|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
کسی سے کوئی خفا نہیں رہا اب تو
جون ایلیاء کتاب گمان کسی سے کوئی خفا نہیں رہا اب تو گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو شکستِ ذات کا اقرار اور کیا ہو گا کہ اداِ محبت بھی نہیں رہا اب تو چنے ہوئے ہیں لبوں پر تیرے ہزار جواب شکایتوں کا مزا بھی نہیں رہا اب تو ہوں مبتلاِ یقین ، میری مشکلیں مت پوچھ گماں اقدا کش بھی نہیں رہا اب تو میرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی میرے اپنے حق میں برا نہیں رہا اب تو یہی عطیہء صبح شبِ وصال ہے کیا کے شہرِ ناز بھی نہیں رہا اب تو یقین کر جو تیری آرزو میں تھا پہلے وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو وہ سکھ وہاں کے خدا کی ہیں بخشیشیں کیا کیا یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| گمان, محبت, جون ایلیاء, خدا, صبح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اسی کو موت کہتے ہیں تو یارب بار بار آئے | عبداللہ آدم | عمومی بحث | 32 | 25-01-11 12:06 PM |
| گُل میں اُس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا | خرم شہزاد خرم | میر تقی میر | 1 | 08-09-09 07:07 PM |
| کسی کے غم میں وقار کھونا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 26-08-09 10:59 AM |
| اب تُو ہو کسی رنگ میں ظاہر تو مجھے کیا | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 22-04-09 02:45 PM |
| 22 نومبر تک ایمرجنسی ختم نہ کی گئی تو رکنیت منسوخ کردیں گے۔ دولت مشترکہ | محمدعدنان | خبریں | 0 | 13-11-07 08:38 AM |