|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
|
ًَِِ’’اپنی 26ویں سالگرہ پر‘‘
آج میری حیات رفتہ کی گر کے چھبیسویں کڑی ٹوٹی آج پھر عمر کے شبستاں میں کوئی دیوار اک بڑی ٹوٹی لوگ کہتے ہیں کہ مبارک ہو تم کو یہ سالگرہ جو آئی ہے پر کسی کو خبر نہیں یارو! ہم نے یہ عمر تو گنوائی ہے لوگ کہتے ہیں کہ خدا تم کو ایسے ہی ہنستا کھیلتا رکھے یعنی میں جو اداس رہتا ہوں ایسے ہی درد جھیلتا رکھے پر کہاں دوست یہ سمجھتے ہیں کہ دعا کس طرح سے دینی ہے میں لبوں سے تو ہنستا ہوں لیکن میرے اندر بڑی بے چینی ہے پہلے طے کرلو کہ کیا کہنا ہے پھر دعا¶ں کو ہاتھ اٹھا لینا یہ اداسی کہیں نہ دائم ہو یہ خوشی نہ میرے خدا دینا میں تو ایسی خوشی کا طالب ہوں جس میں روح و نظر بھی شاداں ہو ایک ایسی خوشی کہ جس سے میرا سارا قلب و جگر بھی شاداں ہو ایک ایسی خوشی کہ جس کےلئے لمحہ لمحہ ہے انتظار مجھے جس میں اک پل نہ اداسی ہو جس کے ہر روپ سے ہو پیار ہو مجھے جس کی ہر اوٹ سے خوشی جھلکے جس کا ہر رنگ اک تخیل ہو یوں جو ہوجائے گر تو جامی کی سمجھو کہ زندگی مکمل ہو |
|
|
|
| جواد رضا خان جامی کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (15-04-11) |
![]() |
| Tags |
| کہاں, پیار, یارو, ویں, لبوں, نظر, مکمل, مبارک, آئی, آج, ایسی, اندر, بے, جگر, حیات, خبر, خدا, دوست, درد, دعا, روح, رنگ, زندگی, سمجھتے, سالگرہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|