سے پناہ مانگتی ہے!!! جو حسین سے حسین چیز کہیں پائی جاسکتی ہے اور لذت و لطف کی انتہا کہلاسکتی ہے، اس کی قدرت کا کمال ہے!!!

پھر اس کی قدرت میں صر ف یہی نہیں اس سے بڑھ کر اور بہت کچھ ہے.... اتنا کچھ کہ جو ’نظر‘ آتا ہے اور ’عقل‘ میں سماتا ہے وہ اس کے سامنے کچھ نہیں جو نظر سے اوجھل ہے اور عقل پر بھاری ہے!!! اس کی عظمت کے آگے تو بس سجدہ ہوسکتا ہے!!! صرف ماتھا دھرا جاسکتا ہے!!! تخیل اور عقل کو اس کا ’احاطہ‘ کرنے کے لیے نہیں اس کو ’سجدہ‘ کرنے کے لیے وجود ملتا ہے!!! انسان اسکی کبریائی کو صرف اپنی عاجزی کا واسطہ دے سکتا ہے!!! ایک انسان ہی کیا زمین و آسمان کی ہر مخلوق اس کے لطف و رحمت کو اپنی ذلت اور لاچار ی ہی کا واسطہ دیتی ہے!!!

اتنے بڑے معبود کی تو پہچان ہی کتنی بڑی ہوگی! اس کی صفات کا احاطہ کر ہی کون سکتا ہے! اور اس کی عظمت کا اعتراف تو ہو ہی کیونکر سکتا ہے....!

لوگ تو اپنے چھوٹے چھوٹے اور حقیر معبودوں کی تعظیم سے سیر نہیں ہوتے! ’وطن‘ کے گیت گاتے نہیں تھکتے! ’قوم‘ کی ترقی کا ورد نہیں چھوڑتے ۔ ’ملک‘ کے استحکام پر جان دے دیتے ہیں ۔ ’آزادی‘ پر تو قومیں اپنی نسلیں وار دیتی ہیں ۔ ’انسانی حقوق‘ کی راہ میں قربانیاں ایک انسان کو امر کرجاتی ہیں اور لوگ اس کے فنا ہوجانے کے بعد اس کے مجسمے تک پوجتے ہیں!

لوگ ’جمہوریت‘ کی بحالی کے لیے’ شہید ‘ہوتے ہیں ۔ ’کرکٹ میچ‘ ہارنے یا جیتنے پر لوگوں کو دل کے دورے پڑ جاتے ہیں ۔ سیاسی اور فلمی ’ستاروں ‘ کی موت پر غشیاں پڑنے لگتی ہیں!


قبیلے ، برادری اور ملک کی جنگ میں ، مائیں اپنے سپو ت پیش کردینا ہر دور میں باعث شرف سمجھ لیتی رہی ہیں ۔ قوم کے محسنوں کو ’زندہ و پائندہ باد‘ کے نعروں سے صبح شام عقیدت کا خراج پیش کیا جاتاہے۔ وطن کے پرچم کو ’ایڑی چوٹی‘ کے پورے زرو سے سیلوٹ ہوتا ہے اور قومی تفاخر کے مواقع پر ا س کی مورتی دل کے پاس سینے پر سجائی جاتی ہے! پتھر اور لکڑی جیسی حقیر چیزیں بھی اگر قومی یادگاروں میں استعمال ہو جائیں تو انکے تقدس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ایسے پتھر او رلکڑی کے لیے ’توڑنے‘ یا ’گرانے‘ کے لفظ تک حرام ہوجاتے ہیں!

کسی بھی قوم کے ہیرو یا ملک کے بانی کی توہین ہو جائے یا اسکے بت کی بے حرمتی، اس پرجلوس نکل سکتے ہیں ۔ اس کے لیے معمولی نازیبا الفاظ کے استعمال پر قیامت برپا ہوسکتی ہے ، اگرچہ رب العالمین کے ساتھ صبح و شام وہاں کیسا بھی کفر اور بغاوت کیوں نہ ہوتی رہے!

ایک ہاتھ پیر ہلانے سے عاجز بزرگ کی پس مرگ زیارت کے لیے ہزاروں میل کا پیادہ پا سفر کرکے عقیدت کا ’ادنیٰ ‘ سا اظہار کیا جاتا ہے! ایک مردے کی قبر کی توسیع کےلئے یہاں آدھا شہر اٹھادیا جاتا ہے! ایک مٹی میں ملے معبود کی ’خوشی‘ کی خاطر ہزاروں زندوں کا نقصان خوشی خوشی جھیلنا ’سعاد ت‘ سمجھا جاتا ہے !

حیران کن بات تو یہ ہے کہ ان جھوٹے اور حقیر معبودوں کے لیے یہ جو کچھ ہوتا ہے، اس میں ان معبودوں کا کوئی بھی کمال نہیں! دراصل ’عبادت‘ ایک جذبہ ہی ایسا ہے! ’بندگی‘ چیز ہی ایسی پیاری اور خوبصورت بنائی گئی ہے! تبھی تو صرف یہ اﷲ کاحق ہے!!

پرستش مرمٹنے کا نام ہے۔ سچ پوچھیں تو مر مٹنے کا اپنا مزہ ہے۔ اس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ تبھی تو لوگ دیوانے ہوجاتے ہیں! مرمٹنے کے لیے ’کوئی بھی‘ چیز ڈھونڈ تے ہیں! مٹی نہ ملی تو پتھر اٹھا لیا۔ پتھر نہ ملا تو لکڑی تراش لی۔ لکڑی سے جی بھر گیا تو پلاسٹک سے بہلا لیا! زندوں سے مایوس ہوا تو مردوں کا رخ کرلیا! کیسی وحشت ناک زندگی ہے یہ ! اصل معبود نہ ملے تو انسان کیسے پاگل ہوجاتا ہے! کیسے کیسے خبط مارتا ہے ! انسان اﷲ سے واقف نہ ہو تو کتنا حقیر ہوجاتا ہے! کیسی گھٹیا حرکتیں کرتا ہے! قوم پر مرتا ہے ۔ عصبیت پہ فدا ہوتا ہے۔ روپے کو خدا بنالیتا ہے۔ پیسے کو خوشی اور غم کا راز سمجھ بیٹھتا ہے۔ لکڑی ، پتھر اور کپڑے کے حضور کبھی مذہبی اور کبھی قومی جوش و خروش کے ساتھ آداب اور کورنش بجالاتا ہے۔ مُردوں کو خوش کرنے کے لیے معصوم بچوں کے منہ کا نوالہ چھین کر ایک بے حس و حرکت معبود کو چڑھاوا دے آتا ہے۔ زندوں اور مردوں کو ہیر و بنا کر پوجتا ہے اور انکی شان میں گستاخی کو برداشت سے باہر سمجھتا ہے۔ حقیر ہستیوں کی عظمت و نامو س کے لیے مرنے مرانے پر اترآتا ہے ۔ملک کی عزت پہ کٹ مرتا ہے اور وطن کی مٹی کو سلام پیش کرتا ہے .... اور وہ مالکِ ارض و سماوات جو حق رکھتا ہے اس جان پر، پرستش کے ان نفیس جذبات پر، اُس ایک کو بھول جاتا ہے! کیسا ظالم ہے وہ انسان جسے عقیدت اور بندگی کا خراج دینے کو جہانوں کا رب نظر نہ آئے تو وہ اسے مٹی پہ ڈھیر کردے !

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (الصافات85۔87)

(ابراہیم ؑ نے ) جب اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا تم پوجنے بیٹھے ہو؟ نرے بے حقیقت من گھڑت معبود ۔ یہ تم اﷲ کو چھوڑ کر پوجنا چاہتے ہو ؟پھر یہ تو بتلاؤ کہ تم نے رب العالمین کو کیا سمجھ رکھا ہے؟

مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًاوَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًاأَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا (نوح 13۔20)

(نوح ؑنے کہا) تو کیا تمہیں بس ایک اﷲ ہی کے مرتبے کا پاس نہیں!

وہ تووہ ہے جس نے مرحلہ در مرحلہ تمہاری تخلیق کی ۔

کیا دیکھتے نہیں وہ اﷲ جس نے سات آسمان تہ در تہ بنائے۔

پھر ان میں چاند کا اجالا کردیا اور سورج کا چراغ دھردیا،

او ر تم کو بھی زمین سے کیا عجب طریقے سے اگا یا اور وجود دیا

وہ تو تمہیں پھر اسی مٹی میں ملا ڈالے گا، پھر اس سے یکایک وہ تم کو نکال کھڑا بھی کرلے گا۔

اور زمین کا تمہارے لیے فرش بچھایا۔

تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں اور وادیوں میں چلو“

پس یہ ’بندگی‘ تو بذات خود کتنی بڑی زبردست اور حیران کن چیز ہے! پھر جب یہ اﷲ کے لیے ہوجائے.. اور ایک اسی کی ہوجائے.. تب تو یہ دنیا کا سب سے بڑا واقعہ کیو ں نہ ہو، نہ صرف سب سے بڑا واقعہ بلکہ خوبصورت ترین اور برحق ترین بھی!

غرض ”اﷲ کے دین“ کا مطلب ہوا کہ آدمی کو بندگی کی اصل حقیقت معلوم ہو اور پھر .... اﷲ کی پہچان ہوجائے! تب اس کی خوشی اور سعادت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہتا!

علم کے پس یہ دو ہی حقیقی میدان ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ دونوں اشرف العلوم ہیں : ”بندگی کی حقیقت“ اور ”اﷲ کا تعارف“..

پھر انکے ساتھ ایک تیسری چیز اور شامل ہوجاتی ہے جس کی سب کی سب اہمیت ہے تو انہی دو باتوں کے دم سے مگر اہمیت بہت ہے بلکہ اتنی زیادہ کہ لگتا ہے یہی اصل ہے: اس علم کا نام ہے شر ک سے بچنا اور مشرکوں سے براءت رکھنا....


دین دراصل کوئی مصنوعی چیز نہیں ۔ بندگی کا جذبہ انسان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ کسی نہ کسی چیز کو ٹوٹ کر چاہنا انسان کی مجبوری ہے۔ پھر جسے یہ ٹوٹ کر چاہے اسے پا نہ سکنے کا ڈر اور بے یقینی کے اندیشے اس کو سب سے زیادہ بے چین رکھتے ہیں ۔ حتی کہ اُس کو پالے تب بھی اُسے بچا رکھنے کی لگن اور اُس کے چھن جانے کا خوف ہمیشہ اِس پر طاری رہتا ہے۔ مضبوط سے مضبوط انسان بھی ہر دم انجانے خدشوں کا اسیر رہتا ہے ۔ بس چاہت اور ڈر کی یہی حالت اور امید و یاس کی یہی کیفیت ’دین‘ اور ’بندگی ‘ کہلاتی ہے۔ جیسے پانی کا بہاؤ رکتا نہیں کہیں نہ کہیں سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے، اسی طرح ”عبادت“ انسان کے اندر سے باہر آجانے کے راستے ڈھونڈ لیتی ہے۔ اِس کو کہیں نہ کہیں ضرور ’نکلنا‘ ہے! یہاں اگر انسان اپنے اصل معبود کو ٹھیک ٹھیک نہ پہچانتا ہو تو کوئی اور ہستی یا اورچیز اِس کو معبود سے بڑھ کر یا اُس جتنی اچھی لگنے لگے گی، کسی اور چیز کی عظمت اور سطوت ا ِس کو اپنا اسیر کرلے گی اوراﷲ سے بڑھ کر خوفزدہ کرے گی۔ یو ں یہ اﷲ کو چھوڑ کر یا اﷲ کے ساتھ ایک اس کی بھی کچھ بندگی کرنے لگے گا، چاہے وہ اِس بات کا شعور نہ بھی رکھے اور چاہے وہ اِسے بندگی کا نام دینے تک کا روادار نہ ہو، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ رہے گی....

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
بشکریہ سہ ماہی ایقاظ
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 864
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (15-06-10), مسلم بھائی (15-06-10), عبداللہ حیدر (15-06-10)
پرانا 15-06-10, 06:13 PM   #2
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,584
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاءاللہ عبداللہ آدم بھائی بہت اچھی تحریر ہے،
میں نے کافی پڑھا ہے حامد صاحب کو ان کی تحریر انقلابی قسم کی ہوتی ہے۔
اللہ آپ کو اور حامد محمود صاحب کو اجر دے آمین
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مسلم بھائی (15-06-10), عبداللہ آدم (16-11-10)
جواب

Tags
کمال, پہچان, پاگل, وفا, لوگ, چین, چاہت, نظر, موت, محبت, معلوم, آدمی, انسان, بچوں, بندگی, تعارف, خبر, خدا, دل, راستہ, زندگی, سفر, سیر, شہر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
”ہماری سنگل ڈیکر نہیں چلتی، بھارتی ڈبل ڈیکر چلے گی“ جاویداسد خبریں 2 18-10-10 07:22 PM
کامن ویلتھ گیمز پر ڈینگی وائرس کا حملہ ، متعدد کھلاڑی ہسپتال پہنچ گئے ، گیمز ویلج پر مچھروں کا قبضہ جاویداسد خبریں 2 04-10-10 02:20 PM
جہازوں کی سائیڈ وینڈ لینڈینگ وجی دلچسپ اور عجیب 2 05-02-09 03:20 PM
حکومت پریس کونسل آرڈیننس اور نیوز پیپرز رجسٹریشن آرڈیننس مین ترمیم پر آمادہ عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:39 AM
قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے باوجود انڈین لیگ کھیلنے کا خواہشمند ہوں ،انڈین کرکٹ لیگ کھیلنے سے انکار بھی نہیں کیا ہے ۔ شعیب اختر کا خصوصی خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 03-09-07 10:41 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:28 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger