|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
زخمِ اُمید بھر گیا کب کا
جون ایلیاء زخمِ اُمید بھر گیا کب کا قیس تو اپنے گھر گیا کب کا اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھے نا صحو میں سُدھر گیا کب کا آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں دل میری جان مر گیا کب کا آپ اک اور نیند لے لیجئے قافلہ کوچ کر گیا کب کا میرا فہرست سے نکال دو نام میں تو خود سے مُکر گیا کب کا
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, نیند, جون ایلیاء |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|