|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 347
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | compaq (29-01-12), Miss Khan (27-01-12), فیصل ناصر (26-01-12), ہادی (26-02-12), فاروق سرورخان (27-01-12), گلاب خان (27-01-12), نبیل خان (03-02-12), مرزا عامر (27-01-12), اجمل (27-01-12), اختر (05-02-12), حیدر (27-01-12), رضی (05-02-12), عبداللہ آدم (28-01-12), عبداللہ حیدر (27-01-12) |
|
|
#8 | ||
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Feb 2012
مراسلات: 30
کمائي: 638
شکریہ: 0
22 مراسلہ میں 62 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
غیراللہ سے مدد مانگنا جائز ہے ۔ اللہ رب العزت نے خود قرآن پاک میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے فرمانِ باری تعالیٰ ہے ’’ وَتَعَاوَنُوا عَلَی البرِّ وَالتَّقوَی وَلاَ تَعَاوَنُوا عَلَی الِاِثمِ وَالعُدوَانِ ‘‘ترجمہ کنزالایمان ’’ اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مددکرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو ‘‘۔ (سورۃ المائدۃ، آیت :۲،پ:۶) اور نماز وصبر سے مدد چاہنے کا حکم ارشاد فرمایا ’’یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا استَعِینُوا بِالصَّبرِ وَالصَّلاَۃِ ِاِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ (153) ‘‘ترجمہ کنزالایمان ’’ اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد چاہو بے شک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔ (سورۃ البقرہ ،آیت:۳۵۱، پ:۲) اللہ رب العزت کے نبی عیسیٰ’’ علیہ السلا م‘‘نے اپنے حواریوں سے مدد مانگی قران مجید میں ہے ’’فَلَمَّا أَحَسَّ عِیسَی مِنہُمُ الکُفرَ قَالَ مَن أَنصَارِی ِاِلَی اللّہِ قَالَ الحَوَارِیُّونَ نَحنُ أَنصَارُ اللّہ‘‘ ترجمہ کنزالایمان ’’ پھر جب عیسی نے ان سے کفر پایا بولا کون میرے مدد گار ہوتے ہیں اللہ کی طرف حواریوں نے کہا ہم دین خدا کے مددگار ہیں ‘‘۔ (سورۃ اٰ ل عمران،آیت:۲۵،پ:۳) بلکہ خود اللہ رب العزت نے اپنے دین کے لیے اپنے بندوں سے مدد مانگی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے ’’یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ِاِن تَنصُرُوا اللَّہَ یَنصُرکُم وَیُثَبِّت أَقدَامَکُم ‘‘ ترجمہ کنزالایمان ’’ اے ایمان والو ! اگر تم دین خداکی مددکروگے اللہ تمہاری مددکریگااورتمہارے قدم جمادے گا ۔ (سورۃ محمد؛آیت:۷،پ:۶۲) اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ’’یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا کُونوا أَنصَارَ اللَّہ‘‘ ترجمہ کنزالایمان ’’اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو‘‘۔ (سورۃ الصَّف،آیت:۴۱،پ:۸۲) اگر غیراللہ سے مدد مانگنا شرک ہوتاتو کیا اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کی مدد کرنے اور صبرو نماز سے مدد چاہنے کا حکم فرماتا؟ کیا اللہ کے رسول عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں سے مدد طلب کرتی؟ کیا اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مددکے لیے بندوںکو حکم فرماتا؟ یقیناً یہ شرک نہیں ہے ۔ قرآنِ پاک تو شرک ختم کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے شرک پھیلانے کے لیے نہیں ۔ قرآن مجید میں غیراللہ سے مدد طلب کیا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ شرک نہیں ہے اور شرک تو بہت بعد کی بات ہے صرف ناجائز بھی نہیں ہے اور بات بات پر شرک کا ’’من گھڑت‘‘ اور ’’ شیطانی فتوٰی‘‘دیتے پھرنا انتہائی درجہ کی جہالت وگمراہی اور گستاخانِ اولیاء وانبیاء، گروہ ؟؟؟ کا شعار ہے کہ جو ہر وقت مسلمانوں کو مشرک بنانے کی ناپاک کوشش میں لگے رہتے ہیں اور یوں اپنی آخرت کا ستیاناس کرتے رہتے ہیں ۔ یاد رکھیے کسی گمراہ کے کہنے سے کوئی مومن مشرک نہیں ہو جاتا ہاں کہنے والے کا اپنا ایمان تباہ ہو سکتا ہے اگر وہ ایمان والا ہو اور اگر پہلے ہی سے بد مذہبی کی اندھیر نگری میں بھٹکنے اور رسولُ اللہ ؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو اپنا بڑا اور امام ماننے کی وجہ سے ایمان کی حد سے نکل کر کفر کی گھاٹی میں جا پڑا ہو تو کیا اسکا ایمان اور کاہے کی تباہی ہاں جہنم کے عذاب میں ترقی ضرور ہو گی اگر توبہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ آمین بجاہ النبی الامین ؐ مزید یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مبارک کتاب میں جبرئیلِ امین علیہ السلام اور صالح مومنین کو بھی مدد گار قرار دیا ہے فرمانِ عالیشان ہے ’’ فَاِنَّ اللَّہَ ہُوَ مَولَاہُ وَجِبرِیلُ وَصَالِحُ المُٶمِنِینَ وَالمَلَاءِکَۃُ بَعدَ ذَلِکَ ظَہِیرٌ ‘‘ (4) ‘‘ترجمہ کنزالایمان ’’بے شک اللہ انکا مدد گار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اسکے بعد فرشتے مدد پر ہیں ‘‘۔ ]سورۃالتحریم،آیت :۴،پ:۸۲[ اور ارشاد فرمایا ’’ فَاِنَّ اللَّہَ ہُوَ مَولَاہُ وَجِبرِیلُ وَصَالِحُ المُٶمِنِینَ وَالمَلَاءِکَۃُ بَعدَ ذَلِکَ ظَہِیرٌ (4) ‘‘ترجمہ کنزالایمان " اے غیب کی خبریں بتانے والے نبی تمہیں اللہ کافی ہے اور یہ جتنے تیرے پیرو (پیروی کرنے والی) ہوئی‘‘ (سورۃالانفال؛آیت:۴۶،پ:۰۱) وضاحت: اہل ِ سنت کے نزدیک لازمی نہیں ہے کہ انبیاء و اولیاء ہی سے مدد طلب کی جائے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اگر کوئی ان برگزیدہ ہستیوں سے مدد چاہے تو یہ جائز ہے ۔ اور انکی طرف سے ہونے والی مدد بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے ۔ نیز ان بزرگ ہستیوں امداد کا معنی یہ ہوتا ہے ’’کہ ان مبارک ہستیوں کو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں وسیلہ بنایا جاتا ہے ۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ اللہ کے سوا اپنے تئیں کوئی کسی کی ایک ذرہ کے برابر بھی مدد نہیں کرسکتا اور وہ امداد جو یہ مقبولانِ بارگاہ کرتے ہیں وہ اللہ عزوجلّ کی عطا ہی سے ہوتی ہی۔ اور یہی مقصود ہوتا ہے ان سے سوال کرنے کا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رحمت سے عطا فرمایا ہے اللہ کی اس عطا میں سے مجھے عطا فرمائی۔ جیسے کہ بچہ اپنے باپ سے یا فقیر غنی سے مانگتا ہے تو یہی معنیٰ اور مراد ہوتی ہے ۔ اور اسمیں کوئی شرکیہ بات نہیں جو اسکو شرک کہے اسکے جاہل ہونے میں کوئی شک نہیں اللہ تعالی ہدایت عطا فرمائے آمین۔ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب۔ اللہ تعالی سب کو سمجھ عطا فرمائے
Last edited by کنعان; 26-02-12 at 09:59 PM. |
||
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,653
کمائي: 32,921
شکریہ: 9,769
1,374 مراسلہ میں 4,249 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 269
کمائي: 5,557
شکریہ: 190
214 مراسلہ میں 504 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کائنات کا پھیلاؤ | زارا | کائنات کے راز | 1 | 17-11-11 01:31 AM |
| کوبکو پھیل گئی بات شناسائی کی | The Great | مزاحیہ شاعری | 0 | 14-09-09 11:41 AM |
| کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی | The Great | شعر و شاعری | 0 | 14-08-09 09:26 PM |
| گناہ پھیلانے کا انجام | عادل سہیل | اسلام اور عصر حاضر | 8 | 10-10-08 01:03 AM |
| نیک بنو نیکی پھیلاو | omer | عمومی بحث | 2 | 28-07-07 10:36 AM |