|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2916
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 16
کمائي: 291
شکریہ: 13
15 مراسلہ میں 54 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
جناب حیدر صاحب کی خدمت میں گزارش ہےکہ ہمیں شرک کی تعریف سے آگاہ فرمادیں۔ تاکہ ہم اپنی زندگی میں اس گناہ کبیرہ سے بچ سکیں۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے لیاقت علی کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (14-08-09), sahj (17-08-09), فیصل ناصر (21-06-09), موجو (18-12-09), ام غزل (28-06-09), خرم شہزاد خرم (21-06-09), رضی (26-06-09), عبداللہ حیدر (21-06-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,534
کمائي: 88,158
شکریہ: 5,201
5,042 مراسلہ میں 11,467 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شرک کوئی بھی وہ چیز جو اللہ کے ساتھ ملائی جائے
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | sahj (17-08-09), فیصل ناصر (21-06-09), ام غزل (28-06-09), خرم شہزاد خرم (21-06-09), رضی (26-06-09), عبداللہ حیدر (26-06-09) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 16
کمائي: 291
شکریہ: 13
15 مراسلہ میں 54 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جناب عبداللہ حیدر صاحب آپ نے شرک کی تعریف فرمادی ہے آپ کا بہت بہت شکریہ ایک گزارش اورہے کہ اگرآپ اس کا حوالہ بھی عطافرمادیں توبہت ہی اچھا ہوگا۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 26-06-09 at 08:39 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے لیاقت علی کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (14-08-09), sahj (01-01-10), Student (14-08-09), ام غزل (28-06-09), ابن حسن (18-08-09), عبداللہ حیدر (26-06-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
میں نے شرک کی جوتعریف بیان کی اس میں تین لفظ "ربوبیت، الوہیت اور اسماء و صفات" استعمال ہوئے ہیں۔ اس تعریف کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان تینوں الفاظ کی مناسب تشریح کر دی جائے۔
ربوبیت : توحید ربوبیت کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کا رب اور پالنے والا ہے۔ وہ کائنات کو چلانے والے اور فرمان جاری کرنے والا ہے۔ اس کے سوا خالق کوئی نہیں، اس کے سوا مالک کوئی نہیں اور و ہ کائنات کا انتظام و انصرام چلا رہا ہے۔ مشرکین میں سے بہت کم ایسے ہیں جو توحید ربوبیت کے منکر ہوں۔ اس توحید کا اقرار نبی کریم صلی اﷲ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں کفار مکہ کو بھی تھا۔ آئیے، قرآن کریم کی روشنی میں مشرکین کا عقیدہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ (سورت الزخرف آیت 87) "اور اگر آپ ان (مشرکین) سے پوچھیں کہ انہیں کس نے تخلیق کیا ہے تو وہ ضرور کہیں کہ اللہ نے۔ تو پھر یہ کہاں سے بہکائے جاتے ہیں" سورۃ المومنون میں ان کا عقیدہ اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے: قُلْ لِمَنِ الْأَرْضُ وَمَنْ فِيهَا إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (84) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (85) قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (86) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (87) قُلْ مَنْ بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ( 88 ) سَيَقُولُونَ لِلَّهِ قُلْ فَأَنَّى تُسْحَرُونَ (89) (المومنون آیت 84 تا 89) "(اے نبی) ان سے پوچھیے کہ اگر تم جانتے ہو (تو بتاؤ) کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے؟ وہ فورًا کہیں گے "اللہ کا"۔ کہیے کہ "پھر تم نصیحت کیوں نہ پکڑتے؟ ان سے پوچھیے "کون ہے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب"؟ وہ فورًا کہیں گے "اللہ"۔ کہہ دیجیے "تو پھر تم ڈرتے نہیں ہو"؟ ان سے پوچھیے "اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے پر پناہ نہیں دی جا سکتی"؟ وہ فورًا کہیں گے " اللہ"۔ آپ فرما دیجیے "تو پھر تم کہاں سے سحر زدہ کیے جا رہے ہو"؟ مشرکین مکہ تسلیم کرتے تھے کہ رزق دینے والی ذات اللہ کی ہے: قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمْ مَنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ (سورة يونس 31) "آپ فرمائیے کہ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے، یا کون ہے جو مالک ہے (تمہاری) سماعت و بصارت کا؟ اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور کون ہے جو (کائنات کا) انتظام چلا رہا ہے؟ وہ (مشرکین) فورًا کہیں گے "اللہ"۔ آپ (ان سے) فرمائیے "تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں"؟ قرآن کریم کی ان آیات سے مشرکین مکہ کے عقیدے پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ تسلیم کرتے تھے کہ: 1۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے 2۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور عرش عظیم کا مالک ہے۔ 3۔ ہر چیز کی بادشاہت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 4۔ اللہ پناہ دینے والا ہے۔ 5۔ اللہ کے مقابلے پر کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ 6۔ زمین و آسمان سے اللہ ہی رزق دیتا ہے۔ 7۔ انسان کی ساری قوتیں بشمول سماعت و بصارت اس کے اختیار میں ہیں جب چاہے چھین لے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ 9۔ اللہ تعالیٰ کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔ بہت سے بھائیوں کو تعجب ہو گا کہ اگر وہ یہ سب باتیں مانتے تھے تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں مشرک کیوں کہا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان سے کیوں جنگیں لڑیں۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ اب تک کی گزارشات کے بارے میں کوئی الجھن ہو بتائیے تا کہ پہلے اسے حل کیا جا سکے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 27-06-09 at 01:30 AM. |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,332
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
رسالت محمدی پر ایمان کے بغیر نجات کوئی نہیں آصف صاحب سے میں دوسری جگہ کہہ چکا ہوںکہ عقیدہ رسالت میں نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں جو مراسلے ہیں ان پر اپنی رائے دیجیے لیکن پتہ نہیں کیوں وہ کنی کترا جاتے ہیں لنک یہ ہے: عقیدہ رسالت - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز |
|
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ "ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور ولی بنالیے کہتے ہیں ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو" (ترجمہ احمد رضا خان) Last edited by عبداللہ حیدر; 03-07-09 at 03:16 PM. |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
آیت کانمبردیں تونوازش ھوگی
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سورۃ الزمر (39 ویں سورہ )
آیت 3 |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | muhammad asif virani (03-07-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
ہاں خالص اللہ ھی کی بندگی ھے(1)(اسکےسواکوئی عبادت کےمستحق نھیں)اوروہ جنہوں نےاسکےسوااورولی بنالیئے(2)(معبودٹہرالیئے۔مر ادانسےبت پرست ھیں)کھتےھیں ھم توانھیں(3)(یعنی بتوں کو)صرف اتنی بات کیلیئےپوجتےھیں کہ یہ ھمیں اللہ کےپاس نزدیک کردیں اللہ ان میں فیصلہ کردیگااس بات کاجسمیں اختلاف کررھےھیں(4)(ایمانداروں کوجنت میں اورکافروں کودوزخ میں داخل فرماکر)بےشک اللہ راہ نہیں دیتااسےجوجھوٹابڑاناشکراھو (5)(جھوٹااس بات میں کہ بتوں کواللہ تعالٰی سےنزدیک کرنےوالابتائےاورخداکیلیئے اولادٹہرائےاورناشکراایساک ہ بتوں کوپوجے)الحمدللہ مسلمان نہ ھی کسی ولی کویانبی کواللہ سمجھتےھیں اورنہ ھی پوجتےھیں بس اپنی اپنی سمجھ کی بات ھےیہی توپچھلےکسی تھریڈمیں کہاتھاکہ قرآن میں تحریف ممکن نہیں کیونکہ دوچیزوں کااللہ نےحفاظت کاوعدہ فرمایاھے(1)کعبہ(2)قرآن ھاں ترجموں اورتفاسیرمیں تحریف ممکن ھےجویاردوستوں نےکردی جیسےبتوں کی آیات انبیاءواولیاءپرچسپاں کردیں جس سےفرقہ واریت نےجڑپکڑلی ویسےاپنی اپنی سمجھکی بات ھےمقولہ مشہورھے"باادب بانصیب بےادب بدنصیب"
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! Last edited by muhammad asif virani; 03-07-09 at 08:54 AM. |
|
|
|
| muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا گیا | موجو (18-12-09) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَضُرُّهُمْ وَلاَ يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـؤُلاَءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللّهِ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللّهَ بِمَا لاَ يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلاَ فِي الْأَرْضِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ "اور یہ (لوگ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے" ترجمہ احمد رضا خان: "اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں تم فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے" "ترجمے کا آن لائن حوالہ" گویا یہ ایک اور ثبوت ہوا اس بات کا کہ مشرکین اپنے معبودوں کو اللہ کے برابر یا اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتے تھے۔ آپ نے شرک کی جو تعریف بیان کی ہے کہ "کسی کو اللہ کے برابر یا اس سے بڑھ کر سمجھنا" اس کا غلط ہونا الحمدللہ قرآن کریم سے ثابت ہو گیا۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 03-07-09 at 03:18 PM. |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا | Student (14-08-09), لیاقت علی (14-08-09), مباح (18-08-09), حیدر Rehan (01-02-10), رفیّعہ جوََِِأد (01-01-10) |
![]() |
| Tags |
| arabic, قرآن, مکہ, ماں, محبت, معلوم, آج, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, بھائی, بادشاہت, توحید, جواب, حل, خبر, دل, رات, زندگی, عبادت, عزت, صفات, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|