واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > جہاد



جہاد جہاد


جہاد ۔۔۔۔۔۔ اقدامی یا دفاعی؟؟ ؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-10-09, 02:36 PM  
جہاد ۔۔۔۔۔۔ اقدامی یا دفاعی؟؟ ؟؟؟
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 08-10-09, 02:36 PM

جہاد کی حقیقت، فرضیت، اہمیت اور ضرورت ایک ایسا موضوع ہے جس پر کتب لکھی جا سکتی ہیں اور لکھی جا چکی ہیں۔ اور ہر ذی شعور مسلمان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ دنیا میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے اس کی اہمیت اور ضرورت کیا ہے۔

آج کی دنیا میں ہونے والی کوئی تحقیق، بحث، سیمینار یا مذاکرہ ایسا نہیں جس میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ، ظاہر یا اشارة یہ موضوع زیر بحث نہ آتا ہو۔ کیوں کہ آج ہر طرف دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جنگ اور اسے روکنے کے لئے حکمت عملی طے ہو رہی ہیں اور بدقسمتی سے اس دہشت گردی کا واحد” مرتکب “مسلمان ہے۔

جب اس دہشت گردی کے مرتکب مسلمان ہیں تو اسلام اور اسلامی تعلیمات کا نشانہ بننا ایک طبعی امر ہے۔ اسی لئے جہاد کو دہشت گردی قرار دینا اور مسلمانوں کو اس سے متنفر اور دور کرنا آج کا سب سے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔

جہاد کے حوالے سے بے شمار غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ اسے دہشت گردی سے موسوم کیا جا رہا ہے۔ اور اس میں صرف غیر مسلم ہی نہیں بلکہ کچھ عاقبت نا اندیش مسلمان، اور سکالر بھی پیش پیش ہیں۔

مختلف انداز سے گفتگو ہو رہی ہے، بعض لوگ اتو اب جہاد کے منسوخ ہونے کا اعلان بھی کر چکے ہیں، اور اسے ظلم و جبر کہنا تو اب عام سی بات لگتا ہے۔ لیکن دوسری جانب بعض مسلمان جہاد ہی کو اسلام سمجھ کر باقی تما تعلیمات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے اور پرائے کا فرق کئے بغیر” نفاذ اسلام “کے لئے کوشاں ہیں۔ جس نے اسلام اور مسلمانو ں کو پہلے گروہ کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

اس لئے جہاد کی حقیقت کا ادراک، اس حوالے سے صحیح اسلامی تعلیمات کا علم ، اس کی اہمیت و ضرورت، اس کی فرضیت کی شرائط اور اس پر ہونے والے اعتراضات کا علمی جواب وقت کی ضرورت ہے۔

اسی سلسلے میں یہ موضوع شروع کر رہا ہوں، کو شش ہو گی کہ ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔

مذکورہ بالا تمام پہلووں کا احاظہ اس ایک دھاگے میں کسی طور ممکن نہیں اس لئے صرف وہ پہلو ذکر کریں گے جو موجودہ حالات کے تناظر میں سب سے اہم ہے۔

آج اگر ایک طرف جہاد کی مخالفت زوروں پر تو دوسری طرف بغیر بنیادی شرائط پوری کئے اپنے تئیں جہاد کے میدان گرم ہیں۔ ان حالات میں یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اسلام میں جہاد کی حقیقت کیا ہے۔

تا ہم یہ یاد رہے کہ جہاد کی جو بے شمار اقسام بیان کی جاتی ہیں جیسا کہ، جہاد باللسان، جہاد بالقلم، جہاد بالمال اور جہاد بالنفس۔۔۔۔۔
اس میں سب اقسام اتنی مختلف فیہ نہیں ہیں‌ جتنی جہاد بالنفس یا قتال ہے۔
اس لئے یہاں جہاں جہاد سے مراد قتال فی سبیل اللہ لیا جائے۔۔
جہاد اقدامی ہے یا دفاعی؟؟

شروع ہی سے مسلم ائمۃ اس بات میں مختلف فیہ رہے ہیں کہ جہاد اقدامی ہو گا یا دفاعی۔ فریقین کے پاس قرآن کریم اور احادیث میں سے بےشمار دلائل ہیں۔ اور جب ہم جہاد کے دفاعی یا اقدامی ہونے کی بحث کریں گے تو سب سے اہم سوال جس کا جواب دینا ضروری ہوگا وہ یہ پیدا ہو گا کہ
علت جہاد کیا ہے؟
جہاد کس وجہ سے کیا جائیگا یا جاتا ہے؟؟

تمام اہل علم سے گزارش ہے کہ اس موضوع پر علمی انداز سے گفتگو کریں، اور کسی بھی بھائی کے ذہن میں کوئی بھی اعتراض ہو تو اچھے انداز سے ضرور ذکر کرے۔

گفتگو اگر مثبت انداز سے ہو گی تو انشاءاللہ ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


Last edited by راجہ اکرام; 09-10-09 at 12:40 PM..

 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2332
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (09-10-09), shafresha (08-10-09), فاروق سرورخان (10-10-09), محمد عاصم (30-07-10), محمدمبشرعلی (28-07-10), مرزا عامر (28-07-10), احمد بلال (30-07-10), اخترحسین (09-10-09), حیدر (08-10-09), شاہد جمیل حفیظ (09-10-09), عبداللہ آدم (28-07-10)
پرانا 30-07-10, 06:05 AM   #91
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تمام شرکاء سے گذارش
یارو میں کئی بات یہ دہرا ‌چکا ہوں کہ ۔۔۔ کہ موضوع ہے کیا۔ ایک بار دوراہ شروع میں موضوع کو دیکھ لیا جائے تا کہ غیر متعلقہ گفتگو نہ ہو تو بہتر ہے۔۔۔
بھائیوں اصل موضوع یہ ہے کہ کیا اسلام میں اقدامی جہاد کا کوئی تصور ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔۔ یہ موضوع نہیں ہے کہ طالبان کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر کسی نے ان کی حمایت یا مخالفت پر ہی مواد جمع کرنا ہے تو ا یک الگ تھرڈ قائم کر لیا جائے وہاں ہر ایک اپنی اپنی بھراس نکال لیں۔ کم از کم اس تھرڈ کو تو علمی نوعیت کی بنا لیا جائے تا کہ موضوع کو دیکھ کر ‏آنے والے شخص کو یہاں سے کوئی سو‌چ اور فکر ملے۔۔۔۔ اس کو اسلام کے تصور جہاد کے دفاعی یا اقدامی پہلو پر غور و فکر کے کے لئے رہنمائی ملے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-07-10), احمد بلال (31-07-10), راجہ اکرام (30-07-10), عبداللہ آدم (30-07-10)
پرانا 30-07-10, 11:25 AM   #92
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,584
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
آپ نے یہ جو فتوی صادر فرمایا ہے کہ اسلام میں اقدامی جہاد اور دفاعی جہاد کا کوئی تصور نہیں۔ خدا رہا اس پر ‏آپ کے پاس کوئی قر‏آن و سنت سے دلیل و ثبوت بھی ہے یا صرف ہوسٹن میں رہتے ہوئے امریکی دانشوروں کا جدید اسلام کا تصور ‏آپ قبول کر ‌چکے ہیں۔۔۔۔
آپ کا اندازہ بہت ٹھیک رہا بھائی
Attached Images
 
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-07-10), راجہ اکرام (30-07-10), عبداللہ آدم (30-07-10)
پرانا 30-07-10, 11:38 AM   #93
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,623
کمائي: 31,251
شکریہ: 7,126
2,953 مراسلہ میں 8,736 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
فاروق صاحب
‏‏آپ فرماتے ہیں۔۔۔
اسلام میں "اقدامی جہاد " یا "دفاعی جہاد" کا کوئی تصور نہیں۔ جب حکومت وقت اپنی صوابدید پر "جنگ " شروع کرتی ہے تو افراد کا منظم افواج میں شامل ہونا فرض‌ہے۔

‏آپ نے یہ جو فتوی صادر فرمایا ہے کہ اسلام میں اقدامی جہاد اور دفاعی جہاد کا کوئی تصور نہیں۔ خدا رہا اس پر ‏آپ کے پاس کوئی قر‏آن و سنت سے دلیل و ثبوت بھی ہے یا صرف ہوسٹن میں رہتے ہوئے امریکی دانشوروں کا جدید اسلام کا تصور ‏آپ قبول کر ‌چکے ہیں۔۔۔۔
‏آپ کا دوسرا فتوی تو اور بھی قابل توجہ ہے۔ جو ‏آپ نے یوں دیا کہ
جب حکومت وقت اپنی صوابدید پر "جنگ " شروع کرتی ہے تو افراد کا منظم افواج میں شامل ہونا فرض‌ہے۔

جی بات ‏آپ کی درست ہے مگر اس میں کاش ‏آپ صحیح اسلامی حکومت کی شرط عائد کرتے ہو مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور اسلام کی نشرو و اشاعت کے لئے کام کرتی ہو۔
اگر ‏آپ کی نظر میں صرف حکومت ہونا ہی اعلان جنگ یا جہاد کے لئے کافی ہے تو واقعہ کر بلا کا ‏آپ کیا جواز پیش کریں گے۔۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی کاوش اور ان کی شہادت پر کیا فتوی صادر کریں گے۔۔
آپ کی ذاتی نوعیت کی کڑوی کسیلی باتیں ردی کی ٹوکری کی نذر۔ البتہ دقیانوسی خیالات کی تطہیر ہم اللہ کے فرمان ، قرآن سے کریں گے۔ بس افسوس یہ ہے کہ اللہ کے فرمان قرآن کو مسلمان نے کتب روایات سے مہجور کر چھوڑا ہے۔ شائید مہجور کے معانی بھی نہ آتے ہوں‌ جب اونٹ‌کا سر اس کے پیر سے باندھ دیا جاتا ہے کہ وہ بھاگ نہ سکے تو اس کے مہجور کرنا کہتے ہیں۔ آج آپ ہر طرف دیکھئے کہ لوگوں ے کس طرح اپنی کتب روایات سے قرآن حکیم کو بالکل چھوڑا ہوا ہے۔

23:50 وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
اور رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا

قرآن سے منکر القرآن کی نفرت بڑھتی جاتی ہے
17:41 وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَـذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُواْ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلاَّ نُفُورًا
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں (حقائق اور نصائح کو) انداز بدل کر بار بار بیان کیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں، مگر (منکرین کا عالم یہ ہے کہ) اس سے ان کی نفرت ہی مزید بڑھتی جاتی ہے

۔ اول تو پاکستان کی حکومت عین اسلامی ہے۔ جس کو نہیں‌ پسند چھوڑ کر چلا کیوں‌نہیں جاتا۔ اور اگر آپ کا نکتہ مان بھی لیا جائے کہ یہ ایک اسلامی حکومت نہیں تو پھر جہاد کس بات کا؟

جب تک ایک قوم پر حملہ نہ ہو، اللہ تعالی نے جنگ کی اجازت نہیں دی۔
22:39 أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
اجازت دی جاتی ہے (جنگ کی) ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور بے شک اللہ اُن کی مدد پر ہر طرح قادر ہے۔

جنگ اس وقت تک شروع نہیں کی جاسکتی جب تک حملہ نہ ہو۔ مقصد ہے نظریاتی ریاست کا دفاع۔ جس کے لئے زکواۃ یعنی ٹیکس سےسے فنڈ جمع کئے جائیں۔

9:60 إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے

اگر آپ کی بات مان لی جائے کے جنگ اقدامی ہے تو پھر امریکہ کو یہ حق کیوں نہیں کہ وہ افغانستان اور عراق پر - پر ایمپٹو سٹرائیکس --- نہیں کرسکتا؟ اس کا یہ قدم ---- اقدامی جہاد کیوں نہیں ؟ جبکہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جہاں نظام جمہوریت سب سے طویل عرصہ سے رائج ہے؟ یا بھارت کو اس اقدامی جنگ کا حق کیوں‌نہیں؟ جہاں‌ ہندو مسلم چین سے رہ رہا ہے۔ یہ دوغلا اور دہرا معیار کسی کام کا نہیں

اگر تھوڑا تھوڑا قران حکیم پڑھنا شروع کردیجئے تو ا س طرح دلائیل نہیں‌مانگتے پھریں گے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 30-07-10 at 11:53 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
کنعان (30-07-10), احمد بلال (31-07-10)
پرانا 30-07-10, 03:15 PM   #94
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق سررور صاحب۔۔۔۔۔۔۔ ‏آپ فرماتے ہیں۔
آپ کی ذاتی نوعیت کی کڑوی کسیلی باتیں ردی کی ٹوکری کی نذر۔ البتہ دقیانوسی خیالات کی تطہیر ہم اللہ کے فرمان ، قرآن سے کریں گے۔
میں نہیں سمجھ سکا ہوں۔۔۔۔ کہ ‏آپ کو میرے کون سے خیالات دقیانوسی لگے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور کون سی باتیں ک‎ڑوی لگی ہیں جو اتنا بلڈ پریشر میں اضافہ کر بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔
میں نے تو بس ‏آپ سے یہی مطالبہ کیا تھا کہ ‏آپ نے جو کہا کہ اسلام میں جہاد دفاعی یا اقدامی نہیں ہے اس پر قر‏آن و سنت سے ثبوت ہے تو پیش کریں۔۔۔۔ اور اگر امریکی اسلام سے ‏آپ متاثر ہیں تولکم دینکم ولی دین۔۔۔
شائید مہجور کے معانی بھی نہ آتے ہوں‌
البتہ دقیانوسی خیالات کی تطہیر
اگر تھوڑا تھوڑا قران حکیم پڑھنا شروع کردیجئے تو ا س طرح دلائیل نہیں‌مانگتے پھریں گے

‏آپ کی نظر میں شائد یہ جملے ذاتی نوعیت کی ک‎ڑوی باتوں میں نہیں ‏آتی کیوںکہ ‏آپ جو ارشاد فرما رہے ہیں۔ہم لب کشائی کر دیں تو ‏آنجنا ب کی روشن خیالی ٹین ٹین کرنا شروع کر دیتی ہے۔
فاروق صاحب ایک بات تو واضح ہورہی ہے کہ سے ‏آپ کا تعلق اس بد قسمت گروہ سے لگتا ہے جس نے قر‏آن کا نام استعمال کر کے احادیث رسول کا انکار کر دیا ہے۔۔۔۔
خیر یہاں میں نے ‏آپ سے صرف یہ پو‌چھا تھا کہ ‏آپ نے جو یہ ارشاد فرمایا تھا کہ
اسلام میں "اقدامی جہاد " یا "دفاعی جہاد" کا کوئی تصور نہیں۔ جب حکومت وقت اپنی صوابدید پر "جنگ " شروع کرتی ہے تو افراد کا منظم افواج میں شامل ہونا فرض‌ہے۔

اس پر کوئی قر‏آن و حدیث سے ثبوت دیں۔۔۔۔۔ اور ‏آپ ہیں جو خود ہی اپنے منہ میاں مٹھو بن کے قر‏آن کے تنہاعالم فاضل بن کر رعب جما رہے اور علمی حالت یہ ہے کہ میں نے اقدامی اور دفاعی جہاد کے حوالے سے ‏آیات و احادیث ‏آپ سے مانگی اور ‏آنجاب ہیں کہ۔۔۔
ترک قر‏آن اور زکوة سے متعلقہ ‏آیات پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ لالے کی جان ان ‏آیات کا میرے سوال سے کیا تعلق۔۔۔۔۔۔
البتہ صرف ایک ‏آیت ہے جو ‏آپ نے جہاد و قتال سے متعلق پیش کی ہے۔
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ

اجازت دی جاتی ہے (جنگ کی) ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور بے شک اللہ اُن کی مدد پر ہر طرح قادر ہے۔

اس ‏آپ کا بھی ‏آپ کے دعوی سے کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ اس میں تو صاف حکم الہی ہے کہ جن پر جنگ مسلط کی جائے اور جن پر ظلم ہوان کو اجازت ہے کہ وہ اپنے دفاع میں جنگ کریں۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے ‌چونکہ ان پر جنگ مسلط کی گئی ہے اس لئے وہ دفاع میں ہی جنگ کریں گے۔۔۔۔۔۔ اور یہی تو دفاعی جہاد ہے۔۔۔۔۔ یہ ‏آیت جو جناب میرے مؤقف کی حمایت کرتی ہے۔۔ جبکہ ‏آپ کا دعوی تو یہ تھا کہ
اسلام میں "اقدامی جہاد " یا "دفاعی جہاد" کا کوئی تصور نہیں۔ جب حکومت وقت اپنی صوابدید پر "جنگ " شروع کرتی ہے تو افراد کا منظم افواج میں شامل ہونا فرض‌ہے۔

حیرت ہے مدبر قر‏آن و مفسر قر‏آن روشن خیال ہستی اتنا بھی فہم نہ ہو سکا کہ کون سی ‏آیت میں کیا بیان کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔
‏آپ مزید فرماتے ہیں
جنگ اس وقت تک شروع نہیں کی جاسکتی جب تک حملہ نہ ہو۔ مقصد ہے نظریاتی ریاست کا دفاع۔ جس کے لئے زکواۃ یعنی ٹیکس سےسے فنڈ جمع کئے جائیں۔

تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ یہ دفاعی جہاد کی بات ہی ہوئی نا۔۔۔۔ لیکن ‏آنجناب تو دفاعی جہاد کا انکار فرما رہے تھے۔۔۔ اپنے دعوی پر ثبوت دیں نہ کہ میرے دعوی پر۔۔۔۔۔۔
خیر ‏آپ اپنے مزید قر‏آن فہمی کی شذرات کا نمونہ دیکھ لیں۔
‏آپ فرماتے ہیں۔۔۔
اول تو پاکستان کی حکومت عین اسلامی ہے۔ جس کو نہیں‌ پسند چھوڑ کر چلا کیوں‌نہیں جاتا

میں نے یہ تو کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کی حکومت کفریہ حکومت ہے۔۔۔۔ اگر ‏آپ مملکت خداداد پاکستان کی حکومت کو عین اسلامی و قر‏آنی حکومت سمجھتے ہیں تو براہ کرم۔۔۔۔۔ ایک اسلامی و قر‏آنی حکومت کے خدو خال قر‏آن سے واضح کر کے پاکستانی حکومت کو اس پر منطبق تو کر کے سمجھا دیں۔۔۔۔۔۔ مہربانی ہو گی۔
اسلامی مملکت کا تصور۔۔۔ احادیث میں کیا ہے اللہ کے رسول نے کیا فرمایا۔۔۔ اس کا مطالبہ ‏آپ جانتے ہیں کیوں نہیں کیا۔۔۔۔۔۔
‏آپ فرماتے ہیں
ر اگر آپ کا نکتہ مان بھی لیا جائے کہ یہ ایک اسلامی حکومت نہیں تو پھر جہاد کس بات کا؟

میں نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستانی حکوت کے خلاف جہاد کیا جائے یا ہونا ‌چاہے یا جو ‏آج کل یہ سب قتل و قتال ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ یہ صحیح ہے۔۔۔ جناب میں تو صرف اسلام کی دفاعی اور اقدامی جہاد کے نظریہ پر بات کر رہا ہوں۔۔۔۔۔ دنیا ‏آج کیا کر رہی ہے مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔۔
‏آپ مزید فرماتے ہیں
اگر آپ کی بات مان لی جائے کے جنگ اقدامی ہے تو پھر امریکہ کو یہ حق کیوں نہیں کہ وہ افغانستان اور عراق پر - پر ایمپٹو سٹرائیکس --- نہیں کرسکتا؟ اس کا یہ قدم ---- اقدامی جہاد کیوں نہیں

میں نے جنگ کی بات نہیں کی جہاد کی بات کی ہے۔۔۔۔۔ میں نے اسلامی نقطہ نظر کی بات کی ہے امریکہ اور بھارت کی وکالت کا مجھے نہ تو کوئی شوق ہے اور نہ ہی مجبوری۔۔۔ ہاں ‏آپ کی ہو تو بات سمجھ میں ‏آتی ہے۔۔۔ کیوںکہ حالات ہی ایسے ہیں۔۔۔۔امریکہ میں رہنے کے لئے کرنا پرتا ہو گا۔۔۔
اور ہاں امریکہ نے افغانستان اور عراق اور دنیا بھر میں اسلامی نظریہ جہاد کو سامنے رکھ کر میرا خیال ہے تخت و تاراج کرنا شروع نہیں کیا۔۔۔ بلکہ یہ اس کے جمہوری ابلیسی مذہب کا حصہ ہے۔۔۔ جس کی وکالت دانستہ یا نا دانستہ ‏آپ جیسے مفکرین جن کو خیر سے فہم قر‏آن کا بھر پور دعوی بھی ہوتا ہے کرتے رہتے ہیں۔۔۔
امریکہ نے اپنے جمہوری ابلیسی مذہب کے مطابق دنیا میں کشت و خون کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو یقینا غلط ہے اور ہو سکتا ہے ‏آپ بھی اس کا دبے لفظوں میں غلط کہنے کی جرات کر لیں لیں۔۔۔ تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ امریکہ نے جو حملہ کیا۔۔۔۔۔ وہ غلط ہے تو ۔۔۔ اسلام کا نظریہ اقدامی جہاد بھی غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی لئے تو شروع سے عرض کرتا ‏آ رہا ہوں کہ۔۔۔ پہلے اسلام کے نظریہ جہاد کو واضح کر لیا جائے پھر دیکھا جائے کہ دنیا میں جو ہو رہا ہے وہ اس کے مطابق درست ہے یا نہیں۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ یہاں سارے راشن پانی لے کر طالبان، طالبان کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ اور ساتھ یہ فتوی صادر ہو جاتا ہے۔۔۔۔ کہ جی یہ کون سا جہاد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو دہشت گردی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لئے میرے مخاطب نا دانستہ اس جہانسے میں ‏آنے والے لوگ ہیں۔۔۔ جن کے مفادات وابستہ ہیں۔۔۔ وہ مفادات کا ہی تحفظ کریں گے۔۔۔۔۔۔ قر‏آن کا سنت کا دین یا مسلمانوں کا نہیں۔۔۔۔۔
‏آپ فرماتے ہیں۔
جبکہ امریکہ وہ واحد ملک ہے جہاں نظام جمہوریت سب سے طویل عرصہ سے رائج ہے؟ یا بھارت کو اس اقدامی جنگ کا حق کیوں‌نہیں؟ جہاں‌ ہندو مسلم چین سے رہ رہا ہے۔ یہ دوغلا اور دہرا معیار کسی کام کا نہیں۔

بات میں واضح کر ‌چکا ہوں امریکہ یا بھارت کی غلط پالیسی کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کا نظریہ جہاد بھی غلط ہے۔۔۔۔۔۔ رہی بات دہری پالیسی کی تو وہ اسلام کے نظریہ جہاد میں نہیں۔۔۔۔۔ یا نہ میں نے اختیار کی۔۔۔۔ اور نہ ہی میں اس کا حامی ہوں۔۔۔۔ بلکہ یہ ‏آپ جیسے روشن خیال مفکرین اس کو ڈپومیٹک سٹرٹیجی کہہ کہ تسلیم کیئے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
asakpke (15-08-10), راجہ اکرام (04-08-10), عبداللہ آدم (30-07-10)
پرانا 30-07-10, 03:27 PM   #95
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق سرور صاحب
میں نے اپنی گذشتہ پوسٹ میں یہ بھی ‏آپ سے پو‌چھا تھا کہ ‏آپ نے جو یہ ارشاد فرمایا تھا کہ
جب حکومت وقت اپنی صوابدید پر "جنگ " شروع کرتی ہے تو افراد کا منظم افواج میں شامل ہونا فرض‌ہے۔

میرا سوال یہ تھا کہ
اگر ‏آپ کی نظر میں صرف حکومت ہونا ہی اعلان جنگ یا جہاد کے لئے کافی ہے تو واقعہ کر بلا کا ‏آپ کیا جواز پیش کریں گے۔۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی کاوش اور ان کی شہادت پر کیا فتوی صادر کریں گے۔۔

مگر اس طرف ‏آپ نے توجہ نہیں دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حضرات کا جہاد دفاعی تھا یا اقدامی۔۔۔۔۔ صحیح تھا یا غلط۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-07-10), احمد بلال (31-07-10), راجہ اکرام (04-08-10), عبداللہ آدم (30-07-10)
پرانا 30-07-10, 03:45 PM   #96
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,982
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جب تک ایک قوم پر حملہ نہ ہو، اللہ تعالی نے جنگ کی اجازت نہیں دی۔
22:39 أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
اجازت دی جاتی ہے (جنگ کی) ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور بے شک اللہ اُن کی مدد پر ہر طرح قادر ہے۔

جنگ اس وقت تک شروع نہیں کی جاسکتی جب تک حملہ نہ ہو۔ مقصد ہے نظریاتی ریاست کا دفاع۔ جس کے لئے زکواۃ یعنی ٹیکس سےسے فنڈ جمع کئے جائیں۔
السلام علیکم بھائی فاروق سرور خان

کشمیر پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا گیا ھے ،اور کشمیر پاکستان کا حصہ ھے، کشمیری قوم پاکستان سے محبت بھی رکھتی ھے ، تو آپ کا کیا کہنا ھے کہ اس آیت میں اللہ کی جانب سے دیا جانے والا حکم اور اجازت کو مجاھدین کشمیر میں جہاد کے لئے دلیل کے طور پر استعمال کریں تو ٹھیک ھے ؟
اور اسی آیت کو اگر افغان مجاھدین پیش کریں کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے ملک کو کافروں کی یلغار سے بچانے کی خاطر جہاد کر رہے ہیں ، کیا آپ اسے مان لیں گے؟
یہی آیت فلسطینی مجاھدین کو بھی اور چیچن مجاھدین کو بھی اور عراقی مجاھدین کو بھی جواز فراہم کرتی ھے ۔

آپ صرف یہ بتادیں کہ کس کس ملک کے مجاھدین صحیح اسلامی جہاد کر رہے ہیں؟

جزاک اللہ

والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (30-07-10), احمد بلال (31-07-10), راجہ اکرام (04-08-10), عبداللہ آدم (30-07-10)
پرانا 30-07-10, 06:12 PM   #97
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

sahj صاحب۔
اکیسویں صدی کے ان روشن خیال مفکرین کی نظر میں صرف وہی جہاد صحیح ہے جو یہود ونصاری اور مستشرقین کو قابل قبول ہو۔۔۔ اور جہاں ان کے مفادات خطرے میں ہوں تو وہ جہاد جہاد نہیں فساد فی الارض اور دہشت گردی بن جاتا ہے۔۔۔۔۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے قر‏آن و سنت میں تحریف کرنی پ‎ڑے تو کر لیں گئے ہزالوں بے گناہوں کا خود قتل کروا کر کسی کو بدنام کرنا ہو تو کر لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے کہ وہ جو کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور پھر مفادات کی جنگ میں تو بدرجہ اولی سب جائز ہوہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ‏آج کا عالمی سامراجی پالیسی یہی تو ہے۔۔۔۔۔۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔۔۔۔ اور اسی لئے تو دنیا کو جہاد سے ڈرایا جاتا ہے کیوںکہ اس جہاد سے لاٹھی مسلمانوں کے پاس جو ‏آ جائے گی۔۔ اور یہ کبھی بھی یہود و نصاری اور ان کے بہی خواہ نہیں ‌چاہتے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-07-10), محمد عاصم (30-07-10), راجہ اکرام (04-08-10), عبداللہ آدم (30-07-10)
پرانا 30-07-10, 06:52 PM   #98
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,982
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم



بسم اللہ الرحمان الرحیم
وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہ لِلّٰہِ ۚ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ
الانفال 39

اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فساد اور ہو جائے حکم سب اللہ کا پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے کام کو دیکھتا ہے

تفسیر عثمانی
جہاد کے مقاصد:
یعنی کافروں کا زور نہ رہے کہ ایمان سے روک سکیں یا مذہب حق کو موت کی دھمکی دے سکیں جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی کفار کو غلبہ ہوا مسلمانوں کا ایمان اور مذہب خطرہ میں پڑ گیا۔ اسپین کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ کس طرح قوت اور موقع ہاتھ آنے پر مسلمانوں کو تباہ کیا گیا یا مرتد بنایا گیا۔ بہرحال جہاد و قتال کا اولین مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام مامون و مطمئن ہو کر خدا کی عبادت کر سکیں اور دولت ایمان و توحید کفار کے ہاتھوں سے محفوظ ہو۔ (چنانچہ فتنہ کی یہ ہی تفسیر ابن عمر وغیرہ رضی اللہ عنہم سے کتب حدیث میں منقول ہے)

یہ جہاد کا آخری مقصد ہے کہ کفر کی شوکت نہ رہے۔ حکم اکیلے خدا کا چلے۔ دین حق سب ادیان پر غالب آ جائے لِیُظۡہِرَہ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہ (التوبہ۔۳۳) خواہ دوسرے باطل ادیان کی موجودگی میں جیسے خلفائے راشدین وغیرہ ہم کے عہد میں ہوا، یا سب باطل مذاہب کو ختم کر کے جیسے نزول مسیح علیہ السلام کے وقت ہو گا۔ بہرحال یہ آیت اس کی واضح دلیل ہے کہ جہاد و قتال خواہ ہجومی ہو یا دفاعی مسلمانوں کے حق میں اس وقت تک برابر مشروع ہے جب تک یہ دونوں مقصد حاصل نہ ہو جائیں۔ اسی لئے حدیث میں آ گیا۔ اَلْجِہَادُ مَاضٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃ

یعنی جو ظاہر میں اپنی شرارت اور کفر سے باز آ جائیں ان سےقتال نہیں۔ ان کے دلوں کا حال اور مستبقل کی کیفیات کو خدا کے سپرد کیا جائے گا۔ جیسا کام وہ کریں گے خدا کی آنکھ سے غائب ہو کر نہیں کر سکتے مسلمان صرف ظاہر حال کے موافق عمل کرنے کے مکلف ہیں۔ وفی الحدیث اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْالَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْھَا عَصِمُوْا مِنِّی دِمَاءَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلَّا بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ

امید ھے آیت قرآنی اور تفسیر سے موضوع کے مطابق بات پیش کرسکا ھوں

جزاک اللہ

والسلام
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-08-10), محمد عاصم (30-07-10), مرزا عامر (02-08-10), عبداللہ آدم (30-07-10)
پرانا 30-07-10, 09:21 PM   #99
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,623
کمائي: 31,251
شکریہ: 7,126
2,953 مراسلہ میں 8,736 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کربلا کی حقیقت جاننے کے لئے یہ کتاب پڑھئیے پھر یہ سوال دوبارہ پوچھئے

http://ourbeacon.com/wp-content/uplo...08/karbala.pdf
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-07-10, 09:26 PM   #100
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق صاحب

کتابیں تو بہت سی موجود ہیں۔۔۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ‏آپ انہیں تسلیم نہیں کرتے اس لئے ‏آپ سے پو‌چھ رہا ہوں۔۔۔۔۔ اب اپنی باری ‏آئی تو قر‏آن کو ‌چھو‎ڑ کر غیر قر‏آن کی لنک پیس کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ خیر تو ہے نا۔۔۔


اور ہاں وہ اقدامی جہاد اور دفاعی جہاد پر تو ‏آپ خاموشی ہی اختیار کر لی۔۔۔۔۔۔ کیوں قر‏آن کریم سے کوئی راہنمائی ‏آپ کو نہیں مل رہی۔

فاروق صاحب دعوے کرنا ‏آسان ہیں انہیں پورا کرنے کے لئے زور لگانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ تب جا کر کہیں صحیح دعوے ثابت ہوتے ہیں۔۔ اور جن دعوؤں کے سر پیر ہی نہیں ہوتے ان کے لئے کیا کیا کرنا ہوتا ہے۔۔۔ یہ ‏آپ بہتر جانتے ہیں۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (31-07-10), مرزا عامر (02-08-10)
پرانا 30-07-10, 10:43 PM   #101
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,966
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خلط مبحث میں کمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کیا
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (04-08-10)
پرانا 31-07-10, 08:12 PM   #102
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق صاحب

‏آپ کے جواب کا انتظار ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-08-10, 11:10 AM   #103
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,623
کمائي: 31,251
شکریہ: 7,126
2,953 مراسلہ میں 8,736 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی جہاد کی اجازت کب ملتی ہے وہ بتا دیا آپ کو ۔ آپ اس کو دفاعی جہاد کہتے ہیں تو پھر قران حکیم سے اقدامی جہاد کی دلیل لائیے۔

اگر اقدامی جہاد کی دلیل نہیں لاسکتے تو پھر جہاد کو رنگ روغن نہیں لگائیے

رہ گیا واقعہ کربلا تو یہ ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ پھر وفات نبی کے بعد کا معاملہ ہے۔ آپ ایک ایسے واقعہ کو دلیل کس بنیاد پر بنا رہے ہیں؟ ایک سے زائید ثبوت موجود ہیں کہ حضرت حسین (ر)‌ کو بصرہ میں گورنری ملنے کے بعد ان کے گھر میں قتل کیا گیا ۔ جو کتاب آپ کو فراہم کی ہے اس میں ان تمام واقعات کے پرانی کتب سے ثبوت موجود ہیں۔ اور واقعہ کربلا میں‌کیا سقم موجود ہیں ان پر بھی بات کی گئی ہے ۔ بہر صورت، حضرت حسین (ر)‌کا یہ عمل جنگ تسلیم کر بھی لیا جائے تو نا یہ فرمان الہی ہے اور نہ ہی سنت نبوی اور نہ ہی حکم نبوی۔ لہذا جہاد کے لئے کسی قسم کی دلیل بھی نہیں‌ہے ۔ اس پر آپ جتنا اصرار کریں‌گے اتنا ہی ڈھول بجے گا

اللہ تعالی کے فرمان اور سنت تک تو دلیل درست ہے۔ لیکن بعد کے واقعات کی تمثیل نہیں‌بنائی جاسکتی۔

چلئے آپ کی عقل نازک سے ایک اور سوال، ایک وجہ تو میں‌بتا چکا کہ جہاد کی اجازت "کس صورتحال" کے بعد ہے؟

اب آپ سے ایک اور سوال
اللہ تعالیٰ‌ نے قرآن حکیم میں "جنگ یا جہاد شروع"‌کرنے کی اجازت " نظریاتی ریاست پر حملے :‌کے علاوہ ایک اور وجہ سے بھی دی ہے۔ وہ دوسری وجہ کیا ہے ؟

آپ کے جواب کا انٹظار رہے گا

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-08-10, 11:16 AM   #104
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,623
کمائي: 31,251
شکریہ: 7,126
2,953 مراسلہ میں 8,736 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
sahj صاحب۔
اکیسویں صدی کے ان روشن خیال مفکرین کی نظر میں صرف وہی جہاد صحیح ہے جو یہود ونصاری اور مستشرقین کو قابل قبول ہو۔۔۔ اور جہاں ان کے مفادات خطرے میں ہوں تو وہ جہاد جہاد نہیں فساد فی الارض اور دہشت گردی بن جاتا ہے۔۔۔۔۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے قر‏آن و سنت میں تحریف کرنی پ‎ڑے تو کر لیں گئے ہزالوں بے گناہوں کا خود قتل کروا کر کسی کو بدنام کرنا ہو تو کر لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے کہ وہ جو کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اور پھر مفادات کی جنگ میں تو بدرجہ اولی سب جائز ہوہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ‏آج کا عالمی سامراجی پالیسی یہی تو ہے۔۔۔۔۔۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔۔۔۔ اور اسی لئے تو دنیا کو جہاد سے ڈرایا جاتا ہے کیوںکہ اس جہاد سے لاٹھی مسلمانوں کے پاس جو ‏آ جائے گی۔۔ اور یہ کبھی بھی یہود و نصاری اور ان کے بہی خواہ نہیں ‌چاہتے۔
جس قسم کے جہاد کی بات آپ کررہے ہیں ۔ وہ جہاد تو امریکی فوج ، اللہ کی زمین میں فساد کرنے والوں کو سزا دے کر ہی رہی ہے۔ پھر آُ اس فوج کی تعریف کیوں‌نہیں کرتے ؟ اس فوج نے اسلام کا کونسا اصول پامال کیا ہے۔ قاتلوں اور لٹیروں‌کو سز ا دے کر۔ امریکہ پر حملہ کرنے والوں‌ کی پٹائی کرکے

جو اصول آپ کے لئے درست ہیں وہ دوسروں‌کے لئے کیوں‌درست نہیں؟ اسلام صرف اس وقت قائم ہوسکتا ہے کہ جب آپ کسی کی بیٹی کو جنگ میں لونڈی بنا کر اس کی عزت تار تار کریں تو پھر اپنی بیٹی کی عزت کے تار تار ہونے پر ڈھول پیٹنے کے لئے تیار رہیں۔

اللہ تعالی نے کوئی اصول ایسا قائم نہیں کیا جو ایک قوم کو دوسری قوم پر برتری دیتا ہو۔ کہ سلامتی یعنی اسلام اس مساوات کے بغیر ممکن ہی نہیں

اگر یہی خیالات ہیں تو پھر ڈیزی کٹر کو کیوں‌ روتے ہیں؟ ساری بات یہ ہے کہ پاکستان میں تنخواہ دار پراپیگنڈہ ہور ہا ہے ۔ تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے

جو فساد کو حق انصاف سمجھتے ہیں ا ن کو یہ بھی یاد رکھنا چائیے کے پھر بڑی بندوق والا ہی جیتتا ہے۔

Last edited by فاروق سرورخان; 01-08-10 at 11:18 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-08-10, 11:29 AM   #105
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,982
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم



بسم اللہ الرحمان الرحیم
وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہ لِلّٰہِ ۚ فَاِنِ انۡتَہَوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ
الانفال 39

اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فساد اور ہو جائے حکم سب اللہ کا پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے کام کو دیکھتا ہے

تفسیر عثمانی
جہاد کے مقاصد:
یعنی کافروں کا زور نہ رہے کہ ایمان سے روک سکیں یا مذہب حق کو موت کی دھمکی دے سکیں جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی کفار کو غلبہ ہوا مسلمانوں کا ایمان اور مذہب خطرہ میں پڑ گیا۔ اسپین کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ کس طرح قوت اور موقع ہاتھ آنے پر مسلمانوں کو تباہ کیا گیا یا مرتد بنایا گیا۔ بہرحال جہاد و قتال کا اولین مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام مامون و مطمئن ہو کر خدا کی عبادت کر سکیں اور دولت ایمان و توحید کفار کے ہاتھوں سے محفوظ ہو۔ (چنانچہ فتنہ کی یہ ہی تفسیر ابن عمر وغیرہ رضی اللہ عنہم سے کتب حدیث میں منقول ہے)

یہ جہاد کا آخری مقصد ہے کہ کفر کی شوکت نہ رہے۔ حکم اکیلے خدا کا چلے۔ دین حق سب ادیان پر غالب آ جائے لِیُظۡہِرَہ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہ (التوبہ۔۳۳) خواہ دوسرے باطل ادیان کی موجودگی میں جیسے خلفائے راشدین وغیرہ ہم کے عہد میں ہوا، یا سب باطل مذاہب کو ختم کر کے جیسے نزول مسیح علیہ السلام کے وقت ہو گا۔ بہرحال یہ آیت اس کی واضح دلیل ہے کہ جہاد و قتال خواہ ہجومی ہو یا دفاعی مسلمانوں کے حق میں اس وقت تک برابر مشروع ہے جب تک یہ دونوں مقصد حاصل نہ ہو جائیں۔ اسی لئے حدیث میں آ گیا۔ اَلْجِہَادُ مَاضٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃ

یعنی جو ظاہر میں اپنی شرارت اور کفر سے باز آ جائیں ان سےقتال نہیں۔ ان کے دلوں کا حال اور مستبقل کی کیفیات کو خدا کے سپرد کیا جائے گا۔ جیسا کام وہ کریں گے خدا کی آنکھ سے غائب ہو کر نہیں کر سکتے مسلمان صرف ظاہر حال کے موافق عمل کرنے کے مکلف ہیں۔ وفی الحدیث اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْالَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْھَا عَصِمُوْا مِنِّی دِمَاءَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ اِلَّا بِحَقِّھَا وَحِسَابُھُمْ عَلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی جہاد کی اجازت کب ملتی ہے وہ بتا دیا آپ کو ۔ آپ اس کو دفاعی جہاد کہتے ہیں تو پھر قران حکیم سے اقدامی جہاد کی دلیل لائیے۔

اگر اقدامی جہاد کی دلیل نہیں لاسکتے تو پھر جہاد کو رنگ روغن نہیں لگائیے
فاروق سرور صاحب السلام علیکم
شاید آپ کی نظر نہیں پڑی تھی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
com, کوشش, پاکستان, پسند, قرآن, لوگ, موجودہ, ممکن, مسائل, آج, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, جواب, سیاست, علم, علمی, علاقے, عادل, غلط, غازی, صفحہ, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا یہ سچ ہے ؟؟؟ محمدعدنان گپ شپ 6 25-10-10 11:51 AM
اس نڈر جانور کا نام کیا ہے ؟؟؟ عبیداللہ عبید دلچسپ اور عجیب 10 24-07-10 10:22 PM
کیا یہ خبر سچی ہے ؟؟؟ احمدنواز خبریں 28 20-07-10 02:19 PM
یہ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟ فرحان دانش خبریں 4 01-12-09 06:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:32 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger