|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
جون ایلیاء گِلے سے باز آیا جا رہا ہے سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے مرا سامان لایا جا رہا ہے عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا جسے ہر دَم بُھلایا جا رہا ہے چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, نیند, جون ایلیاء |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|