| جنگلی حیات جنگلی حیات |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,388
کمائي: 95,816
شکریہ: 52,511
11,170 مراسلہ میں 35,236 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
’خونخوار کتوں کے حملوں کے نتیجے میں لیلیٰ ہر لڑائی کے اختتام پر لہولہان ہو جاتی تھی جنہیں تربیت ہی اسی بات کی ملی تھی کہ وہ اس کی تھوتھنی پر حملے کریں۔ لیکن اب لیلیٰ محفوظ ہے البتہ اس کے کم از کم ستّر ساتھی پاکستان میں آج بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہیں بچانے میں ہماری مدد کریں‘۔
ہ اس اشتہار کا متن ہے جو جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ڈبلیو ایس پی اے نے حال ہی میں اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے۔ لیلیٰ کچھ مہینے پہلے تک ان بدنصیب ریچھوں میں سے تھی جن کے مالک اپنے رزق کی انہیں ان کے فطری دفاع سے محروم کرکے کتوں سے لڑائی میں جھونک دیتے ہیں۔ لیکن اب لیلی کی زندگی بدل گئی ہے۔ وہ صوبہ سرحد کے علاقے کنڈ میں واقع ایک مصنوعی تحفظ گاہ (پارک) میں معذوری کے دن گزار رہی ہے۔ کنڈ بیئر سینکچوری پارک کے نام سے مشہور اس تحفظ گاہ کا انتظام پاکستان میں جنگلی حیات کے بچاؤ کے لیے کام کرنے والا ایک نجی ادارہ بائیو ریسورس ریسرچ سینٹر (بی آر سی) چلاتا ہے۔ بی آر سی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فخر عباس نے بتایا ہے کہ لیلی کو لگ بھگ آٹھ مہینے پہلے صوبہ پنجاب کے علاقے رحیم یار خان سے ادارے کے رضاکاروں نے تحویل میں لیا تھا اور بدلے میں اس کے مالک کو متبادل روزگار کے طور پر چوڑیوں کی دوکان کھلواکر دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لیلی کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ نابینا ہوچکی تھی اور دوسری بات یہ کہ اس کی تھوتنی (کتوں کے حملوں سے) پوری طرح پھٹ کر لٹک رہی تھی۔چونکہ یہ پاکستان میں ہمالین بھورے ریچھوں کی ایک انتہائی اہم نسل سے تعلق رکھتی ہے جو کہ پہلے ہی ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہے تو ہمارے ادارے کے ماہرین کے علاوہ بیرون ملک سے ڈاکٹر جیم سمتھ نے پاکستان آ کر اس کی سرجری کی اور اب یہ صحتیابی کی زندگی گزار رہی ہے‘۔ پاکستان میں خانہ بدوشوں کے کچھ قبائل آج بھی صوبہ پنجاب اور سندھ کے پسماندہ دیہی علاقوں میں ریچھ اور کتوں کی لڑائی کرا کے روزی کماتے ہیں۔ بی آر سی کے مطابق ان ریچھوں کو خانہ بدوش بچپن سے پالتے ہیں اور بڑے ہونے پر اپنے قابو میں رکھنے کے لیے نہ صرف ان کے ناخن کاٹ دیے جاتے ہیں بلکہ ان کی آنکھیں اور دانت بھی نکال دیے جاتے ہیں اور اس طرح انہیں ان کی فطری دفاعی صلاحیت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فخر عباس کے مطابق ’پاکستان میں اب بھی تقریباً ڈھائی سو کے قریب ایسے ریچھ ہیں جنہیں خانہ بدوش لوگ کتوں سے لڑائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان میں ہمالیائی بھورے ریچھوں کی تعداد بہت کم ہے۔ کوئی دس پندرہ کے قریب۔ باقی سارے ہمالیائی کالے ریچھوں کی ہے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ یہ سب کے سب ریچھ بہت بری زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے اکثریت گلی محلوں میں ناچنے والوں کی ہے اور کوئی ستّر اسی ریچھوں کا ہم نے پتہ چلایا ہے جو کہ لڑانے کے کام آتے ہیں۔‘ فخر عباس نے بتایا کہ لڑائی کے دوران ریچھ کو باندھ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس پر دو وحشی کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں جو اپنے نوکیلے دانتوں سے اس کے منہ پر حملے کرتے ہیں۔ یہ لڑائی تین منٹ تک جاری رہتی ہے جس کے دوران اپنے دفاعی اعضاء سے محروم ہونے کی وجہ سے ریچھ زخمی ہوتا رہتا ہے۔ لڑائی کے بعد اسے چند منٹ آرام کے لیے دیے جاتے ہیں اور پھر دو تازہ دم کتے دوبارہ اس پر چھوڑ دیے جاتے ہیں جبکہ لڑائی کے بعد ریچھ کو طبی امداد بھی نہیں دی جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ لڑائی میں استعمال ہونے والے ریچھوں کو بچانے اور انہیں قدرتی ماحول فراہم کرنے کی غرض سے ان کا ادارہ ایک منصوبے پر پچھلے چودہ سالوں سے کام کررہا ہے جس میں انہیں حکومت کی بھی مدد حاصل ہے۔ ’ہمارے جنوبی پنجاب اور وسطی سندھ کے دیہی علاقوں میں اکثر زمیندار حضرات اس لڑائی سے شوق رکھتے ہیں جن کا سیاسی اثرورسوخ بھی ہوتا ہے اور پھر علاقے میں بھی ان کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ ان لڑائیوں کو روکنا بہت مشکل تھا لیکن مسلسل کوششوں کے نتیجے میں اب صورتحال یہ ہے کہ سال 2000ء میں ریچھ اور کتوں کی لڑائی کے آٹھ سو واقعات رپورٹ ہوئے تھے جو اب کم ہوکر سالانہ تیس اور پینتیس پر آگئے ہیں اور یہ سب حکومت کے تعاون سے ممکن ہوا۔‘ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بدر بھائی السلام علیکم،
مٰں نے اپنے بچپن میں ی خوں ریز لڑائی اپنے آنکھوں سے اپنے علاقے کورنگی میںدیکھی ہے، واقعی اُس وقت ریچھ کی حالت قابل دیدنی ہوتی ہے کیونکہ اُس کو ایک کھمبے سے باندھ دیا گیا ہوتا ہے۔ اللہ اس قسم کی لڑائی دیکھنے کا شوق رکھنے والوں کو عقل سیلم دے اور ان بچارے جانوروں کی حفاظت کا کام کرنے والوں کو کامیابی عطا فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (20-10-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,388
کمائي: 95,816
شکریہ: 52,511
11,170 مراسلہ میں 35,236 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آمین۔ ویسے آپکی بات پڑھ کر مجھے ایسے لگا جیسے ہماری قوم کی حالت بھی اس ریچھنی جیسی ہو چُکی ہے جس کو کسی کھمبے کے ساتھ باندھ دیا گیا ہو اور اس پر کُتے دیوانہ وار حملے کر رہے ہوں۔ کُتے بھی وہ جنکو یہی کام کرنے کی تربیت دی گئی ہو۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورنگی, کوششوں, پاکستان, ویب, واقعات, لوگ, موت, ممکن, آج, بھائی, بچپن, حال, حضرات, خان, زندگی, عقل, علاقے, عالمی, عباس, صوبہ, صورتحال, صلاحیت, صحتیابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لڑکیو ں کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز | جان جی | گپ شپ | 30 | 08-03-12 10:46 AM |
| پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں | khanamjan | میری ڈائری | 5 | 28-10-11 09:16 PM |
| مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ | ابن جمال | متفرقات | 0 | 07-02-11 01:42 PM |
| لڑکیو ں کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز | جان جی | گپ شپ | 1 | 20-08-08 08:56 PM |
| ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 0 | 27-10-07 10:53 AM |