|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
سرِ صحرا حباب بیچے ہیں
جون ایلیاء سرِ صحرا حباب بیچے ہیں لَبِ دریا سراب بیچے ہیں اور تو کیا تھا بیچنے کے لیے اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں خود سوال ان لبوں سے کرکے میاں خود ہی ان کے جواب بیچے ہیں زُلف کوچوں میں شانہ کش نے ترے کتنے ہی پیچ و تاپ بیچے ہیں شہر میں خراب حالوں نے حال اپنے خراب بیچے ہیں جانِ مَن تیری بے نقابی نے آج کتنے نقاب بیچے ہیں میری فریاد نے سکوت کے ساتھ اپنے لب کے عزاب بیچے ہیں
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, جون ایلیاء, جواب, صحرا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|