![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
دل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہا
جون ایلیاء دل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہا پاؤں نہیں تھے درمیاں ، آج بڑا سفر رہا ہو نہ سکا کبھی ہمیں اپنا خیال تک نصیب نقش کسی خیال کا ، لوِح خیال پر رہا نقش گروں سے چاہیے ، نقش و نگار کا حساب رنگ کی بات مت کرو رنگ بہت بکھر رہا جانے گمان کی وہ گلی ایسی جگہ ہے کون سی دیکھ رہے ہو تم کہ میں پھر وہیں جا کر مر رہا دل میرے مجھے بھی تم اپنے خواص میں رکھو یاراں تمھارے باب میں ، میں معتبر رہا شہرِ فراقِ یار سے آئی ہے اک خبر مجھے کوچہ یادِ یار سے ، کوئی نہیں اُبھر رہا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|