|
|
||||
|
||||
|
مناظر: 2366
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-11-11), skjatala (03-12-11), فیصل ناصر (10-11-11), فاروق سرورخان (10-11-11), کنعان (10-11-11), ھارون اعظم (11-11-11), مرزا عامر (12-11-11), ابن آدم (23-01-12), احمد نذیر (30-01-12), رفیق طاہر (22-01-12), راجہ اکرام (10-11-11), شکاری (13-11-11), شمشاد احمد (10-11-11), عبداللہ آدم (04-12-11) |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,098
کمائي: 22,924
شکریہ: 3,391
828 مراسلہ میں 2,402 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=rana ammar mazhar;473361]آپ بتائیں کہ رسول کریم ﷺ والے " مابين الدفتين قرآن" "دو جلد والے قرآن" " Between the two bindings والے قرآن " کو کس بکری نے کھایا ؟؟؟
[COLOR="Blue"][B] لگتے ہاتھ یہ بھی بتادیںکہ غار والے صاحب بہادر کے پاس کون سا قرآن ہے؟
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز |
|
|
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جواب یہ ہے :: قرآن "مصحف امام" كا عہد نبوی میں "اسطوانتہ المصحف" کے پاس "صندوق المصحف" میں جمع ہونا ۔
قرآن "مصحف امام" كا عہد نبوی میں "اسطوانتہ المصحف" کے پاس "صندوق المصحف" میں جمع ہونا ۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 11-11-11 at 09:52 PM. |
|
|
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=ابن آدم;473563]وہ خالی ہاتھ ہیں۔ گیا سکندر جب تو خالی ہاتھ تھا۔
Last edited by rana ammar mazhar; 11-11-11 at 09:56 PM. |
|
|
|
|
#19 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ہمارے موجودہ قرآن میں ایسی غیر قرآنی تفسیری آیات کی کل تعداد کیا ہے ؟؟؟ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
|
#20 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
اللہ تعالی نے ایک بزرگ نبی بھیجا، جس پر قرآن نازل فرمایا۔ اب ہم یہ کہتے ہیںکہ رسول اکرم نے ایک مجلد قرآن حکیم کتاب کی شکل میں چھوڑا جو دو دفتیوںکے درمیان تھا۔ آپ کہتے ہیںکہ نبی اکرم نے کوئی قرآن حکیم نہیںچھوڑا۔ ![]() کیا ایسا ممکن ہے کہ اس کائنات کا رب، کائنات کا خالق، نبی اکرم پر قرآن حکیم نازل فرمائے ، اور اس کی حفاظت کا وعدہ فرمائے اور جناب اس نبی کے اس دنیا کے جانے کے وقت ، برادر من، وہ سارا قرآن موجود نا ہو؟؟؟؟؟ اسی صحیح بخاری سے اقتباس جس کے دفاع میںجناب اور جناب کی ٹیم اپنا سارا زور صرف کرتی رہی ہے صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 11 حدیث مرفوع مکررات 1 قتیبہ بن سعید، سفیان کہتے ہیں کہ عبدالعزیز کا بیان ہے کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس کے پاس گئے ان سے شداد بن معقل نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لکھی ہوئی چیزیں بھی چھوڑی ہیں وہ بولے جلد قرآن کے درمیان جو کلام الہی ہے صرف وہی چھوڑا پھر ہم محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے اس کے علاوہ آپ نے اور کچھ بھی نہیں چھوڑا اللہ تعالی اسی لکھے ہوئے قرآن کا ریفرنس دے رہے ہیں ؛) 17:58 وَإِن مَّن قَرْيَةٍ إِلاَّ نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِك فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا اور (کفر و سرکشی کرنے والوں کی) کوئی بستی ایسی نہیں مگر ہم اسے روزِ قیامت سے قبل ہی تباہ کر دیں گے یا اسے نہایت ہی سخت عذاب دیں گے، یہ (امر) کتاب میں لکھا ہوا ہے 33:6 النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُوْلُواْ الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا یہ نبیِ (مکرّم) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں اور آپ کی اَزواجِ (مطہّرات) اُن کی مائیں ہیں، اور خونی رشتہ دار اللہ کی کتاب میں (دیگر) مومنین اور مہاجرین کی نسبت (تقسیمِ وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتابِ (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے یہ کتاب جو کہ رسول اکرم نے لکھائی اور جس کتاب کی نقل پر دو دو صحابہ نے قسم کھائی ، جو کتاب رسول اکرم نے لکھائی ہو چھوڑی۔ اللہ تعالی اسی لکھی ہوئی کتاب کی قسم کھا کر آپ کو یقین دلاتے ہیں ۔ لیکن آپ کی ٹیم اس پر ایمان نہیںلاتی ![]() 52:2 وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ اور لکھی ہوئی کتاب کی قَسم کیا آپ کی ٹیم یہ سمجھتی ہے کہ جس وقت یہ الفاظ ادا ہوئے اس وقت تک کا نازل ہوا قرآن حکیم لکھا ہوا نہیںتھا ؟؟؟ رسول اللہ صلعم نے جو کہ اللہ تعالی کے نبی ہیں، یہی قرآن حکیم دو جلدوں کے درمیان مجلد چھوڑا تھا میں گواہی دیتا ہوںکہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے وہ رسول ہیںجن پر قرآن نازل ہوا اور جنہوںنے اس قرآن کو ایک مکمل کتاب کی شکل میں دنیا کو پیش کیا۔ اسی لکھے ہوئے قرآن حکیم پر ہم کو کامل ایمان ہے ۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (12-11-11), مرزا عامر (12-11-11) |
|
|
#21 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرا ایمان 1 اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر قران کریم نازل فرمایا - 2 قران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل اور محفوظ ہو گیا ۔ اور تب سے لے کر اب تک وہی قران ہدایت کا سر چشمہ ہے ۔ 3 قران کے صفحوں کو تو کیا اس کی کسی بھی آیت کو کسی بکری نے نہیں کھایا - باقی یہ کہ اگر میرا ایمان کمزور ہے تو بھائی میرے لیئے ھدایت کی دعا کریں
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() |
انسان کے "زمانے"کی ابتداء سے ایک بزرگ نبی کی آمد کی خوش خبری ہر نبی علیہ السلام دیتے آئے ۔ الہامی کتب، اصل تورات مقدس میں بیان ہوا، اصل انجیل مقدس میںبیان ہوا اور اصل زبور مقدس میںبیان ہوا کہ وہ آخری نبی آئیں گے۔ جس بزرگ نبی کی آمد کا انتظار ابتداء سے تھا۔ وہ نبی آئے، جناب صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا۔ مکمل قرآن کتاب کی صورت میں نوع انسانی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ۔ یہ مذہبی ایمان اور تاریخی حقیقت ہے ۔ خود یہ کتاب اپنی گواہی دیتی ہے کہ -------------
2:2 ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے آپ کیوںشک پیدا کررہے ہیں کہ یہ کتاب رسول اکرم نے اپنے بعد مکمل نہیںچھوڑی تھی؟ یا اس کے صفحے بکری کھا گئی تھی؟ یا یہ کتاب تحریف شدہ ہے؟ یا اس کتاب کی طرح طرح کی قرآت ہیں یا اس کتاب کی مختلف تحاریر ہیں؟؟؟؟ برادر محترم ایسا کچھ بھی نہیںہے ۔ یہ دشمنان اسلام کی تحاریر ہیں جو ۔ کہانیوںکی شکل میںان کہانیوںکی کتب میں شامل ہیں۔ ان کہانیوںکی کتب کی صحت کی اصل کسوٹی قرآن ہے ۔ نعوذباللہ کیا اللہ تعالی فیل ہوگئے ؟؟؟؟ یا اس کے نبی اکرم فیل ہو گئے ؟؟؟ نعوذباللہ ۔۔۔۔۔ اللہ تعالی اور اس کے نبی اکرم مکمل طور پر کامیاب رہے اور ایک مکمل کتاب آج انسانوں کے ہاتھوں میں ہے ۔ ایک ایسی کتاب جس کے مقابلے کی کوئی کتاب میںنے نہیں پڑھی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام عالم انسانیت کو قرآن حکیم سے ہدایت کی توفیق عطا فرمائیں ![]() والسلام |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#23 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تم مجھ سے کوئی بات نہ لکھو اور جس آدمی نے قرآن مجید کے علاوہ مجھ سے کچھ سن کر لکھا ہے تو وہ اس کو مٹا دے 56 - زہد و تقوی کا بیان : (106) حدیث مبارکہ کو سمجھ کر پڑھنے اور علم کے لکھنے کے حکم کے بیان میں حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَکْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ کَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 3010 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 1 بدون مکرر ہداب بن خالد ازدی، ہمام، زید بن اسلم، عطاء ابن یسار، حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے کوئی بات نہ لکھو اور جس آدمی نے قرآن مجید کے علاوہ مجھ سے کچھ سن کر لکھا ہے تو وہ اس کو مٹا دے اور مجھ سے سنی ہوئی احادیث بیان کرو اس میں کوئی گناہ نہیں اور جس آدمی نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (may peace be upon him) said: Do not take down anything from me, and he who took down anything from me except the Qur'an, he should efface that and narrate from me, for there is no harm in it and he who attributed any falsehood to me -and Hammam said: I think he also said: "deliberately"- he should in fact find his abode in the Hell-Fire. اپنے مصحف میں منسوخ الفاظ لکھوانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں اس نسخ کا علم نہ ہو سکا ہو نبی ﷺ کی بیوی کو قرآن کا پتہ نہیں تھا انہوں نے حفظ بھی نہیں کیا باقی لوگ زیادہ بڑے عالم تھے ؟؟؟ کیونکہ بہرحال وہ مصحف کسی دوسرے کے لیے نہیں خود ان کے اپنے لیے تھا۔ اپنے لیے الگ قرآن ہمارے لیے الگ قرآن !!! اس جھوٹ پر مبنی منسوب "سنت دو ازواجؓ" نے تحریف قرآن کا رستہ کھول دیا جس کا فائدہ اٹھا کر "الرشد" والے "۲۰ مختلف اختلاف سبعہ احرف والے قرآن" چھاپ رہے ہیں !!! __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 12-11-11 at 07:21 PM. |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (03-12-11) |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علی من اتبع الھدیٰ ،
لوگوں کی صرف اپنی ایسی باتوں کا تکرار دیکھ دیکھ کر کہ جن باتوں کی درستگی کے لیے ان کے پاس شرعی اور علمی طور پر مقبول کوٕئی دلیل نہیں ہوتی ، اس بات پر میرا ایمان اور مضبوط ہو گیا ہے کہ یقینا اللہ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے ، کیسا عجیب تماشہ ہے اور ان کی اپنی ہی باتوں اور اپنے ہی مسلک کی خود ہی تردید کے مناظر ہیں کہ ایک طرف تو یہ لوگ صحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ کو محض اپنی عقلوں کی کسوٹی پر پرکھ کر رد کرتے ہیں ان کا مذاق بناتے ہیں ، اُن کی صداقت اور درستگی کو مشکوک قرار دیتے ہیں ، اور دوسری طرف خود ہی انہی روایات میں ایسی روایات کو اپنے لیے بطور دلیل مان بھی لیتے ہیں جو ان کے خیال میں ان کے کسی فلسفے کی تإئید کرنے والی ہوتی ہیں ، اور کبھی ایسی کوٕئی کسوٹی نہیں بتا پاتے جس کی بنیاد پر وہ یہ حرکات کرتے ہیں ، ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اپنی کسوٹی بیان کریں جس پر پرکھ کر وہ احادیث کو قبول و رد کرتے ہیں ، یا پھر ہر ایک روایت کو کسی ایک درجے پر رکھ کر چلیں ، کہ قبول ہے یا ناقبول ، لیکن اپنی سوچوں اور فلسفوں کی پیروی میں ان کے اقوال سوإئے اپنے فلسفوں کی تکرار کے اور کچھ نہیں کر پاتے ، اور اس سعی مذموم میں انہیں صحیح اور غیر صحیح روایات کی بھی کوٕئی پرواہ نہیں ہوتی ، قران کے علاوہ کچھ اور مت لکھو ، کے بارے میں ان لوگوں کے فلسفوں کی ساری حقیقت یہاں واضح ہو چکی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہونے کے وقت قران کریم کا ایک مجلد کتاب کی صورت میں ہونے کے فلسفے کی حقیقت یہاں واضح ہو چکی ہے ، یہاں اس تھریڈ میں کیے گٕئے مراسلات کی روشنی میں سوچنے کی بات یہ بھی ہے قران کریم کے دو جلدوں میں محفوظ ہونے کے ذکر والی روایت کا ذکر کرنے والوں کو کس طرح یہ روایت منظور ہوٕئی !!! کون سی کسوٹی پر پرکھ کر وہ لوگ اس روایت کو مان رہے ہیں ، اور کیا اسی کسوٹی پر پرکھ کر یہ لوگ ساری ہی روایات مان لیں گے ؟ اور انہوں نے یہ کیوں نے دیکھا کہ صحابی رضی اللہ عنہ کا یہ قول کس سوال کے جواب میں اور کب کہا گیا ،،،،، میں ان لوگوں کی طرف سے ان معلومات کا منتظر رہوں گا ، اللہ ہم سب کو ، ہر ایک کلمہ گو کو اپنی کتاب قران کریم اور اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کو اللہ ہی کی رضا کے مطابق سمجھنے کی توفیق دے ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), کنعان (04-12-11), مرزا عامر (27-01-12), ابن آدم (02-12-11), شکاری (22-01-12), عبداللہ آدم (03-12-11), عبداللہ حیدر (02-12-11) |
|
|
#25 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جیسا کہ : شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمْعِ الْقُرْاٰن : کاتب کتابت اور کتاب شَھَادَتُ الْفُرْقَان علیٰ جَمْعِ الْقُرْاٰن : کاتب کتابت اور کتاب ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ اپنی کسوٹی بیان کریں جس پر پرکھ کر وہ احادیث کو قبول و رد کرتے ہیں، اور وہ کسوٹی یہ خلیفہ ثالث امیر المومنین عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ بن عفان اور کتب احادیث ہے !!! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہونے کے وقت قران کریم کا ایک مجلد کتاب کی صورت میں ہونے کے فلسفے کی حقیقت یہاں واضح ہو چکی ہے ، اقتباس:
[98:3] فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ :: فيها كتب قيمة Tahir ul Qadri : جن میں درست اور مستحکم احکام (درج) ہیں Yousuf Ali : Wherein are laws (or decrees) right and straight. Ahmed Ali: جن میں درست مضامین لکھے ہوں Ahmed Raza Khan: ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں Shabbir Ahmed: جن میں لکھی ہوں تحریریں راست اور درست۔ Fateh Muhammad Jalandhary: جن میں( مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں Mehmood Al Hassan: اس میں لکھی ہیں کتابیں مضبوط http://www.openburhan.net/ob.php?sid=98&vid=3 اللہ ہم سب کو ، ہر ایک کلمہ گو کو اپنی کتاب قران کریم اور اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کو اللہ ہی کی رضا کے مطابق سمجھنے کی توفیق دے ، __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 03-12-11 at 05:21 PM. |
||
|
|
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
رانا بھإئی حسب سابق آپ کا مراسلہ موضوع کے لیے کسی مثبت دلیل کا حامل نہیں ہو سکا ، کیا قران کریم میں جہاں کہیں """ کتاب """ ، """ کتب """ وغیرہ استعمال ہوٕئے ہیں ان کا مطلب کوٕئی لکھی ہوٕئی کتاب نما چیز ہی ہے ؟؟؟ اور یوں بھی بھائی میرے جن صاحب کے مراسلات کی بنا پر میں نے سابقہ مراسلہ لکھا ، میرے اور ان کے درمیان اختلاف ان درج ذیل نقاط پر چلا آ رہا ہے ، ::: 1 ::: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوٕئے تو کیا اس وقت قران کریم کا کوٕئی نسخہ کسی ایک کتاب کیصورت میں موجود تھا ؟اور ، ::: 2 ::: اور کیا وہ کوٕئی مجلد کتاب تھی ؟ اور ، ::: 3 ::: یہ کہ کیا اللہ تبارک و تعالی نے قران کریم کو لکھا ہوا نازل فرمایا تھا ؟؟؟ اگر آپ اس موضوع میں بھی شامل گفتگو ہونا چاہتے ہیں تو پہلی گذارش یہ ہے کہ میرے سابقہ مراسلے میں دیے گٕئے لنکس پر موجود مواد کا دھیمے دھیمے مطالعہ کیجیے اور دوسری گذارش یہ ہے کہ اس موضوع سے متعلق اسی تھریڈ میں اپنے فرمودات پیش فرمایے، اور تیسری گذارش یہ ہے کہ ادھر ادھر کی اور نا مکمل اسلوب میں باتیں کرنے کی بجإئے ان تین سوالات کا واضح اور مدلل جواب عنایت فرما کر اپنی بات کا آغاز فرمایے ، واضح کا معنی ہے ایسا انداز جو مجھ جیسے لوگوں کو سمجھ میں آ سکے کہ آپ کیا کینا چاہ رہے ہیں ، ایسا نہیں کہ جو کچھ آپ نے سمجھ رکھا ہے اسے اپنے ہی لیے اشارے بنا کر لکھ ڈالیں ، اور اگر ہو سکے تو یہ بھی بتا دیجیے کہ آپ کے ہاں کسی روایت کی قران کریم میں سے تإئید کی کیا کسوٹی ہے ؟؟؟ و السلام علیکم۔ |
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (04-12-11) |
|
|
#27 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا 45 - مناقب کا بیان : (359) حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح رضی اللہ عنہم کے مناقب حدثنا محمد بن بشار حدثنا يحيی بن سعيد حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس بن مالک قال جمع القرآن علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم أربعة کلهم من الأنصار أبي بن کعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد قال قلت لأنس من أبو زيد قال أحد عمومتي قال أبو عيسی هذا حديث حسن صحيح جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1764 حدیث مرفوع مکررات 6 محمد بن بشار، یحیی بن سعید، شعبہ، قتادة، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا۔ حضرت ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید رضی اللہ عنہم۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کون سے ابوزید؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے ایک چچا ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that four men all of them ansars collected the Qur’an in the era of Allah’s Messenger (SAW) (They were) : Ubayy ibn Ka’b, Mu’adh ibn Jabal, Zayd ibn Thabit and Abu Zayd (RA).”. The subnarrator said that he asked Anas “Who was Abu Zayd?” He said, “One of my uncles.” [Ahmed 13944, Bukhari 3810, Muslim 2465] ::: 2 ::: اور کیا وہ کوٕئی مجلد کتاب تھی ؟ اور ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لکھی ہوئی چیزیں بھی چھوڑی ہیں وہ بولے جلد قرآن کے درمیان جو کلام الہی ہے صرف وہی چھوڑا 46 - فضائل قرآن : (82) حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع قال دخلت أنا وشداد بن معقل علی ابن عباس رضي الله عنهما فقال له شداد بن معقل أترک النبي صلی الله عليه وسلم من شيئ قال ما ترک إلا ما بين الدفتين قال ودخلنا علی محمد بن الحنفية فسألناه فقال ما ترک إلا ما بين الدفتين صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 11 حدیث مرفوع مکررات 1 قتیبہ بن سعید، سفیان کہتے ہیں کہ عبدالعزیز کا بیان ہے کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس کے پاس گئے ان سے شداد بن معقل نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لکھی ہوئی چیزیں بھی چھوڑی ہیں وہ بولے جلد قرآن کے درمیان جو کلام الہی ہے صرف وہی چھوڑا پھر ہم محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے اس کے علاوہ آپ نے اور کچھ بھی نہیں چھوڑا Narrated 'Abdul 'Aziz bin Rufai': Shaddad bin Ma'qil and I entered upon Ibn 'Abbas. Shaddad bin Ma'qil asked him, "Did the Prophet leave anything (besides the Qur'an)?" He replied. "He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an)." Then we visited Muhammad bin Al-Hanafiyya and asked him (the same question). He replied, "The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)." ::: 3 ::: یہ کہ کیا اللہ تبارک و تعالی نے قران کریم کو لکھا ہوا نازل فرمایا تھا ؟؟؟ ادھر ادھر کی اور نا مکمل اسلوب میں باتیں کرنے کی بجإئے ایک سوال کا واضح اور مدلل جواب عنایت فرما کر اپنی بات کا آغاز فرمایے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نازل ہونے والی وحی لکھنے والے چوبیس صحابہ تھے جن میں خلفاء اربعہ بھی تھے، وہ قرآن نہیں لکھتے رہے تو پھر کیا کرتے رہے ؟؟؟ 1 - ا ب ج : (26407) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن خمير بن مالك قال قال عبد الله قرأت من في رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعين سورة وزيد بن ثابت له ذؤابة في الكتاب مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1774 حدیث مرفوع حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صل اللہ علیہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں۔ |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (04-12-11) |
|
|
#28 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
رانا بھائی ، میں نے جو دریافت کیا تھا ، اس کا کوٕئی جواب آپ کے مراسلے میں کہیں نہیں ، بھإئی میرے بات سمجھنے کی کوشش فرمایے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں قران کریم کے لکھے جانے کے بارے میں کسی شک کی بھی گنجائش نہیں ، اور نہ ہی یہ ہمارے اختلاف کا مقام ہے ، میرے سوالات پر غور فرمایے ، اور ان کو بہتر طور پر سجھنے کے لیے میری اور خان صاحب کی وہ بات چیت پڑھ لیجیے جس کے ربط میں پہلے دے چکا ہوں ، اور یہ بھی غور فرمایے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں کاتبین وحی کا قران کریم کی آیات مبارکہ لکھنے کو ایک مجلد کتاب کیصورت میں مدون ماننا ، اور پھر زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ کا قران جمع کر کے ایک مصحف بنانا دونوں متضاد باتیں ہو جاتی ہیں ، اور آپ نے اپنے جواب میں دونوں ہی باتیں لکھ دی ہیں ، اگر برا نہ منایے تو یہ بھی بتاتے چلے کہ یہ سب روایات کس کسوٹی کی پرکھ کے مطابق آپ کے ہاں شرف قبولیت حاصل کر سکی ہیں ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل بھائی کیا اوپر مراسلہ نمبر 27 میں پیش کی احادیث درست نہیں ہیں ؟؟
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (05-12-11) |
|
|
#30 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فیصل بھإئی احادیث صحیح ہیں ، لیکن اُن میں اس کام کی کوٕئی دلیل نہیں جس کے لیے رانا بھإئی انہیں استعمال کر رہے ہیں ، یعنی ان میں سے کوٕئی بھی روایت یہ معنی یا مفہوم دینے والی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں قران کریم ایک کتاب کیصورت میں مدون کیا جا چکا تھا ، کتاب ، کتابت ، کتب ، جمع وغیرہ جیسے الفاظ کو ایک مخصوص زوایہ فکر کے مطابق سمجھنے کے سبب یہ غلط فہمیاں ظاہر ہو رہی ہیں ، جبکہ معاملہ کچھ اتنا گھمبیر نہیں ، بس ایک دو نکات کو درست انداز میں سمجھنے کی حاجت ہے ، یہ تو آپ ان شاء اللہ مجھ سے زیادہ سجھتے ہوں گے کہ مخصوص یا محدود نظر و فکر انسان کو کبھی درست بات نہیں پہنچنے دیتی ، ابھی ابھی ایک مضمون اس بات کی وضاحت کے لیے لکھا ہے ، ان شاء اللہ تھوڑی دیر میں وہ بھی ارسال کرتا ہوں ، و السلام علیکم۔ Last edited by عادل سہیل; 04-12-11 at 11:32 PM. وجہ: لفظ "نقاط" کی درستگی |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (05-12-11), فیصل ناصر (04-12-11), کنعان (27-01-12), احمد نذیر (05-12-11), رفیق طاہر (22-01-12) |
![]() |
| Tags |
| .net, php, فورم, فرض, کتابوں, قرآنی, لوگ, ممکن, مجید, آج, اللہ, انسان, اسلام, بہترین, بھائی, جھوٹ, حدیث, حسن, خلاف, زندگی, شخص, عیسیٰ, علاج, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|