|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
کوئے جاناں میں اور کیا مانگو
جون ایلیاء کوئے جاناں میں اور کیا مانگو حالتِ حال یک صدا مانگو ہر نفس تم یقینِ منعم سے رزق اپنے گمان کا مانگو ہے اگر وہ بہت ہی دل نزدیک اس سے دُوری کا سلسلہ مانگو درِ مطلب ہے کیا طلب انگیز کچھ نہیں واں سو کچھ بھی جا مانگو گوشہ گیرِ غبارِ ذات ہوں میں مجھ میں ہو کر مرا پتا مانگو مُنکرانِ خدائے بخشزہ اس سے تو اور اک خدا مانگو اُس شکمِ رقص گر کے سائل ہو ناف پیالے کی تم عطا مانگو لاکھ جنجال مانگنے میں ہیں کچھ نہ مانگو فقط دُعا مانگو
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|