واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > توحید



توحید توحید


مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور فتنہ دینِ الٰہی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-06-11, 04:11 PM   #1
مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور فتنہ دینِ الٰہی
M A Ansari M A Ansari آف لائن ہے 23-06-11, 04:11 PM

مجدد الف ثانی اور فتنہ دین الہی

یہ بیان اس عظیم شخصیت کے بارے میں ہے جسے دنیا ہزار سالہ مجدد کے نام سے جانتی ہے ہر مجدد اپنی صد ی کا مجدد ہوتا ہے جس کا عرصہ سو سال پر محیط ہوتا ہے لیکن مجدد الفِ ثانی پچھلی ہزار سالہ عرصے پر محیط مجدد گزرے ہیں آپ کی شخصیت ایک بہت بڑے مقام پر فائز تھی آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء میں ہوتا تھا آپ سلسلہ نقشبندیہ کے امام تھے آپ نے حضرت باقی با اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ابتدائی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا تھا اور اپنے دور کا سب سے بڑا فتنہ، جسے دنیا دین الٰہی کے نام سے جانتی ہی،کا قلعہ قمہ کیا جو اکبر کی اپنی اختراع تھی ۔

یہ مختصر سا تعارف یقینا اس ہستی کی پوری آب و تاب کا احاطہ نہیں کرسکتا جس کی دھوم آسمانوں پر بھی تھی اور زمین پر بھی آپ کے علمی اور روحانی فضائل سے دنیا کما حقہ ہو آگاہ نہیں ہے اس لئے میں نے سوچا کہ آپ کے فضائل بیان کئے جائیں اور ان معاملات پر بھی روشنی ڈالی جائے جو دین الہی کے وجود میں آنے کا موجب بنے ۔لیکن اس سے پہلے شیخ احمد سرہندی کے علمی اور روحانی کمالات پر روشنی ڈالی جائے تاکہ آپ کی منقبت کہنے والوں میں ہمارا بھی نام شامل ہوجائے اور اللہ تعالی ان کے روحانی برکات سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے ۔ آمین


حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی قبر پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہیں وہ صاحب اسرار

گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفس گرم سے ہے گر مئی احرار

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں
اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبر دار


حضرت مجدد علیہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد بزرگوار شیخ عبدالاحد اپنے زمانے کے عارفان کامل میں سے تھے اور جملہ کتب معقول و منقول بڑی صحت کے ساتھ طلباء کو پڑھاتے تھے فقہ اور اصول فقہ میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان حق کو علوم باطنی سے بھی بہر ہ مند کیا کرتے تھے ۔

حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ کی ولادت با سعادت ۱۷۹ھ 1564ء سرہند میں ہوئی ، خواجہ محمد ہاشم کشمی تحریر فرماتے ہیں،یہ آفتابِ ولایت اپنے پیر بزرگوار (خواجہ محمد باقی بااللہ ) کی طرح ۱۷۹ھ میں طلوع ہوا۔ حضرت صاحب خود بھی یہی انداز فرماتے تھے اور اس غلام نے بھی بعض عمر رسیدہ رشتہ داروں سے دریافت کیا تو وہ بھی کہتے تھے ۔ کلمہ " خاشع سے سال ولادت معلو م ہوسکتا ہے ، آپ سرہند شریف میں پیدا ہوئے ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب نے بھی انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں یہی سنہ تحریر کی ہے ۔سی ،اے ، اسٹوری نے بھی یہی سنہ لکھا ہے ۔ امام ربانی محبوب سبحانی ،مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ ۱۷۹ھ 1563-4 میں سر ہند میں پیدا ہوئے ۔

حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ نے اپنے والد بزرگوار شیخ عبد الا حد سے علوم معقول و منقول کی تحصیل کی ،خواجہ محمد ہاشم کشمی اور ان کے علاوہ دیگر سوانح نگاروں نے یہی لکھا ہے کہ حضرت مجدد علیہ رحمۃ نے ابتدائی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا ۔ کتب حدیث کی سند حضرت شیخ یعقوب کشمیری سے حاصل کی اور اس زمانے میں ایک مستند عالم حضرت قاضی بہلول بد خشانی تھے ، ان سے حسب ذیل کتب کا درس لیا اور سند حاصل کی ، امام واحدی کی تفسیر بسیط ، تفسیر و سیط، اسباب النزول ، قاضی بیضاوی کی تفسیر او ر دوسری تصنیفات مثل منہاج الوصول ، الغایہ القصویٰ وغیرہ اور امام بخاری کی صحیح اور دوسری تالیفات مثل ثلاثیات ، ادب المفرد، افعال العباد اور تاریخ وغیرہ ذالک ،مشکوٰۃ المصابیح ، شمائیل ترمذی ، جامع صغیر للسیوطی اور قصیدہ بردہ شریف اور مولانا کمال کشمیری سے عضدی پڑھی تھی ، غر ض یہ کہ ہر علم و فن کو اس کے مشہور اور مستند اساتذہ سے حاصل کیا ۔

حضرت مجدد علیہ رحمہۃ کو سلسلہ نقشبندیہ میں خرقہ خلافت خواجہ محمد باقی با اللہ علیہ رحمۃ نے عطا فرمایا تھا ۔ ان تینوں نسبتوں کا آپ اس طرح ذکر فرماتے ہیں ۔مجھے حضرت محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے واسطوں سے نسبت حاصل ہے ۔ طریقہ نقشبندیہ پر اکیس واسطوں سے طریقہ قادریہ میں پچیس واسطوں سے اور طریقہ چشتیہ میں ستائیس واسطوں سے ۔ تینوں سلسلوں میں حضرت مجدد علیہ رحمۃ کو سلسلہ نقشبندیہ سے خاص لگاؤ تھا اس لئے اس نسبت کے متعلق ذرا تفصیل سے عرض کیا جاتا ہے ۔

6 دہلی سے سرہند آنے کے بعد حضرت مجدد علیہ الرحمۃ دوبارہ خواجہ باقی با اللہ علیہ الرحمۃ کی خدمت بابر کت میں دہلی حاضر ہوئے اور عرصہ دراز تک شیخ کی صحبت فیض اثر سے مستفیض ہوتے رہے ان صحبتوں نے دونوں بزرگوں کے درمیان موانست و مؤدت میں بہت اضافہ کر دیا ۔شہزادہ دارلشکوہ نے اس کمال محبت اور باہمی کمال ادب و احترام کو عجائبات زمانہ میں شمار کیا ہے خواجہ محمد ہاشم کشمی تحریر فرماتے ہیں " یہ صحبت و سلوک جوان دونوں پیر مرید کے درمیان دیکھا گیا کسی اور کے متعلق نہ سنا گیا یہ زمانے کے عجائبات سے ہے جس کو دیکھ کر آنکھ والے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں ۔

ابھی حضرت مجدد علیہ الرحمۃ لاہور ہی میں تھے کہ ۵۲ جمادی الاخر ۲۱۰۱ھ کو دہلی میں حضرت خواجہ علیہ الرحمۃ کا وصال ہوگیا یہ جانکاہ خبر لاہور پہنچی تو آپ فوراً دہلی روانہ ہوگئے ۔ یہ چوتھا سفر تھا دہلی پہنچ کر مزار مبارک کی زیارت کی اور فاتحہ خوانی اور اہل خانہ سے تعزیت کے بعد سر ہند واپس تشریف لے گئے ۔
اس کے کچھ عرصے بعد اس عظیم فتنہ کا آغاز ہوا جس نے آگے چل کر دین الہی کا نام اختیار کیا اور مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ اس کے خلاف کمر بستہ ہو گئے ۔


دین الہی کے محرکات

اس سے قبل کہ ہم حضرت مجدد علیہ الرحمۃ کی اصلاحی و تبلیغی مساعی حالات کا جائزہ لیں بہتر ہوگا کہ اس کا تاریخی پس منظر پیش کر دیں تاکہ محرکات کا پتہ چل سکے ۔شیخ مبارک ناگوری اور ابو الفیض نے اکبر کو لادینیت کی طرف مائل کردیا اور با لآخر ۰۹۹ھ 1582 ء میں " دین الٰہی کا اعلان کر دیا گیا پو ویل پرائس( powell price ) خاندان شیخ مبارک کے لئے لکھتا ہے ۔

" شیخ مبارک کا خاندان اس راہ کو وضع کرنے کا پورا ذمہ دار ہے جو دین الٰہی کی تشکیل کا سبب بنی " فیضی (شاعر) اور ابو الفضل (معتمد و مؤرخ ) اس دین کے خاص نمائندے تھے ، ان کے ساتھ راجہ بیر بل بھی شریک تھا ، ابو الفضل کے متعلق تو خود جہانگیر کے یہ تا ثرات تھے "

جس نے اپنے ظاہر کو زیور اخلاص سے آراستہ کے بہت گراں قیمت پر میرے باپ کے ہاتھ بیچا تھا " جہانگیر تو ابو الفضل سے اتنا متنفر تھا کہ با الٓاخر بیر سنگھ دیو کے ہاتھوں۱۱۰۱ھ 1602 ء میں اس کا سر قلم کرواکے الہ آباد منگوایا ۳۸۹ھ 1575 ء میں ایک عمارت تعمیر ہوئی جس کا نام عبداللہ نیازی سہر ندی نے " عبادت خانہ " رکھا۔

چونکہ اکبر کو ہر وقت اصولی و فروعی مسائلِ دین کی تحقیق کا ایک چسکا سالگا ہوا تھا ، اس لئے اس عبادت خانے میں ہر جمعہ کو رات کے وقت ایک مجلس ہوا کرتی تھی جس میں ہر مکتب و فکر کے علماء و مشائخ شریک ہوتے تھے ، بادشاہ الطافِ خسروانہ سے بھی نوازتا تھا ۔ ان ہی خسروانہ نوازشوں نے علماء کے اندر بغض و عناد کا بیج بو دیا ۔ عبد القادر بد ایونی کے قول کے مطابق اس مجلس میں سو سے زیادہ علماء شریک ہوتے تھے ۔ مباحثین و مناظرین محقق و مقلد تقریباً سو سے متجاوز ہوں گے ۔

علماء میں سب سے پہلے نشستوں پر باہمی چپقلش شروع ہوئی اس قسم کی لچر باتوں سے اکبر کے دل میں علماء کا وقار کم ہونے لگا ۔ اس کے بعد مختلف مسائل میں علماء بجائے حکیمانہ و عادلانہ و عالمانہ تبادلہ خیال کر نے کے اس طرح لڑنے جھگڑنے لگے گویا ایک دوسرے کو کھا جائیں گے ،بقو ل ملا عبد القادر بد ایونی " آپس میں تیغ زبان کھینچ کر مقابلے پر آجاتے اور ایک دوسرے کو کھلم کھلا کافر و گمراہ کہا کرتے تھے " اور شاہانہ ادب و احترام کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے عامیانہ طریقے پر غصہ سے علماء عصر کی رگیں پھول جایا کرتی تھیں اور پھر خوب ہی غل و شور مچتا ۔

حاجی ابراہیم سرہندی کے فتویٰ پر علماء اتنے برہم ہوئے کہ ایک دوسرے کو مارنے کے لئے اپنے اپنے عصاء اٹھالئے اس قسم کی مذہبی اور اخلاق سے گری ہوئی باتوں کو دیکھ کر اکبر علماء سے بد ظن ہوگیا ۔ علماء کے دو گر وہ ہوگئے ، حاجی ابراہیم سرہندی اور ابو الفضل ایک طرف اور مخدو م الملک اور مولانا عبد اللہ سلطان پوری دوسری طرف اور پھر خوب خو ب مقابلے ہوئی، شیخ مبارک اور فیضی بھی شریک تھے ، بہر کیف ایک طرف متشدد سنی علما ء اور دوسری طرف آزاد منش علماء تھے ۔ (owell price ) لکھتا ہے اول یہ مباحثے اور مناظرے مسلم علماء تک محدور رہے ، چنانچہ علماء اہل سنت کے صدر مخدوم الملک اور شیخ عبد النبی خاص مناظرین میں تھے ، ان کے بر خلاف شیخ مبارک اور انکے صاحبزادگان فیضی (شاعر) اور ابو الفضل ایسی رواداری کے حامی تھے جس میں آزادی فکر کی پوری پوری افازت ہو ، اس طرح ان مباحثات کی تیزی اور تندہی بڑھتی ہی گئی

،، اکبر سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر ،، صلح کل کا حامی تھا ، اس میں اس کی ہندو بیویوں کے اثرات بھی شامل تھے ، شیخ مبارک اور ابو الفضل و فیضی نے بھی یہی روش اختیار کر لی تھی ، نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ کی نظر میں وہ تو محبوب ہوگئے اور دوسرے علما ء معتو ب ٹھرے ، پوویل پرائس لکھتا ہے ،، سنی علماء کے تشدد اور باہم سب و شتم نے اکبر کو ان سے بیزار کر دیا تھا ، چنانچہ اس نے مخدوم الملک اور شیخ عبد النبی کو (جلا وطن کر کے ) مکہ مکرمہ بھیج دیا ،،۔

۳۸۹ھ / 1575ء میں گیلان سے حکیم ابو الفتح اور ان کے دونوں بھائی حکیم ہمام او ر نور الدین قراری ہندوستان آئے اور اول الذکر ندیم شاہی ہوئے ، اکبر کے بگاڑنے میں بھی یہ ابولفضل کے شریک کار ہوگئے ،حتی کہ اس کو وحی اور نبوت سے بھی منکر کر دیا ۔ بہر حال علماء سے بادشاہ کی بد گمانی زیادہ تر خود ان کی اپنی روش کی وجہ سے تھی ، چوں کہ اکبر ان پڑھ تھا ۔ اس لئے اس نے انہی "مغضوب" علماء کے حال کو اسلاف کے حال پر محمول کر لیا اور ا ن سے بھی بد ظن ہوگیا ، ملاعبد القادر بد ایونی تحریر کرتے ہیں ۔

"اکبر اپنے عہد کے علماء کو امام غزالی اور امام رازی سے بھی بہتر جانتا تھا ، جب اس نے ان کی رکاکتوں کو دیکھا تو پھر حاضر کو غائب پر قیاس کر کے اسلاف سے بھی بیزار ہوگیا" ۔

ایک روز اکبر نے شیخ مبارک ناگوری سے کہا ۔

"ہم کو ان ملاؤں کے احسان سے کیوں نجات دلواتے"

شیخ مبارک موقع کی تلاش میں تھے ہی ، چنانچہ ۷۸۹ھ / 1579 ء میں انہوں نے ایک محضر نامہ تیار کیا اور اس پر علماء کے دستخط لے لئے ، سب کو طو عا ً و کرہاً دستخط کر نے پڑے اس محضر نامے کی آخری عبارت یہ ہے

" جن مسائل دین مجتہد ین میں ختلاف پایا جاتا ہے ، اگر بادشاہ اپنے "ذہن ثاقب" اور "فکر ِ صائم" سے اس اختلاف کو رفع کرے اور معیشت بنی آدم کی سہولت اور انتظام عالم کی مصلحت کی بناء پر کوئی خاص راستہ اختیار فرمالیں اور حکم دیں تو وہ متفق علیہ سمجھا جائے گا ۔ اس کی اتباع عوام پر لازم اور لابدی ہوگی ، اگر اپنی رائے صائب کی بناء پر ایسا حکم صادر فرمائیں جو نص کے مخالف نہ ہو اور اس میں رفاہ عامہ ہو تو اس پر عمل کرنا ہر ایک کے لئے لازم اور ضروری ہوگا ، اس کی مخالفت دینی اور دنیوی بربادی اور خسران واخروی مواخذہ کی مستوجب ہوگئی،۔

یہ تھا وہ محضر نامہ جس نے آگے چل کر الحاد و بے دینی کا در وازہ کھولا ، اس نامہ کی رو سے بادشاہ کو "سلطانِ عادل" اور "امام عادل" قرار دیا گیا اور فیصلے کو حجت قاطع ۔ اب علماء کا تفوق ختم ہوگیا ۔

" امام عادل " بننے کے بعد ہی کا یہ واقعہ ہے کہ ایک روز اکبر فتحپور سیکری کی جامع مسجد میں جمہ کے روز حافظ محمد امین خطیب کو ہٹا کر خود خطبہ پڑہنے کھڑا ہوگیا یہ خطبہ منظوم تھا اور فیضی نے لکھا تھا ، چند ہی شعر پڑھے ہوں گے اچانک بدن پر لرزہ طاری ہوگیا اور فورا نیچے اتر آیا اور خطیب موصوف کو کھڑا کیا۔

اکبر کی اس بے راہ روی کو دیکھ کر ۸۸۹ھ 1580ء میں جونپور کے قاضی القضاء ملا محمد یز دانی نے عل الاعلان فتویٰ دیا کہ بادشا ہ بدمذہب ہوگیا ہے اسکے خلاف جہاد واجب ہے ، دربار میں قطب الدین خان کنبوہ اور شہباز خان کنبوہ نے بڑی جرت سے بادشاہ کو سمجھایا ، لیکن حکومت اور اقتدار کا نشہ برا ہوتا ہے اکبر اور بگڑ گیا ، قطب الدین خان اور شہباز خان کو برا بھلا کہا اور ملا یز دی اور معز المک وغیرہ کو ایک بہانے سے بلا بھیجا جب وہ آگرے سے دس کوس فیروزآباد پہنچے تو حکم بھیجا کہ ان دونوں کو الگ کرکے دریائے جون کے راستہ گوالیار پہنچا دو، جہاں مجرمان سلطنت کا جیل خانہ تھا ، پھر حکم ہوا کہ ان کا خاتنہ کردو ، چنانچہ پہرے داروں نے دونوں کو ایک ٹوٹی ہوئی کشتی میں ڈالاتھوڑی دور آگے جا کر گرداب ی گود میں دفن کر دیا ، کچھ عرصہ بعد قاضی یعقوب بھی بلائے گئے اور انہیں دوسرے علماء کو جن پر شبہ تھا ایک ایک کر کے عدم کے تہ خانے میں بھیج دیا اسی سن میں یعنی 1580ء میں عبادت خانے کی محفلوں میں غیر مذاہب کے علماء بھی شریک ہونے لگے چنانچہ powell price لکھتا ہے

"اب اکبر نے نہ صرف مسلم علماء کو بلکہ جینی ، ہندو ، زردشتی اور بودھ علماء کو بھی ان مباحثوں میں شامل کرلیا تھا اور جلد ہی ایک عیسائی تبلیغی جماعت کو بھی بلا بھیجا ۔

اکبر نے پر تگالی نو آبادی گوا سے عیسائی پادریوں کو بلایا تھا اس جماعت میں یہ لوگ شریک تھے انٹو نیو مونسیرٹ (ntonio Monserrate ) ، روڈلف اکواویوا (odolpho Acquaviva )، اور فرانسسکو انیری (rancisco Enriques )

یہ جماعت 1578 ء کے آخر میں گوا سے روانہ ہوئی اور 1580 ء میں اکبر آباد پہنچی، دربار میں حاضر ہوئی ، عبادت خانے کی محفلوں میں شریک رہی ، ان لوگوں نے اسلام کے خلاف بہت کچھ زہر اگلا ، مگر اکبر خاموشی سے تماشہ دیکھتا رہا بلکہ انکی تقاریر متاثر بھی ہوا ، یہ اسی تاثیر کا نتیجہ تھا کہ شہزادہ سلیم اور شہزادہ مراد کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے تیما انجیل کے چند اسباق پڑھ لیں چنانچہ ابو الفضل نے تر جمانی کے فرائض انجام دئے ۔ 1582 ء میں عیسائی تاجروں کی ۹ ایک جماعت ملکہ الزبتھ 1585 تا 603 ء کا پیغام لے کر اکبر آباد پہنچی تھی ۔ اس جماعت میں یہ تین افراد شامل تھے ریلف فٹشے ، جان نیو بری، اور ولیم لیڈس (alph Fitch,John Newbery and William Leeds) ۔

بقول ملا ء عبد القادر بدایونی اکبر کے دربار میں ہندو اور بدھ رشی اکثر باریاب ہوتے تھے ، شاہی ملاقاتوں میں ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ اسلام کو دین باطل ثابت کر کے اپنے مذہب کی حقانیت کو ظاہر کردیں ، چنانچہ یہ لوگ مذہب اسلام پر بے باکانہ حملے کرتے تھے اور اکبر اطمنان و سکون سے سنتا رہتا تھا ۔ انہی لوگوں کے اثرات کی وجہ سے اکبر نے ہندوؤں کی مذہبی کتابوں اتھروید ، رامائن اور مہابھارت وغیرہ کے تر جمے کا حکم دیا تھا ۔ تاکہ بہ خوبی واقفیت پیدا کی جا سکے اسی طرح انجیل کے تر جمہ کے لئے ابو الفضل کو حکم ملا تھا ہندو رشیوں کے اس اختلاط کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ بادشاہ کو عربی زبان سے نفرت سی ہوگئی چنانچہ اس نے موتم نامی ایک بر ہمن سے چیزوں کے عربی نام کے بجائے سنسکرت نام تجویز کرنے کی فرمائش کی ، عربی حروف تہجی کو تلفظً ساقط کر دیا گیا ۔ دیبی نامی ایک اور برہمن جس نے مہا بھار ت کی شرح بھی لکھی تھی، اکثر باریاب ہوتا تھااس نے اکبر کو بتوںکی پوجا پاٹ کے طریقے سکھائے، آگ ، سورج اور ستاروں کی پوجا کے بھی طریقے بتائے اور اپنے دیو تاؤں کی پر ستش کے آداب بھی سکھائے۔ شدہ شدہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ پانچ چھ سال کے اندر اندر اسلام کا نام و نشان باقی نہ رہا اور معاملہ بر عکس ہوگیا ۔

580 ء میں اکبر نے مدد و معاش کے لئے علماء و صوفیا کو بلایا تو بہت سے نفس پرست لوگ بھی پہنچے ، ان ہی میں ایک عالم مولانا شیرازی تھے ان صاحب نے اکبر کو یہ یقین دلایا کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہو چکی ہے چنانچہ اب مہدی موعود کا وقت آپہنچا ہے اور اس سے اشارہ خود بادشا ہ ہی کی طرف تھا غرض بادشاہ کو طرح طرح سے بہکایا گیا اور وہ اپنی جہالت کی وجہ سے بہک بھی گیا۔ ان تمام باتوں کے نتائج نہایت بھیانک اور گھناؤنے نکلے ۔

"دین الٰہی (مذہب نو ) کی بنیاد 90 ھ 582ء میں رکھی گئی امریکن مورخ پویل پرائس (owell Price ) لکھتا ہے 1582 ء میں دین الٰہی کی بنیاد رکھی گئی یہ (مذہب نو) نظریہ توحید و جودی کی ایک مبہم و غیر واضح شکل ہے جس میں مختلف ادیان و مذاہب کے معتقدات شامل ہیں زردشتی ، جینی ، ہندو ، بدھ وغیرہ سب کا معجون و مرکب ہے او ر اسلام کے نظر یہ توحید کو اس میں برائے نام جگہ دی گئی ہے ۔ اکبر کے خیالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مذہب نو میں تمام مذاہب کے معتقدات شامل تھے ، ابو الفضل نے اکبر نامہ میں اکبر کے خیالات کو اس طرح پیش کیا ہے

"ایک مر تبہ اعلی حضرت نے فرمایا انسان تو وہ ہے جو عدل کو راہ کا پیشوا بنائے اور ہر مذہب و ملت سے جو عقل کے مطابق ہو قبول کرلے شاید اسی طرح وہ قفل کھل جائے جس کی کنجی کھو گئی ہے" ۔

اکبر نے عملی طور پر جملہ مذاہب کے معتقدات کو اپنایا تھا ملا عبد القادر بد ایونی نے اس پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے لکھتے ہیں " صبح و شام ، دوپہر اور آدھی رات چار وقت آفتاب کی عبادت کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا ،آفتاب کے ایک ہزار نام یاد کر لئے تھے جو دوپہر کو آفتاب کی طرف حضور قلب سے متوجہ ہو کر جپا کرتے تھے (عبادت کا یہ طریقہ تھا) اپنے دونوں کان پکڑ کر ایک ایک چکر کھا کر کان کی لو پر گھونسے لگا یا کرتے تھے ، اس قسم کی او ر بھی بہت سی حر کتیں کرتے تھے قشقہ بھی لگایا کرتے تھے یہ بھی حکم دیا تھا کہ آدھی رات کو اور طرع آفتات کے وقت نوبت و نقارہ بجاکرے ۔

آفتاب کی عبادت پر ہی بس نہیں تھا بلکہ ہر چیز کی عبادت شروع کردی تھی ، ہندوؤں کی پختہ زناری کا یہ حال تھا اور ان کے خلاف مرزا جانی حاکم ٹھٹھ جیسے بھی موجود تھے اس نے اکبر کو اس قسم کا حلف نامہ بھیجا تھا۔

میں فلاںبن فلاں اپنی طوع و رغبت شوق قلبی سے دین اسلامی حجازی و تقلیدی جو میں نے اپنے باپ دادا کا دیکھا تھا اوران سے سنا تھا، اس پر تبرا بھیجتا ہوں اور اکبر شاہی دین الٰہی کو اختیار کرتا ہوں اکبر نے جو سجدہ تعظیمی فرض کیا تھا وہ بھی صوفیانِ خام ہی کی ستم ظریفی تھی ملا عبد القادر نؤبد ایونی لکھتے ہیں کہ شیخ تاج العارفین بن شیخ زکریا اجودھنی نے اس کے لئے (اکبر) سجدہ تجویز کرکے اس کا نام " زمین بوس رکھا اور آداب شاہی کو فرض عین کا درجہ دیا اس کے چہرے کو کعبہ مرادات اور قبلہ حاجات کہا کرتے تھے اور بہت ہی ضعیف روایات اور ہندوستان کے بعض مشائخ کے مریدوں کے عمل کو بطور حجت پیش کرتے تھے۔

ان بیانات سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اکبر گو ابتدا ء میں ایک دیندار مسلم تھا مگر رفتہ رفتہ لا دین ہوگیا تھا اور اس کی حکومت نے اسلام اور اہل اسلام کی حمایت نہیں بلکہ اس کا استیصال کیا ۔ جن متصوفہ نے اکبر کے لئے سجدہ تعظیمی جائز قرار دیا تھا وہ خود بھی مسجود تھے چنانچہ شیخ نظام تھا نیسری کے خلفاء اپنے مریدوں سے سجدہ تعظیمی کرایا کرتے تھے اس پر حضرت مجدد علیہ رحمۃ نے شیخ موصوف کو ایک مکتوب میں فرمایا۔ معتمد لوگوں سے سنا ہے کہ تمہارے بعض خلفاء کو ان کے مرید سجدہ کرتے یں ۔ متصوفہ کا حال تو گزر چکا ہے عوام کا حال یہ تھا دیوالی کے ایام میں مسلمان جاہل با الخصوص ان کی عورتیں کافروں کی رسمیں ادا کرتی ہیں اور اپنی عید مناتی ہیں ۔ مسلمان جاہلوں میں یہ مشہور ہو گیا ہے اگر بتوں اور دیو تاؤں سے استمداد کی جائے تو مختلف امراض اور عوارض کتم ہوسکتے ہیں ۔ الغرض پورے کا پورا معاشرہ بگڑ گیا تھا اور ایک ہمہ گیر تباہی برپا تھی ، جس کا نقشہ حضرت مجدد علیہ رحمۃ اس طرح کھینچتے ہیں ۔

"ایک دنیا بدعت کے دریا میں ڈوبی ہوئی ہے اور بدعت کی تاریکییوں میں آرام کر رہی ہے کس کی مجال ہے کہ بدعات کو ختم کرنے کے لئے دم مارے اور احیائے سنت کے لئے لب کھولے اس زمانے کے اکثر علماء نے بدعات کو رواج دیا ہے اور سنت کو مٹا یا ہے" ۔ مگر احیائے سنت اور بدعات کی یہ سعادت مجدد علیہ رحمۃ کے حصہ میں آئی۔

اس کے آگے مجدد الف ثانی رحمۃ علیہ رحمۃ کے علمی اور عملی کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے اور جدو جہد کا ایک وسیع سلسلہ ہے جس کا منتہا اکبر کے دین الہی کے اختتام سے بھی آگے تک جاتا ہے جس کو ہم مختصرً بیان کریں گے ۔

مجدد الف ثانی کی عظیم جدو جہد کا مرکز کوئی ایک محاز نہیں تھا بلکہ مختلف محاز اور گونہ گو مسائل میں آپ کی شخصیت کے پہلو نظر آتے ہیں ۔ کہیں آپ نے خطوط کے ذریعے کام کیا کہیں آپ نے زبان کے جادو سے کام لیا حد یہ کہ عالم اسیری میں بھی آپ نے متعدد لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام کیا اور اسلام کی اصل روح کو پیش کیا کہیں ردِ بدعت کی کہیں دلائل سے قائل کیا ۔

مجدد الف ثانی علیہ رحمۃ کے مناقب لکھنے کے لئے ہمیں دفتر کے دفتر درکار ہیں چونکہ آپ کا مقام بہت بلند ہے بہت کم اس پائے کے بزرگ گزرے ہیں آپ کا تذکرہ اکثر کتابوں میں نہیں ملتا آپ کا تذکرہ کثر عالم کے طور کیا جاتا ہے لیکن آپ کا روحانی پہلو اس طور اجاگر نہیں ہے جیسا کہ علمی پہلو ہے لیکن آپ کے اقوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ آ پ کس مقام اور کس بلند درجے پر فائز تھے ۔ ہم آپ کے ارشادات بھی آخر میں بیان کریں گے تاکہ لوگ آپ کے عرفان اور بلندی کا اندازہ کر سکیں ۔

حضرت مجدد رحمۃ علیہ قریب قریب 1 سال قید میں رہے کئی حوالوں سے یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے جب جہانگیر تحت پر بیٹھا تو اس نے آپ کو بلوا یا اور خلعت اور ہزار روپے عنایت کئے اور آزاد کیا اور یہ اختیار دے دیا کہ چاہے آپ سر ہند واپس چلے جائیں یا اس کے پاس کی رہیں۔

ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور ابو الفیض کمال الدین محمد احسان اللہ عباسی وغیرہ نے لکھا ہے کہ جب جہانگیر نے حضرت مجدد علیہ رحمۃ کو دربار میں طلب تو آپ نے یہ شرائط پیش کیں ۔

۱۔ سجدہ تعظیمی موقوف کیا جائے

۲۔ مسجدیں جو ویران ہو چکی ہیں انکو آباد کیا جائے

۳۔ گاؤ کی مما نعت کے احکام منسوخ کئے جائیں

۴۔ قاضی و محتسب مقررکئے جائیں

۵۔ ذمیوں سے جز یہ لیا جائے

۶۔ احکام شریعت کی ترویج اور بدعات کا انسداد کیاجائے

۷۔ تمام سیاسی قیدیوں کو آزاد کیا جائے


ارشادات مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ

۱۔ حضور اکرم ؐ کی خلقت کسی بشر کی خلقت کی طرح نہیں بلکہ علم ممکنات کی کوئی بھی چیز حضور اکرم ؐ کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتی کیونکہ حضور پاک ؐ کو اللہ تعالی نے اپنے نور سے پیدا فرمایا ہے
مکتوب 100 جلد سوئم صفحہ 187

۲۔ عالم امکان کو (جو تحت الثریٰ سے عرش تک کی جملہ موجودات و کائنات کا محیط ہے ) جس قدر بھی دقت نظر کے ساتھ دیکھا جاتا ہے حضور اکرم ؐ کا وجود پاک اس کے اندر نظر نہیں آتا ہے ۔ سرکار دو عالم ؐ اس بزم امکان سے بالا تر ہیں ۔ اسی لئے حضور اکرم ؐ کا سایہ نہ تھا ۔
مکتوب 100 جلد سوم صفحہ 187


۳۔ مجھے اللہ تعالی کے ساتھ اس لئے محبت ہے کہ وہ محمد ؐ کا رب ہے ۔
(مکتوب 221 جلد سوم صفحہ 224 ۔

۴۔ جو علم غیب اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے اس پر وہ اپنے خاص رسولوں کو مطلع فرماتا ہے ۔
(مکتوب66 جلد اول26 ۔

۵۔ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ حضر ت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ و سیدنا طلحہٰ و سیدنا زبیر و سیدنا امیر معاویہ و سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی لڑائیاں ہوئیں ۔ ان سب میں مولی علی کرم اللہ وجہہ حق پر تھے اور یہ حضرات خطا پر ، لیکن وہ خطا عنادی نہ تھی بلکہ خطائے اجتہادی تھی ۔ مجتہد کو اسکی خطا ئے اجتہادی پر بھی ایک ثواب ملتا ہے ۔ ہم کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت رکھنے ان سب کی تعظیم کرنے کا حکم ہے جو کسی صحابی کے ساتھ بغض و عداو ت رکھے وہ بد مذہب ہے ۔
(مکتوب 266 جلد اول صفحہ 232 ۔

۶۔ انبیاء و اولیاء کی روحوں کو عرش سے فرش تک پر جگہ برابر کی نسبت ہوتی ہے کوئی چیز ان سے نزدیک دور نہیں ۔
(م89 ج 1 ص 234

۷۔ عارف ایسے مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے کہ عرض ہو یا جوہر ، آفاق ہو یا انفس تمام مخلوقات اور موجودات کے ذروں میں سے ہر ایک ذرہ اسکے لئے غیب الغیب کا دروازہ بن جاتاہے اور ہر ذرہ بارگاہ الہی کی طرف اس کے لئے ایک سڑک بن جاتی ہے ۔

۸۔ حضور پر نو ر سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے یہ قدرت عطا فرمائی ہے کہ جو لوح محفوظ میں بشکل مبرم لکھی ہوئی ہے اور اسکی تعلیق صرف علم خدا وندی میں ہوایسی قضاء میں بھی با ذن اللہ تصرف فرما سکتے ہیں ۔
( مکتوب 217 جلد اول صفحہ24 ۔

۹۔ حضور اقدس کی امت کے اولیاء کرام کا طواف کرنے کیلئے کعبہ معظمہ حاضر ہوتا ہے اور ان سے بر کتیں حاصل کرتا ہے ۔

۰۱۔ اکمل اولیاء اللہ کو اللہ تعالی یہ قدرت عطا فرماتا ہے کہ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں آپ علیہ رحمۃ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔

Last edited by کنعان; 23-06-11 at 07:49 PM.. وجہ: صرف ری-آرگنائز کیا ھے تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو۔

M A Ansari
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1736
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-06-11), کنعان (23-06-11), ننھا بچہ (23-06-11), مہتاب (01-07-11), محمد یاسرعلی (24-06-11), آبی ٹوکول (23-06-11), عروج (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 07:15 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ھمیں ایسی عظیم مساعی کرنے والی ھستیوں کو سمجھنے اوران کے نقش ِقد م پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ ان کا مدفن بنام'' روضہ سرھند شریف'' بھارت میں بورا مٹھّی میں ھے۔ میرے دادا کی ذرعی زمینوں کے پاس ھے۔ میرے والد بھی انہیں کے سلسلےسے بیعت ھیں۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-06-11), کنعان (23-06-11), ننھا بچہ (23-06-11), آبی ٹوکول (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 08:44 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,972
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھےاس ارشادعالیہ کی سمجھ نہیں آئی کہ”مجھےاللہ سےاسلیےمحبت ہےکہ وہ محمد کارب ہے۔“کوئی بھائی یابہن واضح کردیں تومہربانی ہوگی کیونکہ میراتوخیال تھاکہ ہم نبی کریم سےاسلیےمحبت کرتےہیں کہ اللہ کاحکم ہےاورہمارےایمان کی تکمیل کےلیےلازمی ہے۔

Last edited by سام; 23-06-11 at 08:46 PM.
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-06-11), فیصل ناصر (23-06-11), آبی ٹوکول (24-06-11), حیدر (24-06-11), شھزادباجوہ (01-07-11)
پرانا 23-06-11, 11:51 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سسٹر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب حجر اسود کو بوسہ دینے لگے تو فرمایا اے حجر اسود تو صرف ایک پتھر ہے اگر میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے بوسہ نہ دیا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا

اب حضرت عمر سے پوچھیں کہ حجر اسود کو چومنا تو فرض ہے اس میں یہ بات کہاں سے آگئی کہ میرے بنی نے چوما اس لئے چوم رہا ہوں جو جواب آپ اس کے لئے سمجھیں گے وہی جواب اس سوال کا بھی ہے سسٹر یہ عشق کی باتیں ہیں عشق کریں پھر سمجھ میں آئیں گی اور یہ بات صرف مجدد الف ثانی ہی نے نہیں کہی ہے یہ بڑے بڑے اولیاء اللہ کہتے آئے ہیں کہ میں اللہ سے اس لئے محبت کرتا ہوں کہ وہ میرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب ہے

Last edited by کنعان; 24-06-11 at 12:23 AM. وجہ: سام سسٹر ھے اس لئے سسٹر ایڈٹ کیا ھے
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
کنعان (24-06-11), ننھا بچہ (24-06-11), محمد یاسرعلی (24-06-11), آبی ٹوکول (24-06-11), حیدر (24-06-11), شھزادباجوہ (01-07-11)
پرانا 24-06-11, 12:15 AM   #5
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
مجھےاس ارشادعالیہ کی سمجھ نہیں آئی کہ”مجھےاللہ سےاسلیےمحبت ہےکہ وہ محمد کارب ہے۔“کوئی بھائی یابہن واضح کردیں تومہربانی ہوگی کیونکہ میراتوخیال تھاکہ ہم نبی کریم سےاسلیےمحبت کرتےہیں کہ اللہ کاحکم ہےاورہمارےایمان کی تکمیل کےلیےلازمی ہے۔
قرآن پاک میں سورہ نساء آیت 65 میں ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ۔ ۔

فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾

تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔


اور پھر سورہ حجر میں آیت نمبر 92 میں بھی ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ۔ ۔

فَوَرَبِّکَ لَنَسْـَٔلَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے ۔

ان دونوں آیات میں وربک اور فوربک سے جو مفاد حاصل ہورہا ہے فقط اسی پر غور کرلیں تو آپکو آپکے سوال کا جواب مل جائے گا ۔۔والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-11), کنعان (24-06-11), ننھا بچہ (24-06-11)
پرانا 24-06-11, 02:24 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,972
شکریہ: 2,333
913 مراسلہ میں 2,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان کنتم تحبون اللہ فاالتبعونی یحببکم اللہ


وماکان لمؤمن ولامؤمنہ اذاقضی اللہ ورسولہ امراان یکون لھم الخیرہ من امرھم



لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من ولدہ ووالدہ والناس اجمعین


ان آیات واحادیث اوروہ بھی جوآپ نےدرج کی ہیں۔ایک ہی بات واضح ہوتی ہےکہ حب رسول اوراتباع رسول کےبناہمارادین مکمل نہیں لیکن جس نکتہ کی وضاحت میں نےچاہی تھی ابھی بھی تشنہ ہے۔طاہرالقادری صاحب کےاندازفکرسےمجھےاتفاق نہیں لیکن ایک باروہ گلاسگو تشریف لائےتھےاوریہاں انکاایک نکتہ مجھےبہت پسندآیاتھاکہ نبی کوانکے مقام پررہنےدیں اتنانہ بڑھائیں کہ اللہ سےجاملائیں اوراتنابھی پست نہ کریں کہ عام آدمی تک پہنچادیں۔

آپ حبیب اللہ ہیں قیامت کےروزصرف آپ ہی ہماری شفاعت کریں گے خاتم النبین ہیں لیکن کیاہمیں حب رسول میں اتنی مبالغہ آرائی کی اجازت ہے؟
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-11), فیصل ناصر (24-06-11), ھارون اعظم (24-06-11), نبیل خان (28-08-11), آبی ٹوکول (24-06-11), حیدر (24-06-11), راجہ اکرام (24-06-11)
پرانا 24-06-11, 03:09 AM   #7
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
ان کنتم تحبون اللہ فاالتبعونی یحببکم اللہ


وماکان لمؤمن ولامؤمنہ اذاقضی اللہ ورسولہ امراان یکون لھم الخیرہ من امرھم



لایؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من ولدہ ووالدہ والناس اجمعین


ان آیات واحادیث اوروہ بھی جوآپ نےدرج کی ہیں۔ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ حب رسول اور اتباع رسول کے بنا ہمارا دین مکمل نہیں لیکن جس نکتہ کی وضاحت میں نے چاہی تھی ابھی بھی تشنہ ہے۔ طاہرالقادری صاحب کے انداز فکر سے مجھے اتفاق نہیں لیکن ایک باروہ گلاسگو تشریف لائےتھے اور یہاں انکا ایک نکتہ مجھےبہت پسند آیا تھا کہ نبی کو انکے مقام پر رہنے دیں اتنا نہ بڑھائیں کہ اللہ سے جا ملائیں اور اتنا بھی پست نہ کریں کہ عام آدمی تک پہنچا دیں۔

آپ حبیب اللہ ہیں قیامت کےروزصرف آپ ہی ہماری شفاعت کریں گے خاتم النبین ہیں لیکن کیا ہمیں حب رسول میں اتنی مبالغہ آرائی کی اجازت ہے؟
سام سسٹر آپ نے غور نہیں کیا آیات پر میں نے آپ کے سامنے آیات قرآنی کا اسلوب بصورت نظم قرآن کہ پیش کیا تھا زرا لفظ فوربک اور وربک کی حسن معنویت پر غور کرنا تھا کیا رب رب جہاں بلکہ رب العلٰمین نہیں ہے؟

ہے بالکل ہے مگر دیکھیئے وہ قسم اٹھاتے وقت کس محبت اور خصوصیت کا تذکرہ بظور تخصیص کرتا ہے وہ جو رب ہے اس ساری کائنات کو پیدا کرنے سے قبل بھی اور اگر نہ پیدا کرتا تو بھی اسکی ربوبیت پر کوئی حرف نہ آتا وہ جو زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں ایک ننھے سے زرے سے بھی کمتر کیڑے کا بھی رب ہے کہ اسے بھی پالتا ہے وہی رب جب اپنی ربوبیت کا اظہار بطور فخر کہ کرتا ہے یعنی قسم اٹھا کر تو خود کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب کہلواتا ہے اور رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی قسم بطور فخر کہ اٹھاتا ہے ان دونوں قرآنی جملوں میں معنویت کا جو حسن اورلطف وکرم کا جو طلاتم پوشیدہ ہے اس کہ مقابلے میں صوفیا کہ کلام تو کچھ بھی نہیں دیکھو تو سہی کہ کیسے کہتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قسم ہے تیرے رب کی ۔۔۔

چشم تصور نے سوال کیا اے مولا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا رب کون ہے ؟؟

کہ جسکی نسبت سے تو قسم اٹھاتا ہے ؟؟؟

کیا وہ کوئی اور رب ہے ؟

نعوذباللہ من ذالک نہیں نہیں وہ بھی تو توہی ہے تو پھر اس نسبت سے قسم اٹھانے کی حکمت ؟؟؟

سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہہ دیتا کہ مجھے قسم اپنی ربوبیت کی یا مجھے قسم ہے رب العلٰمین ہونے کی حکم ہوا ضرور ایسا ہی ہے کائنات میں سوائے میرے کوئی رب حقیقی نہیں اور میں ہی تمام عالمین کا رب ہوں مگر جو حسن و ناز مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ رب ہونے پر ہے وہ کائنات میں کسی شئے کی ربوبیت پر نہیں اسی لیے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو مومین پر اپنے احسان کی صورت میں بیان کرکے فخر جتلاتا ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ رب ہونے کی نسبت سے قسم اٹھا کر بھی وہی احسان و فخر مقصود ہے ۔۔

شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات ۔ ۔ ۔ والسلام

Last edited by کنعان; 24-06-11 at 03:35 AM. وجہ: سام سسٹر ھے, ایڈٹ کر دیا ھے
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-06-11), کنعان (24-06-11)
پرانا 24-06-11, 03:57 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا خیال ہے بھائیوں نے اتنے جامع جوابات دئے ہیں کہ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن اس آیت کا شان نزول جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والوں اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو اس کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے حج کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اپنی قربانی کے جانور کاٹ لیئے تھے اور کچھ رکن ادا کرلئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے روزہ رکھ لیا تھا میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ روزہ اور حج اور قربانی صحابہ کرام کے اللہ کے لئے کی تھیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پھر انہیں ان احکامات سے کیوں تنبیہ کی گئی جو صرف اللہ کی رضا سے تعلق رکھتے ہیں سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اللہ کے احکامات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کےبغیر نا مکمل ہیں یہ کون سا مان اور کون سا غرور ہے جس کا اللہ اظہار فرمانا چاہ رہا ہے یہ وہی مان ہے جو اللہ اپنے نبدوں سے بھی چاہتا ہے
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-06-11, 05:51 PM   #9
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 81
کمائي: 1,518
شکریہ: 73
61 مراسلہ میں 177 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ سے بڑا کوئی نہیں
اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں

بس اس کو سمجھ لیں تو تمام مراحل آسان ہیں

اللہ کے حوالے سے نبی اور پیغمبر اور سب مخلوقات ہیں لیکن مخلوق کے حوالے سے اللہ کا تعارف کیسے زیب دے سکتا ہے

سوچئے !
کامران اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-06-11, 07:02 PM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کامران اقبال مراسلہ دیکھیں
اللہ سے بڑا کوئی نہیں
اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں

بس اس کو سمجھ لیں تو تمام مراحل آسان ہیں

اللہ کے حوالے سے نبی اور پیغمبر اور سب مخلوقات ہیں لیکن مخلوق کے حوالے سے اللہ کا تعارف کیسے زیب دے سکتا ہے

سوچئے !
پیارے بھائی آپ قرآن کی واضح نصوص کہ مقابلے میں اپنا ذاتی اجتہاد بصورت قیاس کہ پیش فرما رہے ہیں یاد رہے یہاں کسی نے نہیں کہا کہ اللہ سے بڑا بھی کوئی ہے معاذاللہ اور جہاں تک بات ہے اللہ کے تعراف کی مخلوقات کہ حوالہ سے تو وہ خود سنت الٰہیہ ہے خود سورہ فاتحہ میں اپنا تعارف کرواتے ہوئے اس نے خود کو رب العلمین کہا ہے یاد رہے کہ عالمین بھی مخلوق ہی ہیں کوئی خدا نہیں ؟؟؟؟
بات فقط اتنی سی ہے کہ ہم لوگ بعض معاملات میں خوامخواہ مفھوم مخالف مراد لیکر " اوور سینسٹویٹی " کا شکار ہوجاتے ہیں اور یوں معاملہ کا اصل پہلو اور حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ اللہ اپنی مخلوق سے محبت کرتا ہے اور مخلوق میں اسکی سب سے پیاری مخلوق ذات محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے سو اس حوالہ سے وہ اپنی محبوبیت کا اظہار فرماتا ہے اس کے اظہار کی حقیقت کا ادراک تو ہم نہیں کرسکتے مگر جن پیرائیوں میں نے اس اظہار فرمایا ان کا ابتدائی یعنی بیسک شعور حاصل کرنے کی کوشش تو کرسکتے ہیں لہذا یہی وجہ ہے صوفیاء نے اللہ کی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم محبت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکی صفت ربوبیت کا اقرار اسکی محبوب بندے کی نسبت سے جابجا کیا ہے لہزا اس کو اسی تناظر میں دیکھنا اور سمجھنا چاہیے نہ کہ قیاس فاسد کہ عقلی گھوڑے دوڑانے چاہیں ۔ ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (25-06-11), محمد یاسرعلی (24-06-11), شھزادباجوہ (01-07-11)
پرانا 24-06-11, 08:10 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
کمائي: 7,380
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے پیارے دوست مخلوق کو چاہے کتنا ہی عروج دے دو وہ مخلوق ہی رہے گی اور خالق چاہے کتنا ہی نزول کرلے خالق ہی رہے گا منصور حلاج کے خود کو انا الحق کہنے سے وہ خدا نہیں بن گئے انہیں اب بھی زمانہ بندہ ہی مانتا ہے خدا نہیں حالانکہ انہوں نے تو خود کہا تھا کہ میں حق یعنی خدا ہوں مگر پھر بھی ہم سب جانتے ہیں کہ وہ مخلوق ہی ہیں بنی کی چاہے کتنی ہی تعریف کرلیں وہ مخلوق ہی رہیں گے خدا نہیں بن جائیں گے اگر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ خدا بھی کہ دیں گے تو وہ مخلوق ہی رہیں گے خدا کسی کے بنانے سے خدا نہیں بنا ہے بلکہ وہ اپنی ذات میں خدا ہے اللہ ہے مخلوق اور خالق کا کوئی جوڑ ہی نہیں ہے آپ تو شاید خالق اور مخلوق کے فرق سےواقف ہی نہیں ہیں۔میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ ''محمد '' صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کی تعریف کی حد کیا ہے آپ کیا کہتے ہیں کہ کس حد تک ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کر سکتے ہیں اور کس حد کے بعد ہمم تعریف نہیں کر سکتے اگر آپ کو نہیں معلوم تو سنو میں بتاتا ہوں ہم اللہ کے نبی کو'' اللہ '' اور'' خالق '' نہیں کہ سکتے باقی جو چاہے کہیں جتنی چاہے تعریف کریں کم ہے ۔
اس کی چھوٹی سی مثال سمجھ لیں وہ بھی آپ کو سمجھا نے کے لئے ہے بیٹے کی چاہے جتنی بھی تعریف کر لو وہ باپ نہیں بن جاتا ہے چاہے جو بھی کہ لو وہ باپ سے ہمیشہ چھوٹا ہی رہے گا اب اگر کوئی یہ کہے کہ تم نے تو بیٹے کو باپ بنا دیا تو وہ صرف لفظی بات ہی ہوگی حقیقت نہیں حقیقت کچھ بھی کرلو وہی رہے گی جو قدرت نے انہیں عطا کردی یعنی بیٹا بیٹا ہی رہے گا باپ باپ ہی رہے گا
M A Ansari آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
کنعان (25-06-11), آبی ٹوکول (24-06-11), شھزادباجوہ (01-07-11)
پرانا 24-06-11, 08:43 PM   #12
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 81
کمائي: 1,518
شکریہ: 73
61 مراسلہ میں 177 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی صاحب یہ اتنی لفاظی کی ضرورت نہیں تھی
عرض ہے کے جب کوئی یہ کہے "میں اللہ سے اس لئے محبت کرتا ہوں کے وہ محمد کا رب ہے " تو اس میں بڑائی کس کی بیان ہوئی ؟
لفظون کے کھیل کھیلنے کے بجائے حقیقت کی طرف دھیان کیجئے
کامران اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
کامران اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (28-11-11)
پرانا 24-06-11, 09:28 PM   #13
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کامران اقبال مراسلہ دیکھیں
بھائی صاحب یہ اتنی لفاظی کی ضرورت نہیں تھی
عرض ہے کے جب کوئی یہ کہے "میں اللہ سے اس لئے محبت کرتا ہوں کے وہ محمد کا رب ہے " تو اس میں بڑائی کس کی بیان ہوئی ؟
لفظون کے کھیل کھیلنے کے بجائے حقیقت کی طرف دھیان کیجئے
تو اتنی " معنی خیزیت " کی بھی ضرورت نہیں ہے لفظ رب اور صفت رب کے معنٰی پر غور کیجیئے یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم معاذاللہ خدا کے رب ہیں بلکہ یہ کہا جارہا ہے اللہ رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے سو بڑائی اللہ کی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان ہورہی ہے لہذا یہ جملہ کہ ہمیں اللہ سے محبت ہے کیونکہ وہ رب محمد ہے اس میں کیا قباحت ہے ؟؟؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے ؟ ایک حقیقت کو دوسری حقیقت کہ اعتبار سے تسلیم کیا جارہا ہے لہذا دونوں حقیقتوں میں سے کسی ایک کا بھی عدم محال عقلی ہے ۔ یعنی وہ رب بھی ہے اور رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اس میں کیا شرعی استحالہ زرا بیان ہو ؟؟؟
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (25-06-11), ننھا بچہ (24-06-11)
پرانا 24-06-11, 09:54 PM   #14
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,508
کمائي: 52,461
شکریہ: 5,865
3,223 مراسلہ میں 6,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاءک اللہ خیر آبی بھائی او انصاری بھائی بہت اچھے طریقے سے مفہوم پیش کئیا اپ نے
سچ ہے یہ عشق کی باتیں ہیں جن کا عقلی وجود نہیں ہے اور ہم ایسے نا سمجھوں کی سمجھ سے باہر ہیں
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-06-11, 10:08 PM   #15
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 81
کمائي: 1,518
شکریہ: 73
61 مراسلہ میں 177 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ آپ کو بڑآ کے ننھے بچے
ہم نے تو کبھی سمجھداری کا دعوی نہیں کیا
لیکن یہاں کا دستور نرالا ہے
سوالوں پر لوگ ناراض ہوتے ہیں اور کسی بات پر توجہ دلاؤ تو ناسمجھی کے القاب

شاید یہاں نئے ممبران کی گنجائش نہیں

سلام علیکم
کامران اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, ہندو, فرض, کمر, پھول, قید, قرآن, مکہ, مواخذہ, مسجد, معاشرہ, توحید, تلاش, جیل, جاہل, حدیث, خدا, دریافت, ستارے, طالبان, عقل, عبادت, صحابہ, صحابی, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:33 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger