|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
مجھ کو تو گِر کے مرنا ہے
جون ایلیاء مجھ کو تو گِر کے مرنا ہے باقی کو کیا کرنا ہے شہر ہے چہروں کی تمثیل سب کا رنگ اترنا ہے وقت ہے وہ ناٹک جس میں سب کو ڈرا کر ڈرنا ہے میرے نقشِ ثانی کو مجھ میں ہی سے اُبھرنا ہے کیسی تلافی کیا تدبیر کرنا ہے اور بھرنا ہے جو نہیں گزرا ہے اب تک وہ لمحہ تو گزرنا ہے اپنے گماں کا رنگ تھا میں اب یہ رنگ بکھرنا ہے ہم دو پائے ہیں سو ہمیں میز پہ جا کر چرنا ہے چاہے ہم کچھ بھی کر لیں ہم ایسوں کو سُدھرنا ہے ہم تم ہیں اک لمحہ کے پھر بھی وعدہ کرنا ہے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, جون ایلیاء |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- | Haya 786 | گپ شپ | 7 | 25-02-11 10:42 AM |
| عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 08:12 PM |
| ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے | Wahid Mahmood | شعر و شاعری | 1 | 11-03-10 11:10 PM |
| آؤ پشتو سیکھیں = راشہ پشتو ذدہ کہ | محمد کاشف حبیب | پشتو فورمز | 113 | 09-07-09 08:30 PM |
| تو نے کہا تو تیری تمنا ہی چھوڑ دی | Shani | شعر و شاعری | 3 | 19-11-08 08:22 PM |