| جہاد جہاد |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 397
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,792
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیرا.
کل پرسوں سے بڑے جوش میں ہیں.
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,276
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سو فیصد درست، صرف حقیقی جذبہ ہونا چاہیے۔ نیز ہر ایرے غیرے کو شہید کہنا بھی درست نہیں۔ اصلی شہید صرف خدا بناتا ہے، انسان نہیں
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا | GSM MAMA (01-06-09), shafresha (30-03-09), فیصل ناصر (29-03-09), فاروق سرورخان (31-05-09), رضی (02-06-09), عادل سہیل (01-06-09), عبداللہ حیدر (29-03-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
ماشا اللہ، سبحان اللہ ![]() آپ نے بہت عمدہ اور بہترین باتیں پیش کی ہیں اللہ پاک ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین آپ کا بہت بہت شکریہ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 254
کمائي: 4,280
شکریہ: 262
184 مراسلہ میں 466 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ پاک مجھے بھی جام شہادت نصیب فرمائیں
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ خراسانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
بستر پر شہادت ؟ یقیناً ایک نیا نظریہ ہے۔ کیا یہ نظریہ قرآن سے بھی ثابت ہے؟ یا تو قرآن حکم درست ہے یا پھر ایسی روایت رسول اکرم سے منسوب کرنے والا درست ہے۔ درج ذیل آیات کی روشنی میں غور فرمائیے کہ کیا رسول اکرم بستر پر شہادت جیسے نظریہ کی تبلیغ فرماتے تھے؟
4:61 اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ آؤ اس کی طرف جو نازل کیا ہے اللہ نے اور (آؤ) رسُول کی طرف تو دیکھو گے تم ان منافقوں کو کہ رکے رہتے ہیں تمہارے پاس آنے سے، بڑی سختی کے ساتھ۔ 4:62 پھر کیا کیفیّت ہوتی ہے جب آپڑتی ہے ان پر، کوئی مصیبت بسبب اس کے جو کیا ہوتا ہے ان کے اپنے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی کہ نہیں تھا ہمارا ارادہ مگر بھلائی اور (فریقین میں) موافقت کرانا۔ 4:63 یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ اس کو جو ہے ان کے دلوں میں سو چشم پوشی کرو تم ان سے اور سمجھاؐؤ انہیں اور کہو ان سے ان کے حق میں ایسی بات، جو دل میں اتر جائے۔ 4:64 اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسُول مگر اس لیے کہ اطاعت کی جائے اس کی اللہ کے حُکم سے۔ اور اگر یہ لوگ جب ظلم کربیٹھے تھے اپنی جانوں پر تو آجاتے تمہارے پاس اور معافی مانگتے اللہ سے اور مغفرت کی درخواست کرتے ان کے لیے رسُول بھی تو یقیناً پاتے وہ اللہ کو بڑا معاف کرنےو الا۔ اور رحم کرنے والا۔ 4:65 سو قسم ہے تمہارے رب کی (اے محمد) یہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ فیصلہ کرنے والا نہ تسلیم کرلیں تم کو اپنے باہمی اختلافات میں پھر نہ پاویں اپنے دلوں میں کوئی کھٹک اس پر جو، فیصلہ کیا ہو تم نے اور تسلیم کرلیں اسے جیسا کہ تسلیم کرنے کا حق ہے۔ 4:66 اور اگر کہیں ہم نے حُکم دیا ہوتا انہیں کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکل جاؤ اپنے گھروں سے تو نہ عمل کرتے اس حُکم پر، مگر تھوڑے ان میں سے۔ اور اگر یہ عمل کرتے اس حُکم پر جس کی نصیحت کی جاتی ہے انہیں تو ہوتا زیادہ بہتر ان کے حق میں اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا ذریعہ۔ 4:67 اور اس صُورت میں ضرور دیتے ہم ان کو اپنی جنابِ خاص سے اجرِ عظیم۔ 4:68 اور ضرور ہدایت دیتے ہم ان کو صراطِ مستقیم کی۔ 4:69 اور جس نے اطاعت کی اللہ کی اور رسول کی سو یہی ہیں جو (ہوں گے) ساتھ ان لوگوں کے کہ انعام کیا ہے اللہ نے ان پر (یعنی) انبیا اور صدّیقین اور شہدا اور صالحین (کے) اور بہت اچھّے ہیں یہ لوگ بطور رفیق کے۔ 4:70 یہ ہے فضلِ خاص اللہ کی طرف سے۔ اور بس کافی ہے اللہ سب کچھ جاننے والا۔ 4:71 اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! سنبھالو اپنے ہتھیار پھر نکلو الگ الگ دستوں کی صُورت میں یا نکلو سب اکٹّھے۔ 4:72 اور بے شک تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضرور پیچھے رہ جاتا ہے پھر اگر پہنچتی ہے تمہیں کوئی مصیبت تو کہتا ہے بے شک احسان کیا اللہ نے مجھ پر کہ نہ ہوا میں ان کے ساتھ حاضر (معرکہ میں)۔ 4:73 اور اگر پہنچتا ہے تم کو فضل اللہ کا تو وہ اس طرح بات کرتا ہے، گویا کہ نہ تھی تمہارے اور اس کے درمیان ذرا بھی دوستی (کہتا ہے) اے کاش! ہوتا میں بھی ان کے ساتھ تو حاصل کرتا بڑی کامیابی۔ 4:74 سوچا ہیے کہ جنگ کریں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو فروخت کرچُکے ہیں دُنیاوی زندگی کو آخرت کے عوض۔ اور جو شخص جنگ کرے، اللہ کی راہ میں پھر وہ مارا جائے یا غالب آجائے تو ضرور دیں گے ہم اسے اجرِ عظیم۔ 4:75 اور کیا ہوا ہے تم کو کہ نہیں جنگ کرتے تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں (کی خاطر) جو فریاد کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! نکال تو ہمیں اس بستی سے کہ ظالم ہیں، جس کے رہنے والے۔ اور بناتُو ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی حامی اور بنا تو ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی مدد گار۔ 4:76 وہ لوگ جو ایمان والے ہیں، جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں وہ جنگ کرتے ہیں راہ میں، شیطان کی پس جنگ کرو تم شیطان کے ساتھیوں سے۔ بے شک چال شیطان کی ہے نہایت کمزور۔ 4:77 کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو، کہا گیا تھا جن سے کہ روکے رکھو اپنے ہاتھ (جنگ سے) اور قائم کرو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ پھر جونہی حکم دیا گیا انہیں جنگ کا تو ایک گروہ ان میں سے ایسا جو جو ڈرتا ہے لوگوں سے ایسا جیسے ڈرنا چاہیے اللہ سے یا اس بھی زیادہ ڈر۔ اور کہتے ہیں یہ لوگ۔ اے رب ہمارے! کیوں فرض کیا تونے ہم پر جنگ کرنا؟ کیوں نہ مہلت دی تونے ہم کو تھوڑی مُدّت اور؟ کہو دو (اے نبی!) دُنیاوی فائدہ حقیر ہے اور آخرت بہت بہتر ہے، ان کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اور نہیں ظلم کیا جائے گا تم پر ذرّہ برابر۔ 4:78 جہاں کہیں بھی ہوگے تم، آلے گی تم کو موت اگرچہ ہو تم مضبوط قلعوں کے اندر۔ اور اگر حاصل ہوتی ہے ان (موت سے ڈرنے والوں) کو کامیابی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر پہنچتا ہے ان کو کوئی نقصان تو کہتے ہیں کہ (اے محمد) یہ تمہاری وجہ سے ہے۔ کہو سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ آخر کیا ہوگیا ہے ان لوگوں کو کہ نہیں لگتے یہ کہ سمجھیں کوئی بات۔ 4:79 جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بھلائی سو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بُرائی سو تمہارے نفس کی طرف سے ہے اور بھیجا ہے ہم نے تم کو (اے محمد) لوگوں کے لیے رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ (اس بات پر) گواہ۔ 4:80 جس نے اطاعت کی رسول کی سو در حقیقت اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جو منہ موڑ گیا تو نہیں بھیجا ہے ہم نے تم کو ان پر پاسبان بناکر۔ 4:81 اور کہتے ہیں ہم فرمانبردار ہیں مگر جب چلے جاتے ہیں تمہارے پاس سے تو راتوں کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان کا، خلاف اس کے جو تم کہتے ہو۔ اور اللہ لکھ رہا ہے جو مشورے یہ کرتے ہیں سو پرواہ نہ کرو ان کی اور بھروسہ کرو اللہ پر اور کافی ہے اللہ کار ساز۔ 4:82 کیا یہ لوگ (ذرا بھی) غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر کہیں ہوتا یہ غیر اللہ کی طرف سے تو ضرور پاتے یہ اس میں، بہت اختلاف۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صحیح حدیث کو اپنے خود ساختہ فہم پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں وہ امور بھی مشتبہ نظر آتے ہیں جن میں کوئی اشکال نہیں ہوتا۔ اسی حدیث کو دیکھ لیجیے جو اپنے معنوں میں بالکل واضح ہے لیکن یہودی پروفیسروں کے فلسفوں نے ذہن میں جگہ بنا لی ہو تو سیدھی بات میں بھی ٹیڑھ نظر آتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صدق دل سے شہادت طلب کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے شہادت کے رتبے سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرح غازی بنا کر لوٹاتا ہے جن کی زندگی کا بیشتر حصہ میدان قتال میں گزرا لیکن موت بستر پر آئی۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا مذکورہ بالا فرمان ان مجاہدین کے لیے ہے جن کی قسمت میں اللہ نے غازی بننے کا اعزاز لکھ رکھا تھا سو میدان جنگ سے سالمین غانمین واپس آ گئے۔ پھر اس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو واقعی اللہ کی راہ میں لڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں لیکن کسی شرعی عذر نے انہیں روک رکھا ہو۔ قرآن کے طالب علم “البکائین” کی اصطلاح سے بخوبی واقف ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں جانے کے لیے وسائل مہیا نہیں کر سکتے تو شدت غم سے روتے ہیں۔ 92. وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّواْ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلاَّ يَجِدُواْ مَا يُنفِقُونَO 93. إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَO “اور نہ ایسے لوگوں پر (طعنہ و الزام کی راہ ہے) جبکہ وہ آپ کی خدمت میں (اس لئے) حاضر ہوئے کہ آپ انہیں (جہاد کے لئے) سوار کریں (کیونکہ ان کے پاس اپنی کوئی سواری نہ تھی تو) آپ نے فرمایا: میں (بھی) کوئی (زائد سواری) نہیں پاتا ہوں جس پر تمہیں سوار کر سکوں، (تو) وہ (آپ کے اذن سے) اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں (جہاد سے محرومی کے) غم میں اشکبار تھیں کہ (افسوس) وہ (اس قدر) زادِ راہ نہیں پاتے جسے وہ خرچ کر سکیں (اور شریک جہاد ہو سکیں) (الزام کی) راہ تو فقط ان لوگوں پر ہے جو آپ سے رخصت طلب کرتے ہیں حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ اس بات سے خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، سو وہ جانتے ہی نہیں (کہ حقیقی سود و زیاں کیا ہے) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان غازیوں اور شہادت کے سچے طلب گاروں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وحی کی بنیاد پر منازل الشہدا کی خوشخبری دی ہے جو قرآن کے علاوہ آتی تھی اور جسے وحی غیر متلو کہا جاتا ہے۔ لہٰذا آپ کے موافق قرآن اور مخالف قرآن فلسفے کا یہاں کوئی جواز نہیں ہے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 01-06-09 at 01:53 AM. |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، اللہ مزید خیر کی توفیق عطا فرمائے ، اللہ تعالٰی ہم سب کو ہر گمراہ کن سوچ اور فکر سے محفوظ رکھے ، بھائی فاروق سرور کو ہر طرف ایک ہی فلسفہ سجھائی دیتا ہے ، جس کا کسی بھی صحیح حدیث پر اطلاق علمی طور پر ممکن ہی نہیں ، انہیں شاید یہ بھی پتہ نہ ہوگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے شہادت کی کیا تفصیلات بیان فرمائی ہیں ، انا للہ و انا الیہ راجعون ، بھائی فاروق صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں ::: ::: قران سیکھنے سکھانے ، پڑھنے پڑھانے والوں کی اقسام ::: ::::: شہادت ، شہید ، تعریف اور اِقسام ::::: اللہ ہم سب کو اس کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا حقیقی تابع فرمان بننے کی ہمت دے ،و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
فلسفہ بہت سارا ہے ، الفا ظ بہت سارے ہیں لیکن کوئی بھی بات قرآن سے ثابت نہیںکرتے ہیں۔
اللہ تعالی ان لوگوںکو بھی شہداء قرار دیتے ہیں جو اللہ تعالی کی آیات کو قبول کرتے ہیں۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لئے اُن کا اجر (بھی) ہے اور ان کا نور (بھی) ہے، اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں اب اس نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو جو بھی اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا وہ شہیدوںیعنی گواہوں میںشامل ہوگیا۔ اس نکتہ نظر سے خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار بھی شہیدوں میں ہوا۔ لیکن جب ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد یعنی جنگ یا قتال کرتے ہوئے ، گواہی دیتے ہوئے قتل کردیا جاتا ہے تو وہ ایک الگ درجہ ء شہادت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی ہم کو رسول اللہ پر وحی کے ذریعے بتاتے ہیں کہ یہ لوگ مردہ نہیںہیں۔ اور اس کی سب سے پہلی شرط ہیں اللہ کی راہ میں قتل کریا جانا۔ قرآن میںبستر پر لیٹکے مرنے والوں کے لئے چاہے وہ شہادت کی کتنی ہی شہادت رکھتے ہوں، کہیں بھی ایسا شہید ہونا قرار نہیںدیا گیا۔ وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں، ان کو ایک الگ درجہ دیا گیا ہے جس کو عرف عام میں شہادت درجہ کہا جاتاہے۔ لگتا ہے کہ ایک نیا مذہب تشکیل دیا جارہا ہے۔ 3:169 وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے اللہ کی راہ میں قتل کیا جانا اس درجہ میں داخل ہونے کی شرط ہے۔ اللہ تعالی کچھ فرمائیں اور رسول اللہ کچھ اور فرمائیں ایسا کبھی ممکن ہی نہیں۔ یہ تو صرف ان کہانیوں کی کتب میںہی ممکن ہے جن سے حوالے دئے جاتے ہیں تاکہ سیاسی مفاد حاصل کیا جاسکے۔ مسلمان کو اسلام یعنی سلامتی اور امن کا پیامبر بنایا گیا ہے ، فساد فی الارض اللہ یعنی اللہ کی زمین میںفساد کرنے والے کو شہادت کا رتبہ نہیں ملتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک باقاعدہ فوج صرف اس صورت میں جنگ کرے جب کہ نظریاتی ریاست پر حملہ کیا جائے۔ یہ کہ ایک شخصفساد مچاتا پھرے اور کہے کہ وہ تو شہادت کا خواہش مند تھا پھر وہ گھر پر انتقال کر جائے تو وہ شہید قرار پایا ، ایک خالص تالی بانی نکتہ نظر ہے ۔ تالی بان اسی طرح لوگوں کو فساد پر اکساتے ہیں اور اس کو اسلام قرآر دیتے ہیں۔ پھر دلیل صرف اور صرف اپنی کتب روایات سے لاتے ہیں۔ اللہ ان بے راہ روی سے بچائے کہ کچھ لوگ سیاسی فائیدہ حاصل کرنے کے لئے بے چارے مسلمانوں کو کیا کیا پٹیاںپڑھا رہے ہیں۔ کہ ساری قوم اپنی ہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو؟ اور خود اپنے ہی خنجر سے خود کشی کرلے ؟ Last edited by فاروق سرورخان; 01-06-09 at 07:00 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | GSM MAMA (01-06-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، بڑے چچا، آپ خوامخواہ غصے میں آ رہے ہیں۔ میرے مراسلے میں ان باتوں کا وجود ہی نہیں ہے جن کا تذکرہ آپ کر رہے ہیں۔ سو اس دھاگے کو متعلقہ موضوع تک محدود رہنے دیجیے تو نوازش ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی قرآن کا طالب علم ہونے کی سعادت نصیب فرمائی ہے، آپ چاہیں تو ایک الگ دھاگے میں جہاد و قتال کے بارے میں آیات جمع کر دیتا ہوں تا کہ واضح ہو جائے کہ جہاد محض "کتب روایات" ہی میںنہیںملتا بلکہ قرآن کریم کا بڑا حصہ اس عبادت کے تفصیلی احکام پر مشتمل ہے۔ جس تفصیل سے جہاد کے مسائل قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں اتنی تفصیل نماز روزہ حج زکوٰۃ، انفاق، "شورائیت"، "فلاحی ریاست" وغیرہ کسی کے بارے میں نہیں ملتی۔ اللہ جانتا تھا کہ جہاد کے راستے میں بڑے بڑے فلسفے اور منافق آئیں گے اس لیے ایک ایک شبہے کا جواب آیات میں اتار دیا۔ دیکھیے سورۃ البقرۃ، آل عمران، النساء، المائدۃ، الانفال، التوبۃ، الحج، النور، الاحزاب، الفتح، الصف،
Last edited by عبداللہ حیدر; 01-06-09 at 11:27 PM. |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق بھائی جہادی تو آپ کے نزدیک دہشت گرد ہیں
![]() اب اگر کوئی گھر بیٹھ کر ہی شہادت کی تمنا کرے تو یہ بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آرہا اب کریں تو کیا کریں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | GSM MAMA (01-06-09), فاروق سرورخان (01-06-09), رضی (02-06-09), عادل سہیل (02-06-09), عبداللہ حیدر (01-06-09) |
|
|
#12 |
|
Member
اجنبی
|
جزاک اللہ خیرا.
|
|
|
|
| GSM MAMA کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (01-06-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھتیجے ، فاروق بھائی کو تنگ نہ کرو ، انہوں نے مان لیا ہے کہ """"" فلسفہ بہت سارا ہے ، الفا ظ بہت سارے ہیں لیکن کوئی بھی بات قرآن سے ثابت نہیںکرتے ہیں """" اور یہ بات ان کے اپنے ہی فلسفے کے بارے میں بالکل درست ہے ، اور یہ ان چند گنی چنی درست باتوں میں ہے جو مجھے ان کی طرف سے پڑھنا نصیب ہوئی ہیں ، اور فیصل بھائی ، آپ بھی چھیڑ چھاڑ نہ کریں ، فاروق بھائی کا فاصلہ ادھر والوں کی طرف کم ہے بلکہ وہیں رہائش رکھے ہوئے ہیں ![]() ![]() و السلام علیکم۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (02-06-09), عبداللہ حیدر (02-06-09) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 434
کمائي: 9,638
شکریہ: 1,636
320 مراسلہ میں 938 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
خراسانی اللہ رب العزت آپ کو شہادت کا رتبہ عطا شہادت ہے مطلوب و مقصود و مومن بھائی میں تو ڈرپوک اور بزدل بندہ ہوںموت سے ڈر لگتا ہے۔ اسی لیے میں بھی شہید ہی ہونا چاہتا ہوں کیونکہ اس میں بالکل بھی تکلیف نہیں ہوتی اور فرشتے بھی نہیں پوچھ گچھ کرتے یہ سب سے اعلی مرتبہ ہے کہ جس اللہ رب العزت نے انسان کو زندگی اور اس زندگی کے لیے نعمتیں، صلاحیتیں دی ہیں بندہ اسی کے طلب کرنے پر اسے لوٹا دے۔
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو( |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| arabic, color, قرآن, قران, لوگ, لوٹے, نماز, نظر, موت, منافق, ممکن, مسائل, اللہ, الزام, بھائی, جواب, حدیث, خوش, دل, روزہ, زندگی, سہل, عبادت, غم, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خاص اور ہنر مند افراد کے لیے گھر بیٹھے کمائی کا موقعہ | aruz | نوکری کی آفر | 11 | 01-02-11 04:24 PM |
| مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنا اور یوں ہی بیٹھنا | ھارون اعظم | صحیح البخاری | 0 | 19-04-10 11:35 PM |
| بیٹھے بیٹھے ایک دن میں نے یہ بیگم سے کہا | The Great | مزاحیہ شاعری | 0 | 14-09-09 11:40 AM |
| پرنام سنگھ نے رات چار بجے یونہی بیٹھے بیٹھے فون گھمادیا | The Great | قہقہے ہی قہقے | 7 | 14-09-09 11:21 AM |