![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
|
یہ طالبانی فکر و فن بے شک خونخوار بیماری ہے
اللہ سے باغی ہوتے ہیں قرآن سے بھی غداری ہے وہ نقش بنائے جاتا ہے تم نقش مٹائے جاتے ہو تم کیسے دین کے طالب ہو یہ دین نہیں کفاری ہے جو تیرے خون کے پیاسے ہیں بس ان پہ ہی تلوار اٹھا یہ حکم جہاد کی آیت میں واضح حکم غفاری ہے بچے بوڑھے ہوں یا عورت سب رحم کے طالب ہیں تجھ سے تو رحم کرے رحم ملے تو ظلم کرے تو ناری ہے جس نے توحید کو مان لیا محفوظ ہوا تلواروں سے کیوں خون بہا جن سینوں میں توحید کا کلمہ جاری ہے یہ خون جو ناحق بہتا ہے خالق سے اپنے کہتا ہے کچھ ناہنجار کمینوں نے تیری طاقت للکاری ہے داتا کا ہو غازی کا دربار خدا کے ہیں سارے یہ فیض وہیں سے آتا ہے یہ ذات اسی سے بھاری ہے یہ خلق خدا کی خلقت ہے کیوں خلقت کو برباد کرے اسکی حکمت ہے غفلت بھی اس کی منشا بیداری ہے انصاف کے طالب ہیں اس سے جو منصف بھی ہے خالق بھی ان للہ سب تیرے ہیں الحمد تجھے ہی ساری ہے اسلام کے نام پہ دھبہ ہے اسلام نہیں یہ فتنہ ہے جامی دنیا کا ہر مومن اس فتنہ سے انکاری ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فیض, ہوتے, فن, کلمہ, کرے, پہ, قرآن, لیا, نام, ملے, آتا, اپنے, بے, بس, توحید, تجھے, جاری, حکم, خدا, دنیا, ساری, عورت, غفلت, غازی, غداری |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|