|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2726
|
||||
| 12 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-06-10), فاروق سرورخان (08-07-10), کنعان (10-06-10), پاکستانی (11-06-10), ھارون اعظم (04-07-10), منتظمین (05-06-10), مرزا عامر (07-07-10), آبی ٹوکول (10-06-10), ابرارحسین (11-06-10), حیدر Rehan (05-06-10), خرم شہزاد خرم (12-06-10), غلام خان (13-08-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت زبردست ۔۔
واقعی پڑھنے والی تحریر ہے ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔شکریہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
واقعی یہ ایک عمدہ تحریر ہے!
شئیرنگ کا شکریہ بھائی! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
عادل سہیل بھائی نے ایک مراسلہ" اللہ نہی ہے "خدا " لکھا تھا ۔۔
اور اب اس مراسلے کو پڑھنے کے بعد اپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عادل بھائی نے لوگوں سے کیا کہلوایا ۔۔ اللہ نہی ہے ، خدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی خدا کوئی اور ہے ؟؟ اور لوگوں نے عادل بھائی کی پیروی کرتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔کیا سہی کیا ؟؟؟
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,903
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل بھائی نے قرآن و حدیث سے علمی اور عقلی دلائل دیے تھے ۔ اور اِس تحریر سے مجھے جو سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے۔۔۔
" اللہ کو خدا کہا جا سکتا ہے لیکن ضرورت کے تحت یعنی اللہ کی دعوت دیتے ہوئے۔" باقی اس تحریر کا مقصد کسے کو ہٹ کرنا نہیں نہ کسی کا مقابلہ کرنا۔علم والے لوگ اپنے علمی باتیں شیئر کرتے ہیں(بحث کی صورت میں ) تو ہم جیسے کم علم بھی اس چیز کے بارے میں اپنے کونسپٹ درست کر لیتے ہیں۔ مجھے پاک نیٹ جوائن کرنے کا یہی فائدہ ہوا ہے کہ یہاں کے تجربہ کار ممبران کی تجربہ کار تحریرں شعور کی آنکھ کھولنے میں مدد دیتی ہیں۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (08-07-10), پاکستانی (11-06-10), ھارون اعظم (04-07-10), مرزا عامر (07-07-10), حیدر Rehan (07-06-10) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بہت ساری باتیں درست ہوجائیں گئ۔۔۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
دراصل یہ ایک بہت سخت علمی موضوع ہے اس لیے کچھ بھی کہنے اور لکھنے سے پہلے بہت ہی ہوش و حواس کی ضرورت ہے اور دونوں طرف کی باتیں
بہت ہی غور و فکر سے سنی پڑئیں گئ۔۔ جیسا کہ میں نے اوپر بھی لکھا ہے کہ عادل سہیل نے مراسلہ لکھا "اللہ نہی ہے، خدا"۔۔۔۔۔۔یہ بجائے ایک نیکی کے خود ایک جرم ہوگیا یعنی انھونے اقرا کرلیا اور لوگوں سے بھی کروایا کہ "جسے ہم اللہ کہتے ہیں وہ خدا نہی ہے" یعنی خدا کوئی اور ہے ۔۔۔۔ اس لیے کہتے ہیں کہ ہمیشہ "صاحب علم (ع) " کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک امام (ع) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اللہ کی طرف سے ہو ۔ وہ امام مبین ہو یعنی کائنات کی ہر شے کا علم اس میں ہو ۔۔۔ وہ غلطی نہ کرسکے ۔۔۔یعنی وہ معصوم ہو ۔ کیونکہ ہم امت عقل و فہم میں کمزور ہیں ہمیں اس کا اب تو عتراف کرلینا چاہیے ۔ ٹھیک ہے کبھی کہہ دیا ہوگا کہ ہمیں "صرف قرآن کافی ہے" اور صاحب علم (ع) نہی چاہیے ۔ جب اتنی سی بات سمجھنے کے لیے مشکل ہوگئی تو باقی مسائل میں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جالی ملاوں نے ۔۔۔ستیا ناس کردیا ہوگا ۔اب اللہ کی نظر میں ایسی باتیں "کیسے قابل مواخذہ نہ ہو گیں"۔ (اللہ ہم سب کو معاف فرمائے ) عادل سہیل نے اپنے مراسلےمیں یہاں تک لکھا کہ میں "ایک گھناؤنی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہ رہا ہوں جِس کا شکار اُردو اور فارسی بولنے والے مسلمان ہو چکے ہیں" یعنی "ایک گھناونی غلطی" سے تشبہ دی ۔ عاصم مٹھو نے اللہ کی جگہ خدا کہنے پر لکھا کہ "(لوگ) غیرمسلم قوم کی مشابہت اپنے اللہ کو پکارنے کے معاملے میں کر رہے ہیں" اور جو غیر مسلموں سے مشابہت والی احادیث تھی ان میں سے کچھ کو لکھ کراللہ کو خدا کہنے والوں کو کو خطاکار اور گنہگار ثابت کردیا" |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (07-07-10) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ان شاءاللہ اصل میں میرے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے ورنہ کب جا جواب دے دیا ہوتا اور میں الحمدللہ اب بھی اپنے موقف پر ہوں کہ اللہ کو پکارنے کے لیے کسی بھی کافر کے الٰہ کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ باقی تفصیل سے جواب دونگا ان شاءاللہ۔ انتظار کریں
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (08-07-10), مرزا عامر (07-07-10), مسلم بھائی (13-06-10), حیدر Rehan (11-06-10), راجہ اکرام (08-07-10), غلام خان (13-08-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم اور بہت خوب بلال بھائی عمدہ شئرنگ فرمائی آپ نے ۔ ۔ ۔
بس کیا کہا جائے عجب جہالت ہے کہ آج عجمیت زدہ ذہنیت لفظ خدا کے زات باری تعالٰی کے استعمال پر معترض ہے حالانکہ اس برصغیر پاک و ہند کو علوم قرآن و حدیث سے متعارف کروانے والا خانوادہ میری مراد شاہ عبدالحق و شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیھما رحمہ سے ہے یہی لفظ باری تعالٰی کے لیے اپنی کتابوں میں لکھتے لکھاتے آئے خیررررر انٹر نیٹ پر اسی موضوع کی تلاش کے دوران جامعہ بنوری کا فتوی ملا جو کہ من و عن یہاں شئر کررہا ہوں شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات کی مصداق کچھ بات بن ہی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ لفظ خدا کا استعمال لفظ خدا کا استعمال آصف حسام پوچھتے ہیں: سوال محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ لفظ” خُدا“ کا استعمال کیا غلط ہے؟ جواب الجواب ومنہ الصدق والصوابِ اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ ”خدا“ کا استعمال جائز ہے۔ اور صدیوں سے اکابر دین اس کو استعمال کرتے آئے ہیں۔ اور کبھی کسی نے اس پر نکیر نہیں کی۔ اب کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں جن کے ذہن پر عجمیت کا وہم سوار ہے۔ انہیں بالکل سیدھی سادی چیزوں میں ”عجمی سازش“ نظر آتی ہے، یہ ذہن غلام احمد پرویز اور اس کے ہمنواؤں نے پیدا کیا۔ اور بہت سے پڑھے لکھے شعوری وغیر شعوری طور پر اس کا شکار ہوگئے۔ اسی کا شاخسانہ یہ بحث ہے جو آپ نے لکھی ہے۔ عربی میں لفظ رب ،مالک اور صاحب کے معنیٰ میں ہے۔ اسی کا ترجمہ فارسی میں لفظ”خدا“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ چنانچہ جس طرح لفظ ”رب“ کا اطلاق بغیر اضافت کے غیر اللہ پر نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح لفظ ”خدا“ جب بھی مطلق بولاجائے تو اس کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پرہوتاہے۔ کسی دوسرے کو ”خدا“ کہنا جائز نہیں۔” غیاث اللغات“ میں ہے: ”خدا بالضم بمعنی مالک و صاحب۔ چوں لفظ خدا مطلق باشدبر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نکند، مگر در صورتیکہ بچیزے مضاف شود، چوں کہ خدا، ودہ خدا“۔ ٹھیک یہی مفہوم اور یہی استعمال عربی میں لفظ ”رب“کا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ”اللہ“ تو حق تعالیٰ شانہ کا ذاتی نام ہے۔ جس کا نہ کوئی ترجمہ ہوسکتاہے نہ کیا جاتاہے۔ دوسرے اسمائے الہٰیہ ”صفاتی نام“ ہیں جن کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ہوسکتاہے۔ اور ہوتاہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں میں سے کسی بابرکت نام کا ترجمہ غیر عربی میں کردیا جائے۔ اور اہل زبان اس کو استعمال کرنے لگیں تو اس کے جائز نہ ہونے اور اس کے استعمال کے ممنوع ہونے کی آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اور جب لفظ ”خدا“”صاحب“اور ”مالک“ کے معنی میں ہے۔ اور لفظ”رب“ کے مفہوم کی ترجمانی کرتاہے تو آپ ہی بتائیے کہ اس میں مجوسیت یا عجمیت کا کیا دخل ہوا۔ کیا انگریزی میں لفظ ”رب“ کا کوئی ترجمہ نہیں کیا جائیگا؟ اور کیا اس ترجمہ کا استعمال یہودیت یا نصرانیت بن جائے گا؟ افسوس ہے کہ لوگ اپنی ناقص معلومات کے بل بوتے پر خود رائی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اسلام کی پوری تاریخ سیاہ نظر آنے لگتی ہے۔ اور وہ چودہ صدیوں کے تمام اکابر کو گمراہ یا کم سے کم فریب خوردہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہی خودرائی انہیں جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھیں فقط واللہ اعلم دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ربط |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,502
کمائي: 118,635
شکریہ: 13,510
4,907 مراسلہ میں 16,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ تحریر (ریحان احمد یوسفی) کی ھے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | ||||||||
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آپ کی اس ساری تحریر میں کوئی خاص دلیل نہیں دی گئی خدا کہنے کے حوالے سے ہاں منطق سے کافی کام لیا گیا ہے۔آپ نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اللہ کے نام مبارک ننانوے۹۹ ہیں تو پھر اس کے بعد آپ کس دلیل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہیں ہیں کہ اللہ کو جو مرضی یا جس نام سے مرضی ہے پکارو اس میں کوئی خرج نہیں ہے،آپ کا یہ دعویٰ کئی ایک وجوہات کی بنا پر غلط ہے۔اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں ان شاءاللہ۔ آپ نے لکھا کہ۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
آپ کا یہ کہنا کہ لوگوں نے اپنی اپنی زبانوں میں اللہ کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں،مگران سب ناموں سے مراد ایک ہی ہستی ہوتی ہے۔تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے وشنو کے معنی خالق اور رب کے ہیں اور ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ وشنو الٰہ جس کے چار۴ ہاتھ ہیں۔کیا اللہ کے ساتھ آپ اس کو تشبہہ دینا پسند کریں گے؟ اور خدا کے معنی مالک کے ہیں جیسا کہ ایرانی آتش پرستوں کے دو۲ خدا تھے ایک کا نام تھااچھائی کا مالک اور دوسرے کا نام تھا بُرائی کا مالک، فارسی میں اس کا معنی ہے خدائے یزدان اور خدائے اہرمن۔ تو کیا ان ناموں کی اللہ کے لیے کوئی گنجائش نکلتی ہے؟؟ اور اوپر جو آیت آپ نے پیش کی ہے اسماءالحسنیٰ سے مراد اللہ کے ننانوے ۹۹ نام ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اللہ نے ان کی طرف اشارا کیا ہے کہ اللہ کے سبھی نام اچھے ہیں تم ان ناموں میں سے جس سے چاہو اللہ کو پکارو، نہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس نام سے مرضی ہے اللہ کو پکارو جیسا کہ آپ نے مراد لیا ہے ایسا قطنا نہیں ہے حدیث میں ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ صحیح بخاری:جلد دوم: ابو الیمان، شعیب ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو جو شخص ان کو یاد کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس حدیث مبارک میں بھی واضح یہی ہو رہا ہے کہ ننانوے نام ہیں، اللہ کو انہی ناموں میں سے کسی بھی نام سے پکارنا برحق ہے،جوان ناموں کو زبانی یاد کر لے اس کو جنت کی بشارت ہے،اور اگر آپ کی منطق سے دیکھا جائے تو اللہ کے نام انگنت بن جاتے ہیں کہ جتنے بھی اچھے نام ہیں ان سے اللہ کو پکارا جا سکتا ہے چاہے وہ نام کفار کے جھوٹے الٰہوں کے ہی نام کیوں نہ ہوں،تو ان سب ناموں کو کوئی بھی یاد نہیں کر سکے گا بلکہ ان سب ناموں کو کوئی جمع بھی نہیں کر پائے گا۔ میں تو کہتا ہوں کہ اللہ کو پکارنے کے معاملے میں کسی کافر قوم کی مشابہت ہی نہیں کرنی چاہیے تاکہ کوئی غلط فہمی کا بھی شکار نہ ہو کہ آیا یہ مسلم ہے یا کہ کافر؟؟؟ اور کفار کی مشابہت سے بچنے کے لیے ہم کو اللہ کے نبی علیہ السلام کا حکم بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات ہیں کہ۔۔۔۔۔۔ قتیبة، ابن لہیعة، حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے علاوہ کسی اور کی مشابہت اختیار کی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہود ونصاری کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے سے اور عیسائیوں کا سلام ہاتھ سے اشارہ کرنا ہے۔ جامع ترمذی:جلد دوم: اس حدیث میں واضح ہوا کہ دین کے کسی بھی معاملے میں کفار کی مشابہت نہیں کی جاسکتی حتٰی کہ سلام لینے کے معاملے میں بھی، اور اگر کسی نےمشابہت کی تو آپﷺکاواضح حکم ہے کہ اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عثمان بن ابی شیبہ، ابونضر عبدالرحمن بن ثابت، حسان بن عطیہ، ابی منیب، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیارکی، کھانے پینے لباس، رہنے سہن میں تو وہ انہی میں سے ہوگا قیامت میں اس کے ساتھ حشر ہوگا۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم: اور اس حدیث میں دنیاوی معاملات میں بھی مشابہت سے منع فرما دیا گیا ہے اور کہاں اللہ کو پکارنے کا معاملہ اور ساتھ یہ بھی فرما دیا اگر کوئی پھر بھی کفار کی مشابہت کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن کفار کے ساتھ ہی اُٹھایا جائے گا،اُف کتنےخطرناک انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ موسی بن اسما عیل، ابان، یحیی، عمران بن حطان، عائشہ، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےگھر میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کی شکل وغیرہ ہو مگر اسے توڑ ڈالتے تھے۔ (تا کہ نصاری کے ساتھ مشابہت نہ ہو)۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم: عیسائی لوگ صلیب کو دین سمجھ کر بناتے ہیں اور نبی علیہ السلام کو اتنا بھی گوارہ نہیں تھا کہ کوئی صلیب سے ملتی جلتی چیز آپ کے گھر میں ہو، تو آج ہم ان کی دینی مشابہت کو بھی بُرا نہیں سمجھتے افسوس کی بات ہے ان عیسائیوں کے گاڈ کو اللہ کے ساتھ ملا رہے ہیں اور اس پر اصرار بھی ہے کہ ایسا کہنا ٹھیک ہی نہیں بلکہ جائز ہے جبکہ نبی علیہ السلام ہم کو یہود و نصاریٰ بلکہ سب کفار سےہر طرح کی مشابہت کرنے سے منع فرما گے ہیں بلکہ ایک حدیث میں یہود و نصاریٰ کی مشابہت کو ایک بُرائی کے طور پر ذکر فرمایا ہے سعید بن ابومریم ابوغسان زید بن اسلم عطار بن یسار ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کی (ایسی زبردست پیروی کرو گے (حتیٰ کہ) ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز پر (یعنی ذرا سا بھی فرق نہ ہوگا) حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود و نصاری مراد ہیں آپ نے فرمایا پھر اور کون مراد ہو سکتا ہے۔ کتاب صحیح بخاری جلد 2 اس حدیث سے بات بہت واضح ہو رہی ہے اس وقت امت کا یہی حال ہو گیا ہے یہ کفار کی مشابہت کو اچھا جان رہی ہے بلکہ اس پر قرآن و حدیث میں اپنی مرضی کی تاویلات کی جارہی ہیں، اللہ ہی اس اُمت پر اپنا کرم فرمائے آمین۔ مزید آپ نے لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
ہاں میں اس بات سے متفق ہوں کہ اگر واقعی کسی زبان میں اللہ کو کسی ایسے نام سے پکارا جاتا ہے جو خالص اللہ کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہ نام کسی بھی غیراللہ کے لیے کبھی بھی استعمال نہیں ہوا تو صرف اُس زبان والے اللہ کو اُس نام سے پکار سکتے ہیں لیکن اس میں شرط یہ لازمی ہے کہ وہ نام کسی غیراللہ کے نام سے منسوب نہ ہو،جیسا کہ بھگوان،وشنو،ایشور اور خدا ہے۔ ایک حدیث بھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دورجاہلیت میں فلاں جگہ اللہ کے نام کا اونٹ زبحہ کرنی کی منت مانی تھی کیا میں اب اس منت کو پوری کر سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ کیا وہاں کبھی کسی بت کا مندر تھا؟ انہوں نے کہا نہیں پھر آپ نے پوچھا کہ کیا وہاں کبھی کسی غیراللہ کے لیے قربانی کی جاتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنی منت پوری کرو۔ اس حدیث سے یہی سبق ملتا ہے کہ اگر وہاں کبھی کسی غیراللہ کے لیے قربانی کی جاتی ہوتی تو آپ منت پوری کرنے کی اجازت نہ دیتے کہ کہیں کوئی دیکھنے والا غلط مطلب نہ لے لیتا کہ دیکھو جی فلاں غیراللہ کی یاد تازہ کی جا رہی ہے۔ حالانکہ صحابی نے منت اللہ کے نام کی مانی ہوئی تھی لیکن اس سے کوئی بھی غلط مطلب نکال سکتا تھا۔تو اس سے ہم کو اس معاملے میں یہی سبق ملتا ہے کہ اللہ کے نام کی قربانی کسی ایسی جگہ نہیں کی جا سکتی جہاں کسی غیراللہ کے لیے قربانی کی جاتی ہو،تو ہم وہ نام اللہ کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو کہ کسی باطل معبود کے لیے بھی استعمال ہوتا ہو؟؟؟اس لیے ایسا کوئی بھی نام اللہ کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے کہ جس سے کفار کے باطل الٰہ سے بھی نسبت ہو۔ ایل عبرانی زبان میں خالص اللہ کو ہی کہا جاتا تھا،اور یہ نام کبھی بھی غیراللہ کے لیے استعمال نہیں ہوا ہے،اس لیے اس سے دلیل لے کر غیراللہ کے ناموں کو اپنے حقیقی اللہ کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا اور بےشک ان ناموں کے معنی بہت اچھے ہوں،کیونکہ جو کوئی بھی اپنے الٰہ کا نام رکھے گا تو وہ نام بُرا نہیں رکھے گا بلکہ اس کی کوشش ہوگی کہ وہ اچھے سے اچھا نام رکھے،جیسا کہ ہندؤں نے نام رکھے ہوئے ہیں مثلا برھما (خالق) ، وشنو (رب) اور شیو (قہّار) برھما (خالق) سرشتری (المصور)، پرجاپتی (الملک)، اتم بُھو سویم بُھو (ظاہر و باطن)، وھاتری (سہارا دینے والا)، ساوتری پتی (رب الشمس)، لوکیس (رب العالمین)، پرمشت (رب العرش)، سَنت (المقدم)، چتر مکھ (البصیر)، اشٹ کرن (السمیع) ہَری (القابض) اُچ یوت (لافانی)، پُروشوتم (اعلیٰ روح)، وِش ومبر (الحافظ)، اننت (لامحدود)، جنار دھن (رب الناس، اِلٰہ الناس)، اصل میں یہ سب نام اللہ کے صفاتی نام ہیں جو ہندؤں نے اپنی زبان میں رکھے ہیں، اور وہ اس سے اللہ مراد نہیں لیتے بلکہ اس سے مراد ایشور لیتے ہیں اور ایشور کے بارے ہیں ان کے بہت سے باطل عقائد ہیں جن میں یہ بھی ہے کہ جس کے چار۴ ہاتھ ہیں۔ اگر کوئی کافر ہمارے اللہ کے صفاتی ناموں میں سے اپنے الٰہ کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس سے یہ نہ مراد لی جائے کہ اب ہم اپنے حقیقی اللہ کو اس نام سے نہیں پکار سکتے بلکہ ہم اللہ کو پھر بھی اُس نام سے پکار سکتے ہیں کیونکہ اصل میں وہی اللہ اس صفت کے قابل ہے نہ کے ان کا جھوٹا الٰہ۔ ً آگے آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
اور دوسرا اس میں لکھا ہے کہ ۔۔خالق کائنات کا ذاتی نام اور خوداس کی ذات جس کے صفاتی نام ننانوے ہیں اورجو اپنی ذات و صفات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، وہ یکتاہے اور اس کامثل کوئی نہیں۔‘‘ 460/8 بہت افسوس کی بات ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ خالق کائنات کا ذاتی نام خدا ہے، مجھے رونا آ رہا ہے آجکل کے اہلِ علم حضرات پر ارے بھائی خالقِ کائنات کا ذاتی نام اللہ ہے، خدا نہیں ہےباقی نام صفاتی ہیں ذاتی نام اللہ ہےاور صفاتی ناموں میں بھی خدا کہیں نہیں ہے۔ اور دوسرا اس میں بھی اقرار کیا گیا ہے کہ جس کے صفاتی نام ۹۹ ہیں تو کیا کوئی خدا کا نام اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ثابت کر سکتا ہے، ذاتی نام کا جو باطل دعویٰ کیا گیا ہے وہ تو قیامت تک بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا بلکہ صفاتی ناموں میں سے بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے مزید لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
مزید آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ اور تم گالی مت دینا (اے مسلمانو!) ان کو جن کو (پوجتے) پکارتے ہیں یہ (مشرک) لوگ، کہ کہیں اس کے جواب میں یہ گالیاں نہ بکنے لگیں اللہ کو (ظلم و) زیادتی کی بنا پر بغیر کسی علم کے، سورۃ الانعام آیت نمبر ۱۰۸ آپ کی منطق کے حساب سے ہندؤں کا ایشور اور ہمارا اللہ ایک ہے تو اس آیت کو کہاں فٹ کریں گے؟؟؟ وہ مشرکین کے الٰہ کون سے ہیں یا کہ آپ ان کو مشرک ہی نہیں سمجھتے کیونکہ بقول آپ کے ایشور،وشنو اور بھگوان وغیرہ سے مراد وہ اللہ ہی ہے؟؟؟ عیسائیوں کے گاڈ کا معاملہ بھی مشکوک ہے ان لوگوں نے اللہ کی کتاب کو بلکل ہی بدل دیا ہوا ہے اس میں اب اللہ کی کم باتیں ہیں اور ان کے پادریوں کی دراندازیاں زیادہ ہیں اور گاڈ سے مراد اب پتا نہیں یہ لوگ کیا لیتے ہوں گے!!! پہلے بھی یہ گاڈ کو تین میں سے تیسرا کہتے تھے یعنی گاڈ تین کا مجموعہ ہے تو کیا آپ اللہ کے بارے میں اسی گاڈ کا تصور رکھتے ہیں؟؟؟ اگر نہیں تو پھر ہم اپنے حقیقی اور سچے اللہ کو گاڈ کہہ کر کیوں پکاریں؟؟؟ صرف معنی اچھا ہونے سے مراد یہ نہیں کے کہ ہم ہر باطل معبود کے نام کو اللہ کے ساتھ منسوب کرنا شروع کر دیں، کیا اللہ اور رسول علیہ السلام کے بتائے ہوئے ننانوے۹۹ نام کم ہیں کہ ہم پھر بھی یہود و نصاریٰ اور ہندؤں کے الہٰوں کے ناموں سے اپنے اللہ کو پکاریں اور نبی ﷺ کی اُس وعید میں بھی پھنس جائیں جس میں کفار سے ہر طرح کی مشابہت سے بچنے کا حکم ہے۔ احادیث اوپر گزر چکی ہیں جن میں مشابہت کی ممانعت آئی ہے۔ دوسرا اس میں اور بھی بہت نقصان ہے وہ یہ کہ اللہ لکھنے اور بولنے پر ہم کو چالیس۴۰ نیکیاں ملتی ہیں کیونکہ یہ قرآن کا لفظ ہے، اور اگر ہم خدا لکھیں یا بولیں تو اس پر ہم ان ۴۰ نیکیوں سے محروم رہ جائیں گے اور آپ کو پتا ہے کہ قیامت کے دن انسان ایک نیکی کو بھی ترسے گا آج جب ہمارے پاس وقت ہے تو ہم جان بوجھ کر اپنا نقصان کیوں کریں؟ اللہ کہہ کر ہم زیادہ سے زیادہ نیکیاں کیوں نہ حاصل کریں ایک دن میں انسان کافی دفعہ اللہ کو پکارتا ہے بل فرض دس۱۰ دفعہ بھی پکارے تو ۴۰۰ نیکیاں اس کو مل جائیں گی اور اگر بدقسمتی سے خدا کہتا رہا تو ایک دن میں ۴۰۰ نیکیوں سے محروم ہو گیا،اس لیے بھائیوں ضد چھوڑیں اللہ کو اللہ کے ننانوے۹۹ ناموں میں سے ہی کسی نام سے پکاریں۔ پھر آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ اقتباس:
آپ نے لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔ اقتباس:
اور عیسائیوں کو بس اتنی دعوت دینی ہے کہ تم جس گاڈ کی عبادت کرتے ہو کرتے رہو کیونکہ ہمارا اللہ بھی وہی گاڈ ہے، بس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور کسی کو اس کا بیٹا اور بیوی نہ بناؤ؟؟؟ اور وہ عبادت جس طرح میوزک کے ساتھ کر رہا ہے وہ کیا ٹھیک ہے اور کیا اس کو آخری نبیﷺ کی رسالت کو قبول کرنے کی دعوت نہیں دینی؟؟؟جب آپ ان کفار کو دینِ اسلام کی دعوت دو گے تو وہ ویسے ہی وحشت میں آجائیں گے جس وحشت سے بچنے کے لیے آپ نے اپنے سچے معبود اللہ کو ان کے جھوٹے اور باطل معبود کے ساتھ ملا دیا تھا۔ آپ نے مزید لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔ اقتباس:
جزاک اللہ بھائی۔
Last edited by محمد عاصم; 11-06-10 at 02:33 AM. وجہ: ایک بات کا اضافہ کیا |
||||||||
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (08-07-10), مرزا عامر (07-07-10), مسلم بھائی (13-06-10), ام طلحہ (08-07-10), احمد بلال (11-06-10), بلال اویسی (11-07-10), راجہ اکرام (08-07-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
مجھے پتا ہے بلال بھائی کہ یہ تحریر آپ کی نہیں ہے اور میں نے ہر جگہ یہی لکھا ہے کہ آپ نے لکھا،
اس لیے کہ آپ اس تحریر کو کاپی کر کے اُس بھائی تک پہنچائیں اور ان سے اس کا جواب لکھنے کو بولیں اگر اُس بھائی نے اس کا جواب قرآن و حدیث سے دے دیا تو ہم کو تسلیم کرنے والوں میں سے آپ پائیں گیں۔ ان شاءاللہ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بحث کی لسی کو جتنا مرضی بڑھا لیں لیکن جب لکھنا ہی ہے تو خدا کی جگہ اللہ لکھنے میں کیا اضافی زور لگتا ہے؟ لمبے چوڑے دلائل مجھے نہیں آتے بس یہ جانتا ہوں کہ اللہ نے جس نام سے اپنا تعارف اپنی کتاب میں کروایا ہے وہ "اللہ " ہے۔ میرے جیسے عام لوگوں کے لیے یہی کافی ہے۔
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (08-07-10), پاکستانی (11-06-10), محمد عاصم (11-06-10), مسلم بھائی (13-06-10), ام طلحہ (08-07-10), احمد بلال (11-06-10), راجہ اکرام (08-07-10), عبداللہ حیدر (11-06-10), غلام خان (13-08-10) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
لمبے چھوڑے دلائل دینے سے ہی حق بات واضح ہوتی ہے میرے پیارے بھائی۔ اگر میں ان کے جواب میں ٖصرف اتنا لکھتا جتنا آپ نے لکھا ہے تو کیا ان کے اشکال دور ہو جانے تھے اتنی سی بات سے؟؟؟ بس یہ دعا کیا کریں کہ اللہ ہم سب کو حق بات کو قبول کرنے کی ہمت دے بےشک وہ بات ہمارے نفسوں کو ناگوار ہی لگے،حق بات ہو تو ہمارے دل اس کو تسلیم کر لیں بس۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی (11-06-10), مسلم بھائی (13-06-10), ام طلحہ (08-07-10), احمد بلال (11-06-10), راجہ اکرام (08-07-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
سوال اب بھی کئی اور نکل سکتے ہیں مگر ۔۔۔
دونوں رائے سامنے ہیں ۔۔۔ جس کا جی چاہے "جو" کرے ۔۔۔۔۔ ہمیں بس کسی پر زبردستی نہی کرنی چاہیے اور نہ یہ کہ کوئی کافر ہوتا ہے نہ گنہگار ۔۔۔۔ سب کی اپنی اپنی سوچ ہے ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | کنعان (11-06-10), محمد عاصم (11-06-10), مرزا عامر (07-07-10), احمد بلال (11-06-10), خرم شہزاد خرم (12-06-10) |
![]() |
| Tags |
| ہندو, کتابوں, ڈکشنری, قرآن, نفرت, نماز, میر تقی میر, موجودہ, ممکن, آج, ایس ایم ایس, اللہ, انسان, اردو لغت, اسلامی, اشعار, توحید, تعلیم, جواب, حدیث, خدا, دیکھو, دعا, عبادت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا یہ انسان ہیں؟ | علی عمران | گپ شپ | 12 | 08-09-11 09:18 PM |
| الزام کسے دیں؟ | طاھر | دلچسپ اور عجیب | 13 | 07-08-10 12:32 AM |
| عافیہ صدیقی کو رونے والے کہاں ہیں؟ | منتظمین | میرا پاکستان | 32 | 23-07-10 08:14 PM |
| سب سے لمبے بال کس کے ہیں؟ | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 25 | 25-06-10 07:50 PM |
| ہم کس گروہ سے ہیں؟ | sahj | عمومی بحث | 4 | 01-02-10 01:38 PM |