| توحید توحید |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1736
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ھمیں ایسی عظیم مساعی کرنے والی ھستیوں کو سمجھنے اوران کے نقش ِقد م پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ ان کا مدفن بنام'' روضہ سرھند شریف'' بھارت میں بورا مٹھّی میں ھے۔ میرے دادا کی ذرعی زمینوں کے پاس ھے۔ میرے والد بھی انہیں کے سلسلےسے بیعت ھیں۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,972
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھےاس ارشادعالیہ کی سمجھ نہیں آئی کہ”مجھےاللہ سےاسلیےمحبت ہےکہ وہ محمد
کارب ہے۔“کوئی بھائی یابہن واضح کردیں تومہربانی ہوگی کیونکہ میراتوخیال تھاکہ ہم نبی کریم سےاسلیےمحبت کرتےہیں کہ اللہ کاحکم ہےاورہمارےایمان کی تکمیل کےلیےلازمی ہے۔
Last edited by سام; 23-06-11 at 08:46 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (23-06-11), فیصل ناصر (23-06-11), آبی ٹوکول (24-06-11), حیدر (24-06-11), شھزادباجوہ (01-07-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سسٹر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب حجر اسود کو بوسہ دینے لگے تو فرمایا اے حجر اسود تو صرف ایک پتھر ہے اگر میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے بوسہ نہ دیا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا
اب حضرت عمر سے پوچھیں کہ حجر اسود کو چومنا تو فرض ہے اس میں یہ بات کہاں سے آگئی کہ میرے بنی نے چوما اس لئے چوم رہا ہوں جو جواب آپ اس کے لئے سمجھیں گے وہی جواب اس سوال کا بھی ہے سسٹر یہ عشق کی باتیں ہیں عشق کریں پھر سمجھ میں آئیں گی اور یہ بات صرف مجدد الف ثانی ہی نے نہیں کہی ہے یہ بڑے بڑے اولیاء اللہ کہتے آئے ہیں کہ میں اللہ سے اس لئے محبت کرتا ہوں کہ وہ میرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب ہے Last edited by کنعان; 24-06-11 at 12:23 AM. وجہ: سام سسٹر ھے اس لئے سسٹر ایڈٹ کیا ھے |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا | کنعان (24-06-11), ننھا بچہ (24-06-11), محمد یاسرعلی (24-06-11), آبی ٹوکول (24-06-11), حیدر (24-06-11), شھزادباجوہ (01-07-11) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾ تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔ اور پھر سورہ حجر میں آیت نمبر 92 میں بھی ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ۔ ۔ فَوَرَبِّکَ لَنَسْـَٔلَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے ۔ ان دونوں آیات میں وربک اور فوربک سے جو مفاد حاصل ہورہا ہے فقط اسی پر غور کرلیں تو آپکو آپکے سوال کا جواب مل جائے گا ۔۔والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیکرِ دلرُبا بن کے آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,972
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان کنتم تحبون اللہ فاالتبعونی یحببکم اللہ
وماکان لمؤمن ولامؤمنہ اذاقضی اللہ ورسولہ امراان یکون لھم الخیرہ من امرھم لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من ولدہ ووالدہ والناس اجمعین ان آیات واحادیث اوروہ بھی جوآپ نےدرج کی ہیں۔ایک ہی بات واضح ہوتی ہےکہ حب رسول اوراتباع رسول کےبناہمارادین مکمل نہیں لیکن جس نکتہ کی وضاحت میں نےچاہی تھی ابھی بھی تشنہ ہے۔طاہرالقادری صاحب کےاندازفکرسےمجھےاتفاق نہیں لیکن ایک باروہ گلاسگو تشریف لائےتھےاوریہاں انکاایک نکتہ مجھےبہت پسندآیاتھاکہ نبی کوانکے مقام پررہنےدیں اتنانہ بڑھائیں کہ اللہ سےجاملائیں اوراتنابھی پست نہ کریں کہ عام آدمی تک پہنچادیں۔آپ حبیب اللہ ہیں قیامت کےروزصرف آپ ہی ہماری شفاعت کریں گے خاتم النبین ہیں لیکن کیاہمیں حب رسول میں اتنی مبالغہ آرائی کی اجازت ہے؟
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (24-06-11), فیصل ناصر (24-06-11), ھارون اعظم (24-06-11), نبیل خان (28-08-11), آبی ٹوکول (24-06-11), حیدر (24-06-11), راجہ اکرام (24-06-11) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہے بالکل ہے مگر دیکھیئے وہ قسم اٹھاتے وقت کس محبت اور خصوصیت کا تذکرہ بظور تخصیص کرتا ہے وہ جو رب ہے اس ساری کائنات کو پیدا کرنے سے قبل بھی اور اگر نہ پیدا کرتا تو بھی اسکی ربوبیت پر کوئی حرف نہ آتا وہ جو زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں ایک ننھے سے زرے سے بھی کمتر کیڑے کا بھی رب ہے کہ اسے بھی پالتا ہے وہی رب جب اپنی ربوبیت کا اظہار بطور فخر کہ کرتا ہے یعنی قسم اٹھا کر تو خود کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب کہلواتا ہے اور رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی قسم بطور فخر کہ اٹھاتا ہے ان دونوں قرآنی جملوں میں معنویت کا جو حسن اورلطف وکرم کا جو طلاتم پوشیدہ ہے اس کہ مقابلے میں صوفیا کہ کلام تو کچھ بھی نہیں دیکھو تو سہی کہ کیسے کہتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قسم ہے تیرے رب کی ۔۔۔ چشم تصور نے سوال کیا اے مولا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا رب کون ہے ؟؟ کہ جسکی نسبت سے تو قسم اٹھاتا ہے ؟؟؟ کیا وہ کوئی اور رب ہے ؟ نعوذباللہ من ذالک نہیں نہیں وہ بھی تو توہی ہے تو پھر اس نسبت سے قسم اٹھانے کی حکمت ؟؟؟ سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہہ دیتا کہ مجھے قسم اپنی ربوبیت کی یا مجھے قسم ہے رب العلٰمین ہونے کی حکم ہوا ضرور ایسا ہی ہے کائنات میں سوائے میرے کوئی رب حقیقی نہیں اور میں ہی تمام عالمین کا رب ہوں مگر جو حسن و ناز مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ رب ہونے پر ہے وہ کائنات میں کسی شئے کی ربوبیت پر نہیں اسی لیے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو مومین پر اپنے احسان کی صورت میں بیان کرکے فخر جتلاتا ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ رب ہونے کی نسبت سے قسم اٹھا کر بھی وہی احسان و فخر مقصود ہے ۔۔ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات ۔ ۔ ۔ والسلام Last edited by کنعان; 24-06-11 at 03:35 AM. وجہ: سام سسٹر ھے, ایڈٹ کر دیا ھے |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے بھائیوں نے اتنے جامع جوابات دئے ہیں کہ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن اس آیت کا شان نزول جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والوں اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو اس کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے حج کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اپنی قربانی کے جانور کاٹ لیئے تھے اور کچھ رکن ادا کرلئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے روزہ رکھ لیا تھا میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ روزہ اور حج اور قربانی صحابہ کرام کے اللہ کے لئے کی تھیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پھر انہیں ان احکامات سے کیوں تنبیہ کی گئی جو صرف اللہ کی رضا سے تعلق رکھتے ہیں سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اللہ کے احکامات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کےبغیر نا مکمل ہیں یہ کون سا مان اور کون سا غرور ہے جس کا اللہ اظہار فرمانا چاہ رہا ہے یہ وہی مان ہے جو اللہ اپنے نبدوں سے بھی چاہتا ہے
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 81
کمائي: 1,518
شکریہ: 73
61 مراسلہ میں 177 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ سے بڑا کوئی نہیں
اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں بس اس کو سمجھ لیں تو تمام مراحل آسان ہیں اللہ کے حوالے سے نبی اور پیغمبر اور سب مخلوقات ہیں لیکن مخلوق کے حوالے سے اللہ کا تعارف کیسے زیب دے سکتا ہے سوچئے ! |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بات فقط اتنی سی ہے کہ ہم لوگ بعض معاملات میں خوامخواہ مفھوم مخالف مراد لیکر " اوور سینسٹویٹی " کا شکار ہوجاتے ہیں اور یوں معاملہ کا اصل پہلو اور حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ اللہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے اور مخلوق میں اسکی سب سے پیاری مخلوق ذات محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے سو اس حوالہ سے وہ اپنی محبوبیت کا اظہار فرماتا ہے اس کے اظہار کی حقیقت کا ادراک تو ہم نہیں کرسکتے مگر جن پیرائیوں میں نے اس اظہار فرمایا ان کا ابتدائی یعنی بیسک شعور حاصل کرنے کی کوشش تو کرسکتے ہیں لہذا یہی وجہ ہے صوفیاء نے اللہ کی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم محبت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکی صفت ربوبیت کا اقرار اسکی محبوب بندے کی نسبت سے جابجا کیا ہے لہزا اس کو اسی تناظر میں دیکھنا اور سمجھنا چاہیے نہ کہ قیاس فاسد کہ عقلی گھوڑے دوڑانے چاہیں ۔ ۔ ۔ والسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے پیارے دوست مخلوق کو چاہے کتنا ہی عروج دے دو وہ مخلوق ہی رہے گی اور خالق چاہے کتنا ہی نزول کرلے خالق ہی رہے گا منصور حلاج کے خود کو انا الحق کہنے سے وہ خدا نہیں بن گئے انہیں اب بھی زمانہ بندہ ہی مانتا ہے خدا نہیں حالانکہ انہوں نے تو خود کہا تھا کہ میں حق یعنی خدا ہوں مگر پھر بھی ہم سب جانتے ہیں کہ وہ مخلوق ہی ہیں بنی کی چاہے کتنی ہی تعریف کرلیں وہ مخلوق ہی رہیں گے خدا نہیں بن جائیں گے اگر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ خدا بھی کہ دیں گے تو وہ مخلوق ہی رہیں گے خدا کسی کے بنانے سے خدا نہیں بنا ہے بلکہ وہ اپنی ذات میں خدا ہے اللہ ہے مخلوق اور خالق کا کوئی جوڑ ہی نہیں ہے آپ تو شاید خالق اور مخلوق کے فرق سےواقف ہی نہیں ہیں۔میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ ''محمد '' صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کی تعریف کی حد کیا ہے آپ کیا کہتے ہیں کہ کس حد تک ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کر سکتے ہیں اور کس حد کے بعد ہمم تعریف نہیں کر سکتے اگر آپ کو نہیں معلوم تو سنو میں بتاتا ہوں ہم اللہ کے نبی کو'' اللہ '' اور'' خالق '' نہیں کہ سکتے باقی جو چاہے کہیں جتنی چاہے تعریف کریں کم ہے ۔
اس کی چھوٹی سی مثال سمجھ لیں وہ بھی آپ کو سمجھا نے کے لئے ہے بیٹے کی چاہے جتنی بھی تعریف کر لو وہ باپ نہیں بن جاتا ہے چاہے جو بھی کہ لو وہ باپ سے ہمیشہ چھوٹا ہی رہے گا اب اگر کوئی یہ کہے کہ تم نے تو بیٹے کو باپ بنا دیا تو وہ صرف لفظی بات ہی ہوگی حقیقت نہیں حقیقت کچھ بھی کرلو وہی رہے گی جو قدرت نے انہیں عطا کردی یعنی بیٹا بیٹا ہی رہے گا باپ باپ ہی رہے گا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 81
کمائي: 1,518
شکریہ: 73
61 مراسلہ میں 177 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی صاحب یہ اتنی لفاظی کی ضرورت نہیں تھی
عرض ہے کے جب کوئی یہ کہے "میں اللہ سے اس لئے محبت کرتا ہوں کے وہ محمد کا رب ہے " تو اس میں بڑائی کس کی بیان ہوئی ؟لفظون کے کھیل کھیلنے کے بجائے حقیقت کی طرف دھیان کیجئے |
|
|
|
| کامران اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (28-11-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو اتنی " معنی خیزیت " کی بھی ضرورت نہیں ہے لفظ رب اور صفت رب کے معنٰی پر غور کیجیئے یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم معاذاللہ خدا کے رب ہیں بلکہ یہ کہا جارہا ہے اللہ رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے سو بڑائی اللہ کی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان ہورہی ہے لہذا یہ جملہ کہ ہمیں اللہ سے محبت ہے کیونکہ وہ رب محمد ہے اس میں کیا قباحت ہے ؟؟؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے ؟ ایک حقیقت کو دوسری حقیقت کہ اعتبار سے تسلیم کیا جارہا ہے لہذا دونوں حقیقتوں میں سے کسی ایک کا بھی عدم محال عقلی ہے ۔ یعنی وہ رب بھی ہے اور رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اس میں کیا شرعی استحالہ زرا بیان ہو ؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
جزاءک اللہ خیر آبی بھائی او انصاری بھائی بہت اچھے طریقے سے مفہوم پیش کئیا اپ نے
سچ ہے یہ عشق کی باتیں ہیں جن کا عقلی وجود نہیں ہے اور ہم ایسے نا سمجھوں کی سمجھ سے باہر ہیں
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 81
کمائي: 1,518
شکریہ: 73
61 مراسلہ میں 177 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ آپ کو بڑآ کے ننھے بچے
ہم نے تو کبھی سمجھداری کا دعوی نہیں کیا لیکن یہاں کا دستور نرالا ہے سوالوں پر لوگ ناراض ہوتے ہیں اور کسی بات پر توجہ دلاؤ تو ناسمجھی کے القاب شاید یہاں نئے ممبران کی گنجائش نہیں سلام علیکم |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, ہندو, فرض, کمر, پھول, قید, قرآن, مکہ, مواخذہ, مسجد, معاشرہ, توحید, تلاش, جیل, جاہل, حدیث, خدا, دریافت, ستارے, طالبان, عقل, عبادت, صحابہ, صحابی, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|