واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > توحید



توحید توحید


حقیقت اسلام، کیا کیوں کیسے؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-01-12, 04:03 PM   #1
حقیقت اسلام، کیا کیوں کیسے؟؟؟
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 28-01-12, 04:03 PM

حقیقت اسلام کیا ہے؟

ہم یہ سنتے آئے ہیں کہ عیسائیوں کا روزہ ہمارے روزوں سے مختلف ہوا کرتا تھا، اور یہودیوں کے ہاں نماز کی صورت کچھ اور ہوا کرتی تھی اور عبادت کے کچھ اور طریقے رائج تھے وغیرہ وغیرہ. لیکن پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ تمام انبیاء کا دین اسلام تھا، کیوں؟؟

ہم اس بات سے بھی واقف ہیں کہ اسلام کے آغاز میں وہ تمام فرائض اس طرح سے لاگو نہ تھے جیسا کہ آج ہم ادا کرتے ہیں، مثلا روزے مدینہ منورہ میں آکر فرض ہوئے، زکوۃ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا اور نماز بھی معراج پر اس حالت اور اوقات کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو عنایت کی گئی.ان سب سے بھی پہلے اسلام کیا تھا؟؟

اس کے ساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کا شدید ترین مشکلات اور مصائب سے اٹا ہوا دور بھی یہی مکی دور تھا، جب بلال اور عمار بن یاسر ، خباب بن ارت اور عثمان ابن عفان جیسی ہستیاں پہار کی سی استقامت کے ساتھ لرزہ خیز مظالم کا سامنا خندہ پیشانی سے کیا کرتے تھے، کیوں؟؟

اور تو اور مشرکین مکہ بھی مسئلے کے حل کی طرف آنا بھی اپنی توہین خیال کرتے ہوئے مرنے مارنے پر تو امادہ تھے لیکن چند الفاط منہ سے نکالنا انہیں گوارا نہ تھا. . . .لاالہ الا اللہ !!! کیوں؟؟

میرے بھائیو اور بہنو!اسلام کی اولین اساس، بنیاد، اور حقیقت ....لاالہ الا اللہ ہے

اسی حقیقت کی بنیاد پر انبیاء کا دین ایک تھا،یہی ان کی پہچان تھی کہ اسی حقیقت کو وہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ بیان کرتے تھے، اور اسی حقیقت کو تسلیم کرنے کی دعوت، اسی کو اچھی طرح دل و دماغ میں اتارنے اور پوری زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا ان کا منشور تھا..... یہی حقیقت نماز روزہ حج زکوۃ سے بھی پہلے تھی، اسی کے لیے ہر نبی کے ماننے والوں نے ہر مشکل برداشت کی، اور اسی کا انکار کرنے والوں نے ان پر ہر عذاب مسلط کر کے دیکھ لیا ....!!!

یقینا یہ چند الفاظ نہ تھے، روح سے عاری وہ الفاظ جو آج ہم ادا کرتے ہیں، یہ اپنی اصلی روح کے ساتھ نظام زندگی کو بدل کر رکھ دینے والی حقیقت تھی جسے لاالہ الا اللہ کے نام سے جانا جاتا ہے

یہاں پر سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کا ایک اقتباس دینا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ حقیقت اور "ظاہری صورت" کا فرق نکھر کر سامنے آجائے اور حقیقتِ اسلام کی اس گفتگو کو مدعا اور اہمیت
بھی واضح ہو جائے گی،فرماتے ہیں::

""صورت اور حقیقت میں بہت بڑا فرق ہے::
ایک چیز کی ایک صورت ہوتی ہے اور ایک حقیقت ، ان دونوں میں بہت بڑی مشابہت کے باوجود بہت بڑا فرق بھی ہوتا ہے ، آپ روزہ مرہ کی زندگی میں صورت او رحقیقت اور ان کے فرق سے خوب واقف ہیں ۔ میں اس کی دو مثالیں دیتا ہوں، آپ نے مٹی کے پھل دیکھے ہوں گے جو بالکل اصلی پھل معلوم ہوتے ہیں، لیکن صورت وحقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہے ، اصل آم کوئی اور چیز ہے اور مٹی کا نقلی آم کوئی اور چیز ، مٹی کے آم میں نہ اصلی آم کا ذائقہ ہے، نہ خوشبو، نہ رس، نہ نرمی، نہ اس کی خاصیتیں، صرف آم کی شکل ہے او راس کا رنگ وروغن، اس لیے اس کو آم کہیں گے، مگر مٹی کا آم، یہ مٹی کا آم دیکھنے بھرکا ہے، نہ کھانے کا ،نہ سونگھنے کا ،نہ ذائقہ ،نہ خوشبو۔

آپ مردہ عجائب خانہ میں گئے ہوں گے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہاں سب درندے اور سب جانور موجود ہیں ، شیر بھی ہے اور ہاتھی بھی ،تیندوا بھی اور چیتا بھی، مگر بے حقیقت، بھُس بھری ہوئی کھالیں، جن میں نہ کوئی جان ہے ،نہ طاقت شیر ہے، مگر نہ اس کی آواز ہے، نہ غصہ، نہ طاقت ہے، نہ ہیبت۔

حقیقت کے مقابلہ میں صورت کی شکست::
اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صورت کبھی حقیقت کے قائم مقام نہیں ہو سکتی ، صورت سے حقیقت کے خواص کبھی ظاہر نہیں ہو سکتے، صورت کبھی حقیقت کا مقابلہ نہیں کرسکتی، صورت کبھی حقیقت کا بوجھ سنبھال نہیں سکتی، جب صورت کسی حقیقت کے مقابلے میں آئے گی، اس کو شکست کھانا پڑے گی، جب صورت پر کسی حقیقت کا بوجھ ڈالا جائے گا صورت کی پوری عمارت زمین پر آرہے گی۔

صورت اور حقیقت کا یہ فرق ہر جگہ نمایاں ہو گا۔ ہر جگہ صورت کو حقیقت کے سامنے پسپا ہونا پڑے گا۔ یہاں تک کہ عظیم سے عظیم اور مہیب سے مہیب صورت اگر حقیر سے حقیر حقیقت کے مقابلہ میں آئے گی تو اس کو مغلوب ہونا پڑے گا۔ اس لیے ہر چھوٹی سے چھوٹی حقیقت ہر بڑی سے بڑی صورت کے مقابلہ میں زیادہ طاقت رکھتی ہے ، حقیقت ایک طاقت ہے، ایک ٹھوس وجود ہے ، صورت ایک خیال ہے ، دیکھیے! ایک چھوٹا سا بچہ اپنے کمزور ہاتھ کے اشارہ سے ایک بھُس بھرے مردہ شیر کو دھکا دے سکتا ہے ، اس کو زمین پر گرا سکتا ہے، اس لیے کہ بچہ خواہ کتنا ہی کمزور سہی ایک حقیقت رکھتا ہے، شیر اس وقت صرف صورت ہی صورت ہے ، بچہ کی حقیقت شیر کی صورت پر آسانی سے غالب آجاتی ہے۔


سید صاحب کا یہ پورا مضمون ہی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے.

جاری ہے

Last edited by عبداللہ آدم; 28-01-12 at 04:11 PM..

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 426
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), کنعان (29-01-12), نبیل خان (28-01-12), محمد یاسرعلی (28-01-12), احمد نذیر (29-01-12), حیدر (03-02-12), حیدر Rehan (28-01-12), زارا (30-01-12), سحر (28-01-12), شھزادباجوہ (17-02-12), عبداللہ حیدر (29-01-12)
پرانا 28-01-12, 11:52 PM   #2
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب سے پہلے حقیقت اسلام : کیوں؟؟

اس کا کچھ اندزہ تو اپ کو اب تک ہو گیا ہو گا اور مزید کچھ اب ہو جائے گا.انشاء اللہ

1:: اسلام کی حقیقت کو جاننا، سمجھنا، ماننا اور عمل میں لانا حقوق اللہ میں سے سب سے بڑا حق اور اسلام کا سب سے پہلا اور بڑا فرض ہے.

2::انبیاء کی دعوت کا مرکز اور محور ہمیشہ سے ہی حقیقت رہی ہے.ہم بھی جانتے ہیں کہ اسلام میں داخلہ اسی حقیقت کی شہادت دینے پر ہی ملتا ہے.

3:: اسلام کی عمارت کی بنیاد اور تمام عبادات کی روح ہے.

4::دنیا میں مسلمانؤں کا عروج اسی حقیقت کو حقیقی رنگ میں اپنانے سے مشروط سے.
زندہ قوت تھی زمانے میں یہ توحید کبھی
آج کیا ہے فقط ایک مسئلہ علم کلام !

5::آخرت میں نجات کا سب سے بڑا دارومدار اس پر ہے.

اسلام کی حقیقت تک رسائی کیسے ہو گی؟؟

1:: کسی بھی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا علم حاصل کیا جائے، اسے جانا جائے، اس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہے.اللہ رب العزت فرماتے ہیں::

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
پس (اے نبیﷺ) خوب جان لو کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے


2:: پھر حقیقت کو سمجھنے کے لیے صرف "معلومات" ہی کافی نہیں ہوا کرتیں، بلکہ چیز یا معاملے کی تہہ میں گہرا اترنا پڑتا ہے، یہیں سے لاالہ الا اللہ کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھنا اور دل و دماغ میں اتارنے کی بات سامنے آتی ہے.

3:: آخری اور بڑی چیز انفرادی اور اجتماعی دائروں میں اس پر عمل پیرا ہونا، اسے نافذ کرنا اور آخری دم، آخری حد تک اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کرتے رہنا !!!
روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو!
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

عمل کے بغیر کوئی بھی نظریہ محض ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں ہوا کرتا، حقیقت اسلام بھی تبھی کارگر اور مفید ہے جب یہ محض خیالات کی دنیا سے نکل کرعملی صورت اختیار کرے.
آہ! اس راز سے واقف ہے نہ ملا‘ نہ فقیہہ
وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام


یہ تھا حقیقت اسلام لاالہ الا اللہ کا ایک اجمالی سا تعارف، اس کے بعد ہم ان شاء اللہ اس سلسلے میں کچھ ابتدائی باتیں کریں گے. اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں. آمین

Last edited by عبداللہ آدم; 28-01-12 at 11:55 PM.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), کنعان (29-01-12), احمد نذیر (29-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), زارا (30-01-12), سحر (29-01-12), شھزادباجوہ (17-02-12), عبداللہ حیدر (29-01-12)
پرانا 29-01-12, 10:26 PM   #3
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے کہ
جس نے دل سے لاالہٰ الا للہ محمدالرسول اللہ پڑھا وہ جنت میں جائے گا۔
اس حدیث کے مطابق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر کلمہ گو مسلمان جنت میں جائے گا۔
ہاں ہر وہ مسلمان جنت میں جائے گا جس نے دل سے ایمان لے آیا اللہ کی وحدانیت پر اور اپنے دل و زبان سے ہر قسم کے شرک کو چھوڑ دیا ۔
لا الہٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ہے کوئی معبود ۔۔۔۔ اللہ کو ماننے سے پہلے ہر قسم کے معبود کا انکار ضروری ہے ۔
یہ ہے شرک سے انکار ۔

ہم مدد مانگے گے تو صرف اللہ سے ، ہم ایمان لائیں گے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر ہمیں نا کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نا کوئی نقصان ۔
اگر اللہ نے ہمارے لیے کوئی آزمائش لکھی ہے تو پوری دنیا کی طاقت مل کر بھی ہم کو آزمائش سے نجات نہیں دلاسکتی ہے صرف اللہ کی ذات ہی ہم کو آزمائش سے نجات دلاسکتی ہے
پوری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اللہ کی مرضی کے بغیر ہمیں نقصان نہیں پہنچاسکتی ہیں ۔
ہر طرح کی مدد اللہ ہی طرف ہوتی ہے ۔

اب آتے ہیں ہمارے روزمرہ کے نادانستگی میں ادا کیے ہوئے شرکیہ جملے ۔

اگر کوئی بیمار ہو اور کسی دوائی پینے کے بعد صحت یاب ہوجاتا ہے تو کہتا ہے اس دوائی سے میری بیماری ختم ہوئی اور میں صحت مند ہوگئا ( غلط جملہ )

اللہ نے اس دوائی کے ذریعے مجھے صحت عطا فرمائی ( صحیح جملہ )

کسی کا بچہ حادثہ کا شکار ہورہا ہو اور آپ کا کوئی عزیز عین وقت پر اس بچے کو بچانے کا باعث بنتا ہے
تو ہم کہتے ہیں کہ تم نے ہمارے بچے کو بچالیا ( غلط جملہ )
اللہ نے تمھارے ذریعے سے ہمارے بچے کو بچالیا ۔ ( صحیح جملہ)

ہم کہتے ہیں کہ اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفاء ہے ( غلط جملہ )
اللہ نے اس ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفاء رکھی ہے ( صحیح جملہ )

ہم کہتے ہیں کہ بارش کی وجہ سے فصل اچھی ہوئی ( غلط جملہ )
اللہ نے بارش کے ذریعے سے اچھی فصل پیدا کی ( صحیح جملہ )

ان شاءاللہ کہنے کی اہمیت کا ذکر اللہ نے خود قران میں کئی جگہ پر کیا ہے ۔
ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے ہر مستقبل کے ارادوں کے ساتھ ان شاءاللہ لگائیں کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر ہمارا کوئی ارادہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا ہے

جزاک اللہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے

Last edited by سحر; 30-01-12 at 03:02 PM.
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), حیدر Rehan (30-01-12), زارا (30-01-12), شکاری (30-01-12), شھزادباجوہ (17-02-12), عبداللہ آدم (02-02-12), عبداللہ حیدر (29-01-12)
پرانا 30-01-12, 03:00 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 443
کمائي: 10,450
شکریہ: 345
437 مراسلہ میں 1,434 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سحر بہن،
درست لفظ یوں ہے:
ان شإءاللہ
نا کہ
انشإءاللہ (یہ غلط تلفظ ہے)
شکاری آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), سحر (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 03:03 PM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
سحر بہن،
درست لفظ یوں ہے:
ان شإءاللہ
نا کہ
انشإءاللہ (یہ غلط تلفظ ہے)
جزاک اللہ بھائی
میں نے اپنے مراسلے میں تدوین کردی ہے
آئندہ خیال رکھوں گی ان شاءاللہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), حیدر Rehan (30-01-12), شکاری (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 03:57 PM   #6
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

معرفت حاصل کرنا یعنی سوچنا/پڑھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ عمل نہی ہے؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), عبداللہ آدم (02-02-12)
پرانا 30-01-12, 04:25 PM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
معرفت حاصل کرنا یعنی سوچنا/پڑھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا یہ عمل نہی ہے؟؟
معرفت اور سوچنے ، پڑھنے میں فرق ہے
سوچنا یعنی غوروفکر کرنا معرفت حاصل کرنے کا طریقہ کار ہے خود معرفت نہیں ( یہ میری رائے ہے اگر میں غلط ہوں تو تصحیح کردیں ۔)
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12)
پرانا 30-01-12, 04:48 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
معرفت اور سوچنے ، پڑھنے میں فرق ہے
سوچنا یعنی غوروفکر کرنا معرفت حاصل کرنے کا طریقہ کار ہے خود معرفت نہیں ( یہ میری رائے ہے اگر میں غلط ہوں تو تصحیح کردیں ۔)
معرفت کا لفظ استعمال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ فضول کچھ سوچتے رہنا بھی عمل میں شمار ہوجائےگا ۔۔

ورنہ لکھنا صرف مجھے یہی تھاکہ

کیا سوچنا عمل ہے ؟؟

جملہ اور قابل فہم بناتاہوں کہ
اللہ نے کہا کہ چاند ستاروں ، زمین و آسمان پر اور ان کی تخلیق پر غور و فکر کرو ۔
یعنی
قران پاک نے نہ صرف یہ کہ غور و فکر کو عمل قرار دیا بلکہ عبادت بھی قرار دیا
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), سحر (30-01-12)
پرانا 02-02-12, 03:27 PM   #9
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پہلی سیڑھی یہی علم حاصل کرنا ہے. اس کے بعد اچھی طرح سمجھنا ہے، اسے ہی میرے خیال میں معرفت کہتے ہیں . . . . معرفت کے بارے میں کسی کو اور کچھ بہتر علم تو ضرور بتائے.

اس کے بعد جو دل و دماغ میں اتار لیا ہے، اس پر عمل کرنا ہے.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (20-02-12)
پرانا 02-02-12, 03:40 PM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
پہلی سیڑھی یہی علم حاصل کرنا ہے. اس کے بعد اچھی طرح سمجھنا ہے، اسے ہی میرے خیال میں معرفت کہتے ہیں
معرفت کے بارے میں کسی کو اور کچھ بہتر علم تو ضرور بتائے.
معرفت کیا ہے ؟؟
لفظ معرفت عرف سے مشتق ہے اور لغت میں اس کا معنی ہے
’’کسی شئے کی ذات،آثار اور خصوصیات کے بارے میں علم حاصل کرنا‘‘
جبکہ اصطلاح میں
کسی شئے کو اس کے غیر سے ممتاز کردینے کو اس شئے کی معرفت کہا جاتاہے ۔


علم اور معرفت میں فرق :

علم اور معرفت کے درمیان فرق یہ ہے کہ اگر کسی شئے کی تصویر ذہن میں آجاۓ اور اسے حواس خمسہ کے ذریعہ درک کیا جاۓ۔ تو یہ اُس شئے کا علم کہلاتا ہے۔

اور چونکہ اللہ تعالی انسانی تصور سے بالا تر ہے ،حواس خمسہ بھی اس کے ادراک سے عاجز ہیں لہذا خدا کے بارے میں لفظ ’’علم‘‘ استعمال نہیں ہوتا بلکہ لفظ ’’معرفت‘‘استعمال ہوتا ہے
مثلا علمت اللہ نہیں کہا جاۓ گا بلکہ عرفتُ اللّہ کالفظ استعمال ہوگا۔

۔

Last edited by حیدر Rehan; 02-02-12 at 03:49 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
skjatala (03-02-12), زارا (02-02-12), سحر (02-02-12), عبداللہ آدم (02-02-12)
پرانا 02-02-12, 06:16 PM   #11
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرا خیال یہ اختلاف اب لفظی سا لگ رہا ہے، کیونکہ اللہ آیت میں علم حاصٌ کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ظاہر ہے علم اتنا ہی حاٌصل ہو سکتا ہے جتنا کہ خود اس نے قرآن میں اتارا یا نبی علیہ السلام کو دیا اور انہوںنے ہمیں پہنچایا.

کیا خیال ہے.
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), حیدر Rehan (03-02-12)
پرانا 03-02-12, 01:50 PM   #12
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
کیونکہ اللہ آیت میں علم حاصٌ کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ظاہر ہے علم اتنا ہی حاٌصل ہو سکتا ہے جتنا کہ خود اس نے قرآن میں اتارا یا نبی علیہ السلام کو دیا اور انہوں نے ہمیں پہنچایا.
تمھاری بات درست ہے
لیکن اس عقیدے کے ساتھ کہ جو علم امت نے قران سے پالیا ہے اور جو کچھ رسول اکرم ص سے ہم تک پہچ سکا ہے۔

کیونکہ اج ہم میں سے کوئی یہ نہی کہہ سکتا ہے کہ اس نے قران کے سارے یا ہر ہر علم کے راز پالیے ہیں۔

اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسول اکرم ص نے جو جو کچھ امت کو دیا تھا وہ سب کا سب میرے یا تمھارے پاس پہچ سکا ہے۔

یہ بحث کچھ لوگوں میں اسی پاک نیٹ پر موجود ہے کہ رسول اکرم ص کے اس دنیا سے جانے کے بعد 150 سال تک تو کوئی حدیث کی کتاب بھی زیر تحریر نہی آئی تھی مگر یہ کہ لوگوں کے دلوں میں موجود تھی اور بعد میں تحریر میں آئیں۔

نوٹ۔
عقل انسان کا جوہر خاص ہے اللہ نے انسان کو قطرہ میں سمندر اور ایک ذرہ میں صحرا دیکھنے کی صلاحیت دی ہے اور انسان کی خودی ، علم و معرفت سے ہی بلند ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ نے انسان کو کائنات کے تصرف/تسخیر کیلئے بنایا ہے۔

Last edited by حیدر Rehan; 03-02-12 at 01:52 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), سحر (03-02-12), عبداللہ آدم (03-02-12)
پرانا 03-02-12, 08:43 PM   #13
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن کا سارا علم تو کوئی نہیں پا سکتا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تفسیر قرآں کی ضرورت ہر دور میں باقی رہتی ہے.. . .

باقی جو رسول نے امت کو دیا تھا وہ تو اس وقت میرے گمان کے مطابق سارا کا سارا پہنچ چکا ہے کیونکہ وہ ہدایت کا حصہ ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالٰی ایک زمانے کے لوگوں کو تو مکمل علم ہدایت سے سرفراز کرے اور ہم جیسوں کو ، جو ویسے ہی بہت ناکارہ ہیں، مکمل ہدایت بھی نہ پہنچ پائے !!!

تو یہ عقلا بھی محال ہے !!!

بہت اچھے یار، آپ کا تو علم کے بارے میں خاصا وسیع علم ہے، اس بارے میں الگ سے مفصل ہم کو مستفید فرمایا جاوے.

شکریہ
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), skjatala (03-02-12), حیدر Rehan (07-02-12), سحر (07-02-12)
پرانا 07-02-12, 11:47 AM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,603
کمائي: 172,554
شکریہ: 8,802
5,785 مراسلہ میں 21,393 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ کی معرفت یعنی کہ اللہ کی پہچان کو جہاں تک میں سمجھ پائی ہوں ۔
اللہ کی آیات جو دو طرح کی ہیں ایک قرآن اور دوسرا اللہ کی خلق یعنی یہ کائنات اوراس میں موجود اللہ کی مخلوق ، پر غوروفکرکرنے سے علم حاصل ہوگا ۔ یہ علم ہم کو معرفت تک پہنچائے گا یعنی اللہ کی پہچان کرائے گا ۔
غوروفکر کرنا عقل کا کام ہے اور معرفت روح کو حاصل ہوتی ہے ۔
اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کردیں
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-02-12), حیدر Rehan (07-02-12), عبداللہ آدم (07-02-12)
پرانا 07-02-12, 04:02 PM   #15
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اللہ کی آیات جو دو طرح کی ہیں ایک قرآن اور دوسرا اللہ کی خلق یعنی یہ کائنات اوراس میں موجود اللہ کی مخلوق ، پر غوروفکرکرنے سے علم حاصل ہوگا ۔ یہ علم ہم کو معرفت تک پہنچائے گا یعنی اللہ کی پہچان کرائے گا ۔
غوروفکر کرنا عقل کا کام ہے اور معرفت روح کو حاصل ہوتی ہے ۔
اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کردیں
شکریہ
لال رنگ سے نمایاں کیا گیا جملہ
جس کی وجہ سے آیات دو طرح کی آیات میں تقسیم ہورہی ہیں۔یہ مسلہ اُسی نظریہ تک ہی رہےگا جہاں کا یہ مسلہ ہے یعنی یہ کہ قران جو ہمارے پاس کتاب کی صورت میں موجود ہے وہ اللہ کی خلق/مخلوق ہے یا نہی ہے اور اس نظریہ کی وجہ سے آیات کو دو طرح کی آیات میں تقسیم نہی کرسکتے پھر بھی اگر کوئی آیات کو دو طرح کی ایات میں اس طرح تقسیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے تو یہ الگ بات ہے اگر ایات کو ایت صغری و آیت کبری میں تقسیم کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔


آیت کہتے ہیں نشانی کو اور آیت کی جمع آیات ہیں۔ اللہ کی آیات یعنی اللہ کی نشانیاں

قران و مختلف صحیفہ سماوی ،
انبیاع و رسول و فرشتے
چاند سورج ستارے زمین ، پہاڑ
نباتات سے لے کر حیوانات تک
یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (20-02-12), عبداللہ آدم (07-02-12)
جواب

Tags
کیا, لاالٰہ الا اللہ, اسلام, بنیاد, حقیقت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیوں ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ محمدعدنان عمومی بحث 24 08-09-10 01:59 PM
لوڈ شیڈنگ سے نجات ممکن ہے .... مگر کیسے .... ؟؟؟ ALI-OAD سیاست 1 03-03-10 01:06 AM
بلاگ پر رابطہ فارم کیسے بنائیں ؟؟؟ فرحان دانش Ask Experts ماہرین کی رائے 6 29-11-09 11:45 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger