واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > جہاد



جہاد جہاد


وصیّتِ شیخ عبداللہ عزّام شہید(رحمہ اللہ)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-09-10, 05:03 PM   #1
وصیّتِ شیخ عبداللہ عزّام شہید(رحمہ اللہ)
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آن لائن ہے 19-09-10, 05:03 PM

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

اللہ تعالیٰ کے بندۂ فقیر عبداللہ بن یوسف عزام کی وصیّت

’’یقیناً تمام تعریفیں اللہ وحدہ، لاشریک کے لئے ہیں۔ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کے شراور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! کوئی کام آسان نہیں سوائے اس کے جسے توُ آسان فرما دے اور توُ چاہے تو غم جھیلنا بھی آ سان کر دیتا ہے۔ اما بعد؛

جہاد کی محبت میرے جذبات و احساسات، میرے جسم و جان اور میری زندگی کے ہر معاملے پر چھائی رہی ہے۔ سورۂ توبہ، جس کی محکم آیات جہاد کے حتمی احکامات بیان کرتی ہیں اور قیامت تک کے لئے اس دین میں جہاد کے عظیم مقام و مرتبے کا تعین بھی کئے دیتی ہیں، یہ مبارک سورت میرے دل کوخون کے آنسو رلاتی اور میرے سینے کو شق کئے دیتی رہی۔ کیونکہ میں کھلی آنکھوں سے دیکھتا رہا ہوں کہ میں اور تمام مسلمان قتال فی سبیل اللہ جیسے عالی شان فریضے کی ادائیگی میں انتہائی کوتاہی اور غفلت کا شکار ہیں‘‘۔

٭٭٭٭٭٭

’’امام مسلم(رحمہ اللہ) اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ

أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (١٩)الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُقِيمٌ (٢١)خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ (التوبۃ:۹۱۔۲۲)

’’کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجدِ حرام کو آباد کرنااس شخص کے عمل جیسا سمجھ لیا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے؟اللہ کے نزدیک تو یہ لوگ برابر نہیں ہیں۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے رہے، اللہ کے ہاں تو انہی کا درجہ بڑا ہے، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہوں گی۔ ان میں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔‘‘


یہ فرمانِ مبارک اس وقت نازل ہوا جب کچھ صحابۂ کرام(رضی اللہ عنہم) میں اس بات پر اختلاف پیدا ہوگیا کہ ایمان لانے کے بعد افضل ترین عمل کو ن سا ہے۔ایک صحابی(رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ مسجد ِ حرام کی آباد کاری افضل ترین عمل ہے، ایک اورصحابی (رضی اللہ عنہ)نے فرمایا کہ حاجیوں کو پانی پلانا افضل ترین عمل ہے ، جب کہ ایک تیسرے صحابی(رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ افضل ترین عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرما کرواضح فیصلہ فرما دیا کہ جہاد فی سبیل اللہ، مسجد ِحرام کو آباد کرنے سے بھی افضل عمل ہے۔ بلاشبہ جہاد کی افضلیت کے بارے میں اب کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کیونکہ اس آیت کا سببِ نزول اسی مسئلے میں صحابہ(رضی اللہ عنہم) کا باہمی اختلاف تھا اور اس سببِ نزول کی تخصیص یا تاویل بھی ممکن نہیںکیونکہ یہ نص خود بھی اپنے معنی میں قطعی ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت عبداللہ بن مبارک(رحمہ اللہ) پر اپنی خصوصی رحمتیں نازل فرمائے، جنہوں نے حضرت فضیل بن عیاض(رحمہ اللہ) کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے:

یا عابد الحرمین لو أبصرتنا لعلمت أنک بالعبادۃ تلعب

اے مکہ و مدینہ کے عابد ! کاش تم ہمیں دیکھ لیتے تو تم خود

ہی جان لیتے کہ تم نے عبادت کو ایک کھیل سمجھ رکھا ہے

من کان یخضب خدہ بدموعہ فنحورنا بدمائنا تتخضب

آنسوؤں سے گال تر کرن ے والے کو معلوم ہو کہ ہماری

گردنیں اگر بھیگی ہیں تو یہ ہمارے خون سے بھیگی ہیں

آپ نے دیکھا کہ عظیم محدث و فقیہ حضرت عبدا للہ بن مبارک(رحمہ اللہ) نے حضرت فضیل(رحمہ اللہ) سے کیا فرمایا؟ انہوں نے حرم کے سائے میں بیٹھ کر کی جانے والی عظیم عبادت کے بارے میں فرمایا کہ اگر ایک طرف مسلمانوں کی حرمتیں پامال کی جا رہی ہوں، خون بہایا جارہا ہو، عزتیں خاک میں ملائی جارہی ہوں اور اللہ کے دین کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوششیںزور وشور سے جاری ہوں ، تو ایسے میں میدانِ جہاد کا رخ کرنے کی بجائے حرم میں بیٹھ کر عبادت کرنا اللہ کے دین کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے!

جی ہاں! مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں ذبح ہوتے چھوڑ دینا اورپھران کا لہو بہتے دیکھ کر محض ’’لاحول‘‘ پڑھنا، ’’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ کا ورد کرنا ،دور کھڑے کفِ افسوس ملنا ، مگر ان کی مدد کے لئے ایک قدم تک نہ اٹھانا ،یہ اللہ کے دین کے ساتھ کھیل تماشہ نہیں تواور کیا ہے؟

آخر کب تک ہم ان جھوٹے احساسات اور سرد جذبات کا نمائشی اظہار کر کر کے اپنے آپ کو دھوکہ دیتے رہیں گے؟

کیف القرار وکیف یھدأ مسلم

والمسلمات مع العدو المعتدی

کیسے قرارآگیا مسلمان کو؟ کیوں وہ چین سے بیٹھا ہوا ہے؟

ایسے حال میں کہ جب مسلمان عورتیں ظالم دشمن کے شکنجے میں ہیں‘‘

٭٭٭٭٭٭

’’میری رائے میں مسلمانوں کی سرزمینوں پر حملہ آور (یا قابض) دشمن کو نکالنا محض فرضِ عین ہی نہیں، اہم ترین فرضِ عین ہے، جیسا کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ (رحمہ اللہ) نے فرمایا ہے:

’’والعدوالصائل الذی یفسد الدین والدنیا لا شئ أوجب بعد الایمان من دفعہ۔‘‘

’’ایمان لانے کے بعد،دین و دنیاکی بربادی کے درپے حملہ آور دشمن کو پچھاڑنے سے بڑھ کر اور کوئی فریضہ نہیں ہے۔‘‘

میری رائے میں،وا للہ اعلم،آج تارک ِقتال فی سبیل اللہ اور تارکِ نماز، روزہ یا زکوٰۃمیں کوئی فرق نہیں۔

میری رائے میں آج دنیا والے نہ صرف اللہ رب العالمین کے سامنے جوابدہی کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، بلکہ تاریخ بھی ان سے ضرور حساب لے گی۔

میری رائے میں دعوتِ دین ، تصنیف و تالیف یا دینی تربیت میں مشغولیت کو نہ تو ترکِ جہادکا بہانہ بنایا جا سکتا ہے، نہ ہی اللہ کی پکڑ سے بچانے کا ذریعہ۔

میری رائے میں آج زمین پر بسنے والے ہر مسلمان کی گردن میں ترکِ قتال فی سبیل اللہ کا طوق ہے، ہر مسلمان کے کندھوں پر بندوق چھوڑنے کے گناہ کا بوجھ ہے ۔بلا شبہ جو مسلمان بھی آج اس حال میں جان دے رہا ہے کہ اس کے ہاتھ بندوق سے، بغیر کسی عذر کے خالی ہیں تووہ گناہ ونافرمانی کی حالت میں اللہ کے پاس پہنچ رہا ہے ، کیونکہ وہ ایسے حالات میں قتال کو ترک کئے بیٹھا ہے جب معذوروں کے سوا دنیا کے ہر مسلمان پر قتال فرضِ عین ہو چکا ہے، اور فرض اسی حکم کو کہا جاتا ہے جسے پورا کرنے پر ثواب اور ترک کرنے پر گناہ یا حساب کا سامنا کرنا پڑے۔

میری رائے میں، واللہ اعلم، ترکِ جہاد کے معاملے میں صرف اندھوں، لنگڑوں یا بیماروں ہی کا عذر قبول کیا جائے گایا ان کمزور و مجبور مردوں،عورتوںاور بچوں کا ، جن کے بس میں ہی نہیں کہ وہ جہاد میں شرکت کر سکیں ، نہ ہی وہ میدانِ جہاد تک پہنچنے کی راہ پاتے ہیں۔

(پس ان مجبوروں کے سوا) سب کے سب لوگ آج ترکِ جہادو قتال کی وجہ سے گنہگار ہو رہے ہیں،چاہے یہ ترکِ قتال فلسطین یا افغانستان کے معاملے میں ہو یا کسی بھی اسلامی سرزمین کے معاملے میں جہاںغاصب کفار نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں اوروہ اسے اپنے ناپاک قدموں تلے روند رہے ہیں۔

اور میری رائے میں آج قتال و جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر نکلنے کے لئے کسی سے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ان حالات میں تو کسی کے پاس بھی کسی دوسرے کو اجازت دینے یا منع کرنے کا حق باقی نہیں رہا،نہ والدکا اپنے بیٹے پر ،نہ شوہرکا اپنی بیوی پر)محرم کی شرط کے ساتھ(، نہ قرض خواہ کا مقروض پر، نہ استاد اور شیخ کا شاگردوں پر اورنہ ہی امیر کا مامورین پر ایسا کوئی حق ہے۔

یہ محض میری ذاتی رائے نہیں،اس بات پرتو اسلامی تاریخ کے تمام ادوارمیں علمائے امت کا اجماع رہا ہے کہ ایسے حالات میں )جب جہاد فرضِ عین ہو جائے(اولاد اپنے والدین کی اور بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر نکلے گی۔ جو شخص بھی اس بارے میں کوئی مغالطہ پھیلانا چاہے یقینا وہ ظالم و سرکش ہے ، اور ہدا یتِ الٰہی کے بجائے اپنی خواہشِ نفس کا پیرو کار ہے۔ یہ مسئلہ بالکل واضح،طے شدہ اور قطعی ہے، ہر شک و شبہے سے بالا ہے ،لہٰذا اس میں کسی قسم کے کھیل تماشے اور من مانی تاویل و تشریح کی کوئی گنجائش نہیں۔

تین صورتوں میں تو امیر المؤمنین سے بھی اجازت نہیں لی جاتی:

۱۔جب امیر جہاد کو معطل کر دے۔

۲۔جب اجازت مانگنے سے اصل مقصد ہی فوت ہو جائے،( مثلاً جب یہ نظر آرہا ہو کہ اگر اجاز ت ملنے کا انتظار کیاگیا تو اس تاخیر سے کوئی نقصان ہو جائے گا یادشمن کارروائی مکمل کر کے بھاگ نکلے گا۔)

۳۔جب پہلے ہی پتہ ہو کہ امیر نے اجازت نہیں دینی۔

میری رائے میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو افغانستان میں بہنے والے خون کے ایک ایک قطرے اور یہاں پامال ہونے والی ہر ہرعزت کا جواب اللہ کے دربار میں دینا ہوگا۔یقینا ، واللہ اعلم، پوری امّتِ مسلمہ ان مظلوموں کے خون میں برابر کی شریک ہے، اس لئے کہ اس کے پاس اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے دفاع کے لئے درکار اسلحہ بھی موجودہے،امت کے پاس وہ طبیب بھی ہیں جو ان کا علاج معالجہ کریں،پھر مسلمانوں کے پاس وہ مال بھی ہے جس سے ان کی دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو سکے، ان کے پاس وہ آلات بھی ہیں جن سے مجاہدین کے لئے مضبوط مورچے اور خندقیں کھودی جا ئیں ،مگر یہ پھر بھی ان کی نصرت سے ہاتھ کھینچے بیٹھے ہیں‘‘۔

٭٭٭٭٭٭

’’اے مسلمانو!

جہاد تمہاری زندگی ہے،جہاد تمہاری عزت ہے ۔اور جہاد نہ رہا توتمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں ۔

اے دین کی طرف دعوت دینے والو!سن لو کہ اس آسمان کے نیچے تمہاری کوئی وقعت نہ ہو گی جب تک کہ تم اسلحے سے آراستہ نہ ہو جاؤ اور طواغیت،کفار اور ظالمین کو کچل کر نہ رکھ دو!

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کا یہ مبارک دین جہاد و قتال کے بغیر ہی قائم ہو جائے گا،نہ کوئی خون بہے گا،نہ کوئی لاشیں گریں گی، یقینا انہیں وہم ہوا ہے اوروہ اس دین کی فطرت سے ناواقف ہیں،اس کے مزاج ہی کو نہیں سمجھتے۔اسلام کی شوکت و قوت، دشمنوں پر داعیانِ اسلام کی ہیبت اور امت ِ مسلمہ کی عزت ہر گز قتال کے بغیر قائم نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:

”وَلَیَنزِعَنَّ اللّٰہُ مِن صُدُورِ عَدُوِّکُمُ المَھَابَةَ مِنکُم وَلَیَقذِفَنَّ اللّٰہُ فِی قُلُوبِکُمُ الوَھنَ۔ فَقَالَ قَائِلٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَ مَا الوَھنُ؟ قَالَ حُبُّ الدُّنیَا وَکَرَاھِیَةُ المَوتِ۔“وَ فِی رِوَایَةٍ:”کَرَاھِیَتُکُم ُ القِتَال۔“(سنن أبي داود،کتاب الملاحم، باب في تداعي الأمم علی الاسلام )

’’ا ور ا للہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے د لوں سے ضرور ہی تمہاری ہیبت ختم کر دیں گے اور تمہارے دلوں میں وہن (کمزوری) ڈال دیں گے۔ توپوچھنے والے نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ وہن کیا ہے؟ فرمایا: ’’دنیاکی محبت اور موت سے نفرت‘‘۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ : ’’تمہارا قتال سے نفرت کرنا۔‘‘


نیزاللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا تُكَلَّفُ إِلا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلا)النسآء(۸۴:

’’پس تم جنگ کرو اللہ کی راہ میں، تم اپنی ذات کے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں،البتہ مومنوں کو لڑائی پر ابھارو۔ اللہ سے امید ہے کہ وہ کافروں کے زور کو توڑ دیں گے، اور اللہ سب سے زیادہ زور والے اور سب سے سخت سزا دینے والے ہیں‘‘۔

اگر قتال نہ ہو تو شرک ہر سمت پھیل جائے اور دنیا میں اسی کا غلبہ ہو۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ِ (الأنفال: ۳۹)

’’اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ ہی کے لیے خالص ہو جائے‘‘۔


یہاں فتنے سے شرک ہی مراد ہے۔

نظامِ دنیاکودرست رکھنے کا واحد ذریعہ بھی جہادہے:

وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الأرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ(البقرۃ: ۲۵۱)

’’اوراگر اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی لیکن اللہ اہلِ عالم پر بڑا مہربان ہے‘‘۔

یہی جہاد دینی شعائر اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی واحد ضمانت ہے:

الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ(الحج :۴۰)

’’اگر اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو (نصاریٰ کے) خلوت خانے اور گرجے، (یہود کے)عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جاتیں۔ اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ )کے دین(کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ قوت والا اور غلبے والا ہے‘‘۔

٭٭٭٭٭٭

اے دین کی طرف دعوت دینے والو!

موت کو ڈھونڈو،تمہیں زندگی ملے گی!دیکھو! کہیں تمہاری تمنائیں تمہیں کسی فریب میں مبتلا نہ کر دیں۔ کہیں وہ دھوکے باز ابلیس تمہیں اللہ سے غافل نہ کر دے۔ خبردار! محض کتابوں کے مطالعے اور نوافل کی کثرت سے اپنے آپ کو دھوکہ مت دینا۔ایسا نہ ہو کہ آسان اعمال میں مشغولیت عظیم تر کاموں کو تمہاری نگاہوں سے اوجھل کر دے:

’’وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ….۔‘‘؟ ( الانفال: ۷)

’’اور تم یہ چاہتے ہوکہ غیر مسلح گروہ تمہیں مل جائے ‘‘؟
جہاد کے معاملے میں کسی کی بات مت مانو،اور خوب سمجھ لو کہ جہادمیں شرکت کے لئے اپنے قائدسے اجازت لینے کی ضرورت ہر گزنہیں۔ یاد رکھو! جہاد تمہاری دعوت کی بنیاد ہے ، تمہارے دین کا مضبوط قلعہ ہے اور تمہاری شریعت کی حفاظتی ڈھال ہے۔

اے علمائے دین!

اٹاھیں اوراُس نسلِ نو کی قیادت سنبھالیں جس نے اپنی ساری دلچسپیوں کا مرکز اپنے ربّ کی رضاکو بنا لیا ہے! بزدلی کا مظاہرہ مت کریں، مت اس حقیر دنیا کی طرف جھکیں۔للہ! طاغوتوں کی ہم نشینی سے بچیں ۔ یہ تو سینوں کی تاریکی اور دلوں کی موت کا باعث ہے۔ طاغوت کی قربتیں آپ کو اہلِ ایمان سے دور کرنے کا سبب بنیں گی اور ان کے قلوب سے آپ کا احترام جاتا رہے گا۔

اے میرے مسلمان بھائیو!

بہت سو لیا تم نے ،تمہارے علاقوں پر قابض شیر کی کھال اوڑھے گیدڑ بھی بہت مزے کر چکے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

آخر کب تلک ذلت کی نیند سوتے رہو گے؟ کب یہ شیر پھر بیدار ہو گا؟

کیا گدھ تمہارا جسم یونہی نوچتے رہیں گے؟ کب یہ غلامی کا دور ختم ہو گا؟

تم لوہے کی زنجیروں میں تو نہیں جکڑے ، تم تو اپنی ہی کمزوریوں کے قیدی ہو!

پھر بتاؤ نا! کب اس قید کو توڑو گے؟آخر کب ؟بتاؤ بھی !

اے میری مسلمان بہنو!

عیش و آرام اور سہل پسندی سے بچئے، کیونکہ یہ چیزیں جہاد کی دشمن اور انسانی نفوس کے لئے انتہائی مہلک ہیں۔آسائشیں جمع کرنے کے چکر میں نہ پڑیں، بس آپ کی بنیادی ضرورتوں کا پورا ہو جانا ہی آپ کے لئے کافی ہونا چاہیے۔اپنے بچوں کو مجاہد بنائیں۔ ان میں سخت کوشی ، مردانگی اور شجاعت کی صفات پیدا کریں ۔

اپنے گھروں کو شیر وں کی کچھار بنائیں ، مرغیوں کا ڈربہ نہ بننے دیں،کیونکہ مرغیاں پل کر جتنی بھی موٹی ہو جائیں بالآخر وہ طاغوتوں کے ہاتھوں ذبح ہی ہوتی ہیں۔اپنی اولاد کے سینوں میں حبِّ جہاد کی شمع روشن کریں، شہسواری کا شوق اور میدانِ جنگ کی محبت ان کے دلوں میں اتاریں۔

اپنے سینے میں مسلمانوں کی مشکلات کا احساس بیدار رکھیں۔کوشش کریں کہ ہفتے میں کم از کم ایک دن ایسا ہو جب آپ کے گھر میں بھی مجاہدین ومہاجرین جیسی زندگی گزاری جائے ۔ اس دن سالن کے بغیر صرف چائے کے چند گھونٹوں کے ساتھ سوکھی روٹی کھا نے کا مزہ ضرور چکھیں۔

اے مسلمان بچو!

اپنے آپ کو بارود کی گھن گرج،جنگی جہازوں کے شور، ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور برستی گولیوں کے نغمے سننے کا عادی بنائو۔اور خبردار! عیش پرستوں کے ساز اور نخروں میں پلنے والوں کے گانوں سے اپنے کان مت آلودہ کرو، نہ ہی مریضوں کی طرح بستروں پر پڑے رہنے کی عادت ڈالو‘‘۔

٭٭٭٭٭٭

’’میرے مجاہد بھائیو!

آپ پر لازم ہے کہ راہِ جہاد پر جمے ہوئے پرانے مجاہد وں، بالخصوص اسامہ بن لادن، ابو الحسن المدنی، نور الدین، ابو الحسن المقدسی ، ابو سیاف اور ابو برہان کی قدرکریں۔ جہاں تک ابو مازن کا تعلق ہے تو اسے تو میں بارہاآزما چکا ہوں۔ میں نے انہیں آسمان سے برستے پانی سے زیادہ پاکیزہ اور جہاد کے معاملے میں چٹان کی سی مضبوطی کا حامل اور انتہائی غیور پایا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے مجاہدین کے لئے ایک تحفہ ہیں ، خاموشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ جہاد کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہیں۔ ان سب ساتھیوں کی غلطیوں سے چشم پوشی کرو اور ان کی قدرو منزلت کی حفاظت کرو۔ بھائی ابو الحسن مدنی کے مقام و مرتبے اور جہاد میں ان کے زبردست کردار کو ہمیشہ یاد رکھو۔ ابو ھاجر کی نصیحتوں کو غور سے سنا کرو اور تمہیں نماز بھی وہی پڑھایا کریں ، اللہ نے انہیں رقّتِ قلب اور خشوع سے نوازا ہے۔

میں ڈھیروں دعائیں کرتا ہوں اپنے مجاہد بھائی ابو عبداللہ اسامہ بن محمد بن لادن کے لئے جنہوں نے اپنے ذاتی مال سے جہاد کی بھرپور خدمت کی اور’’ مکتب الخدمات‘‘ کے اخراجات کا بوجھ اٹھایا۔ میری دعا ہے کہ اللہ ان کے اہل و عیال اور ان کے مال میں برکت ڈالے اور ہمیں ان جیسے اور بہت سے ساتھی عطا کرے۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ مجھے پورے عالمِ اسلام میں اسامہ جیسا کوئی دوسرا نظر نہیں آتا ۔ اسی لئے میری دعا ہے کہ اللہ آپ کے ایمان اور آپ کے مال کی حفاظت فرمائے اور آپ کی زندگی کو بابرکت بنائے‘‘ ۔

وسبحانک اللّٰہم و بحمدک و أشھد ان لا الہ الا أنت أستغفرک و أتوب الیک۔

منگل،۳ ۱ شعبان، ۱۴۰۶ھ (۲۲۔۴۔ ۱۹۸۶)

عبداللہ بن یوسف عزّام (رحمہ اللہ)

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 575
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (20-09-10), shafresha (20-09-10), فیصل ناصر (19-09-10), کنعان (20-09-10), نورالدین (20-09-10), مرزا عامر (19-09-10), احمد بلال (25-09-10), ذیشان نصر (02-05-12), راجہ اکرام (18-04-12), شمشاد احمد (15-10-10)
پرانا 19-09-10, 07:20 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مراسلہ آئے کافی دیر ہو گئی لیکن ابھی تک تنقید شروع نہیں ہوئی۔ یا پھر دوستوں کو مراسلہ سمجھ نہیں آیا
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-09-10), فیصل ناصر (19-09-10), عبداللہ آدم (19-09-10)
پرانا 19-09-10, 11:15 PM   #3
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,966
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بس پاک نیٹ کا مزاج ہی ایسا ہے.........................کبھی غیر متوقع تنقید

تو کبھی ایسی ہی غیر متوقع خاموشی...............

شیخ عبداللہ عزام کو اس زمانے میں فادر آف جہاد کہا جاتا ہے...................واقعی فنا فی الجہاد تھے.............

اور ادھر اپنے جہادی لیڈروں کا حال دیکھ لیں..............اپنے بیٹے گھر کے گھر ہی ہیں..........اور ...........باقی دنیا!!!

یہی وجہ ہے کہ آج بھی اپنے پرائے سب اس شخص کی کمٹمنٹ کا اعتراف کرتے ہیں.............
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-09-10), کنعان (20-09-10), نورالدین (20-09-10), مرزا عامر (19-09-10), احمد بلال (25-09-10)
پرانا 19-09-10, 11:41 PM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لگتا ہے کہ کسی نے پڑھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-09-10), احمد بلال (25-09-10)
پرانا 20-09-10, 06:45 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,048
کمائي: 55,211
شکریہ: 11,783
1,566 مراسلہ میں 4,858 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پڑھ تو رہے ہیں مگر سرسری کیوں کہ جناب کے متعلق معلومات نہيں ہیں کہ یہ کس ملک سے تعلق رکھتے تھے ۔
اور کیا کیا کام کیے ہیں انہوں نے ۔؟
یعنی کہ سوانح حیات وغیرہ
باقی یہ کہ باتیں دل کو لگتی ہوئی ہیں ۔
ان کے لیے دعائے خیر و مغفرت
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (20-09-10), احمد بلال (25-09-10), عبداللہ آدم (20-09-10)
پرانا 20-09-10, 08:44 PM   #6
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,500
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 284 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اللہ آپ کو سچ لکھنے پر بہترین اجر عطا فرمائے

عبداللہ بھائی
اسلام علیکم
اللہ آپ کو سچ لکھنے پر بہترین اجر عطا فرمائے۔ آج بھی دنیا کے سب سے بڑے فرعون کی گردن اللہ نے خود ہی مجاہدین کے ہاتھ میں دی ہے کہ اسے توڑو، اور وہ ٹوٹ رہی ہے ۔ جنہیں دنیا میں کوئی چیلنج نہ کر سکتا تھا اورجن سے بڑے بڑے سٹاروں والے ڈر جاتے ہیں وہ خاک نشینوں کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔ بے شک بہترین چال اللہ ہی کی ہے اور جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
Aurangzeb Yousaf آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (20-09-10), مرزا عامر (20-09-10), احمد بلال (25-09-10), راجہ اکرام (18-04-12), عبداللہ آدم (20-09-10)
پرانا 20-09-10, 09:45 PM   #7
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,966
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
پڑھ تو رہے ہیں مگر سرسری کیوں کہ جناب کے متعلق معلومات نہيں ہیں کہ یہ کس ملک سے تعلق رکھتے تھے ۔
اور کیا کیا کام کیے ہیں انہوں نے ۔؟
یعنی کہ سوانح حیات وغیرہ
باقی یہ کہ باتیں دل کو لگتی ہوئی ہیں ۔
ان کے لیے دعائے خیر و مغفرت
ڈاکٹر عبد اللہ عزام فلسطین سے تعلق رکھنے والے اولو العزم جہادی رہنما تھے.
1948 کی ہجرت کے وقت کمسنی میں فلسطین ہی میں تھے،بعد ازاں تعلیم کے لیے مصر آئے جہاں اخوان المسلمون سے متاثر ہوئے.
بعد ازاں سعودی عرب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی اور افغانستان پر روسی قبضے کے ہونے کے کچھ عرصہ بعد اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں متعین ہوئے،
کچھ عرصہ جہاد اور ملازمت کو ساتھ چلایا لیکن پھر شوق نے اپنا ہی میمان کر لیا............مکتب الخدمات کے نام سے عرب مجاھدین کی آمد،عرب دنیا سے فنڈنگ، اور افغآن جہاد کے ذریعے فلسطین کے جہاد کی تیاری کا وژن.............!!!
اسی مرد مجاھد کی کدو کاوش تھی.القائدہ،اور اس کے علاوہ دنیا بھر میں جہاد کی موجودہ تحریکوں کے سلسلے میں"فادر آف جہاد" آج عبد اللہ عزام ہی کو خیال کیا جاتا ہے.

روس کےجانے کے بعد افغان رہنماؤں کے درمیان صلح وصفائی کی انتھک کوششیں کیں،اور اسی دوران نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آتے ہوئے 1989 نومبر میں ایک بم دھماکے میں شہید ہوئے....................ایک سادہ سی قبر "شمشتو" مہاجر کیمپ پشاور میں اس سیماب صفت درویش کی آخری آرامگاہ ٹھہری.یوں خاک فلسطین سے اٹھنے والی یہ چنگاری ہزاروں جانباز و سرفروش اسلام کے لیے مر مٹنے کا عزم لیے ہوئے چھوڑ کر اپنی خاکستر کو پہنچی

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را


.................................................. ................

""ہم دھشت گرد ہیں اور دھشت گردی اسلام میں فریضہ ہے،تاکہ شرق و غرب جان لیں کہ ہم "ارھابی" ہیں................

وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ
اور مہیا رکھو اُن کے مقابلے کے لیے جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیّار بندھے رہنے والے گھوڑے تاکہ دھشت زدہ کرسکو تم اُس کے ذریعہ سے اللہ کے دشمنوں کو، اور اپنے دشمنوں کو""

عبداللہ عزام رحمہ اللہ
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (21-09-10), مرزا عامر (20-09-10), احمد بلال (25-09-10), حیدر (18-04-12), راجہ اکرام (18-04-12)
پرانا 20-09-10, 10:02 PM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE][""ہم دھشت گرد ہیں اور دھشت گردی اسلام میں فریضہ ہے،تاکہ شرق و غرب جان لیں کہ ہم "ارھابی" ہیں................
/QUOTE]
Attached Images
 
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (23-09-10), نورالدین (21-09-10), احمد بلال (25-09-10), حیدر (18-04-12), راجہ اکرام (18-04-12), عبداللہ آدم (20-09-10)
کمائي نے مرزا عامر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
18-04-12 حیدر Picture of shiddat pasand murgha 0
پرانا 15-10-10, 02:05 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,854
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے عبداللہ ،
اللہ تعالیٰ اس کی راہ میں ہر ایک مجاھد کے بدلے کٕئی مجاھدین سے نوازتا ہے اور نوازے گا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
بھائی مرزا صاحب آپ کی لگإئی ہوٕئی تصویر بھی خوب ہے ،
اذان دینے والا تو ہے ہی دہشت گرد،
اللہ کی لا شریک الوہیت کے قولی اور عملی نعرے لگانے والے ، ہاتھوں اور آوازوں سے اللہ کی تکبیریں بلند کرنے والے ، اور قولا و عملا محمد رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بندگی اور رسالت کی گواہی دینے والے ہی تو دہشت گرد ہیں ،
اللہ ہمیں بھی ان میں قبول فرما لے ، آمین ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (15-10-10), ذیشان نصر (02-05-12), راجہ اکرام (18-04-12), عبداللہ آدم (28-10-10)
پرانا 18-04-12, 08:56 AM   #10
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
عمر: 27
مراسلات: 48
کمائي: 1,203
شکریہ: 3
33 مراسلہ میں 70 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ تعالی حضرت شیخ عبد اللہ عزام شہید پر رحمتوں کا نزول فرمائے ۔ اب تو وہ عظیم شخصیت بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر شہدائے کے جھرمٹ میں شامل ہوچکی ہے جس کے لئے وصیت کے آخر میں انہوں نے دعائیں کی ہیں

خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
خورشیدحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
خورشیدحسین کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
کتابوں, قدم, لوگ, چین, نیند, نظر, مکہ, مکمل, موت, ممکن, محبت, معلوم, ایمان, امیر, اسلامی, اسلامی تاریخ, استاد, اشعار, بچوں, حال, دیکھو, روزہ, عبادت, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ملک کی تقدیر سنوارنے کیلئے ایک نئے عزم کی ضرورت ہے جاویداسد خبریں 5 11-11-10 05:42 PM
عزم ۔۔۔۔!! ARHAM شعر و شاعری 4 10-02-10 05:31 PM
عزم بلند ابن آدم عمومی بحث 1 03-09-09 12:39 AM
بے نظیر بھٹّوکی وصیّت تفسیر حیدر سیاست 4 28-07-08 02:58 PM
بے نظیر بھٹّوکی وصیّت محمد الیاس سیاست 6 21-01-08 11:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:41 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger