|
جہاد میں حائل مشکلات

05-06-10, 02:26 AM
فضیلةالشیخ ابوجندل الازدی حفظہ اللہ
جب لوگ جہاد فی سبیل اللہ کی بات کرتے ہیں تو بڑا خوشنما لگتا ہے۔ کیا ہی خوبصورت لفظ ہے - ”جہاد فی سبیل اللہ“۔ لیکن، درحقیقت ، جہاد کے تمام نتائج اور واقعات اِتنے خوشنما نہیں ہوتے۔
جہاد میں ہمیشہ بلند و بانگ تقریریں اور آتش بیاں خطبات نہیں ہوتے، نہ انعامات اور غنیمتیں،اور نہ ہی ہمیشہ کامیابیاں ملتی ہیں۔ بلکہ اپنے پیاروں کی موت ہوتی ہے، زخم خوردہ دوستوں کی تکلیف ہوتی ہے، جسمانی اعضاءکے لوتھڑے ہوتے ہیں، املاک کا نقصان اور امداد و اعانت کافقدان ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں، جہاد کے اور بھی بہت سے دشوار مراحل ہوتے ہیں:مختلف شخصیات کے حامل لوگوں کا گھلنا ملنا اور اس سے پیدا ہونے والے تنازعات....اس آدمی کو اس نے مکا مارا، ادھر دوسرے کا کسی سے بحث و مباحثہ (اختلاف) ہو گیا....یہ انسانی فطرت ہے (مسلمان فرشتے نہیں ہیں): غلطیاں، نقطہ ہائے نظر، آرائ؛ جن میں سے کچھ تو (اسلام میں) جائز ہیں اور کچھ نہیں۔ مقدس مقاصد (خلافت کا نئے سرے سے قیام) کی خوبصورتی اور ان کی تکمیل کی قیمت(اللہ کی راہ میں قربان ہونے والی جانیں اور اموال ) میں واضح اور وسیع تفاوت پایا جاتا ہے۔
اگر ہم اسلامی ریاست کے متعلق لوگوں کے مفروضوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک خیالی دنیا کی روداد پیش کرتے ہیں؛خوبصورت تصاویر سے بھرپور ایک دنیا، بالکل جادوئی طرح کی، شوخ دھنک رنگوں میں مخمور، جس میں آسمان سے مسلسل ابر برس رہا ہے ، بھرپور فصلیں ہیں، اور ہمارے دشمن ہم سے خوفزدہ ہیں کہ وہ ہمارے بارے میں جانتے ہیں کہ جنگوں میں فرشتوں کے ذریعے ہماری مدد کی جاتی ہے۔
وہ ایک ایسی اسلامی ریاست کا تصور رکھتے ہیں جس میں نہ کوئی غریب ہے اور نہ کوئی بیمار،اور اگر کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو وہ آن کی آن میں اس کے سامنے نمودار ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم مدینہ کے دور کی اسلامی ریاست کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ جنت نظر نہیں آئے گی بلکہ ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے تابعین ، ان کے اہلِ خانہ اور صحابہ رضی اللہ عنہ، نے یہاں بھی مکہ میں اٹھائی جانے والی تکلیفوں سے کم تکلیفیں نہ اٹھائی تھیں۔
صحابہ رضی اللہ عنہ نے خوف کے سخت ترین حالات بھی دیکھے، جیسے غزوہ خندق میں جو کچھ ہوا:
اِذ جَآئُوکُم مِّن فَوقِکُم وَ مِن اَسفَلَ مِنکُم وَ اِذ زَاغَتِ الاَبصَارُ وَ بَلَغَتِ القُلُوبُ الحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاﷲِ الظُّنُونَا [الاحزاب۱۰:۳۳]
”جب کہ (دشمن) تمہارے پاس اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح گمان کرنے لگے“
دشمنانِ اسلام کی طرف سے مسلط شدہ کڑے خطرات کی وجہ سے لوگوں کی آنکھوں میں خوف و ہراس چھایا تھا۔ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے لرزہ خیز امتحان تھا۔
اب اِس منظر کا اُس منظر سے موازنہ کریں جس کی تشہیر آج کے برائے نام علمائے دین کرتے ہیں۔وہ آپ سے ایک شاندار ریاست کا وعدہ کرتے ہیں جہاں نہ خوف ہوگا نہ جد و جہد،جہاں ہر ایک کے پاس ایک علیحدہ مکان ہو گا اور بے شمار خوراک ہو گی، اور غیر مسلم ہمیں اور ہماری ریاست کو دیکھتے ہوئے جوق در جوق مشرف بہ اسلام ہو رہے ہوں گے ۔
بے شک ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو اس یقین پر مبنی سوچ کے ساتھ مسلمان ہو جائیں گے کہ مسلمان ہی وہ درست جماعت ہیں کہ جن کے ساتھ ملحق رہنا چاہئے ، یعنی وہ جماعت جو دنیاوی خیر کی ضمانت دیتی ہے جبکہ دیگر جماعتیں ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔
لیکن اگر میں یہاں یہ کہوں کہ چار میں سے تین خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ عمر بن الخطّاب، عثمان بن عففان، اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کو شہادت کی موت میسر آئی!اور یہ سب خلافتِ راشدہ کے وقت میں ہوا (وہ رحیم کریم جس پر چاہتا ہے اپنا کرم کرتا ہے)۔وہ جو اسلام کی حقیقت (مکمل اطاعت) کا ادراک نہیں رکھتے ایک خیالی اور تصوراتی دنیا میں رہ رہے ہیں، جیسے ہی امتحانوں سے وا سطہ پڑے گا تو وہ غلط جگہوں میں پناہیں لے رہے ہوں گے ،اور پھر ہمت ہار جائیں گے اور زندگی کی مشکلات و مصائب کاسامنا کرنے کی اپنی نا اہلی کا اقرار کریں گے اور پھر آخرت میں سزا کے علاوہ ان کی اور کوئی جزا ءنہیں ہو گی (اس دنیا میں ثابت قدم مسلمان اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے مدد اور پناہ مانگیں گے اور پھر آخرت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل و کرم سے جنت میں داخل ہوں گے جوثابت قدم مسلمانوں کا آخری ٹھکانہ ہے۔)
در حقیقت ، کتابوں ‘ خیالوں‘ اقلام اور اوراق تک محدود زندگی اسلام نہیں ہے۔ اسلام کامیابی اور ناکامی کے ساتھ مزین انسانی زندگی ہے۔ درست اعمال اس نقطہ نظر کو تقویت دیتے اور اس کی اعانت کرتے ہیں جبکہ غلطیوں سے کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے ، غلطی کا پتہ چلتا ہے اور دوبارہ اسے دہرانے سے بچا جا سکتا ہے۔
اسلام میں غلطیاں نا گزیر اور عین متوقع ہوتی ہیں، لہٰذا سزا و جزاءکے خدائی قوانین مسلمانوں کو بتلا دیئے گئے، کہ جن پر اسلامی عقیدہ توحید اور جہاد فی سبیل اللہ فرض کر دیئے گئے تھے۔اور اگر ہم اسلام کی ابتدائی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسی غلطیوں کی کئی ایک مثالیں ملیں گی ، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
جنگِ نہروان شروع ہونے سے پہلے خوارج کی فوج نے علی بن ابی طالب کی فوج کے روبرو عفوِ عام قبول کرنے یا ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا (ما سوائے ان کی ایک قلیل تعداد کے)۔ جنگ کا اختتام خوارج کی شکست کے ساتھ ہوا۔چار ہزار خوارج میں سے تقریباً صرف چار سو زخمی باقی (زندہ)بچے۔
جنگِ جمل مسلمانوں کے درمیان ہونے والی ایسی جنگ تھی جس میں کبار صحابہ طلحہ اور زبیررضی اللہ عنہما دونوں شہید ہوئے، ان کے لئے جنت کی بشارت۔
جنگِ صفین علی بن ابی طالب اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی افواج کے درمیان واقع ہوئی اور یہ غلطیوں میں سے ایک اور مثال ہے۔
جنگ انسانی وجود کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک ہے اور اسے بھُلا یا یانظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مسلمان کی زندگی فقط رات کو عبادات کے لئے جاگنے ، دن کو روزہ رکھنے، مغفرت کی مسلسل دعائیں کرتے رہنے، تحفے تحائف کا تبادلہ کرنے اور دیگر اعمال ِ خیرکرنے تک محدود نہیں ہے۔
ہم لوگوں کے اس گروہ سے مخاطب ہیں جو چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور بڑی نیکیوں کو غلطی سرزد ہونے کے ڈر سے نظر انداز کر دیتے ہیں ۔انہوں نے اپنی آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت کو دیکھنے سے قاصر ہیں۔
جہاد فی سبیل اللہ ایک ایسی انسانی سرگرمی ہے جو طاقت اور غلبے کے حصول کے لئے کی جاتی ہے۔جہاد انسان کے طرزِ فکر اور اس کے عمل کو گوندھ کر باہم مربوط کئے ہوئے ہوتا ہے۔
جس کو تلوار کی طرف پکارا گیا تھا اسے رخ پھیر کے دوسروں کو دروس دینے کی جنگ لڑنے میں نہیں لگ جانا چاہئے، بلکہ اسے اپنے دل کو تلوار کی تپش کا تجربہ کرنے کے لئے تیار کرنا چاہئے۔یہ خالق کا حکم ہے جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔
جی ہاں، آپ ایک ماہانہ رسالہ جاری کر سکتے ہیں یا ایک حزبِ اختلاف کی جماعت قائم کر سکتے ہیں ، ایسی جماعت جو اصلاحات کا مطالبہ کرے اور صبر کے ساتھ قید مسلمانوں کی رہائی کا انتظار کرے ، اور ایک نئے حکمران کی جلد آمد کی خواہاں ہو جو کہ حالیہ‘ آہستہ آہستہ دم توڑتے ظالم سے زیادہ انسان صفت (رحمدل اور مہربان) ہو گا،اور(بس)پھرآپ کی ذمہ داری پوری ہو گئی۔ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو اپنے الفاظ اور سیاست میں ثابت قدم ہے۔ متعلقہ اداروں میں محفوظ آپ کے بارے میں تازہ ترین(تا بہ امروز) فائل میں لکھا جائے گا کہ آپ ایک قابلِ احترام(مثالی) فریقِ مخالف ہیں۔
لیکن اگر آپ یہ کہیں گے: ’اُٹھو اور لڑو‘، ’اللہ کی راہ میں جہاد کرو‘ - پھر آپ کو کچھ مخصوص نتائج کی توقع رکھنی چاہئے۔ آپ کو اپنے ان حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے جن کا تجربہ آپ سے پہلے والوں نے کیا، جیسے عبداللہ عزام، خطاب اور ان جیسے بہت سے دیگر لوگ۔
ایک بچے کے سر کے بال سفید ہو جائیں(کہ اس معاملے کی گہرائی کو سمجھنا اتنا کٹھن ہے)، بہت سے لوگ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی راہ میں لڑنے کی حقیقت کو نہیں سمجھ پائیں گے ، ماسوائے سچےمؤمنوں کے،اور قبل اس کے کہ آپ جنت کی جانب جانے والے حقیقی راستے پر گامزن ہوں آپ اپنی نیت کو اچھی طرح جانچیں (ارحم الرٰحمین پر اپنے ایمان میں ثابت قدم رہیں اور اس سے ڈریں) تاکہ بالآخر آپ ایسی کوئی بات نہ کہیں کہ:’میں گھسیٹا گیا تھا۔‘
اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے لئے اٹھ کھڑے ہونا اور لڑنا ممکن نہیں ہے تو پھر جان لیں کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو چڑیوں کی مانند گھونسلوں میں رہنا محفوظ محسوس کرتے ہیں جہاں ان کے چوزے کھا پی رہے ہوں، اور زندگی کو اپنی رہائش کی کھڑکیوں کی اوٹ سے جھانک کرگزرتے دیکھ رہے ہوں، جبکہ (دوسری طرف) مسلمانوں اور کافروں کے درمیان گھمسان کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔لیکن جب جنگ ختم ہوتی ہو تی تو ان میں سے کچھ اپنے ’اہم‘ دروس کے ساتھ ہمیں یہ بتانے آئیں گے کہ: ’یہ تمہیں کہہ دیا گیا تھا‘، ’کیا ہم نے تمہیں خبردار نہیں کیا تھا؟‘ ، ’ہم یہ توقع کرتے ہیں....‘، ’ہم....ہم ....‘ وغیرہ وغیرہ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان کی لمبی زبانوں کو چھوٹا کرے ۔ وہ عزوجل فرماتا ہے:
اَشِحَّةً عَلَیکُم صلے جا فَاِذَا جَآءَ الخَوفُ رَاَیتَہُم یَنظُرُونَ اِلَیکَ تَدُورُ اَعیُنُہُم کَالَّذِی یُغشٰی عَلَیہِ مِنَ المَوتِ ج فَاِذَا ذَہَبَ الخَوفُ سَلَقُوکُم بِاَلسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَی الخَیرِ ط اُولٰٓئِکَ لَم یُؤمِنُوا فَاَحبَطَ اﷲُ اَعمَالَہُم ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ یَسِیرًا [الاحزاب۳۳:۱۹]
”تمہاری مدد میں (پورے ) بخیل ہیں ،پھر جب خوف و دہشت کا موقعہ آجائے تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ آپ کی طرف نظریں جما دیتے ہیں اور ان کی آنکھیں اس طرح گھومتی ہیں جیسے اس شخص کی جس پر موت کی غشی طاری ہو ،پھر جب خوف جاتا رہتا ہے تو تم پر اپنی تیز زبانوں سے بڑی باتیں بناتے ہیں، مال کے بڑے ہی حریص ہیں، یہ ایمان لائے ہی نہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اعمال نابود کر دئیے اور اللہ تعالیٰ پر یہ بہت ہی آسان ہے“
(الشیخ ابو جندل الازدی چیچن مجاھدین کے سرکردہ عالم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ انکی حفاظت فرمائیں۔آمین(
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
Last edited by عبداللہ آدم; 05-06-10 at 02:28 AM..
وجہ: word correction
|
عبداللہ آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|