|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
جون ایلیاء تم سے جانم عاشقی کی جائے گی اور ہاں یکبارگی کی جائے گی کر گئے ہیں کوچ اس کوچے کے لوگ اب تو بس آوارگی کی جائے گی تم سراپا حُسن ہو، نیکی ہو تم یعنی اب تم سے بدی کی جائے گی یار اس دن کو کبھی آنا نہیں پھول جس دن وہ کلی کی جائے گی اس سے مِل کر بے طرح روؤں گا میں ایک طرفہ تر خوشی کی جائے گی ہے رسائی اس تلک دل کا زیاں اب تو یاراں نارسی کی جائے گی آج ہم کو اس سے ملنا ہی نہیں آج کی بات آج ہی کی جائے گی ہے مجھے احساس کم کرنا ہلاک یعنی اب تو بے حسی کی جائے گی
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, آوارگی, جون ایلیاء, دل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|