واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > توحید



توحید توحید


کیا اللہ اور خدا الگ الگ ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-06-10, 02:52 AM   #1
کیا اللہ اور خدا الگ الگ ہیں؟
احمد بلال احمد بلال آف لائن ہے 05-06-10, 02:52 AM

پچھلے دنوں‌ عادل صاحب کا تھریڈ " اللہ نہیں ہے خدا "‌پڑھا۔۔کافی لاجک تھی بات میں کیونکہ قرآن و حدیث سے دلائل دیے گئے تھے۔اس سے پہلے بھی ایس ایم ایس ملتے رہتے تھے کی "فلاں بندے نے تحقیق کی ہے کہ GOD نہیں کہنا چاہیے۔" لیکن دلیل کوئی نہیں دیتا تھا۔ لیکن میرا دل نہیں مانتا تھا کہ خدا اور اللہ کہنے سے فرق پڑتا ہے ۔ شاید اس ذات کو پکارتے ہوئے کبھی وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ کوئی اور ہماری بات سے گا۔ بیشک سننے اور دیکھنے والا وہی ہے۔

کسی صاحب کا آرٹیکل پڑھا تھا ای میل میں ۔صاحب کا پتا نہیں‌ہے ۔اس لئے من و عن پیش کر رہا ہوں ۔

نوٹ : یہ مراسلہ کسی بھی طرح عادل صاحب کے مقابلے میں نہیں لکھا گیا۔میں تو انتہائی کم علم شخص ہوںمیں کیا لکھوں گا ۔ پڑہا تھا سوچا شیئر کروں‌۔ اللہ ہمیں صحیح علم عطا کرے۔






کیا اللہ اور خدا الگ الگ ہیں؟

پچھلے دنوں ایک صاحب ملاقات کے لیے تشریف لائے۔گفتگو کے دوران میں انہوں نے یہ بیان کیا کہ میری کتابیں جب وہ بعض لوگوں کو دیتے ہیں تو وہ اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے خدا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ خدا کا استعمال اس کی توہین کے مترادف ہے، اس لیے وہ میری کتابوںاور تحریروں کو مفید سمجھنے کے باجود دوسروں تک نہیں پہنچاسکتے۔یہ صرف ایک ہی واقعہ نہیں ہے ۔بہت سے لوگ مجھ سے لفظ خدا کے استعمال کے بارے میں ایسی ہی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔سو قارئین آج اس مسئلے پر تفصیل سے بات کرلیتے ہیں۔



قرآن کا فیصلہ

اللہ تعالیٰ کا کیا نام درست ہے اور کیا نہیں۔ کس نام کو اس کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے اور کس کو نہیں ،اس کا فیصلہ نزول قرآن کے وقت ہی ہوگیا تھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ایک نام ’الرحمن‘ بیان ہوا ہے۔الرحمن کا لفظ عربی زبان کا معروف لفظ تھا جس سے مشرکین عرب واقف تھے۔تاہم ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے وہ اللہ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔جبکہ اللہ تعالیٰ کے نام کے طور پر الرحمن کا لفظ زیادہ تر اہل کتاب میں استعمال ہوتا تھا۔قرآن کریم نے بھی بعض مقامات پر اس نام کو اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام کے طور پر استعمال کیا۔مثلاًسورہ الرحمن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

الرحمن نے اس قرآن کی تعلیم دی ہے(الرحمن2:55-1)



جب قرآن نے لفظ الرحمن کو استعمال کیا تو مشرکین،عرب جو مخالفت پر تلے بیٹھے تھے ،انہوں نے اس بات کو اچھالنا شروع کردیا۔قرآن کریم میں مشرکین کے ردعمل کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔



جب ان سے کہا جاتا ہے کہ الرحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں : الرحمن کیا ہے؟کیا ہم اس چیز کوسجدہ کریں جس کا تم ہمیں حکم دیتے ہو؟ اور یہ چیز ان کی نفرت کو اور بڑھا تی ہے۔(الفرقان60:25)



یہ چونکہ توحید کا مسئلہ تھا، جس کی وضاحت قرآن کا بنیادی موضوع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ غلط فہمی دور کردی کہ اللہ کے سوا کسی اور نام سے ذات باری تعالیٰ کو پکارنا غلط ہے۔فرمایا:

اے نبی انہیں بتادوتم اللہ کہہ کر پکارو یا الرحمن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو، اس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں۔(سورہ بنی اسرائیل110:17)



یہ آیت ٹھیک اس مسئلے کے بارے میں بھی ایک قطعی فیصلہ دے دیتی ہے جو لفظ خد اکے حوالے سے آج درپیش ہے۔یہ نص قطعی ہے جوصاف بیان کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف الرحمن کہہ کر پکارنا درست ہے بلکہ ہر وہ اچھا نام جو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے لیے کسی زبان، علاقے یا قوم میں جو لفظ رائج ہے، اس نام سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا بالکل جائز ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص قوم یا علاقے کے رب نہیں،بلکہ رب العالمین ہیں۔ ان کا تصورہر گروہ اور ہر زمانے میں پایا جاتا رہا ہے۔ لوگوں نے اپنی اپنی زبانوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مگر ان سب ناموں سے مراد ایک ہی ہستی ہوتی ہے۔ جسے اہل عرب نزول قرآن کے وقت اللہ کہتے تھے۔



یہ ایسا ہی ہے جیسے زمین کا تصور ہر قوم ، گروہ اور علاقے میں پایا جاتا ہے۔ مگر ہر اہل عرب اسے ارض، انگریز ارتھ اور ہم لوگ زمین کہتے ہیں۔ کیا ان تین مختلف ناموں سے زمین کے تصور میں تبدیلی آگئی؟یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح کی ہے۔ اب صرف ایک سوال کا جواب باقی ہے کہ کیا ہمارے زبان میں ’خدا ‘کوئی اچھا لفظ ہے یا نہیں۔اس کا جواب ہمیں لغت میں مل جاتا ہے۔اردو ڈکشنری بورڈ کی شائع کردہ اردوزبان کی سب سے بڑی اور مستند لغت میں خدا کے لفظ کے تحت لکھا ہے۔

’’بندے کے مقابل، خالق کائنات کا ذاتی نام اور خوداس کی ذات جس کے صفاتی نام ننانوے ہیں اورجو اپنی ذات و صفات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، وہ یکتاہے اور اس کامثل کوئی نہیں۔‘‘ 460/8



کیا اس وضاحت کے بعد لفظ خدا کے استعمال کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے۔ اردو لغت والوں نے لفظ خدا کے یہ معنی گھر بیٹھے تخلیق نہیں کیے ہیں۔اہل زبان جب کبھی لفظ خد اکو زبان سے ادا کرتے ہیں، وہ جب خدا کی قسم کھاتے ہیں، وہ جب گواہ بناتے ہیں ان کے ذہن میں اللہ کے سوا کسی اور کا تصور تک نہیں ہوتا۔کسی زبان کی اصل سند اس کے اساتذہ کا کلام ہوتا ہے ۔دیکھیے کہ اردو زبان کے اساتذہ کس طرح خدا کے لفظ کو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔


انبیا کا طریقہ

سورہ بنی اسرائیل کی آیت اس بحث میں فیصلہ کن ہے۔ مگر ذرا اور آگے چلئے اور دیکھئے کہ انبیا کا کیا طریقہ تھا۔حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا۔یہ لفظ دو اجزا سے مرکب ہے۔ اِسر اور ایل۔قدیم عبرانی زبان میں اللہ تعالیٰ کو ’ایل‘ کے لفظ سے پکارا جاتا تھا۔جبکہ اِسر کے معنی بندے کے ہیں۔ سو ان کے لقب اسرائیل کا مطلب ہوا ’ایل‘یعنی اللہ کا بندہ۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان عبرانی تھی۔86برس کی عمر میں ان کے دعا کے جواب میں جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بیٹاعطا فرمایاتو آپ نے ان کا نام اسماعیل رکھا۔اس نام کا مطلب ہے کہ ’ایل‘یعنی اللہ تعالیٰ نے سنا۔



اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان انبیاکے زمانے پر اس بات پرکوئی ممانعت نہیں کی بلکہ قرآن میں ان دونوں ناموں کو ذکر کرکے قیامت تک اس حقیقت پر مہر صداقت ثبت کردی کہ کسی زبان میں اللہ تعالیٰ کے لیے جو لفظ بھی رائج ہے ، اللہ تعالیٰ کو وہ قبول ہے۔ چاہے وہ عربی لفظ ہو یا عبرانی، ہندی ہو یا یونانی، اردو ہو یا فارسی۔ اللہ کی کوئی زبان نہیں۔ ساری زبانیں اسی کی ہیں۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے لیے عربی کے علاوہ کسی اور زبان کے لفظ کے استعال پر کوئی اعتراض نہیں ہے وگرنہ لازماً قرآن ان پیغمبروں کے نام بدل کر استعمال کرتایاانہی پیغمبروں کے زمانے میںان کے ناموں کی تصحیح کرادیتا۔



لفظ ’خدا ‘کے شرعی عیوب

عام طور پر یہ بیان کیا جاتاہے کہ لفظ خدا میں بڑی شرعی قباحتیں ہیں۔مثلاً یہ غیر اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں اس کی جمع بھی استعمال ہوتی ہے۔یہ فارسی میں بدی کی طاقت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔



آئیے لفظ خدا پر ان اعتراضات کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اردو زبان میں لفظ ’خدا ‘جب تنہا استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد وہی ہستی ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ کہتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر ہم نے اردو زبان میں خدا کے معنی کے تحت بیان کیا ہے۔



دوسری بات یہ کہ بدی کی طاقت کے لیے فارسی زبان میں لفظ اہرمن کا استعمال ہوتا ہے نہ کہ خدا کا۔خدا کا لفظ تنہا جب کبھی آتا ہے اس کے معنی کبھی بدی کے خدا کے نہیں ہوتے۔ تاہم اردو اور فارسی زبان میں لفظ خدا مالک ،بادشاہ اور آقا کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اس پس منظر میں اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں لفظ خدا کے ساتھ کوئی اور لفظ ملتا ہے اور غیر اللہ کے لیے استعمال ہوجاتا ہے۔ جیسے فارسی میں بدی کی طاقت کو خدائے اہرمن کہتے ہیں۔ اسی طرح اردو زبان میں میر تقی میر کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ خدا کے لفظ کی جمع بھی اردو زبان میں مستعمل ہے۔



مگر کیا ان وجوہات کی بنا پر لفظ خدا کا استعمال غلط ہوگیا۔ ہر گز نہیں۔قرآ ن میں اللہ تعالیٰ کے لیے عربی کا ایک ایسا لفظ کثرت سے استعمال ہوا ہے ،جس میں نہ صرف یہ سارے شرعی عیب پائے جاتے ہیں،بلکہ کچھ مزیدعیب ہیں جو لفظ خدا میں نہیں ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں وہ کیا لفظ ہے۔



قرآن میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کو رب کہا گیا ہے۔قرآن و حدیث میں منقول بے شماردعائیں اس لفظ سے شروع ہوتی ہیں۔ مگر یہ لفظ انسان کے لیے عربی میں عام استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم نے بھی استعمال کیا ہے۔ مثلاً سورہ یوسف میں ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام سے دو قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے تعبیر دیتے وقت ان کے آقاکے لیے جو لفظ کہا ،قرآن نے اس کے لیے ’رب‘کا لفظ استعمال کیا۔

تم میں ایک اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔ (یوسف41:12)



اسی آیت سے ذرا قبل ہی اس لفظ کی جمع ’’ارباب‘‘ ، اہل مصر کے ان دیوی دیوتاؤں کے لیے استعمال کی گئی ،جنہیں اہل مصر پوجتے تھے۔

کیا بہت سے جدا جدا رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے۔(یوسف39:12)





جمع کے علاوہ اس لفظ کی مونث بھی عربی میں مستعمل ہے جبکہ لفظ خدا کم از کم اس عیب سے تو بری ہے۔ایک بہت مشہور حدیث جسے حدیثِ جبریل کہا جاتا ہے، اس کے الفاظ ہیں۔

ان تلد الامة ربتها(مسلم رقم)

یعنی قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۔



جب اس سب کے باجود قرآن نے بلاجھجک اس لفظ کو اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کیا ہے تو خدا کے لفظ کو اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال کرنے میں کیا چیز مانع ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ اردو زبان میں یہ لفظ اب اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہوچکا ہے۔ جسے اس بات میں شبہ ہو وہ اپنے استاد، دفتر یا دکان کے مالک یاصدرمملکت کو اس لفظ سے پکارے اور دیکھے کہ اردگرد کے لوگ اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔



مسئلہ دعوتِ دین کا ہے

یہ بحث کچھ علمی رنگ لیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی مناسب جگہ کہیں اور تھی ۔مگر ہم اس ملاقات میں اصلاً یہ بات بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اس قسم کا نقطہ نظر اللہ تعالیٰ کو اپنا قومی معبود قرار دینے کے ہم معنی ہے۔جس کے نتیجے میں اسلامی دعوت کو زبردست نقصان پہنچے گا۔اس کے بعد ایک مسلمان جب دعوت دین کے لیے اٹھے گا تووہ کسی انگریز عیسائی کو یہ بتائے گا کہ تم جس ہستی کو Godکہتے ہو بالکل غلط ہے ۔ تمہیں میرے اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ اسی طرح وہ ایک ہندو سے کہے گا کہ تم ایشور کے ماننے والے ہو جبکہ تمہیں اللہ کو ماننا چاہیے۔اس کے نتیجے میں دوسرا فریق یہ سمجھے گا کہ مجھے میرے معبود سے ہٹاکر کسی اور معبود کی طرف لایا جا رہا ہے۔پھر اس کے دل میںایک اجنبیت اور وحشت پیدا ہوگی اور عین ممکن ہے کہ یہی اجنبیت قبول حق کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔



یہی سبب ہے کہ انبیا کا طریقہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔وہ کبھی نام پر بحث نہیں کرتے، شرک پر بحث کرتے ہیں۔ ان صفات پر بحث کرتے ہیں جو اللہ سے منسوب کردی جاتی ہیں۔ آپ قرآ ن میں کبھی اس گفتگوکو پڑھیے جو انبیا و رسل اور ان کی اقوام کے بیچ میں ہوئی ہے۔اس میں سارا زور توحید کو منوانے پر ہے ۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ تمام رسول اپنی قوم کی زبان ہی بولتے تھے۔(ابراہیم4:14)۔ان رسولوں کی اقوام اپنی زبان میں یقیناً اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی نام سے پکارتی ہوں گی۔وہ رسول بھی اسی نام سے اللہ کو پکارتے تھے۔مگر وہ کہتے تھے کہ تم جسے رب العالمین مانتے ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تنہا اسی کی عبادت کرو۔



آج ہمارے لیے بھی یہی طریقہ آئیڈیل ہے۔اور ہم اس طریقے پر تب ہی عمل کرسکتے ہیں جب ہم ظاہر پرستی سے باہر نکل کر یہ جان سکیں کہ اللہ ایک ہے اور سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔پھر یہ ممکن ہوگا کہ ایک امریکی کو ہم یہ بتاسکیں گے کہ تم God کی عبادت کرتے رہو، لیکن اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ کسی کو اس کا بیٹا اور بیوی نہ قرار دو۔ایک ہندو کو ہم بتاسکیں گے کہ یہ ٹھیک ہے کہ خالق کائنات ایشور ہی ہے مگر دیکھو اس کے ساتھ کسی دیوی دیوتا یا اوتار کو معبود نہ مانو۔



اس کے بعد وہ شخص جب اسلام قبول کرکے نماز پڑھے گا،قرآن پڑھے گا،دین کے مقرر کردہ دیگر اعمال ادا کرے گا تووہاں وہ اللہ ہی کا نام لے گا۔مگریہ حق کسی کو نہیں کہ وہ اس کی زبان بدلوانے کی کوشش کرے۔ اسے اجازت ملنی چاہیے کہ وہ اپنی زبان میں اللہ کو جو چاہے کہہ کر پکارے۔کیوں کہ سارے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں۔یہ حق اسے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور کوئی اس سے اس کا یہ حق نہیں چھین سکتا۔

بحوالہ Ishraq - An Islamic Urdu Magazine

Last edited by احمد بلال; 09-06-10 at 06:05 PM..

احمد بلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2726
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-06-10), فاروق سرورخان (08-07-10), کنعان (10-06-10), پاکستانی (11-06-10), ھارون اعظم (04-07-10), منتظمین (05-06-10), مرزا عامر (07-07-10), آبی ٹوکول (10-06-10), ابرارحسین (11-06-10), حیدر Rehan (05-06-10), خرم شہزاد خرم (12-06-10), غلام خان (13-08-10)
پرانا 05-06-10, 10:40 AM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت زبردست ۔۔
واقعی پڑھنے والی تحریر ہے ۔۔۔
۔
۔
۔
۔شکریہ
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-06-10), مرزا عامر (07-07-10), خرم شہزاد خرم (12-06-10)
پرانا 05-06-10, 11:23 AM   #3
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,772
شکریہ: 53,117
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واقعی یہ ایک عمدہ تحریر ہے!

شئیرنگ کا شکریہ بھائی!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
پرانا 05-06-10, 06:40 PM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عادل سہیل بھائی نے ایک مراسلہ" اللہ نہی ہے "خدا " لکھا تھا ۔۔

اور اب اس مراسلے کو پڑھنے کے بعد اپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عادل بھائی نے لوگوں سے کیا کہلوایا ۔۔

اللہ نہی ہے ، خدا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی خدا کوئی اور ہے ؟؟


اور لوگوں نے عادل بھائی کی پیروی کرتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔کیا سہی کیا ؟؟؟
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-07-10), احمد بلال (07-06-10)
پرانا 07-06-10, 05:49 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,903
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل بھائی نے قرآن و حدیث سے علمی اور عقلی دلائل دیے تھے ۔ اور اِس تحریر سے مجھے جو سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے۔۔۔
" اللہ کو خدا کہا جا سکتا ہے لیکن ضرورت کے تحت یعنی اللہ کی دعوت دیتے ہوئے۔"

باقی اس تحریر کا مقصد کسے کو ہٹ‌ کرنا نہیں نہ کسی کا مقابلہ کرنا۔علم والے لوگ اپنے علمی باتیں شیئر کرتے ہیں(بحث کی صورت میں ) تو ہم جیسے کم علم بھی اس چیز کے بارے میں اپنے کونسپٹ درست کر لیتے ہیں۔ مجھے پاک نیٹ جوائن کرنے کا یہی فائدہ ہوا ہے کہ یہاں کے تجربہ کار ممبران کی تجربہ کار تحریرں شعور کی آنکھ کھولنے میں مدد دیتی ہیں۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-07-10), پاکستانی (11-06-10), ھارون اعظم (04-07-10), مرزا عامر (07-07-10), حیدر Rehan (07-06-10)
پرانا 07-06-10, 06:16 PM   #6
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : احمد بلال مراسلہ دیکھیں
اِس تحریر سے مجھے جو سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے۔۔۔
" اللہ کو خدا کہا جا سکتا ہے لیکن ضرورت کے تحت یعنی اللہ کی دعوت دیتے ہوئے۔"

باقی اس تحریر کا مقصد کسے کو ہٹ‌ کرنا نہیں نہ کسی کا مقابلہ
یہی بات تو سمجھارہے ہیں کہ اپ کو، ہمیں اور سب کو بہت کچھ پڑھنا باقی ہے ۔۔۔۔
بہت ساری باتیں درست ہوجائیں گئ۔۔۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-07-10), احمد بلال (07-06-10), خرم شہزاد خرم (12-06-10)
پرانا 10-06-10, 01:22 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دراصل یہ ایک بہت سخت علمی موضوع ہے اس لیے کچھ بھی کہنے اور لکھنے سے پہلے بہت ہی ہوش و حواس کی ضرورت ہے اور دونوں طرف کی باتیں
بہت ہی غور و فکر سے سنی پڑئیں گئ۔۔

جیسا کہ میں نے اوپر بھی لکھا ہے کہ عادل سہیل نے مراسلہ لکھا
"اللہ نہی ہے، خدا"۔۔۔۔۔۔یہ بجائے ایک نیکی کے خود ایک جرم ہوگیا یعنی انھونے اقرا کرلیا اور لوگوں سے بھی کروایا کہ "جسے ہم اللہ کہتے ہیں وہ خدا نہی ہے" یعنی خدا کوئی اور ہے ۔۔۔۔


اس لیے کہتے ہیں کہ ہمیشہ "صاحب علم (ع) " کی ضرورت ہوتی ہے ۔
ایک امام (ع) کی ضرورت ہوتی ہے ۔
جو اللہ کی طرف سے ہو ۔ وہ امام مبین ہو یعنی کائنات کی ہر شے کا علم اس میں ہو ۔۔۔ وہ غلطی نہ کرسکے ۔۔۔یعنی وہ معصوم ہو ۔
کیونکہ ہم امت عقل و فہم میں کمزور ہیں ہمیں اس کا اب تو عتراف کرلینا چاہیے ۔
ٹھیک ہے کبھی کہہ دیا ہوگا کہ ہمیں "صرف قرآن کافی ہے" اور صاحب علم (ع) نہی چاہیے ۔

جب اتنی سی بات سمجھنے کے لیے مشکل ہوگئی تو باقی مسائل میں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جالی ملاوں نے ۔۔۔ستیا ناس کردیا ہوگا ۔اب اللہ کی نظر میں ایسی باتیں "کیسے قابل مواخذہ نہ ہو گیں"۔ (اللہ ہم سب کو معاف فرمائے )

عادل سہیل نے اپنے مراسلےمیں یہاں تک لکھا کہ میں "ایک گھناؤنی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہ رہا ہوں جِس کا شکار اُردو اور فارسی بولنے والے مسلمان ہو چکے ہیں" یعنی "ایک گھناونی غلطی" سے تشبہ دی ۔

عاصم مٹھو نے اللہ کی جگہ خدا کہنے پر لکھا کہ "(لوگ) غیرمسلم قوم کی مشابہت اپنے اللہ کو پکارنے کے معاملے میں کر رہے ہیں"
اور جو غیر مسلموں سے مشابہت والی احادیث تھی ان میں سے کچھ کو لکھ کراللہ کو خدا کہنے والوں کو کو خطاکار اور گنہگار ثابت کردیا"
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (07-07-10)
پرانا 10-06-10, 04:36 PM   #8
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,584
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
عاصم مٹھو نے اللہ کی جگہ خدا کہنے پر لکھا کہ "(لوگ) غیرمسلم قوم کی مشابہت اپنے اللہ کو پکارنے کے معاملے میں کر رہے ہیں"
اور جو غیر مسلموں سے مشابہت والی احادیث تھی ان میں سے کچھ کو لکھ کراللہ کو خدا کہنے والوں کو کو خطاکار اور گنہگار ثابت کردیا"
بہت جلد اس منطق کا جواب لکھوں گا جو بلال بھائی نے کسی کی پیش کی ہے۔
ان شاءاللہ
اصل میں میرے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے ورنہ کب جا جواب دے دیا ہوتا اور میں الحمدللہ اب بھی اپنے موقف پر ہوں کہ اللہ کو پکارنے کے لیے کسی بھی کافر کے الٰہ کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
باقی تفصیل سے جواب دونگا ان شاءاللہ۔ انتظار کریں
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-07-10), مرزا عامر (07-07-10), مسلم بھائی (13-06-10), حیدر Rehan (11-06-10), راجہ اکرام (08-07-10), غلام خان (13-08-10)
پرانا 10-06-10, 05:23 PM   #9
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم اور بہت خوب بلال بھائی عمدہ شئرنگ فرمائی آپ نے ۔ ۔ ۔
بس کیا کہا جائے عجب جہالت ہے کہ آج عجمیت زدہ ذہنیت لفظ خدا کے زات باری تعالٰی کے استعمال پر معترض ہے حالانکہ اس برصغیر پاک و ہند کو علوم قرآن و حدیث سے متعارف کروانے والا خانوادہ میری مراد شاہ عبدالحق و شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیھما رحمہ سے ہے یہی لفظ باری تعالٰی کے لیے اپنی کتابوں میں لکھتے لکھاتے آئے خیررررر انٹر نیٹ پر اسی موضوع کی تلاش کے دوران جامعہ بنوری کا فتوی ملا جو کہ من و عن یہاں شئر کررہا ہوں شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات کی مصداق کچھ بات بن ہی جائے ۔ ۔ ۔ ۔

لفظ خدا کا استعمال
لفظ خدا کا استعمال
آصف حسام پوچھتے ہیں:
سوال
محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ لفظ” خُدا“ کا استعمال کیا غلط ہے؟

جواب
الجواب ومنہ الصدق والصوابِ


اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ ”خدا“ کا استعمال جائز ہے۔ اور صدیوں سے اکابر دین اس کو استعمال کرتے آئے ہیں۔ اور کبھی کسی نے اس پر نکیر نہیں کی۔ اب کچھ لوگ پیدا ہوئے ہیں جن کے ذہن پر عجمیت کا وہم سوار ہے۔ انہیں بالکل سیدھی سادی چیزوں میں ”عجمی سازش“ نظر آتی ہے، یہ ذہن غلام احمد پرویز اور اس کے ہمنواؤں نے پیدا کیا۔ اور بہت سے پڑھے لکھے شعوری وغیر شعوری طور پر اس کا شکار ہوگئے۔ اسی کا شاخسانہ یہ بحث ہے جو آپ نے لکھی ہے۔ عربی میں لفظ رب ،مالک اور صاحب کے معنیٰ میں ہے۔ اسی کا ترجمہ فارسی میں لفظ”خدا“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ چنانچہ جس طرح لفظ ”رب“ کا اطلاق بغیر اضافت کے غیر اللہ پر نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح لفظ ”خدا“ جب بھی مطلق بولاجائے تو اس کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پرہوتاہے۔ کسی دوسرے کو ”خدا“ کہنا جائز نہیں۔” غیاث اللغات“ میں ہے:

”خدا بالضم بمعنی مالک و صاحب۔ چوں لفظ خدا مطلق باشدبر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نکند، مگر در صورتیکہ بچیزے مضاف شود، چوں کہ خدا، ودہ خدا“۔
ٹھیک یہی مفہوم اور یہی استعمال عربی میں لفظ ”رب“کا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ ”اللہ“ تو حق تعالیٰ شانہ کا ذاتی نام ہے۔ جس کا نہ کوئی ترجمہ ہوسکتاہے نہ کیا جاتاہے۔ دوسرے اسمائے الہٰیہ ”صفاتی نام“ ہیں جن کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ہوسکتاہے۔ اور ہوتاہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں میں سے کسی بابرکت نام کا ترجمہ غیر عربی میں کردیا جائے۔ اور اہل زبان اس کو استعمال کرنے لگیں تو اس کے جائز نہ ہونے اور اس کے استعمال کے ممنوع ہونے کی آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اور جب لفظ ”خدا“”صاحب“اور ”مالک“ کے معنی میں ہے۔ اور لفظ”رب“ کے مفہوم کی ترجمانی کرتاہے تو آپ ہی بتائیے کہ اس میں مجوسیت یا عجمیت کا کیا دخل ہوا۔ کیا انگریزی میں لفظ ”رب“ کا کوئی ترجمہ نہیں کیا جائیگا؟ اور کیا اس ترجمہ کا استعمال یہودیت یا نصرانیت بن جائے گا؟ افسوس ہے کہ لوگ اپنی ناقص معلومات کے بل بوتے پر خود رائی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اسلام کی پوری تاریخ سیاہ نظر آنے لگتی ہے۔ اور وہ چودہ صدیوں کے تمام اکابر کو گمراہ یا کم سے کم فریب خوردہ تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہی خودرائی انہیں جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھیں

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء


جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

ربط
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-07-10), مرزا عامر (07-07-10), حیدر Rehan (10-06-10), خرم شہزاد خرم (12-06-10)
پرانا 11-06-10, 12:09 AM   #10
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,502
کمائي: 118,635
شکریہ: 13,510
4,907 مراسلہ میں 16,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : احمد بلال مراسلہ دیکھیں

کسی صاحب کا آرٹیکل پڑھا تھا ای میل میں۔ صاحب کا پتا نہیں‌ ہے۔ اس لئے من و عن پیش کر رہا ہوں ۔

بحوالہ Ishraq - An Islamic Urdu Magazine

یہ تحریر (ریحان احمد یوسفی) کی ھے

کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-07-10), احمد بلال (11-06-10), حیدر Rehan (11-06-10)
پرانا 11-06-10, 01:15 AM   #11
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,584
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default خدا کہنے کے جواز میں شبہات کا ازالہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آپ کی اس ساری تحریر میں کوئی خاص دلیل نہیں دی گئی خدا کہنے کے حوالے سے ہاں منطق سے کافی کام لیا گیا ہے۔
آپ نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اللہ کے نام مبارک ننانوے۹۹ ہیں تو پھر اس کے بعد آپ کس دلیل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہیں ہیں کہ اللہ کو جو مرضی یا جس نام سے مرضی ہے پکارو اس میں کوئی خرج نہیں ہے،آپ کا یہ دعویٰ کئی ایک وجوہات کی بنا پر غلط ہے۔اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں ان شاءاللہ۔

آپ نے لکھا کہ۔۔۔۔۔۔


اقتباس:
اے نبی انہیں بتادوتم اللہ کہہ کر پکارو یا الرحمن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو، اس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں۔(سورہ بنی اسرائیل110:17)
یہ آیت ٹھیک اس مسئلے کے بارے میں بھی ایک قطعی فیصلہ دے دیتی ہے جو لفظ خد اکے حوالے سے آج درپیش ہے۔یہ نص قطعی ہے جوصاف بیان کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف الرحمن کہہ کر پکارنا درست ہے بلکہ ہر وہ اچھا نام جو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے لیے کسی زبان، علاقے یا قوم میں جو لفظ رائج ہے، اس نام سے اللہ تعالیٰ کو پکارنا بالکل جائز ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کسی خاص قوم یا علاقے کے رب نہیں،بلکہ رب العالمین ہیں۔ ان کا تصورہر گروہ اور ہر زمانے میں پایا جاتا رہا ہے۔ لوگوں نے اپنی اپنی زبانوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مگر ان سب ناموں سے مراد ایک ہی ہستی ہوتی ہے۔ جسے اہل عرب نزول قرآن کے وقت اللہ کہتے تھے۔
جبکہ اصل حقیقت یہ نہیں ہے آپ نے ایشور تک اللہ کو کہنا جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس پر کبھی کسی نے بھی نہیں فتویٰ دیا کہ ہم ہندؤں کے الٰہوں کے ناموں سے اپنے اللہ کو پکاریں آپ نے خدا کہنے کو جائز ثابت کرنے کے لیے وشنو،بھگوان، اور ایشور کے نام بھی اللہ کے لیے پسند فرما لیے ہیں، اللہ ہی اب ہم پر رحم فرمائے۔
آپ کا یہ کہنا کہ لوگوں نے اپنی اپنی زبانوں میں اللہ کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں،مگران سب ناموں سے مراد ایک ہی ہستی ہوتی ہے۔تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے وشنو کے معنی خالق اور رب کے ہیں اور ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ وشنو الٰہ جس کے چار۴ ہاتھ ہیں۔کیا اللہ کے ساتھ آپ اس کو تشبہہ دینا پسند کریں گے؟
اور خدا کے معنی مالک کے ہیں جیسا کہ ایرانی آتش پرستوں کے دو۲ خدا تھے ایک کا نام تھااچھائی کا مالک اور دوسرے کا نام تھا بُرائی کا مالک، فارسی میں اس کا معنی ہے خدائے یزدان اور خدائے اہرمن۔ تو کیا ان ناموں کی اللہ کے لیے کوئی گنجائش نکلتی ہے؟؟
اور اوپر جو آیت آپ نے پیش کی ہے اسماءالحسنیٰ سے مراد اللہ کے ننانوے ۹۹ نام ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اللہ نے ان کی طرف اشارا کیا ہے کہ اللہ کے سبھی نام اچھے ہیں تم ان ناموں میں سے جس سے چاہو اللہ کو پکارو، نہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس نام سے مرضی ہے اللہ کو پکارو جیسا کہ آپ نے مراد لیا ہے ایسا قطنا نہیں ہے حدیث میں ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ
صحیح بخاری:جلد دوم:
ابو الیمان، شعیب ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو جو شخص ان کو یاد کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
اس حدیث مبارک میں بھی واضح یہی ہو رہا ہے کہ ننانوے نام ہیں،
اللہ کو انہی ناموں میں سے کسی بھی نام سے پکارنا برحق ہے،جوان ناموں کو زبانی یاد کر لے اس کو جنت کی بشارت ہے،اور اگر آپ کی منطق سے دیکھا جائے تو اللہ کے نام انگنت بن جاتے ہیں کہ جتنے بھی اچھے نام ہیں ان سے اللہ کو پکارا جا سکتا ہے چاہے وہ نام کفار کے جھوٹے الٰہوں کے ہی نام کیوں نہ ہوں،تو ان سب ناموں کو کوئی بھی یاد نہیں کر سکے گا بلکہ ان سب ناموں کو کوئی جمع بھی نہیں کر پائے گا۔
میں تو کہتا ہوں کہ اللہ کو پکارنے کے معاملے میں کسی کافر قوم کی مشابہت ہی نہیں کرنی چاہیے تاکہ کوئی غلط فہمی کا بھی شکار نہ ہو کہ آیا یہ مسلم ہے یا کہ کافر؟؟؟
اور کفار کی مشابہت سے بچنے کے لیے ہم کو اللہ کے نبی علیہ السلام کا حکم بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات ہیں کہ۔۔۔۔۔۔

قتیبة، ابن لہیعة، حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمارے علاوہ کسی اور کی مشابہت اختیار کی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہود ونصاری کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہودیوں کا سلام انگلیوں کے اشارے سے اور عیسائیوں کا سلام ہاتھ سے اشارہ کرنا ہے۔
جامع ترمذی:جلد دوم:
اس حدیث میں واضح ہوا کہ دین کے کسی بھی معاملے میں کفار کی مشابہت نہیں کی جاسکتی حتٰی کہ سلام لینے کے معاملے میں بھی،
اور اگر کسی نےمشابہت کی تو آپﷺکاواضح حکم ہے کہ اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عثمان بن ابی شیبہ، ابونضر عبدالرحمن بن ثابت، حسان بن عطیہ، ابی منیب، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیارکی، کھانے پینے لباس، رہنے سہن میں تو وہ انہی میں سے ہوگا قیامت میں اس کے ساتھ حشر ہوگا۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:
اور اس حدیث میں دنیاوی معاملات میں بھی مشابہت سے منع فرما دیا گیا ہے اور کہاں اللہ کو پکارنے کا معاملہ اور ساتھ یہ بھی فرما دیا اگر کوئی پھر بھی کفار کی مشابہت کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن کفار کے ساتھ ہی اُٹھایا جائے گا،اُف کتنےخطرناک انجام سے ڈرایا گیا ہے۔

موسی بن اسما عیل، ابان، یحیی، عمران بن حطان، عائشہ، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےگھر میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کی شکل وغیرہ ہو مگر اسے توڑ ڈالتے تھے۔
(تا کہ نصاری کے ساتھ مشابہت نہ ہو)۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:
عیسائی لوگ صلیب کو دین سمجھ کر بناتے ہیں اور نبی علیہ السلام کو اتنا بھی گوارہ نہیں تھا کہ کوئی صلیب سے ملتی جلتی چیز آپ کے گھر میں ہو، تو آج ہم ان کی دینی مشابہت کو بھی بُرا نہیں سمجھتے افسوس کی بات ہے ان عیسائیوں کے گاڈ کو اللہ کے ساتھ ملا رہے ہیں اور اس پر اصرار بھی ہے کہ ایسا کہنا ٹھیک ہی نہیں بلکہ جائز ہے جبکہ نبی علیہ السلام ہم کو یہود و نصاریٰ بلکہ سب کفار سےہر طرح کی مشابہت کرنے سے منع فرما گے ہیں بلکہ ایک حدیث میں یہود و نصاریٰ کی مشابہت کو ایک بُرائی کے طور پر ذکر فرمایا ہے

سعید بن ابومریم ابوغسان زید بن اسلم عطار بن یسار ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کی (ایسی زبردست پیروی کرو گے (حتیٰ کہ) ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز پر (یعنی ذرا سا بھی فرق نہ ہوگا) حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہو گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود و نصاری مراد ہیں آپ نے فرمایا پھر اور کون مراد ہو سکتا ہے۔
کتاب صحیح بخاری جلد 2
اس حدیث سے بات بہت واضح ہو رہی ہے اس وقت امت کا یہی حال ہو گیا ہے یہ کفار کی مشابہت کو اچھا جان رہی ہے بلکہ اس پر قرآن و حدیث میں اپنی مرضی کی تاویلات کی جارہی ہیں، اللہ ہی اس اُمت پر اپنا کرم فرمائے آمین۔
مزید آپ نے لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
یہ ایسا ہی ہے جیسے زمین کا تصور ہر قوم ، گروہ اور علاقے میں پایا جاتا ہے۔ مگر ہر اہل عرب اسے ارض، انگریز ارتھ اور ہم لوگ زمین کہتے ہیں۔ کیا ان تین مختلف ناموں سے زمین کے تصور میں تبدیلی آگئی؟یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح کی ہے۔
میرے پیارے بھائی قرآن میں اللہ نے بہت واضح فرمایا ہوا ہے کہ اللہ کی کوئی مثل نہیں اور نہ ہی مثال دی جاسکتی ہے اور آپ نے اللہ کے ناموں کی مثال زمین کے نام کے ساتھ دے رہے ہیں یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے،باقی اس میں جو آپ نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اس کے بارے میں مَیں اوپر لکھ آیا ہوں کہ ہندو وشنو،بھگوان یا ایشور سے ہمارے والا اللہ مراد نہیں لیتے ان کا ایشور وہ ہے جس کے چار۴ ہاتھ ہیں۔
ہاں میں اس بات سے متفق ہوں کہ اگر واقعی کسی زبان میں اللہ کو کسی ایسے نام سے پکارا جاتا ہے جو خالص اللہ کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہ نام کسی بھی غیراللہ کے لیے کبھی بھی استعمال نہیں ہوا تو صرف اُس زبان والے اللہ کو اُس نام سے پکار سکتے ہیں لیکن اس میں شرط یہ لازمی ہے کہ وہ نام کسی غیراللہ کے نام سے منسوب نہ ہو،جیسا کہ بھگوان،وشنو،ایشور اور خدا ہے۔
ایک حدیث بھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دورجاہلیت میں فلاں جگہ اللہ کے نام کا اونٹ زبحہ کرنی کی منت مانی تھی کیا میں اب اس منت کو پوری کر سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ کیا وہاں کبھی کسی بت کا مندر تھا؟ انہوں نے کہا نہیں پھر آپ نے پوچھا کہ کیا وہاں کبھی کسی غیراللہ کے لیے قربانی کی جاتی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنی منت پوری کرو۔ اس حدیث سے یہی سبق ملتا ہے کہ اگر وہاں کبھی کسی غیراللہ کے لیے قربانی کی جاتی ہوتی تو آپ منت پوری کرنے کی اجازت نہ دیتے کہ کہیں کوئی دیکھنے والا غلط مطلب نہ لے لیتا کہ دیکھو جی فلاں غیراللہ کی یاد تازہ کی جا رہی ہے۔ حالانکہ صحابی نے منت اللہ کے نام کی مانی ہوئی تھی لیکن اس سے کوئی بھی غلط مطلب نکال سکتا تھا۔تو اس سے ہم کو اس معاملے میں یہی سبق ملتا ہے کہ اللہ کے نام کی قربانی کسی ایسی جگہ نہیں کی جا سکتی جہاں کسی غیراللہ کے لیے قربانی کی جاتی ہو،تو ہم وہ نام اللہ کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو کہ کسی باطل معبود کے لیے بھی استعمال ہوتا ہو؟؟؟اس لیے ایسا کوئی بھی نام اللہ کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے کہ جس سے کفار کے باطل الٰہ سے بھی نسبت ہو۔
ایل عبرانی زبان میں خالص اللہ کو ہی کہا جاتا تھا،اور یہ نام کبھی بھی غیراللہ کے لیے استعمال نہیں ہوا ہے،اس لیے اس سے دلیل لے کر غیراللہ کے ناموں کو اپنے حقیقی اللہ کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا اور بےشک ان ناموں کے معنی بہت اچھے ہوں،کیونکہ جو کوئی بھی اپنے الٰہ کا نام رکھے گا تو وہ نام بُرا نہیں رکھے گا بلکہ اس کی کوشش ہوگی کہ وہ اچھے سے اچھا نام رکھے،جیسا کہ ہندؤں نے نام رکھے ہوئے ہیں مثلا
برھما (خالق) ، وشنو (رب) اور شیو (قہّار) برھما (خالق) سرشتری (المصور)، پرجاپتی (الملک)، اتم بُھو سویم بُھو (ظاہر و باطن)، وھاتری (سہارا دینے والا)، ساوتری پتی (رب الشمس)، لوکیس (رب العالمین)، پرمشت (رب العرش)، سَنت (المقدم)، چتر مکھ (البصیر)، اشٹ کرن (السمیع) ہَری (القابض) اُچ یوت (لافانی)، پُروشوتم (اعلیٰ روح)، وِش ومبر (الحافظ)، اننت (لامحدود)، جنار دھن (رب الناس، اِلٰہ الناس)،
اصل میں یہ سب نام اللہ کے صفاتی نام ہیں جو ہندؤں نے اپنی زبان میں رکھے ہیں، اور وہ اس سے اللہ مراد نہیں لیتے بلکہ اس سے مراد ایشور لیتے ہیں اور ایشور کے بارے ہیں ان کے بہت سے باطل عقائد ہیں جن میں یہ بھی ہے کہ جس کے چار۴ ہاتھ ہیں۔ اگر کوئی کافر ہمارے اللہ کے صفاتی ناموں میں سے اپنے الٰہ کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس سے یہ نہ مراد لی جائے کہ اب ہم اپنے حقیقی اللہ کو اس نام سے نہیں پکار سکتے بلکہ ہم اللہ کو پھر بھی اُس نام سے پکار سکتے ہیں کیونکہ اصل میں وہی اللہ اس صفت کے قابل ہے نہ کے ان کا جھوٹا الٰہ۔
ً
آگے آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اردو ڈکشنری بورڈ کی شائع کردہ اردوزبان کی سب سے بڑی اور مستند لغت میں خدا کے لفظ کے تحت لکھا ہے۔

’’بندے کے مقابل، خالق کائنات کا ذاتی نام اور خوداس کی ذات جس کے صفاتی نام ننانوے ہیں اورجو اپنی ذات و صفات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، وہ یکتاہے اور اس کامثل کوئی نہیں۔‘‘ 460/8
کیا اس وضاحت کے بعد لفظ خدا کے استعمال کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے۔
بھائی میرے آپ نے ایسے یہ بات کی ہے جیسے آپ نے کوئی قرآن کی آیت یا حدیث دلیل کے طور پر پیش کی ہے جو ساتھ لکھا ہے کہ کیا اس وضاحت کے بعد لفظ خدا کے استعمال کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے۔یہ بات تو واضح نص کے ساتھ پیش کی جاتی ہے جو آپ نے ڈکشنری کے معنے کے ساتھ پیش کر دی ہے۔
اور دوسرا اس میں لکھا ہے کہ ۔۔خالق کائنات کا ذاتی نام اور خوداس کی ذات جس کے صفاتی نام ننانوے ہیں اورجو اپنی ذات و صفات کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، وہ یکتاہے اور اس کامثل کوئی نہیں۔‘‘ 460/8
بہت افسوس کی بات ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ خالق کائنات کا ذاتی نام خدا ہے، مجھے رونا آ رہا ہے آجکل کے اہلِ علم حضرات پر ارے بھائی خالقِ کائنات کا ذاتی نام اللہ ہے، خدا نہیں ہےباقی نام صفاتی ہیں ذاتی نام اللہ ہےاور صفاتی ناموں میں بھی خدا کہیں نہیں ہے۔
اور دوسرا اس میں بھی اقرار کیا گیا ہے کہ جس کے صفاتی نام ۹۹ ہیں تو کیا کوئی خدا کا نام اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ثابت کر سکتا ہے، ذاتی نام کا جو باطل دعویٰ کیا گیا ہے وہ تو قیامت تک بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا بلکہ صفاتی ناموں میں سے بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
آپ نے مزید لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
اللہ تعالیٰ کو وہ قبول ہے۔ چاہے وہ عربی لفظ ہو یا عبرانی، ہندی ہو یا یونانی، اردو ہو یا فارسی۔ اللہ کی کوئی زبان نہیں۔ ساری زبانیں اسی کی ہیں۔ اسی سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے لیے عربی کے علاوہ کسی اور زبان کے لفظ کے استعال پر کوئی اعتراض نہیں ہےوگرنہ لازماً قرآن ان پیغمبروں کے نام بدل کر استعمال کرتایاانہی پیغمبروں کے زمانے میں ان کے ناموں کی تصحیح کرادیتا۔
بلکل سب زبانیں اللہ کی نبائیں ہوئیں ہیں اور سب انسان بھی بلکہ سب کائناتیں بھی اللہ کے حکم سے بنی ہیں،مگر بھائی اللہ کو پکارنے میں جو طریقہ ہم کو سنت سے ملتا ہے اس کو ہی لینا ہے ایک سیدھی سی بات ہے جو نام اُس وقت رکھے گے تھے مثلاً اسماعیل،اسرائیل وغیرہ تو نام تبدیل تو نہیں کیے جاسکتے نا مگر آپ دیکھیں کہ اللہ نے پورے قرآن میں اپنے آپ کو ایل کا نام دیا ہے یا حدیث میں نبی علیہ السلام نے اللہ کو ایل کے نام سے پکارا ہے؟ تو جواب ہے نہیں، اب اللہ نے انبیاء کے نام تو تبدیل نہیں کرنے تھے نا۔
مزید آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اقتباس:
یہ بحث کچھ علمی رنگ لیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی مناسب جگہ کہیں اور تھی ۔مگر ہم اس ملاقات میں اصلاً یہ بات بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اس قسم کا نقطہ نظر اللہ تعالیٰ کو اپنا قومی معبود قرار دینے کے ہم معنی ہے۔جس کے نتیجے میں اسلامی دعوت کو زبردست نقصان پہنچے گا۔اس کے بعد ایک مسلمان جب دعوت دین کے لیے اٹھے گا تووہ کسی انگریز عیسائی کو یہ بتائے گا کہ تم جس ہستی کو God
کہتے ہو بالکل غلط ہے ۔
تمہیں میرے اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔
اسی طرح وہ ایک ہندو سے کہے گا کہ تم ایشور کے ماننے والے ہو جبکہ تمہیں اللہ کو ماننا چاہیے۔اس کے نتیجے میں دوسرا فریق یہ سمجھے گا کہ مجھے میرے معبود سے ہٹاکر کسی اور معبود کی طرف لایا جا رہا ہے۔پھر اس کے دل میں
ایک اجنبیت اور وحشت پیدا ہوگی اور عین ممکن ہے کہ یہی اجنبیت قبول حق کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ

اور تم گالی مت دینا (اے مسلمانو!) ان کو جن کو (پوجتے) پکارتے ہیں یہ (مشرک) لوگ، کہ کہیں اس کے جواب میں یہ گالیاں نہ بکنے لگیں اللہ کو (ظلم و) زیادتی کی بنا پر بغیر کسی علم کے، سورۃ الانعام آیت نمبر ۱۰۸
آپ کی منطق کے حساب سے ہندؤں کا ایشور اور ہمارا اللہ ایک ہے تو اس آیت کو کہاں فٹ کریں گے؟؟؟
وہ مشرکین کے الٰہ کون سے ہیں یا کہ آپ ان کو مشرک ہی نہیں سمجھتے کیونکہ بقول آپ کے ایشور،وشنو اور بھگوان وغیرہ سے مراد وہ اللہ ہی ہے؟؟؟
عیسائیوں کے گاڈ کا معاملہ بھی مشکوک ہے ان لوگوں نے اللہ کی کتاب کو بلکل ہی بدل دیا ہوا ہے اس میں اب اللہ کی کم باتیں ہیں اور ان کے پادریوں کی دراندازیاں زیادہ ہیں اور گاڈ سے مراد اب پتا نہیں یہ لوگ کیا لیتے ہوں گے!!!
پہلے بھی یہ گاڈ کو تین میں سے تیسرا کہتے تھے یعنی گاڈ تین کا مجموعہ ہے تو کیا آپ اللہ کے بارے میں اسی گاڈ کا تصور رکھتے ہیں؟؟؟
اگر نہیں تو پھر ہم اپنے حقیقی اور سچے اللہ کو گاڈ کہہ کر کیوں پکاریں؟؟؟
صرف معنی اچھا ہونے سے مراد یہ نہیں کے کہ ہم ہر باطل معبود کے نام کو اللہ کے ساتھ منسوب کرنا شروع کر دیں، کیا اللہ اور رسول علیہ السلام کے بتائے ہوئے ننانوے۹۹ نام کم ہیں کہ ہم پھر بھی یہود و نصاریٰ اور ہندؤں کے الہٰوں کے ناموں سے اپنے اللہ کو پکاریں اور نبی ﷺ کی اُس وعید میں بھی پھنس جائیں جس میں کفار سے ہر طرح کی مشابہت سے بچنے کا حکم ہے۔ احادیث اوپر گزر چکی ہیں جن میں مشابہت کی ممانعت آئی ہے۔
دوسرا اس میں اور بھی بہت نقصان ہے وہ یہ کہ اللہ لکھنے اور بولنے پر ہم کو چالیس۴۰ نیکیاں ملتی ہیں کیونکہ یہ قرآن کا لفظ ہے، اور اگر ہم خدا لکھیں یا بولیں تو اس پر ہم ان ۴۰ نیکیوں سے محروم رہ جائیں گے اور آپ کو پتا ہے کہ قیامت کے دن انسان ایک نیکی کو بھی ترسے گا آج جب ہمارے پاس وقت ہے تو ہم جان بوجھ کر اپنا نقصان کیوں کریں؟ اللہ کہہ کر ہم زیادہ سے زیادہ نیکیاں کیوں نہ حاصل کریں ایک دن میں انسان کافی دفعہ اللہ کو پکارتا ہے بل فرض دس۱۰ دفعہ بھی پکارے تو ۴۰۰ نیکیاں اس کو مل جائیں گی اور اگر بدقسمتی سے خدا کہتا رہا تو ایک دن میں ۴۰۰ نیکیوں سے محروم ہو گیا،اس لیے بھائیوں ضد چھوڑیں اللہ کو اللہ کے ننانوے۹۹ ناموں میں سے ہی کسی نام سے پکاریں۔
پھر آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔
اقتباس:
پھر اس کے دل میں
ایک اجنبیت اور وحشت پیدا ہوگی اور عین ممکن ہے کہ یہی اجنبیت قبول حق کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔
ہدایت دینا گمراہ کرنا یہ کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے یہ سب کام اللہ کے ہیں کہ وہ کس کو ہدایت دیتا ہے اور کس کو گمراہ،ہم نے دعوتِ دین کا طریقہ اپنی مرضی سے نہیں لینا بلکہ سنتِ نبیﷺ سے اور قرآن سے لینا ہے،حق بات آپ جب بھی کریں گے جن کے دلوں پر پردے پڑے ہیں وہ اس بات سے وحشت ہی کھائیں گے چاہے آپ حق بات کو جتنی مرضی ہے لگی لپٹی لگا کر کریں۔
آپ نے لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔
اقتباس:
آج ہمارے لیے بھی یہی طریقہ آئیڈیل ہے۔اور ہم اس طریقے پر تب ہی عمل کرسکتے ہیں جب ہم ظاہر پرستی سے باہر نکل کر یہ جان سکیں کہ اللہ ایک ہے اور سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔پھر یہ ممکن ہوگا کہ ایک امریکی کو ہم یہ بتاسکیں گے کہ تم God
کی عبادت کرتے رہو، لیکن اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ کسی کو اس کا بیٹا اور بیوی نہ قرار دو۔ایک ہندو کو ہم بتاسکیں گے کہ یہ ٹھیک ہے کہ خالق کائنات ایشور ہی ہے مگر دیکھو اس کے ساتھ کسی دیوی دیوتا یا اوتار کو معبود نہ مانو۔
اس منطق کی بھی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کسی کافر کو دعوتِ دین دینے کے لیے ہم اس کے باطل معبود کو اللہ کے ساتھ ملا دیں کہ ہاں ایشور ہی ہمارا اللہ ہے بس آپ لوگ ایشور کے ساتھ کسی دیوی،دیوتا کو معبود نہ مانو،کیا اتنی دعوت سے وہ مسلم بن جائے گا؟؟؟اور رسالت کی دعوت کس طریقے سے دینی ہے ہندؤں کو اس کی بھی وضاحت فرما دیتے بھائی جان،
اور عیسائیوں کو بس اتنی دعوت دینی ہے کہ تم جس گاڈ کی عبادت کرتے ہو کرتے رہو کیونکہ ہمارا اللہ بھی وہی گاڈ ہے، بس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور کسی کو اس کا بیٹا اور بیوی نہ بناؤ؟؟؟ اور وہ عبادت جس طرح میوزک کے ساتھ کر رہا ہے وہ کیا ٹھیک ہے اور کیا اس کو آخری نبیﷺ کی رسالت کو قبول کرنے کی دعوت نہیں دینی؟؟؟جب آپ ان کفار کو دینِ اسلام کی دعوت دو گے تو وہ ویسے ہی وحشت میں آجائیں گے جس وحشت سے بچنے کے لیے آپ نے اپنے سچے معبود اللہ کو ان کے جھوٹے اور باطل معبود کے ساتھ ملا دیا تھا۔
آپ نے مزید لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔
اقتباس:
اس کے بعد وہ شخص جب اسلام قبول کرکے نماز پڑھے گا،قرآن پڑھے گا،دین کے مقرر کردہ دیگر اعمال ادا کرے گا تووہاں وہ اللہ ہی کا نام لے گا۔
میرے بھائی یہی تو ہم بات کر رہے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو نماز پڑھنے والوں کو،قرآن کی تلاوت کرنے والوں کو ہی اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ اللہ کو کسی کافر قوم کے الٰہ کے ساتھ تشبھی نہ دو بلکہ جو نام اللہ اور رسول ﷺ نے ہم کو تعلیم دیے ہیں انہی ناموں سے اپنے اللہ کو پکارو، لیکن ہماری اسی بات کی آپ نے مخالفت کی ہے اور آخر میں آکر ہمارے موقف کی حمایت بھی کر دی ہے،
جزاک اللہ بھائی۔

Last edited by محمد عاصم; 11-06-10 at 02:33 AM. وجہ: ایک بات کا اضافہ کیا
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-07-10), مرزا عامر (07-07-10), مسلم بھائی (13-06-10), ام طلحہ (08-07-10), احمد بلال (11-06-10), بلال اویسی (11-07-10), راجہ اکرام (08-07-10)
پرانا 11-06-10, 01:18 AM   #12
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,584
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مجھے پتا ہے بلال بھائی کہ یہ تحریر آپ کی نہیں ہے اور میں نے ہر جگہ یہی لکھا ہے کہ آپ نے لکھا،
اس لیے کہ آپ اس تحریر کو کاپی کر کے اُس بھائی تک پہنچائیں اور ان سے اس کا جواب لکھنے کو بولیں اگر اُس بھائی نے اس کا جواب قرآن و حدیث سے دے دیا تو ہم کو تسلیم کرنے والوں میں سے آپ پائیں گیں۔ ان شاءاللہ
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
مسلم بھائی (13-06-10), ام طلحہ (08-07-10), احمد بلال (11-06-10), راجہ اکرام (08-07-10)
پرانا 11-06-10, 01:52 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,143
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بحث کی لسی کو جتنا مرضی بڑھا لیں لیکن جب لکھنا ہی ہے تو خدا کی جگہ اللہ لکھنے میں کیا اضافی زور لگتا ہے؟ لمبے چوڑے دلائل مجھے نہیں آتے بس یہ جانتا ہوں کہ اللہ نے جس نام سے اپنا تعارف اپنی کتاب میں کروایا ہے وہ "اللہ " ہے۔ میرے جیسے عام لوگوں کے لیے یہی کافی ہے۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-07-10), پاکستانی (11-06-10), محمد عاصم (11-06-10), مسلم بھائی (13-06-10), ام طلحہ (08-07-10), احمد بلال (11-06-10), راجہ اکرام (08-07-10), عبداللہ حیدر (11-06-10), غلام خان (13-08-10)
پرانا 11-06-10, 02:45 AM   #14
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,584
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : طلحہ مراسلہ دیکھیں
بحث کی لسی کو جتنا مرضی بڑھا لیں لیکن جب لکھنا ہی ہے تو خدا کی جگہ اللہ لکھنے میں کیا اضافی زور لگتا ہے؟ لمبے چوڑے دلائل مجھے نہیں آتے بس یہ جانتا ہوں کہ اللہ نے جس نام سے اپنا تعارف اپنی کتاب میں کروایا ہے وہ "اللہ " ہے۔ میرے جیسے عام لوگوں کے لیے یہی کافی ہے۔
بلکل بھائی بات تو بہت واضح ہے۔
لمبے چھوڑے دلائل دینے سے ہی حق بات واضح ہوتی ہے میرے پیارے بھائی۔
اگر میں ان کے جواب میں ٖصرف اتنا لکھتا جتنا آپ نے لکھا ہے تو کیا ان کے اشکال دور ہو جانے تھے اتنی سی بات سے؟؟؟
بس یہ دعا کیا کریں کہ اللہ ہم سب کو حق بات کو قبول کرنے کی ہمت دے بےشک وہ بات ہمارے نفسوں کو ناگوار ہی لگے،حق بات ہو تو ہمارے دل اس کو تسلیم کر لیں بس۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (11-06-10), مسلم بھائی (13-06-10), ام طلحہ (08-07-10), احمد بلال (11-06-10), راجہ اکرام (08-07-10)
پرانا 11-06-10, 01:15 PM   #15
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,882
کمائي: 51,237
شکریہ: 7,944
2,142 مراسلہ میں 4,914 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سوال اب بھی کئی اور نکل سکتے ہیں مگر ۔۔۔

دونوں رائے سامنے ہیں ۔۔۔
جس کا جی چاہے "جو" کرے ۔۔۔۔۔
ہمیں بس کسی پر زبردستی نہی کرنی چاہیے
اور نہ یہ کہ کوئی کافر ہوتا ہے نہ گنہگار ۔۔۔۔ سب کی اپنی اپنی سوچ ہے ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (11-06-10), محمد عاصم (11-06-10), مرزا عامر (07-07-10), احمد بلال (11-06-10), خرم شہزاد خرم (12-06-10)
جواب

Tags
ہندو, کتابوں, ڈکشنری, قرآن, نفرت, نماز, میر تقی میر, موجودہ, ممکن, آج, ایس ایم ایس, اللہ, انسان, اردو لغت, اسلامی, اشعار, توحید, تعلیم, جواب, حدیث, خدا, دیکھو, دعا, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا یہ انسان ہیں؟ علی عمران گپ شپ 12 08-09-11 09:18 PM
الزام کسے دیں؟ طاھر دلچسپ اور عجیب 13 07-08-10 12:32 AM
عافیہ صدیقی کو رونے والے کہاں ہیں؟ منتظمین میرا پاکستان 32 23-07-10 08:14 PM
سب سے لمبے بال کس کے ہیں؟ nsa47 دلچسپ اور عجیب 25 25-06-10 07:50 PM
ہم کس گروہ سے ہیں؟ sahj عمومی بحث 4 01-02-10 01:38 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger