|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اُس نے ہم کو گناہ میں رکھا
جون ایلیاء اُس نے ہم کو گناہ میں رکھا اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے حشر اُس کی اٹھان میں رکھا جوششِ خوں نے اپنے فن کا حساب ایک چوب۔۔اک چٹان میں رکھا لمحے لمحے کی تھی اپنی اِک شان تُو نے ہی ایک شان میں رکھا ہم نے پیہم قبول و رد کر کے اُس کو ایک امتحان میں رکھا تم تو اس یاد کی امان میں ہو اُس کو کِس کی امان میں رکھا اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو کچھ نہیں آسمان میں رکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فن, امتحان, جون ایلیاء |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|