واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > جہاد



جہاد جہاد


حکم جہاد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-05-10, 10:38 AM   #1
حکم جہاد
sahj sahj آف لائن ہے 26-05-10, 10:38 AM

مسلمانوں کی تباہی کا سبب !

قرآن وسنت کی نصوص نیز پوری تاریخ اسلام کا تجربہ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمان جہاد چھوڑ دیتے ہیں تو دوسری قومیں ان پر غالب آجاتی ہیں ۔ ان کے دل ان سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ اور پھر ان کی (مسلمانوں ) آپس میں پھوٹ پڑجاتی ہے ۔ وہ جذبہ شجاعت وحمیت جو کفار کے مقابلہ میں صرف ہونا چاہیئے تھا ۔ وہ آپس میں صرف ہونے لگتا ہے ۔ اور یہی ان کی تباہی کا سبب ہے ۔
(جہاد ص 6 )

جہاد وغزوات کی حکمت !

کسی قابل ناحق کو قصاصاً قتل کرنا یا کسی چور کو سزا دینا یا کسی بدمعاش کو مار پیٹ کرنا ، ڈاکؤں کے منظم گروہ سے جنگ کرکے ان کو جرم سے روکنا یا ختم کرنا اگر چہ بظاہر کچھ انسانوں کو تکلیف میں ڈالنا یا ضائع کردینا ہے ۔ مگر یہ کسی سمجھدار انسان کے نزدیک عام دنیا کے امن وسلامتی کے منافی نہیں ۔ بلکہ عام انسانوں کے امن وسلامتی اور سلامت اطمینان کا واحد ذریعہ ہے ۔ اگر چند جرائم پیشہ لوگوں کو سزا دے کر تکلیف میں نہ ڈالا جائے تو پوری انسانیت کا امن وسکون برباد ہو جاتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد وغزوات اور آپ کے قائم کردہ حدود تعزیرات سب اسی حقیقت پر مبنی ہیں ۔ جو اصلاح حال کی ساری تدبیروں سے مایوس ہو جانے کے بعد آخری علاج کے طور پر عمل میں لائی گئی ہے ۔

وہ ڈاکٹر اپنے فن کا ماہر نہیں ہو سکتا جو صرف مرہم لگانا جانتا ہے ۔ مگر سڑے ہوئے فاسد شدہ اعضاء کا آپریشن کرنا نہیں جانتا ۔

کوئی عرب کے ساتھ ہو یا ہو عجم کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہے تیغ نہ ہو جب قلم کے ساتھ

سمجھو اور خوب سمجھو کہ جب عالم کے جسم میں شرک کے زہریلے جراثیم پیدا ہو گئے اور وہ ایک مریض جسم کی طرح ہوگیا تو رحمت خداوندی نے اس کے لیے ایک مصلح اور مشفق طبیب اعظم (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بھیجا جس نے تریسٹھ سال تک متواتر اس کے ہر عضو اور ہر رگ وریشہ کی اصلاح کی فکر کی ۔ جس سے قابل اصلاح اعضاء تندرست ہو گئے ۔ مگر بعض اعضاء جو با لکل سڑ چکے تھے کہ ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہ رہی بلکہ خطرہ ہو گیا کہ ان کی سمیت تمام بدن میں سرایت کر جائے ۔ اس لیے حکیمانہ اصول کے موافق عین رحمت وحکمت کا مقتضا یہی تھا کہ آپریشن کرکے ان اعضاء کو کاٹ دیا جائے ۔ یہی جہاد کی حقیقت ہے ۔اور یہی تمام جارحانہ (یعنی اقدامی ) اور مدافعانہ غزوات کا مقصد ہے ۔


حکم جہاد !

مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کفار کے مظالم کا یہ حال تھا کہ کوئی دن خالی نہ جاتا تھا کہ کوئی مسلمان ان کے دست ستم سے زخمی اور چوٹ کھایا ہوانہ آتا ہو ۔ قیام مکہ کے آخر دور میں مسلمانوں کی تعداد بھی خاصی ہو چکی تھی وہ کفار کے ظلم وجبر کی شکایت اور ان کے مقابلے میں قتل وقتال کی اجازت مانگتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جواب فرماتے کہ صبر کرو ۔ مجھے ابھی تک قتال کی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ سلسلہ دس سال تک اسی طرح جاری رہا ۔

جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وطن مکہ چھوڑنے اور ہجرت کرنے پر مجبور کردیئے گئے اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ (عنہم) آپ کے رفیق تھے تو مکہ مکرمہ سےنکلتے وقت آپ کی زبان سے نکلا ۔ اخرجوا نبیّھم لیھلکن ۔ یعنی ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالاہے' ۔اب ان کی ہلاکت کاوقت آگیا ہے ۔ اس پر مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد یہ آیت ۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ
(22:39) ، نازل ہوئی ۔ جس میں مسلمانوں کو کفار سے قتال کی اجازت دے دی گئی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ (عنہم) نے فرمایا کہ یہ پہلی آیت ہے جو قتال کفار کے معاملہ میں نازل ہوئی جبکہ اس سے پہلے ستر سےزیادہ آیتوں میں قتال کو ممنوع قرار دیا گیا تھا ۔
(معارف القرآن ۔ ص 275 ج 6 )

اس پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد وقتال ممنوع تھا ۔ اس وقت کی تمام آیت قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اورعفوو درگزر کی ہی تلقین تھی ۔ ہجرت مدینہ کے بعد سب سےپہلے اس آیت وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

(2 : 190 )
میں قتال کفار کا حکم آیا ۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے روایت یہ بھی ہے کہ قتال کفار کے متعلق پہلی آیت یہ ہے ۔ (اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا ) مگر اکثر حضرات اور تابعین کے نزدیک پہلی آیت سورہ بقرہ کی آیت مذکورہ ہی ہے ۔ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ (عنہم) نے جس کو پہلی فرمایا ہے وہ بھی ابتدائی آیتوں میں ہونے کے سبب پہلی کہی جاسکتی ہے ۔
(معارف القران ج اص 469)


مکہ معظمہ میں جہاد و قتال کے احکام نہیں تھے ۔ یہ سب سے پہلی آیت ہے (ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ ) جو مکہ مکرمہ میں ہی قتال کے متعلق نازل ہوئی ۔ اور اس کا عمل ہجرت کے بعد شروع ہوا اس کے بعد دوسری آیت ( اذن للذین یقاتلون ) نازل ہوئی ۔

حکم جہاد کی شرعی حیثیت !


( کتب علیکم القتال ) یعنی تم پر جہاد فرض کیا گیا ، ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہو تا ہے کہ جہاد ہر مسلمان پر ہر حالت میں فرض ہے ، بعض آیت قرآنی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہو تا ہےکہ یہ فریضہ فرض عین کے طور پرہر مسلم پر عائد نہیں ۔ بلکہ فرضِ کفایہ ہے کہ مسلمان کی ایک جماعت اس فرض کو ادا کردے تو باقی مسلمان سبکدوش سمجھے جائیں گے ، ہاں کسی زمانہ یا ملک میں کوئی جماعت بھی فریضہ جہاد ادا کرنے والی نہ رہے تو سب مسلمان ترکِ فرض کے گناہ گار ہو جایئں گے ۔ حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد الجھاد ماض الی یوم القیامہ کا یہ مطلب ہے کہ قیامت تک ایسی جماعت کا موجود رہنا ضروری ہے جو فریضہ جہاد ادا کرتی رہے ۔

نیز صحیح بخا ری ومسلم کی حدیث ہےکہ ُُ ُ ایک شخص نے آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کت کی اجا زت چا ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے در یا فت کیا کہ تمہا رے ماں باپ زندہ ہے؟ اس نے عر ض کیا کہ ہاں زندہ ہے۔آپ نے فر مایا کہ پھر جاؤ، ماں باپ کی خد مت کرکے جہا د کا ثواب حا صل کروِِِ،،۔ اس سے یہ بھی معلو م ہوا کہ جہا د فرض کفا یہ ہے جب مسلما نوں کی ایک جما عت فریضہ جہا د کو قا ئم کئے ہوئے ہو تو باقی مسلمان دوسری خدمتوں اور کاموں میں لگ سکتے ہیں ۔ ہاں اگر کسی وقت امام المسلمین ضرورت سمجھ کر نفیر عام کا حکم دے اور سب مسلمانوں کو شرکتِ جہاد کی دعوت دے تو پھر جہاد سب پر فرض عین ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم نے سورہ توبہ میں ارشاد فرمایا ۔

(یایھا الذین امنو اما لکم اذا قیل لکم انفرو ا فی سبیل اللہ اثا قلتم )

''اے مسلمانوں ! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم بوجھل بن جاتے ہو'' ۔

اس آیت میں اسی نفیر عام کا حکم مذکور ہے اسی طرح خدانخواستہ کسی وقت کفار کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہوں ۔اور مدافعت کرنےوالی جماعت ان کی مدافعت پر پوری طرح قادر اور کافی نہ ہو ۔ تو اس وقت بھی یہ فریضہ اس جماعت سے متعدی ہو کر پاس والے سب مسلمانوں پر عائد ہو جاتا ہے ۔ اور اگر وہ بھی عاجز ہوں تو ان کے پاس والے مسلمانوں پر ، یہاں تک کہ پوری دنیا کے ہر فرد مسلم پر ایسے وقت جہاد فرضِ عین ہوجاتاہے ۔قرآن کریم کی مذکورہ بالا تمام آیات کے مطالعہ سے جمہور فقہاء و محدثین نے حکم قرار دیا ہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے ۔
(معارف القرآن ص 18 ج 4 )

جب امیر المؤمنین کی طرف سے جہاد کی دعوت مسلمانوں کو دے دی جائے ۔اور اسلامی شعائر کی حفاظت اس پر موقوف ہو کیونکہ اس وقت ترکِ جہاد کا وبال صرف تارکین جہاد پر نہیں بلکہ پورے مسلمانوں پر پڑتاہے ۔ کفار کے غلبہ کے سبب عورتیں ، بچے ، بوڑھے اور بہت سے بے گناہ مسلمان قتل وغارت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ان کے جان ومال خطرہ میں پڑجاتے ہیں ۔
(معارف القرآن ص 213 ج 4 )

جس وقت اسلام اور مسلمانوں سےدفاع کی ضرورت ِ شدید ہو اس وقت یقیناً جہاد تمام عبادات سے افضل ہو گا ۔ جیسا کہ غزوہ خندق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار نمازیں قضا ہو جانے کے واقعہ سے ظاہر ہے ۔
(معارف القرآن ص335 ج 4 )

مقصدِ جہاد :۔

مؤمن کی جدو جہد کا یہی مقصد ہو تا ہے کہ دنیا میں خدا کا قانون رائج ہو اور اللہ کا حکم بلند ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالٰی تمام مخلوق کا مالک ہے اور اس کا قانون خالص انصاف پر مبنی ہے ۔ اور جب انصاف کی حکومت قائم ہوگی تو امن قائم رہے گا ۔ دنیا کے امن کے لیے یہ ضروری ہے کہ دنیا میں وہ قانون رائج ہو جو خدا کا قانون ہے ۔ لہذا کامل مؤمن جب جنگ کرتا ہے تو اس کے سامنے یہی مقصد ہو تا ہے ۔ لیکن اس کے مقابلے میں کفار کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ کفر کی ترویج ہو اور کفر کا غلبہ ہو ۔ آیت ( وان نکثوا ایمانھم من بعد عھد ھم واطعنو فی دینکم فقاتلو ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون ) ۔ (9 : 12 ) میں مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کسی قوم سے اپنا غصہ اتارنے کے لیے نہ لڑیں بلکہ ان کی اصلاح وہدایت کو مقصد بنائیں اس آیت میں یہ بتلا دیا کہ جب وہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے صاف کرلیں اور محض اللہ کے لیے لڑیں تو پھر اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ایسی صورتیں بھی پیدا فرمادیں گے کہ ان کے غم وغصہ کا انتقام بھی خود بخود ہو جائے ۔
( معارف القرآن ص 325 ج 4 )

چنانچہ ہر مسلمان جہاد میں جتنی عملی شرکت یا مالی معاونت کرسکتا ہو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہئے ۔

مدت جہاد :۔

(وقاتلو ھم حتٰی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ )

خلاصہ اس تفسیر کا یہ ہے کہ مسلمانوں پر اعداء اسلام کے خلاف جہادو قتال اس وقت تک واجب ہے جب تک مسلمانوں پر ان کے مظالم کا فتنہ ختم نہ ہو جائے اور اسلام کو سب ادیان پر غلبہ حاصل نہ ہوجائے اور یہ صورت صرف قرب قیامت میں ہوگی اس لیے جہاد کا حکم قیامت تک جاری اور باقی ہے ۔ ( جیساکہ حدیث شریف سے ثابت ہے ۔ ( الجھاد ماض الی یوم القیامۃ )
( معارف القرآن ص 233 ج 4 )

( حتی یعطوا لجزیۃ ) ( 9 : 29 ) ۔۔۔۔۔۔۔ الخ ۔ میں ان لوگوں سے جہاد وقتال کرتے رہنے کی ایک حد اور انتہا بھی بتلائی ہے یعنی یہ حکم قتال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہ ماتحت ہو کر رعیت بن کر جزیہ دینا منظور نہ کرلیں ۔
(معارف القرآن ص 320 ج 4 )

جزیہ کی حقیقت اور رفع اشکا ل :۔

اصطلاح شرعی میں جزیہ سے مراد وہ رقم ہے جو کفا ر سے قتل کے بدلہ میں لی جا تی ہے ۔ کفر وشرک اللہ اور رسول کی بغاوت ہے۔اس کی اصل سزا قتل ہے۔ مگر اللہ تعا لی" نے اپنی رحمت کاملہ سے ان کی سزا میں تخفیف کردی کہ اگر وہ اسلامی حکو مت کی رعیت بن کر عام اسلامی قانون کے ماتحت رہنا منظور کریں تو ان سے معمولی رقم جزیہ کی لے کر چھو ڑدیا جائے۔اور اسلامی ملک کاباشندہ ہونے کی حیثیت سے ان کی جان ومال ، آبروکی حفاظت اسلامی حکومت کے ذمہ ہوگی ۔ انکی مذہبی رسومات میں کوئی مزا حمت نہ کی جائے ۔ اسی رقم کو جزیہ کہاجاتاہے۔

جزیہ کفارسے سزائے قتل رفع کر نےکا معاو ضہ ہے۔ اسلا م کا بدلہ نہیں۔ اس لئے یہ شبہ نہیں ہو سکتا کہ تھوڑے سے دام لے کر
اسلا م سے اعراض اورکفر پر قائم رہنے کی اجازت کیسے دےدی گئ۔اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اپنے مز ہب پر قائم رہنے ہوئے اسلامی حکو مت میں رہنےکی اجازت بہت سے اُن لوگوں کو بھی ملتی ہے جن سے جز یہ نہیں لیا جا تا مثلاً عورتیں ، بچے،بوڑھے۔ مزہبی پیشوا،اپاہج،معزور۔اگر جزیہ اسلام کا بدلہ ہوتاان سے بھی لیاجاناچاہئےتھا۔
(معارف القر آن ص 365 ج4 )

طریق غلبہ اور جہاد کی تیاری

غلبہ اور بلندی حاصل کرنے کے لئے صرف ایک ہی چیز اصل ہے یعنی ایمان اوراس کےتقاضےپورےکرنا۔ایمان کےتقاضہ میں وہ تیاریاں بھی داخل ہیں جوجنگ کےسلسلےمیں کی جاتی ہیں۔یعنی اپنی فوجی قوت کااستحکام،سامانِ جنگ کی بہم رسانی اورظاہری اسباب سےبقدروسعت آراستہ ومسلح ہوناغزوہ احدکےواقعات اوّل سےآخرتک ان تمام امورکےشاھدہیں۔
(معارف القرآن ص194ج 2)قرآن پاک میں ارشادہے:۔

''وَ اَعۡدُوۡ الَھُمۡ مَّااسۡتَطَعۡتُمۡ مّنۡ قُوَّۃِ۔۔۔۔۔'' الیٰ آخر(60:

یعنی سامان جنگ کی تیاری کرو کفار کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے اس میں سامان جنگ کی تیاری کے ساتھ ( ما استطعتم ) کی قید لگا کر یہ اشارہ فرما یا دیا کہ تمہاری کامیابی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ تمہارے مقابل کے پاس جیسا اور جتنا اور بھی سامان ہے تم بھی اتنا ہی حاصل کرلو بلکہ اتنا کافی ہے کہ اپنی مقدور بھر جو سامان ہو سکے وہ جمع کرلو تو اللہ تعالٰی کی نصرت وامداد تمہارے ساتھ ہو گی ۔

صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان جنگ فراہم کرنے اور اس کےاستعمال کی مشق کو بڑی عبادات اور موجب ثواب قرار دیا ہے ۔

''من قوۃٍ'' عام لفظ اختیار فرما کر اس طرف سے بھی اشارہ کردیا کہ یہ قوت ہر زمانہ اور ملک و قوم کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے ۔ اس لیے آج کے مسلمانوں کو بقدر استطاعت ایٹمی قوت ، ٹینک ،لڑاکا ،طیارے ، آبدوز اور کشتیاں جمع کرنا چاہئے کیو نکہ یہ سب اسی قوت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اس کے لیے جس علم وفن کے سیکھنے کی ضرورت پڑے وہ سب اگر اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں سے دفاع کا اور کفار کے مقابلہ کا کام لیا جائے گا تو بھی جہاد کے حکم میں ہے ۔
( معارف القرآن ص 672 ج 4 )

سامان جنگ اکٹھا کرنے کی مصلحت :۔ آیت مذکورہ ( ترھبون بہ عدوا اللہ و عدو کم ) میں سامان جنگ کی تیاری کا حکم دینے کے بعد اس سامان کے جمع کرنے کی مصلحت اور اصل مقصد بھی ان الفاظ میں بیان فرمایا یعنی سامان جنگ و دفاع جمع کرنے کا اصل مقصد قتل وقتال نہیں بلکہ کفر وشرک کو زیر کرنا اور مرعوب و ملغوب کردینا ہے ۔ وہ کبھی صرف زبان یا قلم سے بھی ہو سکتا ہے اور بعض اوقات اس کے لیے قتل وقتال ضروری ہو تا ہے ، جیسی صورت حال ہو اس کے مطابق دفاع کرنا فرض ہے ۔

سامان جنگ کے ساتھ نظر اللہ تعالٰی پر ہو

(یا ایھا الذین اٰمنو خذو حذرکم ) ۔۔۔۔الخ ۔ اس آیت کے پہلے حصہ میں جہاد کرنے کے لیے اسلحہ کی فاہمی کا حکم دیا گیا اور دوسرے حصہ میں اقدام جہاد کا ۔ اس سے ایک بات تو یہ معلو م ہوئی جس کو متعدد مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ ظاہری اسباب کو اختیا ر کرنا تو اس کے منافی نہیں ہے ۔

دوسری یہ بات معلوم ہوئی کہ یہاں اسلحہ کی فرہمی کا حکم تو دے دیا گیا لکین یہ وعدہ نہیں کیا گیا کہ اس کی وجہ سے تم یقیناً ضرور محفوظ ہی رہو گے ۔ اس سے اشارہ اس بات کی طرف کردیا گیا کہ اسباب کا اختیار کرنا صرف اطمینان قلب کے لیے ہوتا ہے ۔ ورنہ ان میں فی نفسہ نفع ونقصان کی کو ئی تاثیر نہیں ہے ۔ ( ص 474 ج 4 )

حصول کامیابی کے لیے قرآنی ہدایات

سورہ انفال کی آیت 45 ، 46 میں حق تعالٰی نے مسلمانوں کی میدان جنگ اور مقابلہ دشمن کے لیے ایک خاص ہدایت نامہ دیاہے جو ان کےلئے دنیا میں کامیابی اور فتح مندی کا اور آخر ت کی نجات وفلاح کا نسخہ اکسیر ہے ۔ اورقرون اولٰی کی تمام جنگوں میں مسلمانوں کی فوق العادت کامیابیوں اورفتوحات کارازاسی میں مضمرہےاوروہ چندچیزیں ہیں۔

اول ثبات:۔یعنی ثابت رہنااورجمنا،جس میں ثبات قلب اور ثبات قدم دونوں داخل ہیں۔کیونکہ جب تک کسی شخص کادل مضبوط اورثابت نہ ہواس کاقدم اعضاء ثابت نہیں رہ سکتے(یہ بات)اہل تجربہ سےمخفی نہیں کہ میدان جنگ کاسب سےپہلااورسب سےزیادہ کامیاب ہتھیارثباتِ قلب اورقدم ہی ہے۔ دوسرےسارےہتھیاراس کےبغیربیکارہیں۔

دوسرےذکراللہ:یہ وہ مخصوص اورمعنوی ہتھیارہےجس سےمؤمن کےسواعام دنیاغافل ہے۔پوری دنیاکی حکومتیں جنگ کےلئےبہترین اسلحہ اورنئےسےنئےسامان مہیا کرتی ہیں اور فوج کے ثابت قدم رکھنے کی پوری تدبیریں کرتی ہیں مگر مسلمانوں کے اس معنوی اور روحانی ہتھیار سے بے خبر اور نہ آشنا ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ثبات قدم کا اس سے بہتر کوئی نسخہ بھی نہیں ۔ کیسی ہی مصیبت اور پریشانی ہو اللہ کی یاد سب کو ہوا میں اڑادیتی ہیں اور انسان کے قلب کو مضبوط اور قدم کو ثابت رکھتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غزوات میں انہیں ہدایت کو مستحضر کرانے کے لیے عین میدانِ جنگ میں یہ خطبہ دیا '' اے لوگوں ! دشمن کے مقابلہ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ تعالٰی سے عافیت مانگو ۔ اور جب ناگزیر طور پر مقابلہ ہو ہی جائے تو پھر صبر ثبات کو لازم پکڑو اوریہ سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے ۔

آخری آیت ( 8: 22 ) میں عام قانون کی صورت سے بتلا دیا ۔ ( ان اللہ مع الصابرین ) یعنی اللہ تعالٰی ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھی ہے ۔ اس میں میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے والے بھی شامل ہیں اور عام احکام شرعیہ کی پابندی پر ثابت قدم رہنے والے حضرات ان سب کے لیے معیت الٰہیہ کا وعدہ ہے ۔ اور معیت ہی ان کی فتح وظفر کا اصلی راز ہے کیو نکہ جس کو قادر مطلق کی معیت نصیب ہوگئی اس کو ساری دنیا مل کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتی ۔ ( ص685 ج 4 )

سفر جہاد کا ایک اہم ادب

قرآن پاک میں ارشاد ہیں ۔ ( فَا نۡفِرُوۡ ا ثُبَاتٍ اَوِنۡفِرُوۡا جَمِیۡعَا )یعنی اگر جہاد کے لیےنکلو تواکیلےاورتنہانہ نکلوبلکہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں نکلویاایک کثیر(جمیعا)لشکرکی صورت میں جاؤ ۔کیونکہ اکیلےلڑنےکےلئےجانے میں نقصان کاقوی احتمال ہے اوردشمن ایسے موقع سےپوراپورافائدہ اُٹھالیتاہے۔یہ تعلیم توجہادکےموقع کےلئےمسلمانوں کو دی گئی ہے۔لیکن عام حالات میں بھی شریعت کی یہی تعلیم ہےکہ اکیلےسفرنہ کیاجائے۔

انجامِ کارکامیابی اہل ایمان کی ہوتی ہے:۔

قرآن پاک میں ارشادہےکہ:''وَاَنۡتُمُ الاعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ہ''

اس آیت میں ایک اہم ضابطہ اوراُصول کی طرف رہنمائی فرمائی وہ یہ کہ اللہ تعالٰی کی عادت اس عالم میں یہی ہےکہ وہ سختی،نرمی،دکھ،سکھ،تکلیف وراحت کےدنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے ہیں ۔ اگر کسی وجہ سے کسی باطل کو قوت کو عارضی فتح و کامرانی حاسل ہو جائے تو جماعت حقہ ، کو اس سےبد دل نہیں ہو نا چاہئے اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کو اب ہمیشہ شکست ہی ہو ا کرے گی ۔ بلکہ اس شکست کے اسباب کا پتہ لگا کر ان اسباب کا تدارک کرنا چاہئے ۔ انجام کا فتح جماعت حقہ ہی کو نصیب ہو گی۔


دوسری جگہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( وَ کَانَ حَقَّاً عَلَیۡنَا نَصۡرُ الۡمُئۡومِنیۡنَ )(30 : 47 ) اور ہمارے ذمہ تھا کہ ہم مؤمنین کی مدد کرتے ۔ اس کا تقاضا بظاہر یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کبھی شکست نہ ہو ۔ حالانکہ بہت سے واقعات اس کے خلاف ہوئےہیں اور ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ مؤمنین سے مراد وہ مجاہد ین فی سبیل اللہ ہیں جو خالص اللہ کے لیے کفار سے جنگ کرتے ہیں ۔ایسےلوگوں کاہی انتقام اللہ مجرمین سےلیتےہیں اوران کوغالب کرتےہیں۔جہاں کہیں اس کےخلاف کوئی صورت پیش آتی ہےوہاں عموماًمجاہدین کی کوئی لغزش ان کی شکست کا سبب بنتی ہے جیساغزوہ احدمیں ہوا۔

کامیابی کےلئےگناہوں سے بچنالازمی ہے

جو لوگ محض نام ، مؤمن مسلمان رکھ لیں ۔ احکام خداوندی سے غفلت و سرکشی کے عادی ہو ں ، اور غلبہ کفار کے وقت بھی اپنے گناہوں سے تائب نہ ہو ں وہ اس وعدہ میں شامل نہیں وہ نصرت الہیہ کے مستحق نہیں ۔ یوں اللہ تعالٰی اپنی رحمت سے بغیر کسی استحقاق کے بھی نصرت وغلبہ فرمادیتے ہیں ۔ اس کی امید رکھنا اور اس سے دعا مانگنا ہر حال میں مفید ہی مفید ہے ۔ ( ص 761 ج 6 )

ظاہری شکست کبھی امتحان کے لئے ہوتی ہے

سورہ عنکبوت کی آ یت ( 29 :372 ) میں (وَھُمۡ لاَ یُفتنُوۡنَ ) فتنہ سے مشتق ہے ۔جس کے معنی آزمائش کے ہیں ۔ اہل ایمان خصوصا انبیاء وصلحا کو دنیا میں مختلف قسم کی آزمائشوں سے گذرناہو تا ہے ، پھر انجام کا ر فتح اور کامیابی ان کی ہوتی ہے ۔ ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیرمخلص اور نیک وبد میں ضرور امتیاز کریں گے ۔ یعنی اللہ تعالٰی کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہو نے سے پہلے بھی معلوم ہے۔ امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرمادیں ۔



ضرورت جہاداور تر ک کےنقصانات

سور ہ محمد کی آیت 22کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے احکام شرعیہ الہیہ سےروگردانی کی جن میں حکم جہادبھی شامل ہےاس کا اثریہ ہوگاکہ تم جاہلیت کے قدیم طریقوں پرپڑجاؤگےجس کالازمی نتیجہ زمین میں فساداورقطع ارحام ہےجیساکہ جاہلیت کےہر کام میں اس کا مشاہدہ ہوتاتھاکہ ایک قبیلہ دوسرےقبیلہ پر چڑھائی اورقتل وغارت کرتاتھا۔اپنی اولادکوخوداپنےہاتھوں زندہ درگور کردیتےتھےاسلام نےان تمام رسومات جاہلیت کومٹایااوراس کےمٹانےکےلئےحکم جہادجاری فرمایاجواگرچہ ظاہرمیں خونریزی ہے مگردرحقیقت اس کاحال سڑےہوئےعضوکوجسم سےالگ کردیناہےتاکہ جسم سالم رہے۔جہادکےذریعہ عدل وانصاف اورقرابتوں اوررشتوں کا احترام قائم ہوتا ہے۔

دوسری جگہ ارشاد ہے۔( وَ لَوۡ لاَ دَفَع اللہ الناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )الٰی آخر الایۃ(40:22) اس جہاد و قتال کی حکمت کا اور اس کا بیان ہے کہ یہ کوئی نیا حکم نہیں پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں کو بھی قتال کفار کے احکام دئیے گئےہیں۔ اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کسی مذہب اور دین کی خیر نہ تھی۔ سارے ہی دین و مذہب اور ان کی عبادت گاہیں ڈھا دی جاتیں۔

حالتِ عذر میں ترکِ جہاد کی گنجائش

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالٰی ہے۔فَضلَ اللہُ المُجَا ھِدِیۡنَ بِاَمۡوَالِِِِھِمۡ وَ اَنۡفُسِھِمۡ عَلَی القَاعِدِیۡنَ دَرَجَۃَ وَّکلا وعَدَاللہُ الۡحُسۡنَیٰ ۔

یعنی اللہ تعالٰی نے مجاھدین کو تارکینِ جہاد پر فضیلت دی ہے اور اللہ تعالٰی نے دونوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔

اس میں ایسے لوگوں سے جو عذرکے سبب یا کسی دوسری دینی خدمت مشغول ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوں، تو ان سے بھی بھلائی کا وعدہ مذکورہ ہے ۔ ورنہ اس کے چھوڑنے والوں سے وعدہ ہونے کی ضرورت نہ تھی۔

اسی طرح ایک دوسری آیات میں ہے:

(فَلَوۡ لاَنَفَرَ مِنۡ کُلَ فِرۡقَۃِ مِنھُمۡ طَائفۃ لِیَتفقھوافَی الدینَ) "

اور کیوں نہ نکل کھڑی ہوئی تمھاری ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت اس کام کے لئے کہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرے"۔

اس میں خود قرآن کریم نے یہ تقسیم عمل پیش فرمائی۔ کہ کچھ مسلمان جہاد کا کام کریں اور کچھ تعلیم دین میں مشغول رہیں۔

حا لت عذر کی حقیقت:۔


سورہ توبہ کی آیت 46 وَلَوۡ اَرَدُ وۡ الۡخُرُوۡجَ لاَ عَدُوَّ لَہُ عُدُۃُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یعنی اگر واقعی یہ لوگ جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لئے ضروری تھا کہ کچھ تیاری بھی توکرتے ۔ لیکن انھوں نے کوئی تیاری نہیں کی ۔ جس سے معلوم ہوا کہ عذر کا بہانہ غلط تھا ۔ در حقیقت ان کا ارادہ ہی جہاد کے لئے نکلنے کا نہیں تھا ۔

اس آیت سے ایک اہم اصول مستفاد ہو ا کہ جو تعمیل حکم کے لئے تیار ہوں پھر کسی اتفاق حادثہ کے سبب معذور ہو گئے ۔ جس کی وجہ سے نہ جا سکے تو ان کا عذر معقول ہے ۔

بغیر عذر شرکتِ جہادسےمحرومی کاوبال

غزوہ تبوک میں حکم عام کے باوجود بعض منافقین شریک نہیں ہوئے ، اور صرف خود ہی نہیں بیٹھے رہے بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کی کہ :۔

لاَتَنفِرُوۡ ا فِی الحَر :۔یعنی گرمی کے زمانہ میں جہاد کے لئے نہ نکلو۔ غزوہ تبوک کا حکم اس وقت ہوا تھا جب بہت سخت گرمی پڑرہی تھی حق تعالٰی نےان کا جواب دیا کہ :۔

( قُلۡ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرَّا )

یعنی یہ بد نصیب اس وقت کی گرمی کو دیکھ رہے ہیں اور اس سے بچنے کی فکر کر رہے ہیں اس کے نتیجہ میں حکم خدا اور رسول کی نافرمانی پر جو جہنم کی آگ سے سابقہ پڑنے والا ہے ۔ اس کی فکر نہیں کرتے کیا یہ موسم کی گرمی جہنم کی گرمی سے ذیادہ ہے ۔

جہاد وقتال میں احکام کی پابندی

قرآن پاک کی آیت (وَاِنِ استَنصرُوۡ کُمۡ فِی الدِینِ فَعَلَیکُم النصرُ ( 8 : 72 ) اس میں مذہبی تعصب اور عصبیت جاہلیت کی روک تھام کرنے کے لئے یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ مذہبی رشتہ اگر چہ اتنا قوی اور مضبوط ہے مگر معاہدہ کی پابندی اس سے بھی زیادہ مقدم اور قابل ترجیح ہے مذہبی تعصب کے جوش میں معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں ۔ یہی شریعت اسلام کی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس نے ان کو دنیا میں فتح و عزت اور آخرت کی فلاح کا مالک بنایا ہے ۔ ورنہ عام طور پر دنیا کی حکومتیں معاہدات کا ایک کھیل کھیلتی ہیں جس کے ذریعہ کمزور کو دبانا اور قوت والے کو فریب دینا مقصد ہوتا ہے ۔ جس وقت اپنی ذرا سی مصلحت ہوتی ہے تو سو طرح کی تا ویلیں کرکے معاہدہ کو ختم کر ڈالتے ہیں ۔ اور الزام دوسروں کے سر لگانے کی فکر کرتے ہیں ۔

صلح حدیبیہ کے وقت ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار مکہ سے صلح کرلی اور شرائط صلح میں یہ بھی داخل تھا کہ مکہ سے جو شخص اب مدینہ جائے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس کردیں ۔ عین اس معاملہ صلح کے وقت ابو جندل رضی اللہ عنہ (عنہم) جن کو کفار مکہ نے قید کرکے طرح طرح کی تکلیفوں میں ڈالاہواتھا کسی طرح حاضر خدمت ہوگئے اور اپنی مظلومیت کا اظہار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کے طالب ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمت عالم بن کر آئے تھے ایک مظلوم مسلمان کی فریاد سے کتنے متاثر ہوئے ہوں گے اس کا اندازہ کرنا بھی ہر شخص کے لئے آسان نہیں مگر اس تاثر کے باوجود آیت مذکورہ کے حکم کے مطابق ان کی امداد کرنے سے عذر فرما کر واپس کردیا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظریہ بھی تھاکہ جلد مکہ فتح ہونے والا ہے اور یہ سب قصے ختم ہونے والے ہیں ) ۔ ( معارف القرآن ص 298 ج 4 )

( اسی طرح) غزوہ بدر میں جب کہ تین سو تیرہ بے سرو سامان کا مقابلہ ایک ہزار با شوکت کافروں سے ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک شخص بھی اس وقت ان کی امداد کو پہنچ جائے تو کس قدر غنیمت معلوم ہو گا ۔ لیکن اسلام کی پابندی عہد ان سب باتوں سے مقدم ہے عین میدان کارِ راز میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ (عنہم) اور ابوحسل رضی اللہ عنہ (عنہم) دو صحابی شرکتِ جہاد کے لئے پہنچتے ہیں ، مگر آ کراپنے راستے کا حال بیان کرتے ہیں کہ راستے میں کفار نے روکا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد کو جارہےہو ۔ ہم نے انکار کیا اور عدم شرکت کا وعدہ کرلیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وعدہ کا علم ہوا تو دونوں کو شرکت جہاد سے روک دیا اور فرمایا کہ ہم ہر حال میں وعدہ وفاکریں گے ، ہمیں اللہ تعالٰی کی امداد کافی ہے اور بس ۔

حقیقت میں اللہ کے احکام کی پابندی ہر چیز سے مقدم ہے اللہ کی نافرمانی اتنی خطرناک ہے کہ جہاد جیسا مبارک عمل بھی جنت میں لے جانے کا اس وقت ذریعہ بنے گا جب اللہ کی نافرمانی کے مرتکب نہ ہوں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ (عنہم) سے منقول کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اہل اعراف کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی والدین کی مرضی اور اجازت کے خلاف جہاد میں شریک ہوں گئے اور اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ،تو ان کو جنت کے داخلہ سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم کے داخلہ سے شہادت فی سبیل اللہ نے روک دیا ۔
( معارف القرآن ص 568 ج 3 )

معلوم ہوا کہ جہاد کے ساتھ اللہ کے دوسرے احکام کی پابندی بھی لازم ہے ۔

خداسے تعلق تمام رشتوں سے مقدم ہے :۔

مسلمان صرف اللہ کےلئے اور اسلام کے لئے جہاد کرتا ہے اور جو وطن یا نسب ، اللہ تعالٰی اور اسلام کی راہ میں حائل ہو ،اس نسب و وطن کو بھی اس پر قربان کردیتا ہے ۔ اسلام کی سب سےپہلی ہجرت مدینہ نے اور غزوہ بدر و احد کے میدانوں نے ہمیں یہی سبق دیئے ہیں ۔ کیونکہ ان میدانوں میں ایک ہی خاندان کے افراد کی تلواریں اسی خاندان کے دوسرے افراد کے سروں پر اس لئے پڑی ہیں کہ وہ اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن تھے اگر وطن اور قبائلی وحدتیں مقصود ہو تو یہ سارے جہاد فضول ہوتے ۔
(جہاد ۔ ص13 )

غزوہ بدر میں اس وقت جب دونوں لشکر ملے تو دیکھا گیا کہ بہت سے اپنے ہی لخت جگر تلواروں کی زد میں ہیں ۔ مگر اس حزب اللہ کا عقیدہ تھا

ہزاروں خویش کہ بیگانہ از خدا باشد
فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد

چنانچہ جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ( جو اب تک کافر تھے میدان میں آئے ) تو خود صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تلوار ان کی طرف بڑھی عتبہ سامنے آیا تو اس کے فرزند حضر ت حذیفہ رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر باہر نکلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ماموں میدان میں بڑھا تو فاروقی تلوار نے خود اس کافیصلہ کیا-
(پیغمبرامن عالم کی حیثیت سےص105)

رشتہ داری اوردوستی کے سارےتعلقات پراللہ تعالٰی اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کاتعلق مقدم ہےجوتعلق اس سے ٹکرائےوہ توڑنےکےقابل ہے۔صحابہ کرام کاوہ عمل جس کی وجہ سے وہ ساری اُمت سے افضل واعلیٰ قرارپائےیہی چیز تھی کہ انھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پراپنی جان ومال اورہررشتہ وتعلق کو قربان کرکے زبان حال سےکہا؛

تونخل خوش ثمرکیستی کہ سرو سمن

ہمہ زخویش بریدندوباتوپیوستند

بلال حبشی رضی اللہ عنہ ،صہیب رومی رضی اللہ عنہ ،سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اورقریش مکہ ،انصارمدینہ توسب آپس میں بھائی بھائی ہوگئےاور بدر و احدکےمیدانوں میں باپ،بیٹےبھائی بھائی کی تلواروں نےآپس میں ٹکراکراس کی شہادت دی کہ ان کامسلک یہ تھاکہ؛

ہزارخویش کہ بیگانہ از خداباشد

فدائےیک تن بیگانہ کاشناباشد
(معارف القرآن ص338ج4)

جہادکاعمل صدقہ جاریہ سےبھی بڑھاہوا۔


اسلامی سرحدوں کی حفاظت کےلئےجنگ کی تیاری کےساتھ وہاں قیام کرنےکورباط یامرابطہ کہا جاتاہےرباط کےفضائل بےشمارہیں صحیح مسلم میں بروایت سلمان رضی اللہ عنہ (عنہم) مذکورہےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ''ایک دن کا رباط ایک مہینہ مسلسل روزےاورتمام شب عبادت میں گذارنے سےبہتر ہے۔اوراگروہ اسی حال میں مرگیاتواس کےعمل رباط کاروزانہ ثواب ہمیشہ کےلئےجاری رہےگا۔اور اللہ کی طرف سےاس کارزق جاری رہےگا۔اوروہ شیطان سےمامون ومحفوظ رہےگا۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ ہرایک مرنےوالےکاعمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہوجاتاہے۔بجزمرابط کےکہ اس کاعمل قیامت تک بڑھتاہی رہتاہے،اورقبرمیں حساب وکتاب لینےوالوں سےمامون ومحفوظ رہتاہے۔

ان روایات سےمعلوم ہوا کہ عمل رباط ہرصدقہ جاریہ سے بھی زیادہ افضل ہے۔کیونکہ صدقہ جاریہ کاثواب تواسی وقت تک جاری رہتاہےجب تک اس کےصدقہ کئےہوئےمکان،زمین،یاتصانیف کُتب یاوقف کی ہوئی کتابوں وغیرہ سےلوگ فائدہ اُٹھاتےرہیں جب یہ فائدہ منقطع ہوجائےگاتو ثواب بھی بندہوجائےگا۔مگرمرابط فی سبیل اللہ کاثواب قیامت تک منقطع ہونےوالانہیں۔اوروہ جتنے نیک کام دنیامیں کیاکرتاتھا۔ان کاثواب بھی بغیرعمل کئےہمیشہ جاری رہے گا۔(معارف ص275ج2)

مشروعیت جہادکی حکمت ومصالح؛

اس آیت( وَلَوۡ یَشَآءُاللہُ لاَ نۡتَصَرَمِنۡھُمۡ ) (سورۂ محمد؛آیت4)میں حق تعالٰی نےارشادفرمایاکہ اس امت میں کفارسےجہادوقتال کی مشروعیت درحقیقت ایک رحمت ہے۔کیونکہ وہ آسمانی عذابوں کے قائم مقام ہے کیونکہ کفر وشرک اور اللہ سے بغاوت کی سزا پچھلی قوموں کو آسمانی اور زمینی عذابوں کے ذریعہ دی گئی ہے ۔ امت محمدیہ میں ایسا ہو سکتا تھا مگر رحمت اللعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اس امت کو ایسے عذابو ں سے بچا لیا گیا اور اس کے قائم مقام جہاد شرعی کو کردیا گیا جس میں بہ نسبت عذاب عام بڑی سہولتیں اور مصلحتیں ہیں اول تو یہ کہ عذاب میں پوری قومیں مرد ، عورت، بچے سبھی تباہ ہوتے ہیں ۔ اور جہاد میں عورتیں بچے تو مامون ہیں ہی مگرمرد بھی صرف وہی اس کی زد میں آتے ہیں جو اللہ کی دین کی حفاظت کرنے والوں کے مقابلہ پر قتال کے لئے آکھڑے ہوں پھر اس میں بھی سب مقتول نہیں ہوتے۔ ان میں بہت سے لوگ کو اسلام و ایمان کی تو فیق نصیب ہوجاتی ہے ۔ نیز جہاد کی مشروعیت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذ ریعے جہاد و قتال کے دونوں فریق مسلمان اور کفار کا امتحان ہو جاتا ہے کہ کون اللہ کے حکم پر اپنی جان ومال نثار کرنے کو تیار ہوجاتا ہے اور کون سرکشی اورکفر پر جما رہتا ہے یا اسلام کے روشن دلائل کو دیکھ کر اسلام قبول کرلیتا ہے ۔
( معارف القرآن ص30 ج8 )

حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے جہاد کے فرض ہونے کی ایک حکمت یہ بھی فرمائی ہے کہ قہر وغضب اور مدافعت کا مادہ جو انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے ۔ جب جہاد کے ذ ریعہ اپنا صحیح مصرف پالیتا ہے تو آپس کی خانہ جنگ اور فساد سے خود بخود نجات ہوجاتی ہے ۔ورنہ اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جس چھت میں بارش کا پانی نکلنے کا راستہ پر نالوں کے ذریعہ نہ بنایا جائے تو پھر یہ پانی چھت توڑ کر اندر آجاتاہے ۔


آج اگر غور کیا جائے تو پورے عالم اسلام پر یہی مثال صادق آتی ہے ۔ اور شیطان اور شیطانی تعلیم ،کفر والحاد خدااور رسول سے بغاوت ، فحاشی وعیاشی سے طبیعتیں مانوس ہورہی ہیں ان کی نفرت دل سے نکل چکی ہے اس پر کسی کو غصہ نہیں آتا ۔ انسانی رواداری ، اخلاقی اور مروت کا سارا زور کفرو الحاد اور ظلم کی حمایت میں صرف ہوتا ہے ۔ نفرت ، بغاوت، عداوت، کا میدان خود اپنے اعضاء جوارح کی طرف ہے ۔ آپس میں ذرا ذراسی بات پر جھگڑاہے ۔ چھوٹاسا نقطہ اختلاف ہو تو اس کو بڑھا کر پہاڑبنادیا جاتا ہے اخبارات و رسائل کی غذایہی بن کر رہ گئی ہے دونوں طرف سے اپنی پوری توانائی اس طرح صرف کی جاتی ہے کہ گویا جہاد ہو رہا ہے دو مخالف طاقتیں لڑرہی ہیں اور کوئی خدا کا بندہ اپنی طرف نظر کرکے نہیں دیکھتا کہ
ظالم جو بہ رہا ہےوہ تیرا ہی گھر نہ ہو
(وحدت امت ص53 )

آمین بحرمتہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
افادات: مفتی اعظم پاکستان مولانامفتی محمد شفیع صاحب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
مرتب

جناب محمد ارشد صاحب
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

 
sahj's Avatar
sahj
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 80
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (27-05-10)
جواب

Tags
فن, فرض, کتابوں, پاک, پاکستان, قید, نفرت, چور, نثار, نظر, مکہ, موت, منافقین, ماں, مجید, تعلیم, جرم, حدیث, حزب اللہ, دریافت, دعا, عبادت, غزوہ بدر, صحابی, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger