|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
تشنگی نے سراب ہی لکھا
جون ایلیاء تشنگی نے سراب ہی لکھا خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا ہم نے لکھا نصابِ تیرہ شبی اور بہ صد آب و تاب ہی لکھا مُنشیانِ شہود نے تا حال ذکرِ غیب و حجاب ہی لکھا نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال شوق کو بے حساب ہی لکھا دوستو۔۔ہم نے اپنا حال اُسے جب بھی لکھا خراب ہی لکھا نہ لکھا اس نے کوئی بھی مکتوب پھر بھی ہم نے جواب ہی لکھا ہم نے اس شہرِ دین و دولت میں مسخروں کو جناب ہی لکھا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, green, جون ایلیاء, جواب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|