|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
عجب حالت ہماری ہو گئی ہے
جون ایلیاء عجب حالت ہماری ہو گئی ہے یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے سخن میرا اداسی ہے سرِ شام جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا مری آواز بھاری ہو گئی ہے دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے یقیں معزور ہے اب اور گماں بھی بڑی بے روزگاری ہو گئی ہے وہ اک بادِ شمالی رنگ جو تھی شمیم اس کی سواری ہو گئی ہے مرے پاس آکے خنجر بھونک دے تُو بہت نیزہ کزاری ہو گئی ہے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
محسن
![]() ![]() |
بھت اچھا بھای کھچھ اور بھی لکھ دو
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|