واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


ایک حدیث کے بارے تحقیق

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-11-11, 02:32 AM  
ایک حدیث کے بارے تحقیق
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 10-11-11, 02:32 AM

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
قرآن مجید میں ناسخ اور منسوخ کے حوالے سے ایک حدیث پچھلے دنوں فورم پر پیش کی گئی تھی اور عقلی دلائل سے اسے غلط قرار دیا گیا تھا۔ اس حدیث میں ذکر ہے کہ سورۃ البقرۃ کی آیت حافظوا علی الصلوات لکھواتے ہوئے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس میں و صلاۃ العصر کے الفاظ بھی لکھوائے تھے جو آج قرآن مجید میں موجود نہیں ہیں۔ معترض اسے حدیث کی قرآن دشمنی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ رائے علمی میزان میں کوئی وقعت نہیں رکھتی کیونکہ امام مسلم نے اس حدیث کے بعد جو اگلی حدیث بیان کی ہے وہ کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں رہنے دیتی ۔ ملاحظہ کیجیے:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللهُ، فَنَزَلَتْ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى (صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب الدلیل لمن قال الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر)
"البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (پہلے پہل) یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی "حافظوا علی الصلوات و صلاۃ العصر"۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا ہم نے اسے (ایسے ہی) پڑھا۔ اس کے بعد اللہ نے اسے منسوخ فرما دیا پھر یہ اس طرح نازل ہوئی "حافظوا علی الصلوات و الصلاۃ الوسطی"

یہ حدیث صحیح مسلم میں بالکل اس حدیث کے بعد ذکر ہوئی ہے جس کا حوالہ معترض نے دیا ہے لیکن اللہ ہی بہتر جانتا ہے کس وجہ سے انہوں نے اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت اپنی جگہ درست ہے۔اس میں بیان ہونے والی بات کا تعلق نسخ سے پہلے کا ہے۔ اپنے مصحف میں منسوخ الفاظ لکھوانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں اس نسخ کا علم نہ ہو سکا ہو یا پھر انہوں نے بطور تفسیر یہ الفاظ لکھوا دیے ہوں کیونکہ بہرحال وہ مصحف کسی دوسرے کے لیے نہیں خود ان کے اپنے لیے تھا۔ آیات میں اس قسم کی تبدیلی خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تھی جس کا ذکر سورۃ النحل آیت 101 میں موجود ہے:

وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مُفْتَرٍ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (سورۃ النحل آیت 101)
" اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتے" آن لائن حوالہ

لہٰذا یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے "خلاف قرآن" کہا جا سکے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے نازل کردہ کلام میں کوئی تبدیلی فرمائیں تو اسے تحریف نہیں کہا جا سکتا۔ تحریف تو اس چیز کا نام ہے کہ کوئی دوسرا بعد میں اسے بدل دے جو ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ جل جلالہ نے لے رکھا ہے۔

معترضین محض اس وجہ سے اس حدیث پر طعن کرتے ہیں کہ وہ ان کی محدود قرآن فہمی میں نہیں سماتی اور ان کے نزدیک جو چیز ان کے فہم سے بالاتر ہے وہ درست نہیں ہے۔ اپنے فہم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے وہ ٹھوس حقائق اور مضبوط تاریخی دلائل کے سامنے ایسی تخیلاتی پروازیں بھرتے ہیں کہ خود عقل حیران رہ جائے۔

اوپر جو حدیث میں نے بیان کی ہے اس میں واضح طور پر ذکر ہے کہ "و صلاۃ العصر" کے الفاظ پہلے نازل ہوئے تھے لیکن پھر منسوخ کر دیے گے۔ اس طرح کے نسخ کا قرآنی ثبوت بھی اوپر دے دیا گیا ہے جس کے بعد کسی دوسرے گواہ کی ضرورت نہیں رہتی لیکن مزید تسلی کے لیے ہم سب سے پہلے صحابہ کی گواہی بیان کرتے ہیں جن کے سامنے قرآن نازل ہوا ۔ اس کی ایک ایک آیت سے وہ نہ صرف واقف تھے بلکہ ان میں ایسےبلند مرتبہ مفسر بھی پائے جاتے تھے جن سے قرآن سیکھنے کی ہدایت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ صحابہ کرام میں اس آیت میں "و صلاۃ العصر" کے الفاظ کے نزول اور ان کے نسخ کے گواہ یہ ہیں جن کی گواہی صحیح یا حسن سند کے ساتھ بعد والوں کو پہنچی۔

حفصہ بنت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ
عائشہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عبد الرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ

بطور مثال چند اسناد دیکھیے جو ان صحابہ تک پہنچتی ہیں۔

ام المومنین حفصہ بن عمر بن الخطاب تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ حفصہ -عمرو بن نافع -زید بن اسلم -ھشام بن سعد -لیث بن سعد -عبداللہ بن صالح -مطلب بن شعب -قاسم بن اصیغ -عبدالوارث بن سفیان -یوسف بن عبداللہ (اسے امام ابن عبدالبر نے "التمھید میں نقل کیا ہے)
2۔ حفصہ -خالد بن زید -عبداللہ بن مسعود -علی بن ابی طالب -حسین بن مسعود (شرح السنہ)
3۔ حفصہ -نافع -عبیداللہ بن عمر -حماد بن زید -محمد بن ابی بکر -اسماعیل بن اسحاق -یوسف بن عبداللہ
4۔ عبیداللہ بن عمر -حماد بن سلمہ -حجاج بن متھال -مثنی بن ابراھیم –محمد بن جریر
5۔ عمرو بن نافع۔ محمد بن علی۔ محمد بن اسحاق۔ احمد بن خالد۔ عبد الرحمان بن عمرو۔ محمد بن یعقوب۔ محمد بن عبداللہ۔ احمد بن الحسین
6۔نافع۔ عبدالرحمٰن بن عبد۔ سلیمان بن بلال۔ عبدالحمید بن عید۔ اسماعیل بن عبداللہ۔ اسماعیل بن اسحاق۔ عبداللہ بن سلیمان
7۔ زید بن اسلم۔ سعید بی ابی ھلال۔ خالد بن یزید۔ لیث بن سعد۔ عبداللہ بن عید۔ محمد بن عبداللہ۔ محمد بن جریر
8۔ زید بن اسلام ۔ سعید بی ابی ھلال۔ خالد بن یزید۔ لیث بن سعد۔ شیعب بن اللیث۔ محمد بن عبداللہ۔ محمد بن جریر
9۔ عمرو بن نافع۔ محمد بن علی۔ محمد بن اسحاق۔ احمد بن خالد۔ محمد بن یحیی۔ عبداللہ بن سلیمان
10۔ عمرو بن نافع۔ محمد بن علی۔ محمد بن اسحاق۔ ابراھیم بن سعد۔ یعقوب بن ابراھیم۔ زھیر بن حرب۔ احمد بن علی
11۔ نافع۔ عبیداللہ بن عمر۔ حماد بن زید۔ محمد بن الفضل۔ محمد بن اسحاق۔ محمد بن یعقوب۔ محمد بن عبداللہ۔ احمد بن الحسین
12۔ عمرو بن نافع۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تک پہچنے والی اسناد:
1۔حسن بن یسار۔ قتادہ بن دعامہ۔ سعید بن یشیر۔ ایان بن یزید۔ مسلم بن ابراھیم۔ محمد بن اسحاق۔ محمد بن ھارون
2۔ حسن بن یسار۔ قتادہ بن دعامہ۔ ایان بن یزید۔ یھز بن اسد۔ احمد بن محمد
3۔ حسن بن یسار۔ قتادہ بن دعامہ۔ عفان بن مسلم، احمد بن محمد

براء بن عازب رضی اللہ عنہ تک پہچنے والی اسناد:
1۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ یحیی بن آدم۔ احمد بن محمد
2۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ محمد بن سابق۔ جعفر بن محمد۔ محمد بن جعفر
3۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ محمد بن فضیل۔ محمد بن یحیی۔ محمد بن اسحاق
4۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ یحیی بی ابی بکیر۔ محمد بن اسحاق۔ محمد بن ھارون

عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ عبد الرحمٰن بن مھدی۔ احمد بن محمد۔ محمد بن اسماعیل
2۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ عبداللہ بن وھب۔ یونس بن عبدالاعلی۔ یعقوب بن اسحاق
3۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ عبداللہ بن وھب۔ یونس بن عبدالاعلی۔احمد بن محمد
4۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ احمد بن عمرو۔ عبداللہ بن سلیمان
5۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ معن بن عیسی۔ اسحاق بن موسیٰ۔ محمد بن عیسی۔
6۔ ابویونس۔ قعقاع بن حمقا۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ قتیبہ بن سعید۔ احمد بن شعیب
7۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکیم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس
8۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکیم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ یحیی بن یحیی۔ علی بن حسن۔ حسین بن علی۔ محمد بن عبداللہ۔ احمد بن الحسین
9۔ خالد بن زید۔ عبداللہ بن مسعود۔ علی بن ابی طالب۔ حسین بن مسعود
10۔ ابو یونس۔ قعقاع بن حکیم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ محمد بن ادریس

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ عبداللہ بن عباس۔ ھییرہ بن یریم۔ عمرو بن عبداللہ۔ شعبہ بن الحجاج۔ وھب بن جریر۔ ابراھیم بن مرزوق۔ محمد بن یعقوب۔ محمد بن موسی۔ احمد بن الحسین۔ (حدیث حسن)

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ عبیدہ بن عمرو۔ محمد بن سیرین۔ ھشام بن حسان۔ محمد بن عبداللہ۔ محمد بن سلیمان

عبدالرحمٰن بن صخرتک پہنچنے والی اسناد
1۔ خالد بن زید۔ عبداللہ بن مسعود۔ علی بن ابی طالب۔ حسین بن مسعود

یہ کل 32 مختلف اسناد ہوئیں۔ ان کے راویوں کی ترتیب دیکھیے، صحابہ کے زمانے سے لے کر آخر تک ہر زمانے میں ایسے لوگ اس حدیث کو بیان کرتے رہے ہیں جن کی سچائی، دیانت اور بہترین یادداشت کی گواہی علم الرجال کی کتابوں میں ثبت ہے۔

کوئی سلیم العقل انسان یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا کہ مختلف علاقوں میں دسیوں کی تعداد میں نسلًا بعد نسل ایسا لوگ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے حدیث کے نام پر یہ جھوٹ پھیلایا لیکن ان کے آس پاس رہنے والے انہیں سچائی اور دیانت کا چلتا پھرتا نمونہ اور دین کا امام سمجھتے رہے۔ ایسی مکاری ایک دو افراد محدود وقت کے لیے کر سکتے ہیں لیکن جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ دسیوں اور سینکڑوں لوگ یہ کام ساری زندگی انجام دے سکتے ہیں وہ درحقیقت شک کا مریض ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں۔

ان میں بہت سی اسناد میں امام مالک، امام محمد بن ادریس الشافعی اور امام احمد بن حنبل سمیت دوسری کئی ایسی ہستیاں ہیں جن کو جھوٹا سمجھ لیا جائے تو دین موم کی ناک بن کر رہ جائے گا جسے ہر کوئی اپنے فہم اور اپنی خود ساختہ قرآن فہمی کے مطابق موڑ سکے گا جس کی بہت سے مثالیں اسی فورم پر مل جاتی ہیں۔

نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرتے وقت معترضین دلیل پیش کرتے ہیں کہ حدیث کی سب سے پہلے لکھی جانے والی کتاب موطا امام مالک میں اس کا ذکر نہیں ملتا اس لیے ہم اسے نہیں مانتے لیکن عجیب بات ہے کہ مذکورہ بالا حدیث امام مالک نے نہ صرف موطا میں نقل کی ہے بلکہ ایسی بہترین سند کے ساتھ ذکر کی ہے کہ ان کے اور ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے درمیان صرف دو راوی ہیں۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان احادیث کو کس کس امام نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے۔
1۔ امام ابن عبدالبر اپنی کتاب "التمھید" میں۔ امام صاحب قرطبہ اندلس کے رہنے والے تھے۔
2۔ امام بغوی نے اپنی کتاب "شرح السنۃ میں۔ امام صاحب مدائن خراسان کے رہنے والے تھے۔
3۔ ابوجعفر الطبری۔ کتاب جامع البیان ۔ طبرستان میں پیدا ہوئے بغداد میں زندگی بسر کی۔
4۔ امام ابوبکر بن ابی داؤد السجستانی۔ مکہ، مدینہ، کوفہ ، بغداداور شام وغیرہ میں زندگی کا ایک حصہ گزارا۔
5۔ امام النسائی۔ کتاب سنن الکبری۔ حجاز، مصر، شام
6۔ امام ابویعلی ۔ کتاب مسند ابی یعلی۔ موصل کے رہنے والے تھے۔
7۔ امام مالک بن انس۔ کتاب موطا مام مالک۔ ساری زندگی مدینہ منورہ میں بسر کی۔
8۔ امام مسلم بن الحجاج۔ کتاب صحیح مسلم۔ نیشابور کے رہنے والے تھے۔
9۔ امام الطبرانی۔ المعجم الکبیر۔ فلسطین کے قریب طبریہ میں پیدا ہوئے۔ آخری عمر اصفہان میں گزاری۔
10۔ امام احمد بن حنبل۔ مسند احمد بن حنبل۔ بغداد میں رہائش پذیر تھے۔

یہ تمام نام جو اوپر مذکور ہوئے ہیں اپنے زمانے کے متقی اور صالح ترین افراد گنے جاتے تھے جن کے دشمن بھی ان کی سچائی پر حرف نہیں اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتے تھے اور تمام امت آج تک انہیں اپنا امام تسلیم کرتی آئی ہے۔ ایک لمحے کے لیے فرض کر لیجیے کہ ان میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنے پاس سے یہ حدیث لکھ ڈالی تو ان کی تعداد ایک دو سے زیادہ نہ ہو سکتی لیکن سب کا اس جھوٹ پر اکٹھے ہو جانا محال ہے۔

تاریخی حوالے سے ایک شبہ اور رہ جاتا ہے کہ ممکن ہے بعد والوں نے اس حدیث کا اضافہ کر دیا ہو۔ یہ اعتراض جتنی شدومد کے ساتھ دہرایا جاتا ہے حقیقت میں اتنا ہی بودا ہے۔ ذرا سوچیے اگر اس اعتراض میں کوئی سچائی ہے تو اس کے لیے کیا کیا لوازمات درکار ہوں گے۔ سب سے پہلے ایک ایسا گروہ جو اول سے آخر تک تمام رواۃ کا علم اور ان کے حالات سے واقفیت رکھتا ہو تا کہ جھوٹی سند گھڑ سکے۔ پھر اس زمانے کے محدود ذرائع آمدورفت کے باوجود اصفہان سے لے مدینہ تک اور بصرہ سے شام تک کوئی علاقہ اس کی پہنچ سے خالی نہ ہو۔ پھر اس کا ہر ہر فرد ایسا چالاک ہو کہ مختلف ائمہ کی کتابوں میں چپکے سے حدیث داخل کر دے اور صدیوں تک کسی کو علم تک نہ ہو سکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کچھ پتہ نہ چلے کہ وہ کون تھے کدھر سے آئے تھے، کن لوگوں کےساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا، کہاں فوت ہوئے، ان کا علمی مرتبہ کیا تھا، حتی کہ دنیا ان کے نام سے بھی واقف نہ ہو یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں کسی متجدد پر بذریعہ الہام ان کا وجود مکتشف ہو گیا ہو۔

یہ بحث کچھ طویل ہو گئی ہے جو کچھ اراکین (خاص طور پر حیدر بھائی  ) کی طبیعت پر ناگوار گزرتی ہے لیکن موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے میں نے طوالت کو زیادہ اہم نہیں سمجھا۔ امید ہے آپ بھی ٹھنڈے دل سے ان نکات پر غور کریں گے۔ حدیث کے بارے میں پھیلائے جانے اکثر شبہات ان نکات کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں لیکن جس کو اللہ سمجھ نہ دے اسے کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ فی الوقت میں نے خود کو اس حدیث کے تاریخی پس منظر تک محدود رکھا ہے۔ کبھی موقع ملا تو اس کے دوسرے پہلوؤں پر بھی بات ہو گی ان شاء اللہ۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2365
14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-11-11), skjatala (03-12-11), فیصل ناصر (10-11-11), فاروق سرورخان (10-11-11), کنعان (10-11-11), ھارون اعظم (11-11-11), مرزا عامر (12-11-11), ابن آدم (23-01-12), احمد نذیر (30-01-12), رفیق طاہر (22-01-12), راجہ اکرام (10-11-11), شکاری (13-11-11), شمشاد احمد (10-11-11), عبداللہ آدم (04-12-11)
پرانا 30-01-12, 12:32 AM   #61
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,602
کمائي: 31,083
شکریہ: 7,103
2,937 مراسلہ میں 8,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
فاروق صاحب، معانی قرآن کے اردو مترجمین کو ترجمہ کر کے بھی افاقہ نہ ہوا تھا۔ وہ سب کچھ کر کے بھی "پرکھے" ہی رہے، تو ان حضرات کو پروف ریڈنگ سے کیا مل جائے گا۔ شاید آپ کو یاد ہو حافظ نذر احمد اور مودودی صاحب کا ترجمہ انہی لوگوں نے ٹائپ کیا تھا جو آپ کے نظریات سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ آپ کے نزدیک قرآن بس وہی ہے جو آپ کی عقل میں‌آئے، ہمارے پیمانے ذرا مختلف ہیں تو ہر جگہ سینگ پھنسانے سے کیا حاصل؟‌
بھائی عبد اللہ حیدر ،

میں صرف اور صرف مستند تراجم پیش کرتا ہوں ۔ لہذا یہ کہنا کہ قران بس وہی ہے جو میری سمجھ میں‌آئے ایک طرح‌کا طرفہ تماشہ تو ہے لیکن اس میں‌ وزن نہیں۔ اس لئے کہ اگر تمام مترجمین آپ کے نزدیک قصور وار ہیں تو پھر درست ترجمہ پیش کیجئے۔

اوپن برہان پر اتنے سارے تراجم کی وجہ ہی یہ ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ میں‌جب کوئی ترجمہ "ملاء برادری" کو دکھاتا تھا تو وہ کہتا تھا یہ ترجمہ درست نہیں ۔ اب اتنے سارے مترجمین کے تراجم موجود ہونے کے بعد کہتے ہیں‌کہ یہ تراجم تو درست ہیں‌۔ اب ہم اس ترجمے کو کتب روایات سے سمجھیں‌گے ۔ اور پھر ایک صاف اور واضح دلیل ---- اوپن برہان --- کے سامنے الزام دیتے ہیں کہ یہ میری سمجھ ہے ۔

بھائی یہ ہر اس مسلمان کی سمجھ ہے جو قرآن کو با معانی پڑھتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے اور رسول اللہ کی سنت پر ایمان رکھتا ہے ۔ مزید تفصیل آپ کو بقرۃ 177 میں مل جائے گی جس پر برادر عادل سہیل نے ایمان لانے سے بہانے بہانے سے انکار کردیا تھا۔ ان کے اور میرے دھاگے گواہ ہیں۔۔


جن لوگوں‌نے قرآن حکیم کے تراجم کے متن ٹائپ کئے۔ وہ آپ میں سے ایک بھی نہیں‌تھا۔ ‌

اس جھگڑے سے قطع نظر حافظ نذر احمد کا ترجمہ فراہم کردیجئے تا کہ وہ بھی اوپن برہان پر لگایا جاسکے۔ جناب مودودی صاحب کا ترجمہ پروف ریڈنگ سے گذر رہا ہے ۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 12:38 AM   #62
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,602
کمائي: 31,083
شکریہ: 7,103
2,937 مراسلہ میں 8,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ تعالی کے فرمان قران کی کوئی بھی آیت منسوخ‌نہیں‌ہوئی۔ یہ کسی بندے کا فرمان نہیں‌ کہ وہ سوچتا اور تبدیل کرتا رہتا ہے ۔

یہ اس قادر مطلق کا فرمان ہے جو زمان و مکاں سے بالا تر ہے ۔ وہ آیات جو تحریف شدہ کتب میں شیطان کے خلل کی وجہ سے درست کرنا ضروری تھیں ، قرآن کے نزول کے ساتھ منسوخ‌ہوئیں۔

کیا ان لوگوں کو اللہ تعالی کا فیصلہ منظور نہیں کہ دونوں آدم اور اس کی زوجہ کو قصور وار ٹھیرانے کی جگہ صرف اور صرف عورت و قصور وار ٹھیراتے ہیں اور پھر اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں‌کہ اللہ تعالی کی آٰیات منسوخ‌ہو گئیں‌؟؟؟

یہ نفرت تو "پرکھوں"‌سے چلی آرہی ہے۔ ان لوگوں‌کے نزدیک قران قابل نفرت ڈاکومینٹ‌ہے ۔ اسی لئے اس کو منسوخ‌ثابت کرنے کی رٹ‌لگائے رکھتے ہیں۔

قرآن پڑھنے کی دعوت خاص میں‌اپنے بھائی عبد اللہ حیدر کو بھول جانے کی معذرت چاہتا ہوں۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (30-01-12)
کمائي نے فاروق سرورخان کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
30-01-12 rana ammar mazhar یہ نفرت تو "پرکھوں"‌سے چلی آرہی ہے۔ ان لوگوں‌کے نزدیک قران قابل نفرت ڈاکومینٹ‌ہے ۔ اسی لئے اس کو منسوخ ‌ثابت کرنے کی رٹ‌لگائے رکھتے ہ 150
پرانا 30-01-12, 12:58 AM   #63
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,595
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,695 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

برادر عادل سہیل، کنعان، رفیق طاہر اور شکاری کو دعوت خاص ہے ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رفیق طاہر

میرا سوال یہ ہے کہ

الم تعلم ان اللہ على کل شیء قدیر

میں مخاطب کون ہے
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

بھائی اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ جانتے نہیں تو پھر سوال ہی کیوں‌ کرتے ہیں؟؟؟
السلام علیکم

سوال دعوت فاروق سے پہلے کا ھے اور جواب دعوت کے بعد کا، نتیجہ سامنے ھے۔

والسلام
کنعان آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), فاروق سرورخان (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), رفیق طاہر (31-01-12), شکاری (30-01-12), عادل سہیل (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 01:01 AM   #64
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
الحمد للہ کہاں ہم کہ آیات کے معانے سمجھانے کے لئے پیش کرتے ہیں اور کہاں یہ لوگ کہ ان کو یہ بھی پتہ نہیں‌ کہ اس آیت میں کس کو مخاطب کیا جارہا ہے ۔ تو بھلا یہ کیسے جانیں‌گے کہ آیات تو سابقہ کتب کی شیطانی خلل کی وجہ سے منسوخ‌ہوئیں ناکہ قرآن حکیم کی؟

بھائی اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ جانتے نہیں تو پھر سوال ہی کیوں‌کرتے ہیں ؟؟؟

والسلام
السلام علی من اتبع الھدیٰ ،
الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، ثم الحمد للہ ، میں نے ابھی ابھی سابقہ مراسلہ رقم 58 میں‌جو لکھا کہ :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں

اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہوں کہ اِن شاء اللہ """خِلافء قران ، قران فہمی زدہ """ خود کو قران کے طالب علم کہنے والے ، """ بنی اسرائیل پُرکھوں """ کی عداوتء محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نبھانے والے ، """ اسرائیلی پُرکھوں کی روایات """ کی دُھن پر مگن رہنے والے اس کا جواب نہ دیں گے ، اور جب بھی دیں گے اِن شاء اللہ اُن کے پردے مزید چاک ہوں گے،
اور """ بنی اسرائیل پُرکھوں """ کی اتباع میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عداوت میں اونگی بونگی مارنے والوں کی بونگیاں مزید واضح طور پر پہچانی جانے لگیں گی ، باذن اللہ ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے سچ کر دِکھایا ، قران کے """ معمولی طالب علم """ نے حسب عادت کوٕئی جواب دینے کی بجإئے راہ فرار اختیار کر لی ،
اور یوں اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ پھر ان کے """ یقینا خِلاف قران """ مسلک و مذھب کا پردہ مزید وا کر دیا ،
الحمد للہ ، ہم تو سوال کا جواب جانتے ہیں ، سوال تو ان صاحب کی """ خلافء قران ، قران فہمی """ کو مزید آشکار کرنے کے لیے تھا ، اور ہے ، جو ان کے جواب دینے سے بھاگنے پر ہو گئی ، اور اگر جواب دیں گے تو اِن شاء اللہ مزید ہو گی ،
میرے مراسلے کے بعد فی الفور جواب دہی سے جان بچانے والا مراسلہ ارسال کر کے میرے مراسلے کو خود کار بہاو میں پیچھے دھکیل کر اپنی غلطیوں سے قارئین کی صرف نظر کی کوشش بھی ان صاحب کا پرانا وطیرہ ہے ، شاید کسی """ اسرإئیلی پُرکھ کی روایت """ سے یہ طریقہ سیکھ رکھا ہے ۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
محترمین کو وہ خلاف قرآن روایات ، جو کہ تحریف شدہ توریت و انجیل و زبور کی تفاسیر ہیں۔ قرآن کی تفسیر نظر آتی ہیں۔ جہاں اللہ تعالی بیان کرچکے ہیں‌کہ ‌جرم دونوں کا ہے وہاں‌ ، اللہ تعالی کو جھوٹا ٹھیراتے ہیں اور جرم ایک اور وہ بھی کمزور کا بتاتے ہیں‌ ، اللہ تعالی پر جھوٹ‌باندھتے ہیں ۔ پھر یہی لوگ کہتے ہیں‌کہ قرآں تو منسوخ‌ ہو چکا ہے ۔ اب وہ مانئے جو ہم کہتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ اقتدار پر فرد واحد کے قبضے والی روایات، عورتوں کا حرم بنانے والی روایات، معصوم عورتوں‌کی "تمتع"‌ کے نام پر عزت لوٹنے والی روایات، مردوں‌کو غلام بنانے والی روایات اور عوام کی دولت لوٹنے والی روایات ۔۔ ایسی تمام خلاف قرآن روایات ان کے دین کا حصہ ہیں۔

اللہ تعالی کے فرمان قرآن پر ایمان نہیں تو مسلمان نہیں۔۔

والسلام
آج تک خلاف قران کی کوٕئی ایسی تعریف نہیں بتا سکے جس کی کبھی انہوں نے خود مخالفت نہ کی ہو اور نہ ہی کریں ،
لوگوں کے ایمان پر فتوے جڑنا ان کا مشغلہ ہے ، لیکن ان کے ان فتووں پر شاید کسی ذمہ دار شخصیت کی نظر نہیں پڑتی ، خود ان صاحب کا یہ حال ہے کہ آج تک قران کریم میں سے ایمان کی تعریف تک نہیں بتا سکے ، بس لوگوں کے ایمان پر حکم لگانے چلے آتے ہیں

یہ بات ٹھیک ہے کہی کہ اللہ تعالی کے فرمان پر ایمان نہیں تو مسلمان نہیں ، اب اسی بات کی روشنی میں """ اسرائیلی پرکھوں کی اتباع میں عداوتءمحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم """ کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کو قران کریم کے فہم سے الگ کرنے والے اپنی مسلمانی کا خود ہی اندازہ کریں ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی یہ ہر اس مسلمان کی سمجھ ہے جو قرآن کو با معانی پڑھتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے اور رسول اللہ کی سنت پر ایمان رکھتا ہے ۔ مزید تفصیل آپ کو بقرۃ 177 میں مل جائے گی جس پر برادر عادل سہیل نے ایمان لانے سے بہانے بہانے سے انکار کردیا تھا۔ ان کے اور میرے دھاگے گواہ ہیں۔۔
پڑھنے اور سمجھنے کا فرق بہت بڑا ہوتا ہے اور یہ فرق ان صاحب کی """ خلاف ء قران قران سمجھی """ سے بہت نمایاں ہو کر نظر آتا ہے ،
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ، کوٕئی ان صاحب سے کہے کہ ذرا وہ دھاگے اور ان دھاگوں میں وہ باتیں سامنے تو لایے جن کا ذکر کر کے ایک دفعہ پھر میرے ایمان پر فتوی جڑ کر میری آخرت کی خیر میں اضافہ کا سبب مہیا کیا ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالی کے فرمان قران کی کوئی بھی آیت منسوخ‌نہیں‌ہوئی۔ یہ کسی بندے کا فرمان نہیں‌ کہ وہ سوچتا اور تبدیل کرتا رہتا ہے ۔

یہ اس قادر مطلق کا فرمان ہے جو زمان و مکاں سے بالا تر ہے ۔ وہ آیات جو تحریف شدہ کتب میں شیطان کے خلل کی وجہ سے درست کرنا ضروری تھیں ، قرآن کے نزول کے ساتھ منسوخ‌ہوئیں۔

کیا ان لوگوں کو اللہ تعالی کا فیصلہ منظور نہیں کہ دونوں آدم اور اس کی زوجہ کو قصور وار ٹھیرانے کی جگہ صرف اور صرف عورت و قصور وار ٹھیراتے ہیں اور پھر اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں‌کہ اللہ تعالی کی آٰیات منسوخ‌ہو گئیں‌؟؟؟

یہ نفرت تو "پرکھوں"‌سے چلی آرہی ہے۔ ان لوگوں‌کے نزدیک قران قابل نفرت ڈاکومینٹ‌ہے ۔ اسی لئے اس کو منسوخ‌ثابت کرنے کی رٹ‌لگائے رکھتے ہیں۔

قرآن پڑھنے کی دعوت خاص میں‌اپنے بھائی عبد اللہ حیدر کو بھول جانے کی معذرت چاہتا ہوں۔

والسلام
واہ بھئی خوب رہی ، اتنی باتیں صرف اس لیے کہ سوالوں کے جواب نہیں دے سکتے ، خود ساختہ الزامات کا پلندی نشر کر ڈالا اور جواب کسی ایک سوال بھی نہیں دے پائے ،
""" اسرائیلی پُرکھوں کی عدوات ء محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم """ نبھانے کی دُھن میں قران کی خدمت کرنے والے ہمارے عُلماء کو ایک دفعہ پھر قران سے نفرت کرنے والا کہہ ڈالا ، اللہ اللہ یہ تباہ کن غلط فہمیاں ، ان صاحب کی """ صاف صریح خلاف قران قران سمجھی """ کی دلیل ہی تو ہیں ،
کوٕئی انہیں کہے کہ اگر علم و یقین ہے تو علم کی دلیل لائیں اور ہمارے سوالات کے علمی جوابات دیں ،
""" اسرائیلی پُرکھوں کی عدوات محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم """ کے چاو میں اونگیاں بونگیاں مارتے ہوئے اپنی آخرت اور لوگوں کا وقت کیوں برباد کر رہے ہیں ؟؟؟
ھَاتوا بُرھانکم اِن کنتم صادقین
پورے تھریڈ میں دو ہی تو سوال ان سے پوچھے گٕئے ہیں ،
ایک بھائی رفیق طاہر صاحب کی طرف سے اور ایک میری طرف سے ،
آخر ان کی """ قران سمجھی ""' انہیں جواب دینے کی طرف کیوں نہیں آنے دے رہی ؟؟؟

والسلام علی من اتبع الھدیٰ ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), فاروق سرورخان (30-01-12), کنعان (30-01-12), احمد نذیر (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12), شکاری (30-01-12), عبداللہ حیدر (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 05:20 AM   #65
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,602
کمائي: 31,083
شکریہ: 7,103
2,937 مراسلہ میں 8,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

وہی بچکانہ لفاظی۔ اور معانی ندارد۔

اس کا جواب ان لوگوں کو خود نہیں معلوم۔ جب یہ جواب دیں گے تو اس نکتہ کو کس نے کب اور کہاں‌ اور کس طرح‌ واضح کیا ہے اور کون ہے اس کا مخاطب، اس کی کیا وجوہات ہیں، سامنے آجائے گا

لہذا اب انتظار ہے ان کے جواب کا۔ جو خود ان کو نہیں‌معلوم
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 10:02 AM   #66
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,524
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,209 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گزشتہ درجن بھر مراسلہ جات کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ مضمون اپنے "منطقی انجام" تک پہنچ چکا ہے۔ تلخیاں پیدا ہونے سے قبل احباب سے اس تھریڈ کو بند کرنے کی رائے درکار ہے ۔
حیدر آن لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), فاروق سرورخان (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 10:14 AM   #67
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,202
شکریہ: 7,915
2,141 مراسلہ میں 4,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن مجید کے، ظاہری معنی کے علاوہ، متعدد باطنی معنی بھی ہیں، لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے کہ تمام آیات کے باطن کو سمجھنا پیغبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین (ع) کے علاوہ کسی کے لئے ممکن نہیں ہے ـ

اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے دو قسم کی شرائط ضروری ہیں:

الف ـ ظاہری وسائل: مثلاً عربی زبان کی مہارت اور اس کی ظرافت اور معانی کو سمجھنا ـ تاریخ اسلام اور قرآن مجید کی آیات کاشان نزول اور تفسیری احادیث کو جاننا، عام و خاص، مطلق و مقید اور ناسخ و منسوخ کو جاننا ـ

ب ـ معنوی وسائل: روح کا خلوص اور طہارت اور باطنی بصیرت جو تقوائے الہی سے حاصل ہوتے ہیں، پس ایک طرف سے جہالت و غفلت کی روکاوٹوں کا نہ ہونا اور دوسری طرف سے باطنی خباثت، دل کا زنگار اور کور باطنی کا نہ ہونا اور ان کے عوامل یعنی تکبر و غرور اور خود خواہی کو دور کرنا بھی قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے شرط ہے ـ

اس کے پیش نظر کہ قرآن مجید ایک کتاب مبین اور "تبیان لکل شیء" ہے، اس کی آیات کو سمجھنے کےکیا شرائط ہیں؟
حیدر Rehan آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
پرانا 30-01-12, 11:48 AM   #68
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,602
کمائي: 31,083
شکریہ: 7,103
2,937 مراسلہ میں 8,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حیدر،

آپ لاکھ تالے لگاتے رہیں۔ جو تالے دلوں‌پر لگے ہیں‌ان کا کیا علاج۔ جب بات منطقی نکات اور قرآنی دلائیل سے باہر نکل جائے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے ۔

آپ یہ بتائیے کہ آپ کو ڈر کیوں‌لگنے لگتا ہے کہ لوگ بحث‌کریں‌گے ۔ جب تک کوئی بد زبانی نہیں‌کرتا، آپ تماشہ دیکھئے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 11:49 AM   #69
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,602
کمائي: 31,083
شکریہ: 7,103
2,937 مراسلہ میں 8,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر عادل، آپ تھوڑا سا پڑھنا سیکھ لیجئے تو آپ دیکھیں‌گے کہ سوال تو اور بھی پوچھے گئے ہیں۔ بس آپ کے پاس جواب نہیں‌ہے ۔

رہ گئی ھاتو برہانکم تو --- اس کے لئے پورا اوپن برہان موجود ہے ۔۔۔ آپ کیوں‌ بھاگتے ہیں‌ اس میں‌ اپنا حصہ ڈالنے سے ؟؟؟

یہ بھی ایک سوال ہے
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 12:06 PM   #70
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,368
کمائي: 95,524
شکریہ: 52,468
11,159 مراسلہ میں 35,209 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ;493470
حیدر،

آپ لاکھ تالے لگاتے رہیں۔ جو تالے دلوں‌پر لگے ہیں‌ان کا کیا علاج۔ جب بات منطقی نکات اور قرآنی دلائیل سے باہر نکل جائے تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے ۔

آپ یہ بتائیے کہ آپ کو ڈر کیوں‌لگنے لگتا ہے کہ لوگ بحث‌کریں‌گے ۔ جب تک کوئی بد زبانی نہیں‌کرتا، آپ تماشہ دیکھئے۔

والسلام
اصل میں اہل علم حضرات کا ماضی بہت "تابناک" ہے ۔ اس لیے ڈر لگا رہتا ہے۔

جب بات منطقی نقاط اور قرآنی دلائل سے باہر نکل جائے تو کیا اس قسم کے الفاظ و جملوں مثلاً"ملا برادری"، "اونگی بونگی"، "اسرائیلی روایات"۔"اسرائیلی پُرکھوں"۔ وغیرہ سے سمجھ آ جاتی ہے؟

اور معذرت کے ساتھ میں اسلام کو تماشہ نہیں بننے دوں گا۔ ہم یہاں اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں کہ "اس قسم کے تماشوں سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے"۔ عام معاشرے میں جو ہو رہا ہے وہی کافی ہے۔ پاک نیٹ کو ان تماشوں سے دُور رکھیں۔

ٹاپک سے متعلقہ کوئی بات ہے تو براہ مہربانی کیجیے۔ ورنہ غیر متعلقہ مراسلہ جات میں بغیر کسی وارننگ کے ڈیلیٹ یا ایڈٹ کرنے کا اختیار رکھتا ہوں۔

شکریہ
حیدر آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), فاروق سرورخان (30-01-12), کنعان (30-01-12), احمد نذیر (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 01:40 PM   #71
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,419
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,429 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
ٹاپک سے متعلقہ کوئی بات ہے تو براہ مہربانی کیجیے۔ ورنہ غیر متعلقہ مراسلہ جات میں بغیر کسی وارننگ کے ڈیلیٹ یا ایڈٹ کرنے کا اختیار رکھتا ہوں۔
کاش اسلامک سیکشن میں‌کوئی ناظم صاحب صرف اس ایک قانون کو اپلائی کرنے کا عزم کر لیں۔ کم سے کم ان دھاگوں‌میں‌جن میں‌مباحث جاری ہوں۔ تو ہمارے بھائیوں کو جو شکایت لاحق ہے کہ اکثر مباحث بغیر کسی منطقی انجام تک پہنچے ختم ہو جاتے ہیں، تو شاید اس شکایت میں‌کچھ کمی واقع ہو سکے۔ اور پڑھنے، لکھنے والوں کو بھی اپنے اوقات کا کچھ فائدہ ہو سکے۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), فاروق سرورخان (30-01-12), کنعان (30-01-12), احمد نذیر (30-01-12), حیدر Rehan (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 05:07 PM   #72
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,571
کمائي: 16,436
شکریہ: 6,865
933 مراسلہ میں 1,534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اکثر مباحث بغیر کسی منطقی انجام تک پہنچے ختم ہو جاتے ہیں، تو دعوت شکار ہے !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
کاش اسلامک سیکشن میں‌کوئی ناظم صاحب صرف اس ایک قانون کو اپلائی کرنے کا عزم کر لیں۔ کم سے کم ان دھاگوں‌میں‌جن میں‌مباحث جاری ہوں۔ تو ہمارے بھائیوں کو جو شکایت لاحق ہے کہ اکثر مباحث بغیر کسی منطقی انجام تک پہنچے ختم ہو جاتے ہیں، تو شاید اس شکایت میں‌کچھ کمی واقع ہو سکے۔ اور پڑھنے، لکھنے والوں کو بھی اپنے اوقات کا کچھ فائدہ ہو سکے۔

اصحاب رسولؓ اور ازواج مطہرات ؓ كا لکھوایا مبينہ قرآن اور آج كا قرآن۔۔۔؟


کم سے کم ان دھاگوں ‌میں‌ جن میں‌ مباحث جاری ہوں، اکثر مباحث بغیر کسی منطقی انجام تک پہنچے ختم ہو جاتے ہیں، تو دعوت شکار ہے !!!
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 30-01-12, 05:55 PM   #73
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,571
کمائي: 16,436
شکریہ: 6,865
933 مراسلہ میں 1,534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قرآن دشمنی کے جذبات سے مغلوب ہو کر تمام منسوخ آیات کے نمبر یہاں لکھ دیں !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
امت مسلمہ نے بہت سمجھایا لیکن خود ساختہ عُلماء سُوء نے ایک بھی آیت منسوخ نہ مانی، پیوستہ رہ شجر سے اُمیدء بہار رکھ ، اللہ نے چاہا تو شاید اُن میں‌سے کسی کو ہدایت دے دے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن پانچ کو یا کسی بھی اور آیت کو عُلماء سُوء ہی تو منسوخ نہیں مانتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
سُبحان اللہ ، و اللہ اکبر ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے رانا صاحب کے اِن مقبوسہ ذیل الفاظ میں اُن کے تمام تر مراسلات میں اُن کی طرف سے لکھی گئی باتوں کی بالکل درست درجہ بندی ظاہر کروائی ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
عادل سہیل تو ان شاء اللہ کسی تلبیس میں شامل ہونے والا نہیں ، اور امید رکھتا ہے کہ میرے مدعوین بھإئیوں میں سے بھی کوٕئی ایسی جگہ کی ترویج میں شامل نہ ہوگا جس کی آڑ میں اچھا نام کمانے کی کوشش کرتے ہوٕئے ، اللہ کی کتاب اوپن برھان کو ، کلوزڈ اِنٹو سلف اییمجینیشنز (closed into self imaginations) کرنے کا کام ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
معمولی طالب علم صاحب فی الحال تو بھائی رفیق طاہر صاحب کے اور میرے سوال کا جواب ہی دیں ، پھر دیکھتے ہیں ان شاء اللہ ایک ایک کر کے کیا کیا نظر آتا ہے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
بات ساری یہ ہے کہ عدواتء محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم و فداہ ما رزقنی اللہ ، سے نفرت جو """ بنی اِسرإئیل پُرکھوں """ کو تھی وہ ختم ہو کر نہیں دے رہی ، یہی وجہ ہے کہ سُنت محمدیہ علی صاحبھا افضل الصلاۃ و السلام کو خود ساختہ خِلافء قران فلسفے کی عینک کے بغیر نہیں پڑھتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
اللہ کی طرف سے منتخب شدہ بہترین مفسر صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بیان کردہ تفسیر جاننے کے لیے اُن کی ہر ایک صحیح ثابت شدہ سُنت شریفہ ماننے میں کیا خرابی ہے ؟؟؟
جواب :::
بنی اسرإئیل پُرکھوں کی عداوت ء محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی لاج نہیں رہتی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
و علیکم السلام و رحمۃُ اللہ و برکاتہ ،
ماشاء اللہ بہت اچھا تجزیہ پیش کیا ہےکنعان بھائی ، جزاک اللہ خیراً ،
و السلام علیکم۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
بھائی رفیق طاہر صاحب کے سوال کے ساتھ ساتھ میں بھی اپنا سوال دہراتا ہوں
اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہوں کہ اِن شاء اللہ """خِلافء قران ، قران فہمی زدہ """ خود کو قران کے طالب علم کہنے والے ، """ بنی اسرائیل پُرکھوں """ کی عداوتء محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نبھانے والے ، """ اسرائیلی پُرکھوں کی روایات """ کی دُھن پر مگن رہنے والے اس کا جواب نہ دیں گے ، اور جب بھی دیں گے اِن شاء اللہ اُن کے پردے مزید چاک ہوں گے،
اور """ بنی اسرائیل پُرکھوں """ کی اتباع میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عداوت میں اونگی بونگی مارنے والوں کی بونگیاں مزید واضح طور پر پہچانی جانے لگیں گی ، باذن اللہ ۔

، و السلام علی من اتبع الھُدیٰ ۔
اتنی لمبی تقریر کی بجائے آپ قرآن دشمنی کے جذبات سے مغلوب ہو کر تمام منسوخ آیات کے نمبر یہاں لکھ دیں !!!

پھر دیکھتے ہیں ان شاء اللہ ایک ایک کر کے کیا کیا نظر آتا ہے !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 30-01-12, 07:00 PM   #74
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,571
کمائي: 16,436
شکریہ: 6,865
933 مراسلہ میں 1,534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default علم وحی سے جنگ کب سے؟ کیوں؟ اور کس کی؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
یہی وجہ ہے کہ اقتدار پر فرد واحد کے قبضے والی روایات، عورتوں کا حرم بنانے والی روایات، معصوم عورتوں‌کی "تمتع"‌ کے نام پر عزت لوٹنے والی روایات، مردوں‌کو غلام بنانے والی روایات اور عوام کی دولت لوٹنے والی روایات ۔۔ ایسی تمام خلاف قرآن روایات ان کے دین کا حصہ ہیں۔

علم وحی سے جنگ کب سے؟ کیوں؟ اور کس کی؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 30-01-12, 07:04 PM   #75
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,723
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,067 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
گزشتہ درجن بھر مراسلہ جات کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ مضمون اپنے "منطقی انجام" تک پہنچ چکا ہے۔ تلخیاں پیدا ہونے سے قبل احباب سے اس تھریڈ کو بند کرنے کی رائے درکار ہے ۔
ایک مرتبہ یہ واضح ہو لینے دیں کہ قران کی کون کون سی آیات منسوخ ہیں- میں نے بھی آیات کی منسوخی کہ بارے میں بہت سنا ہے شاید فورم کا کوئی ساتھی میرے علم میں اضافہ کرے اور وہ حتمی آیات دے ڈالے جو منسوخ ہیں ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (30-01-12), فیصل ناصر (30-01-12), فاروق سرورخان (30-01-12), حیدر Rehan (31-01-12)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
.net, php, فورم, فرض, کتابوں, قرآنی, لوگ, ممکن, مجید, آج, اللہ, انسان, اسلام, بہترین, بھائی, جھوٹ, حدیث, حسن, خلاف, زندگی, شخص, عیسیٰ, علاج, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:57 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger