|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں
جون ایلیاء گزراں ہے گزرتے رہتے ہیں ہم میاں جان مرتے رہتے ہیں ہائے جاناں وہ ناف پیالہ ترا دل میں بس گھونٹ اترتے رہتے ہیں دل کا جلسہ بکھر گیا تو کیا سارے جلسے بکھرتے رہتے ہیں یعنی کیا کچھ بُھلا دیا ہم نے اب تو ہم خود سے ڈرتے رہتے ہیں ہم سے کیا کیا خدا مکرتا ہے ہم خدا سے مکرتے رہتے ہیں ہے عجب اس کا حالِ ہجر کہ ہم گاہے گاہے سنورتے رہتے ہیں دل کے سب زخم پیشہ ور ہیں میاں آن ہا آن بھرتے رہتے ہیں
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, جون ایلیاء, خدا |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|