واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شاعروں کی بیٹھک > جواد رضا خان جامی




تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-06-10, 06:19 PM   #1
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Karachi Pakistan
مراسلات: 127
کمائي: 2,676
شکریہ: 117
92 مراسلہ میں 186 بارشکریہ ادا کیا گیا
جواد رضا خان جامی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں جواد رضا خان جامی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں جواد رضا خان جامی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم

تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم

کہیں خواہشوں اور تمنا کے مرگھٹ
کہیں چاروں جانب بہاروں کے جھرمٹ
کہیں دوڑتی بھاگتی زندگی ہے
کہیں ماتموں سے بھری ہر خوشی ہے
کہیں زندگی کا ہر اک پل قیامت
اور ہر اک قیامت ہے تیری شرارت
اگر تم جو ہوتے میرے ساتھ ہمدم
تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم
کہیں نفرتوں کی تپش ہر طرف ہے
کہیں چاہتوں کی زمیں پر برف ہے
کہیں زندگی ہے تو سنگ ہیں مصائب
اور اتنی مصیبت کہ دنگ ہیں مصائب
کہیں آسماں پر دھواں ہی دھواں ہے
کہیں لاش اٹھائے ہوئے ہر مکاں ہے
اگر یہ مصائب کہیں ہوتے کچھ کم
تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم
کبھی روشنی بھی اندھیرے لٹائے
کبھی اوس بھی آگ سی اک لگائے
کبھی پھول سے بھی نہیں ملتی خوشبو
کبھی پھیل جاتا ہے سناٹا ہرسو
کبھی تو بہاروں میں لگتی خزاں ہے
کوئی تو بتائے یہ کیسا سماں ہے
جو ہم پہ نظارے یہ ہوتے نہ برہم
تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم
جو چہرے پہ چندا کی بندیا سجائے
کہیں سے نکل آتے تم بن بلائے
محبت کی ہر ایک ادا مسکراتی
میرے دل کے آنگن میں تو جھلملاتی
بدن کا ہر ایک جز خوشی سے مچلتا
کہ ارماں ہر اک میرے دل کا نکلتا
ہم اتنی مسرت سے ہو جاتے بیدم
تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم
میسر ہمیں بھی تو ہو بادشاہی
کہ کب تک چلے گا یہ حکم مناہی
ختم اب کرو ہجر کی ساعتوں کو
اذن ہو ہماری طرف راحتوں کو
ہو اعلان کہ آج سے غم نہ آئیں
دکھی جو ہوئے ہیں وہ اب مسکرائیں
جو طرز تغافل کا ہوتا نہ عالم
تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم
کہیں سے محبت کی تعبیر لاؤ
اے جان تمنا میرے پاس آؤ
کہ کٹتی نہیں ہے شب غم کی ساعت
اے صبح وصل اک ذرا سی عنایت
میری حسرتوں پر برس جاؤاک دن
مریض محبت کو بہلاؤ اک دن
محبت کی برکھا برستی چھماچھم
تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم
ہر اک سمت ماتم کناں حسرتیں ہیں
ہے بوڑھی محبت جواں حسرتیں ہیں
ہر اک سمت اداسی ہر اک سمت آہیں
کہ اشکوں نے گھیری ہیں جامی نگاہیں
خدا جانے کب ختم ہونگے اندھیرے
کسی روز پورے ہوں ارمان میرے
جو ہوتا خوشی سے کسی روز سنگم
تو لگتے ہمیں بھی حسیں سارے موسم

Last edited by جواد رضا خان جامی; 13-11-10 at 10:12 AM.
جواد رضا خان جامی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہوتے, ہوتا, ہماری, ہجر, کیسا, پہ, پھول, پورے, وصل, چہرے, چندا, آج, اتنی, ادا, بہاروں, بھری, تمنا, تعبیر, جانے, حکم, دل, ذرا, زندگی, غم, صبح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مسکرائیں مت بلکہ ہنسیں زارا ویڈیوز 0 05-02-11 12:29 PM
کرکٹر سے دوستی تو ہوسکتی ہے شادی نہیں جاویداسد فلمی دنیا 0 12-07-10 06:58 PM
یہ تو کیا سب پہ بھروسہ نہیں کیا The Great شعر و شاعری 0 26-08-09 11:08 AM
اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھے خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 01:50 PM
بینظیر تعاون نہ کریں تو موجودہ حکومت ختم ہوسکتی ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 03:24 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:00 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger