|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 426
|
||||
| 12 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), کنعان (29-01-12), نبیل خان (28-01-12), محمد یاسرعلی (28-01-12), احمد نذیر (29-01-12), حیدر (03-02-12), حیدر Rehan (28-01-12), زارا (30-01-12), سحر (28-01-12), شھزادباجوہ (17-02-12), عبداللہ حیدر (29-01-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سب سے پہلے حقیقت اسلام : کیوں؟؟
اس کا کچھ اندزہ تو اپ کو اب تک ہو گیا ہو گا اور مزید کچھ اب ہو جائے گا.انشاء اللہ 1:: اسلام کی حقیقت کو جاننا، سمجھنا، ماننا اور عمل میں لانا حقوق اللہ میں سے سب سے بڑا حق اور اسلام کا سب سے پہلا اور بڑا فرض ہے. 2::انبیاء کی دعوت کا مرکز اور محور ہمیشہ سے ہی حقیقت رہی ہے.ہم بھی جانتے ہیں کہ اسلام میں داخلہ اسی حقیقت کی شہادت دینے پر ہی ملتا ہے. 3:: اسلام کی عمارت کی بنیاد اور تمام عبادات کی روح ہے. 4::دنیا میں مسلمانؤں کا عروج اسی حقیقت کو حقیقی رنگ میں اپنانے سے مشروط سے. زندہ قوت تھی زمانے میں یہ توحید کبھی آج کیا ہے فقط ایک مسئلہ علم کلام ! 5::آخرت میں نجات کا سب سے بڑا دارومدار اس پر ہے. اسلام کی حقیقت تک رسائی کیسے ہو گی؟؟ 1:: کسی بھی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے، اسے جانا جائے، اس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہے.اللہ رب العزت فرماتے ہیں:: فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پس (اے نبیﷺ) خوب جان لو کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے 2:: پھر حقیقت کو سمجھنے کے لیے صرف "معلومات" ہی کافی نہیں ہوا کرتیں، بلکہ چیز یا معاملے کی تہہ میں گہرا اترنا پڑتا ہے، یہیں سے لاالہ الا اللہ کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھنا اور دل و دماغ میں اتارنے کی بات سامنے آتی ہے. 3:: آخری اور بڑی چیز انفرادی اور اجتماعی دائروں میں اس پر عمل پیرا ہونا، اسے نافذ کرنا اور آخری دم، آخری حد تک اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کرتے رہنا !!! روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو! خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام عمل کے بغیر کوئی بھی نظریہ محض ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں ہوا کرتا، حقیقت اسلام بھی تبھی کارگر اور مفید ہے جب یہ محض خیالات کی دنیا سے نکل کرعملی صورت اختیار کرے. آہ! اس راز سے واقف ہے نہ ملا‘ نہ فقیہہ وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام یہ تھا حقیقت اسلام لاالہ الا اللہ کا ایک اجمالی سا تعارف، اس کے بعد ہم ان شاء اللہ اس سلسلے میں کچھ ابتدائی باتیں کریں گے. اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں. آمین Last edited by عبداللہ آدم; 28-01-12 at 11:55 PM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), کنعان (29-01-12), احمد نذیر (29-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), زارا (30-01-12), سحر (29-01-12), شھزادباجوہ (17-02-12), عبداللہ حیدر (29-01-12) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے کہ
جس نے دل سے لاالہٰ الا للہ محمدالرسول اللہ پڑھا وہ جنت میں جائے گا۔ اس حدیث کے مطابق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر کلمہ گو مسلمان جنت میں جائے گا۔ ہاں ہر وہ مسلمان جنت میں جائے گا جس نے دل سے ایمان لے آیا اللہ کی وحدانیت پر اور اپنے دل و زبان سے ہر قسم کے شرک کو چھوڑ دیا ۔ لا الہٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ہے کوئی معبود ۔۔۔۔ اللہ کو ماننے سے پہلے ہر قسم کے معبود کا انکار ضروری ہے ۔ یہ ہے شرک سے انکار ۔ ہم مدد مانگے گے تو صرف اللہ سے ، ہم ایمان لائیں گے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر ہمیں نا کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نا کوئی نقصان ۔ اگر اللہ نے ہمارے لیے کوئی آزمائش لکھی ہے تو پوری دنیا کی طاقت مل کر بھی ہم کو آزمائش سے نجات نہیں دلاسکتی ہے صرف اللہ کی ذات ہی ہم کو آزمائش سے نجات دلاسکتی ہے پوری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اللہ کی مرضی کے بغیر ہمیں نقصان نہیں پہنچاسکتی ہیں ۔ ہر طرح کی مدد اللہ ہی طرف ہوتی ہے ۔ اب آتے ہیں ہمارے روزمرہ کے نادانستگی میں ادا کیے ہوئے شرکیہ جملے ۔ اگر کوئی بیمار ہو اور کسی دوائی پینے کے بعد صحت یاب ہوجاتا ہے تو کہتا ہے اس دوائی سے میری بیماری ختم ہوئی اور میں صحت مند ہوگئا ( غلط جملہ ) اللہ نے اس دوائی کے ذریعے مجھے صحت عطا فرمائی ( صحیح جملہ ) کسی کا بچہ حادثہ کا شکار ہورہا ہو اور آپ کا کوئی عزیز عین وقت پر اس بچے کو بچانے کا باعث بنتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ تم نے ہمارے بچے کو بچالیا ( غلط جملہ ) اللہ نے تمھارے ذریعے سے ہمارے بچے کو بچالیا ۔ ( صحیح جملہ) ہم کہتے ہیں کہ اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفاء ہے ( غلط جملہ ) اللہ نے اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفاء رکھی ہے ( صحیح جملہ ) ہم کہتے ہیں کہ بارش کی وجہ سے فصل اچھی ہوئی ( غلط جملہ ) اللہ نے بارش کے ذریعے سے اچھی فصل پیدا کی ( صحیح جملہ ) ان شاءاللہ کہنے کی اہمیت کا ذکر اللہ نے خود قران میں کئی جگہ پر کیا ہے ۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے ہر مستقبل کے ارادوں کے ساتھ ان شاءاللہ لگائیں کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر ہمارا کوئی ارادہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا ہے جزاک اللہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے Last edited by سحر; 30-01-12 at 03:02 PM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), حیدر Rehan (30-01-12), زارا (30-01-12), شکاری (30-01-12), شھزادباجوہ (17-02-12), عبداللہ آدم (02-02-12), عبداللہ حیدر (29-01-12) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 443
کمائي: 10,450
شکریہ: 345
437 مراسلہ میں 1,434 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سحر بہن،
درست لفظ یوں ہے: ان شإءاللہ نا کہ انشإءاللہ (یہ غلط تلفظ ہے) |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), سحر (30-01-12) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
معرفت حاصل کرنا یعنی سوچنا/پڑھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ عمل نہی ہے؟؟
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), عبداللہ آدم (02-02-12) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ورنہ لکھنا صرف مجھے یہی تھاکہ کیا سوچنا عمل ہے ؟؟ جملہ اور قابل فہم بناتاہوں کہ اللہ نے کہا کہ چاند ستاروں ، زمین و آسمان پر اور ان کی تخلیق پر غور و فکر کرو ۔ یعنی قران پاک نے نہ صرف یہ کہ غور و فکر کو عمل قرار دیا بلکہ عبادت بھی قرار دیا |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
پہلی سیڑھی یہی علم حاصل کرنا ہے. اس کے بعد اچھی طرح سمجھنا ہے، اسے ہی میرے خیال میں معرفت کہتے ہیں . . . . معرفت کے بارے میں کسی کو اور کچھ بہتر علم تو ضرور بتائے.
اس کے بعد جو دل و دماغ میں اتار لیا ہے، اس پر عمل کرنا ہے. |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (20-02-12) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لفظ معرفت عرف سے مشتق ہے اور لغت میں اس کا معنی ہے ’’کسی شئے کی ذات،آثار اور خصوصیات کے بارے میں علم حاصل کرنا‘‘ جبکہ اصطلاح میں کسی شئے کو اس کے غیر سے ممتاز کردینے کو اس شئے کی معرفت کہا جاتاہے ۔ علم اور معرفت میں فرق : علم اور معرفت کے درمیان فرق یہ ہے کہ اگر کسی شئے کی تصویر ذہن میں آجاۓ اور اسے حواس خمسہ کے ذریعہ درک کیا جاۓ۔ تو یہ اُس شئے کا علم کہلاتا ہے۔ اور چونکہ اللہ تعالی انسانی تصور سے بالا تر ہے ،حواس خمسہ بھی اس کے ادراک سے عاجز ہیں لہذا خدا کے بارے میں لفظ ’’علم‘‘ استعمال نہیں ہوتا بلکہ لفظ ’’معرفت‘‘استعمال ہوتا ہے مثلا علمت اللہ نہیں کہا جاۓ گا بلکہ عرفتُ اللّہ کالفظ استعمال ہوگا۔ ۔ Last edited by حیدر Rehan; 02-02-12 at 03:49 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
میرا خیال یہ اختلاف اب لفظی سا لگ رہا ہے، کیونکہ اللہ آیت میں علم حاصٌ کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ظاہر ہے علم اتنا ہی حاٌصل ہو سکتا ہے جتنا کہ خود اس نے قرآن میں اتارا یا نبی علیہ السلام کو دیا اور انہوںنے ہمیں پہنچایا.
کیا خیال ہے. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لیکن اس عقیدے کے ساتھ کہ جو علم امت نے قران سے پالیا ہے اور جو کچھ رسول اکرم ص سے ہم تک پہچ سکا ہے۔ کیونکہ اج ہم میں سے کوئی یہ نہی کہہ سکتا ہے کہ اس نے قران کے سارے یا ہر ہر علم کے راز پالیے ہیں۔ اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسول اکرم ص نے جو جو کچھ امت کو دیا تھا وہ سب کا سب میرے یا تمھارے پاس پہچ سکا ہے۔ یہ بحث کچھ لوگوں میں اسی پاک نیٹ پر موجود ہے کہ رسول اکرم ص کے اس دنیا سے جانے کے بعد 150 سال تک تو کوئی حدیث کی کتاب بھی زیر تحریر نہی آئی تھی مگر یہ کہ لوگوں کے دلوں میں موجود تھی اور بعد میں تحریر میں آئیں۔ نوٹ۔ عقل انسان کا جوہر خاص ہے اللہ نے انسان کو قطرہ میں سمندر اور ایک ذرہ میں صحرا دیکھنے کی صلاحیت دی ہے اور انسان کی خودی ، علم و معرفت سے ہی بلند ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ نے انسان کو کائنات کے تصرف/تسخیر کیلئے بنایا ہے۔ Last edited by حیدر Rehan; 03-02-12 at 01:52 PM. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
قرآن کا سارا علم تو کوئی نہیں پا سکتا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تفسیر قرآں کی ضرورت ہر دور میں باقی رہتی ہے.. . .
باقی جو رسول نے امت کو دیا تھا وہ تو اس وقت میرے گمان کے مطابق سارا کا سارا پہنچ چکا ہے کیونکہ وہ ہدایت کا حصہ ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالٰی ایک زمانے کے لوگوں کو تو مکمل علم ہدایت سے سرفراز کرے اور ہم جیسوں کو ، جو ویسے ہی بہت ناکارہ ہیں، مکمل ہدایت بھی نہ پہنچ پائے !!! تو یہ عقلا بھی محال ہے !!! بہت اچھے یار، آپ کا تو علم کے بارے میں خاصا وسیع علم ہے، اس بارے میں الگ سے مفصل ہم کو مستفید فرمایا جاوے. شکریہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ کی معرفت یعنی کہ اللہ کی پہچان کو جہاں تک میں سمجھ پائی ہوں ۔
اللہ کی آیات جو دو طرح کی ہیں ایک قرآن اور دوسرا اللہ کی خلق یعنی یہ کائنات اوراس میں موجود اللہ کی مخلوق ، پر غوروفکرکرنے سے علم حاصل ہوگا ۔ یہ علم ہم کو معرفت تک پہنچائے گا یعنی اللہ کی پہچان کرائے گا ۔ غوروفکر کرنا عقل کا کام ہے اور معرفت روح کو حاصل ہوتی ہے ۔ اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کردیں شکریہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جس کی وجہ سے آیات دو طرح کی آیات میں تقسیم ہورہی ہیں۔یہ مسلہ اُسی نظریہ تک ہی رہےگا جہاں کا یہ مسلہ ہے یعنی یہ کہ قران جو ہمارے پاس کتاب کی صورت میں موجود ہے وہ اللہ کی خلق/مخلوق ہے یا نہی ہے اور اس نظریہ کی وجہ سے آیات کو دو طرح کی آیات میں تقسیم نہی کرسکتے پھر بھی اگر کوئی آیات کو دو طرح کی ایات میں اس طرح تقسیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے تو یہ الگ بات ہے اگر ایات کو ایت صغری و آیت کبری میں تقسیم کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ آیت کہتے ہیں نشانی کو اور آیت کی جمع آیات ہیں۔ اللہ کی آیات یعنی اللہ کی نشانیاں قران و مختلف صحیفہ سماوی ، انبیاع و رسول و فرشتے چاند سورج ستارے زمین ، پہاڑ نباتات سے لے کر حیوانات تک یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (20-02-12), عبداللہ آدم (07-02-12) |
![]() |
| Tags |
| کیا, لاالٰہ الا اللہ, اسلام, بنیاد, حقیقت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیوں ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ | محمدعدنان | عمومی بحث | 24 | 08-09-10 01:59 PM |
| لوڈ شیڈنگ سے نجات ممکن ہے .... مگر کیسے .... ؟؟؟ | ALI-OAD | سیاست | 1 | 03-03-10 01:06 AM |
| بلاگ پر رابطہ فارم کیسے بنائیں ؟؟؟ | فرحان دانش | Ask Experts ماہرین کی رائے | 6 | 29-11-09 11:45 AM |