| جہاد جہاد |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | یاسر عمران مرزا (22-01-10), محمدخلیل (22-01-10), مرزا عامر (02-09-10), ابو عمار (23-01-10), حیدر Rehan (23-01-10), عبداللہ آدم (20-02-10) |
|
|
#16 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
السلام علیکم 49:15 إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں (بے شک) وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ مال سے جہاد کی فضیلت میں حدیث پیش خدمت ھے ہم سے ابو معمر نے بیان کیا‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا‘ ہم سے حسین نے بیان کیا‘ کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا‘ کہا مجھ سے ابو سلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے بسربن سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو سازوسامان دیا تو وہ ( گویا ) خود غزوہ میں شریک ہو ااور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تووہ ( گویا ) خود غزوہ میں شریک ہوا ۔ صحیح بخاری کتاب الجہاد ( اور وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ حدیث ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبردی‘ انہیں زہری نے‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاءبن یزید لیثی نے کہا اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون شخص سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا وہ مومن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں رہنا اختیار کرے‘ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہو اور لوگوں کو چھوڑ کر اپنی برائی سے ان کو محفوظ رکھے صحیح بخاری کتاب الجہاد اک اور حدیث يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ مومنو! میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے مخلصی دے تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (وہ یہ کہ) خدا پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اللہ نے ( سورۃ صف میں ) فرمایا کہ ” اے ایمان والو ! کیا میں تم کو بتاؤں ایک ایسی تجارت جو تم کو نجات دلائے دکھ دینے والے عذاب سے ‘ وہ یہ کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جہاد کرواللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے‘ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھو‘ اگر تم نے یہ کام انجام دیئے تو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا تمہارے گناہ اور داخل کرے گا تم کو ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور بہترین مکانات تم کو عطا کئے جائیں گے‘ جنات عدن میں یہ بڑی بھاری کامیابی ہے ۔ صحیح بخاری کتاب الجہاد ( میرے خیال میں انتہائی آسان الفاظ استعمال ھوئے ہیں جو کہ سمجھنا آسان ھے سب کے لئے، جان سے جہاد : جنگ میں شامل ھوجانا مال سے جہاد: جنگ کے واسطے اپنا مال خرچ کرنا ، مجاھد یا غازی کے گھر کی کفالت میں یا مجاھد کو سامان جنگ کے لئے مال دینا،) اب آتے ہیں "زبان سے جہاد "کی جانب حدیث : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے ، اس کی امت میں سے حواری اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے ۔ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے نالائق لوگ پیدا ہوتے ہیں جو زبان سے کہتے ہیں اور کرتے نہیں اور ان کاموں کو کرتے ہیں جن کا حکم نہیں دیئے جاتے ۔ پھر جو کوئی ان نالائقوں سے ہاتھ سے لڑے وہ مومن اور جو کوئی زبان سے لڑے ( ان کو برا کہے اور ان کی باتوں کا رد کرے ) وہ بھی مومن ہے اور جو کوئی ان سے دل سے لڑے ( دل میں ان کو برا جانے ) وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد دانے برابر بھی ایمان نہیں ۔ ( یعنی اگر دل سے بھی برا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں ) ۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ( جنہوں نے اس حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے ) نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کی ، انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا ۔ اتفاق سے میرے پاس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور قناۃ ( مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے ) میں اترے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عیادت کیلئے اپنے ساتھ لے گئے ۔ میں ان کے ساتھ گیا ۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسے میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تھا صحیح مسلم ایمان کے متعلق ۔ : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قریش کی ہجو کرو کیونکہ ہجو ان کو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ ناگوار ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ قریش کی ہجو کرو ۔ انہوں نے ہجو کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آئی ۔ پھر سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ۔ پھر سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ۔ جب سیدنا حسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ تم پر وہ وقت آ گیا کہ تم نے اس شیر کو بلا بھیجا جو اپنی دم سے مارتا ہے ( یعنی اپنی زبان سے لوگوں کو قتل کرتا ہے گویا میدان فصاحت اور شعر گوئی کے شیر ہیں ) ۔ پھر اپنی زبان باہر نکالی اور اس کو ہلانے لگے اور عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ہے میں کافروں کو اپنی زبان سے اس طرح پھاڑ ڈالوں گا جیسے چمڑے کو پھاڑ ڈالتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان ! جلدی مت کر ! کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قریش کے نسب کو بخوبی جانتے ہیں اور میرا بھی نسب قریش ہی ہیں ، تو وہ میرا نسب تجھے علیحدہ کر دیں گے ۔ پھر حسان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، پھر اس کے بعد لوٹے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب مجھ سے بیان کر دیا ہے ، قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش میں سے ایسا نکال لوں گا جیسے بال آٹے میں سے نکال لیا جاتا ہے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسان سے فرماتے تھے کہ روح القدس ہمیشہ تیری مدد کرتے رہیں گے جب تک تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جواب دیتا رہے گا ۔ اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ حسان نے قریش کی ہجو کی تو مومنوں کے دلوں کو شفا دی اور کافروں کی عزتوں کو تباہ کر دیا ۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی تو میں نے اس کا جواب دیا اور اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے گا ۔ تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی جو نیک اور پرہیزگار ہیں ، اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وفاداری ان کی خصلت ہے ۔ میرے باپ دادا اور میری آبرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو بچانے کے لئے قربان ہیں ۔ اگر کداء ( مکہ کے دروازہ پر گھاٹی ) کے دونوں جانب سے غبار اڑتا ہو نہ دیکھو تو میں اپنی جان کو کھوؤں ۔ ایسی اونٹنیاں جو باگوں پر زور کریں گی اور اپنی قوت اور طاقت سے اوپر چڑھتی ہوئیں ، ان کے کندھوں پر وہ برچھے ہیں جو باریک ہیں یا خون کی پیاسی ہیں اور ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے ، ان کے منہ عورتیں اپنے دوپٹوں سے پونچھتی ہیں ۔ اگر تم ہم سے نہ بولو تو ہم عمرہ کر لیں گے اور فتح ہو جائے گی اور پردہ اٹھ جائے گا ۔ نہیں تو اس دن کی مار کے لئے صبر کرو جس دن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا عزت دے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے جو انصار کا لشکر ہے ، جس کا کھیل کافروں سے مقابلہ کرنا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے ایک بندہ بھیجا جو سچ کہتا ہے اس کی بات میں کچھ شبہہ نہیں ہے ۔ ہم تو ہر روز ایک نہ ایک تیاری میں ہیں ، گالی گلوچ ہے کافروں سے یا لڑائی ہے یا کافروں کی ہجو ہے ۔ تم میں سے جو کوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے اور ان کی تعریف کرے یا مدد کرے وہ سب برابر ہیں ۔ جبرائیل اللہ کے رسول ہم میں ہیں اور روح القدس جن کا کوئی مثل نہیں ہے صحیح مسلم دیگر صحابہ کی فضیلت کا بیان باب : سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان زبان سے جہاد: جیسا کہ حدیث سے آپ سمجھ گئے ھوں گے کہ زبان سے ایسے الفاظ ادا کرنا جن سے حربی کافروں کے دل چھیدے جائیں ان کو سخت کوفت ھو، اور ایسے الفاظ جن سے ان پر مسلمانوں کا رعب طاری ھو جائے، اور ایسے بیان کرنا اور باتیں کرنا جن سے مسلمانوں میں کافروں سے نفرت اور جہاد کا شوق پیدہ ھو جائے، امید ھے آپ کے سوالوں کا جواب دے سکا ھوں اور امید ھے بات سمجھ بھی آئی ھوگی اللہ مجھے بھی اور تمام مسلمانوں کو جہاد ماننے ، بیان کرنے ، اور جہاد کرنے والوں میں سے بنائے، اک بار پھر کہتا ھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان و تشریح کے مطابق "جہاد" صرف اور صرف حربی کافروں کے خلاف لڑنے کو کہتے ہیں، چاھے زبان استعمال کی جائے ، قلم، مال، یا اسلحہ استعمال ھو، شکریہ |
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (19-09-10) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
جزاک اللہ۔مسئلہ ہی حل کر دیا آپ نے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ذرا فرمائیں کی کیا اس تھراڈ کا نام اب بھی یہی ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔((جھاد صرف کفار سے لڑائی کا نام ھے))۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ جزائے خیر عطا فرمائیں اوپر کی تمام احادیث ارو آیات کے لیے۔ |
|
|
|
|
|
#18 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
بھائی عبداللہ آدم مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ کہنا کیا چاھ رہے ہیں ،آپ کو کس لفظ پر اعتراض ھے "جہاد"پر یا "صرف" پر یا" کفار" پر یا" سے "لڑائی" پر یا کا "نام ھے" پر؟ یا پھر آپ نیا نام تجویز کردیں اگر مناسب ھوا تو میں انتظامیہ سے کہہ کر تبدیل کروانے کی کوشش کروں گا، شکریہ والسلام |
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (19-09-10) |
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اوپر آنجناب نے ہی وہ احادیث بیان فرما دی ہیں جن میں جھاد کو لڑائی کے سوااور کچھ بھی مانا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکی حکم دیا گیا ہے
ثابت ہوا کہ ((جھاد صرف کفار سےلڑائیکا نام))نہیں بلکی زبان سے یا دل سے بھی جھاد ہوتا ہے (جو لڑائی نہیں ہوتی)۔ اب سمجھ آئی کہ اگلی بھی گئی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ |
|
|
|
|
|
#22 | ||
|
Senior Member
![]() |
جناب عبداللہ آدم صاحب
السلام علیکم پہلے یہ اقتباس دیکھیں اقتباس:
کیا اوپر درج قرآن و حدیث میں کہیں جہاد (لڑائی) کا انکار ھے؟ کیا کسی جگہ زبان سے جہاد(لڑائی) کا انکار؟ کیا کسی جگہ مال سے جہاد (لڑائی ) کا انکار؟ کیا اس آیت سے بھی آپ کو مال سے لڑنا سمجھ نہیں آیا؟ وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ اور کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا بھی آپ کو نہیں سمجھا سکا؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے ۔ اور جہاد کرواللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے‘ صحیح بخاری کتاب الجہاد جو کوئی زبان سے لڑے ( ان کو برا کہے اور ان کی باتوں کا رد کرے ) وہ بھی مومن ہے اور جو کوئی ان سے دل سے لڑے ( دل میں ان کو برا جانے ) وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد دانے برابر بھی ایمان نہیں ۔ ( یعنی اگر دل سے بھی برا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں ) ۔ صحیح مسلم ایمان کے متعلق اور جناب کو صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زبان سے پھاڑنے والے الفاظ بھی سمجھ نہیں آئے؟ جب سیدنا حسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ تم پر وہ وقت آ گیا کہ تم نے اس شیر کو بلا بھیجا جو اپنی دم سے مارتا ہے ( یعنی اپنی زبان سے لوگوں کو قتل کرتا ہے گویا میدان فصاحت اور شعر گوئی کے شیر ہیں ) ۔ پھر اپنی زبان باہر نکالی اور اس کو ہلانے لگے اور عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا پیغمبر کر کے بھیجا ہے میں کافروں کو اپنی زبان سے اس طرح پھاڑ ڈالوں گا جیسے چمڑے کو پھاڑ ڈالتے ہیں ۔ صحیح مسلم دیگر صحابہ کی فضیلت کا بیان باب : سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان اور اب اپنا مزاح سے بھرپور جواب پڑھیں اقتباس:
اب آپ کو قرآن و حدیث کی سمجھ آئے یا نہ آئے آپ نے جو دعوٰی کیا ھے کہ زبان اور دل سے بھی جہاد ھوتا ھے جو لڑائی نہیں ھوتی حیرت ھے جہاد بھی کہتے ھو اور لڑائی بھی نہیں مانتے؟ جبکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ھے کہ " حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جہاد یہ ھے کہ تم بوقت مقابلہ کفار سے لڑائی کرو اور اس راستے میں خیانت نہ کرو اور نہ بزدلی دکھاؤ" رواہ البہقی /شعب الایمان / کنزالعمال " بھائی میرے اپنی ناقص عقل کو بے دریغ قرآن و حدیث کے مقابل استعمال نہیں کرتے، اگر کوئی حدیث یا آیت سمجھ نہ آئے تو علمی ماہرین سے مفت سوال کرلیا کریں، (قادیانی اور منکر جہاد سے نہیں) والسلام |
||
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (19-09-10) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
(((دوسری احادیث مین سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مشرکین سے اپنی جانوں مالوں اور زبانوں سے جھاد کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ تو قرآن میں ہر جگہ ہی ((جاھدو باموالھم و انفسھم))کا ذکر آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قتال یقینا سب سے بڑا درجہ ہے لیکن مال سے جھاد نہ ہو تو قتال کیا خالی ھاتھ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔)))
اور یہ میری پہلی پوسٹ تھی سرکار۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ جیسے سب لوگوں کا مسلہ یہ ھے کہ ((جو کوئی زبان سے لڑے )):آنجناب لفظ جھاد کا ترجمہ ہی ((((((((لڑے))))))))کرتے ہیں جب حدیث میں آ گیا کہ مال سے جھاد کرو،جان سے جھاد کرو اور زبان سے جھاد کرو۔۔۔ تو بس کہ دیں کہ ھاں سب سے ھی ھوتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس جملے پر غور کیجئے گا۔۔۔ ((ہر جھاد قتال نہیں ھوتا اور نہ ہر قتال ہی جھاد ہوتا ہے |
|
|
|
|
|
#24 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,502
کمائي: 118,635
شکریہ: 13,510
4,907 مراسلہ میں 16,697 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم یحیٰ بھائی آپ کا جو سوال ھے محلے میں کسی کافر فیملی کو قتل کرنے پر تو بھائی میں کوشش کرتا ہوں آپ کو اس پر جواب دینے کی خیال رہے کہ میری طرف سے لکھی ہوئی باتیں حروف آخر نہیں ہیں، ہو سکتا ھے کہ کوئی اھل علم اس پر مزید روشنی ڈال دے۔ لیکن میری طرف سے لکھی ہوئی باتوں سے آپ کو اپنے کئے ہوئے سوال سمجھنے میں کچھ رہنمائی ضرور حاصل ہو گی۔ قرآن مجید کی کچھ آیات کا مطالعہ ضرور کریں۔ آپ اس فیملی کو قتل نہیں کر سکتے بلکہ اس فیملی سے اچھے تعلقات بنا کر انہیں دین کی دعوت دیتے رہیں گے جب تک اللہ انہیں ھدایت نہ دے دے لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ وَمَا تُنفِقُونَ إِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللّهِ وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ ان کو ہدایت دینا آپ کے ذمہ نہیں بلکہ ﷲ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے، اور تم جو مال بھی خرچ کرو سو وہ تمہارے اپنے فائدے میں ہے، اور ﷲ کی رضاجوئی کے سوا تمہارا خرچ کرنا مناسب ہی نہیں ہے، اور تم جو مال بھی خرچ کرو گے (اس کا اجر) تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا 2:272 فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاَغُ وَاللّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (اے حبیب!) اگر پھر بھی آپ سے جھگڑا کریں تو فرما دیں کہ میں نے اور جس نے (بھی) میری پیروی کی اپنا روئے نیاز ﷲ کے حضور جھکا دیا ہے، اور آپ اہلِ کتاب اور اَن پڑھ لوگوں سے فرما دیں: کیا تم بھی ﷲ کے حضور جھکتے ہو (یعنی اسلام قبول کرتے ہو)؟ پھر اگر وہ فرمانبرداری اختیار کر لیں تو وہ حقیقتاً ہدایت پا گئے، اور اگر منہ پھیر لیں تو آپ کے ذمہ فقط حکم پہنچا دینا ہی ہے، اور ﷲ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے 3:20 الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُوْلَئِكَ هُمْ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے اور یہی لوگ عقل مند ہیں 39:18 إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ لِمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ باوجود اس کے کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آچکی تھیں، (اور انہوں نے یہ اختلاف بھی) محض باہمی بغض و حسد کے باعث (کیا) پھر ﷲ نے ایمان والوں کو اپنے حکم سے وہ حق کی بات سمجھا دی جس میں وہ اختلاف کرتے تھے، اور ﷲ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما دیتا ہے يَهْدِي بِهِ اللّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے اور انہیں اپنے حکم سے (کفر و جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور انہیں سیدھی راہ کی سمت ہدایت فرماتا ہے 5:16 ذَلِكَ هُدَى اللّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ أَشْرَكُواْ لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے، اور اگر (بالفرض) یہ لوگ شرک کرتے تو ان سے وہ سارے اعمالِ (خیر) ضبط (یعنی نیست و نابود) ہو جاتے جو وہ انجام دیتے تھے 6:68 وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَأَنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يُرِيدُ اور اسی طرح ہم نے اس (پورے قرآن) کو روشن دلائل کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور بیشک ﷲ جسے ارادہ فرماتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے 22:16 ابوجہل نے اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی موت کے وقت بھی کوشش کرتے رہے کہ وہ کلمہ پڑھ لے ابوجہل کی موت کے وقت بھی دعوت تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ اور جو دوسرے شہروں ملکوں میں بڑے بڑے بادشاہ تھے ان تک بھی اسلام کی تبلیغ کے دعوت نامے بھیجے۔ کہ دین اسلام قبول کر لیں نہیں تو اعلان جنگ۔ اور ایسے بہت سے واقعات احادیث کی کتابوں میں بھرے پڑے ہیں۔ مگر میری مجبوری ھے کہ میرے پاس وہ کتابیں نہیں ہیں۔ انٹرنٹ سے انہیں تلاش کرتے ہوئے بہت احتیاط برتنی پڑتی ھے۔ محلے میں رہنے والے کافروں کو دعوت تبلیغ کرتے رہو ھدایت دینا اللہ کا کام ھے، دے یا نہ دے۔ پاکستان میں بہت ہندو مسلمان ہوتے ہیں۔ میرے ساتھ سیالکوٹ کا ایک ہندو لڑکا کام کرتا تھا تو پھر اسی طرح وہ مسلمان ہو گیا تھا اور اس کی بیوہ بھی مگر اس کے گھر والوں نے بہت گڑبڑ کی تھی مگر وہ کہتا تھا کہ کوئی بات نہیں میں ان کو بھی آہستہ آہستہ ٹھیک کر لوں گا، پھر پہلا حج جب کرنے گیا تھا تو اس کے ساتھ اس کا حج کا اہتمام کرنے گئے تھے تو جس عربی کی ٹریول ایجنسی تھی اس کو بتایا تھا تو اس عربی نے کہا تھا کہ یہ مسلمان ہوا ھے اس لئے یہ حج میری طرف سے اور وہ ابوظہبی سے قافلہ کے ساتھ فی سبیل اللہ حج پر گیا تھا۔ عبدالجبار اس کا نام رکھا تھا۔ یہ تھی بھائی میری کوشش۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (06-12-10), مرزا عامر (19-09-10), ziamurtaza (03-09-10), عبداللہ آدم (26-02-10), عبداللہ حیدر (26-02-10) |
|
|
#25 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے معنی کافروں سے لڑنا بتا رہے ہیں اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک پر اپنی خود رائی پر نازاں ہیں؟ کیا آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ فہم ھے ؟ (ناعوذبااللہ) جبکہ اس تھریڈ کو شروع کیا تھا یہ احادیث لگا کر جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود جہاد کے معنی بتارہے ہیں کہ جہاد کافروں سے لڑائی کا نام ھے لیکن جناب کو اپنا فہم زیادہ محبوب ھے ۔ آدم صاحب ایک بار پھر احادیث پڑھیں عن عمرو بن عبسۃ رضی اللہ عنہ قال قیل لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وما الجہاد؟ قال ان تقاتل الکفار اذا لقیتھم قیل فائ الجہاد افضل؟ قال من عقر جوادہ واھریق دمہ۔ کنزالعمال و طبرانی و مسند احمد حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے والے نے پوچھا کہ جہاد کیا چیز ھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " جہاد یہ ہے کہ تم بوقت مقابلہ کفار سے لڑائی لڑو "، پوچھا گیا افضل ترین جہاد کون سا ھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اس شخص کا جہاد سب سے افضل ھے جس کا گھوڑا مارا جائے اور پھر خود اس کا خون بھی بہہ جائے"۔ قال وما الجہاد ؟ قال ان تقاتل الکفار اذا لقیتھم ولا تغل و لا تجبن۔ رواہ البہقی /شعب الایمان / کنزالعمال ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کیا چیز ھے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جہاد یہ ھے کہ تم بوقت مقابلہ کفار سے لڑائی کرو اور اس راستے میں خیانت نہ کرو اور نہ بزدلی دکھاؤ"۔ جب جہاد کے معنی کافروں سے لڑائی کے ہیں تو مال سے جہاد کا مطلب ھوا لڑائی میں مال خرچ کریں ، اور اپنی جان کو میدان جہاد میں لے جائیں اور کافروں سے جہاد کریں یعنی لڑیں ، زبان سے جہاد کا مطلب ھوا اپنی زبان سے ایسی تقریر کریں یا ایسے الفاظ ادا کریں جن سے مجاھدین میں لڑنے کا تازہ جزبہ پیدہ ھو اور کافروں کے خلاف ایسے الفاظ ادا کریں جن کی بدولت کافروں پر مجاھدین کا رعب طاری ھو۔ جناب سے درخواست ھے کہ پہلے سوچ سمجھ کر لیا کریں۔ جزاک اللہ والسلام |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, size, فرمایا, فرماتے, پوچھا, ھے؟, وسلم, چیز, نام, مقابلہ, آج, اللہ, احمد, جہاد, جائے, حکم, حضور, خون, خود, رضی, شخص, شریعت, عمرو, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|