واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


احادیث کا دفاع چند مثالیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-12-10, 02:24 PM   #1
احادیث کا دفاع چند مثالیں
نوشاد احمد نوشاد احمد آف لائن ہے 11-12-10, 02:24 PM

احادیث کا دفاع چند مثالیں
احادیث پر جب کوئی اعتراض کرتا ہے تو ’’ اکابر علما ‘‘میدان میں آجاتے ہیں اور ان احادیث کا دفاع کرتے ہیں ۔ذیل میں ہم چند مثالیں حوالے کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔اس میں آپ ’’اکابر علما‘‘ کی تحقیق دیکھئے اور ان کا دفاع حدیث کا طریقہ ملاحظہ فرمائیے۔
میں یہ مراسلہ جناب فاروق سرور صاحب کے نام اور ان کی حق گوئی و بے باکی کے نام کرتا ہوں۔

کتاب کا نام ہے ’’ صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ ‘‘ لکھنے والے ہیں اہل حدیث کے مشہور عالم ’’ جناب حافظ زبیر علی زئ صاحب‘‘ ۔ صفحہ نمبر ۲۸
۱:۔ بخاری میں ایک حدیث ہے
’’ ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا موسی علیہ سلام بڑے با حیا اور ستر پوش آدمی تھے ۔ان کی حیا کی وجہ سے ان کے جسم کا ذرا سا بھی حصہ ظاہر نہ ہوتا تھا ۔بنی اسرائیل نے ان کو اذیت دی اور کہا یہ جو اپنے جسم کی اتنی پردہ پوشی کرتے ہیں تو صرف اس لیئے کہ ان کا جسم عیب دار ہے۔یا تو انھیں برص ہے یا فتق ہے یا اور کوئی بیماری ہے۔اللہ تعالی نے ان کو تمام بہتانوں سے پاک کرنا چاہا ۔سو ایک دن موسی علیہ سلام نے تنہائی میں جا کر کپڑے اتار کر پتھر پر رکھے پھر غسل کیا ۔جب غسل سے فارغ ہوئے تو اپنے کپڑے پہننے چلے۔مگر وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ پڑا۔موسی اپنا عصا لے کر پتھر کے پیچھے چلے اور کہنے لگے اے پتھر میرے کپڑے دے ،اے پتھر میرے کپڑے دے۔
حتی کہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچ گیا ۔انھوں نے برہنہ حالت میں موسی کو دیکھا تو اللہ کی مخلوقات میں سب سے اچھا اور ان تمام عیوب سے جو وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے بری پایا۔وہ پتھر ٹہر گیا۔اور موسی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیئے ۔پھر موسی نے عصا لے کر پتھر کو مارنا شروع کیا ۔‘‘
اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حزم اندلسی لکھتے ہیں
ترجمہ:۔حدیث میں یہ نہیں ہے کہ انھوں (بنی اسرائیل )نے موسی کا ذکر یعنی شرمگاہ دیکھی تھی ۔انھوں نے ایسی حالت دیکھی جس سے واضح ہو گیا کہ وہ(جناب موسی)ان لوگوں کے الزامات کہ وہ آدر ہیں(یعنی ان کے خصیے بہت موٹے ہیں)سے بری ہیں۔ہر دیکھنے والے کو (ایسی حالت میں )بغیر شک کے ذکر (شرمگاہ)دیکھے بغیر ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ رانوں کے درمیان کی جگہ خالی ہے۔
( اس کے بعد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں)
اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ سیدنا موسی بالکل ننگے نہا رہے تھے ۔امام ابن حزم کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے لنگوٹی وغیرہ سے اپنی شرمگاہ کو چھپا رکھا تھااور باقی جسم ننگا تھا۔بنی اسرائیل نے آپ کی شرمگاہ کو دیکھا ہی نہیں۔

( عرض نوشاد:۔ اس حدیث کو بار بار پڑھئے اور دیکھئے کہ اس میں کہاں لکھا ہے کہ موسی علیہ سلام کے جسم پر کوئی لنگوٹی وغیرہ تھی الفا ظ ہیں ’’انھوں نے (یعنی بنی اسرائیل نے)موسی کو برہنہ حالت میں دیکھا‘‘لہذا اس روایت سے تو کم از کم یہ معلوم نہیں ہوتا کہ موسی علیہ سلام نے کوئی لنگوٹی وغیرہ پہن رکھی تھی ۔بلکہ ابن حزم اندلسی کے کلام سے تو اور یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ موسی علیہ سلام بالکل برہنہ تھے۔موصوف فرماتے ہیں کہ۔
’’انھوں نے ایسی حالت دیکھی ،جس سے واضح ہو گیا کہ وہ (موسی )ان لوگوں کے الزامات کہ وہ آدر ہیں (یعنی ان کے خصیے بہت موٹے ہیں)سے بری ہیں‘‘
بتائیے کہ ایسی حالت کیا ہوتی ہے جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص کے خصیے موٹےہیں یا نہیں ہیں ۔اور جب دیکھنے والوں نے دیکھا کہ رانوں کے درمیان کی جگہ خالی ہے ۔تو اس سے کیا مراد ہے ؟کیا دیکھنے والے بغیر شرمگاہ پر نظر ڈالے کسی کے خصئے اور ان کی موٹائی کے ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟
ہمارے نزدیک موسی علیہ سلام پر ایسا الزام تو خود یہودیوں اور عیسائیوں نے نہیں لگایا جیسا کہ رسول اللہ سے منسوب اس روایت میں لگا یا گیا ہے۔استغفر اللہ اتنے جلیل القدر رسول اور بنی اسرائیل انھیں برہنہ حالت میں دیکھیں ۔اور اس حدیث کی شرح کرنے والوں کو دیکھیے کیسے مزے سے حضرت موسی علیہ سلام کے خصیے دیکھنے کا بیان کر رہے ہیں۔یہ ہے اکابر علما کا طریقہ تحقیق۔

۲:۔سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں اک روایت محمد بن اسحاق بن یسار کی سند سے ہے۔
’’ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ قران کی دو آیات کھجور کے پتوں پر لکھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔میری بکری آئی اور انھیں کھا گئی۔
(اس روایت میں قران مجید کی دو آیات کے بکری کے کھانے کا دفاع کرتے ہوئے جناب زبیر علی زئی لکھتے ہیں۔)
جن دو آیات کے بارے میں اس روایت میں آیا ہے کہ انھیں بکری کھا گئی تھی وہ آیت رجم اور رضاعۃ الکبیر عشرا(بڑے آدمی کو دودھ پلانے سے رضاعت کا ثابت ہونا )تھیں۔
آیت رجم کی تلاوت رسول اللہ کے زمانے میں ہی منسوخ ہوگئی۔دیکھئے تفسیر ابن حاتم ۔لیکن شادی شدہ زانی کے لیئے رجم کا حکم باقی رہا۔
رضاعۃ الکبیر عشرا والی آیت بھی رسول اللہ کے زمانے میں منسوخ ہوگئی تھی دیکھئے صحیح مسلم۔موطا امام مالک ۔اس آیت کا حکم بھی منسوخ ہو گیا تھا ۔
چونکہ ان دونوں آیات کی تلاوت منسوخ ہوگئی تھی لہذا قران مجید میں اس کے لکھے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔قران کی حفاظت خود اللہ کے ذمے ہے لہذا اس کے حکم سے بکری نے اس چیز کو کھا لیا جس پر یہ دونوں آیات لکھی ہوئی تھیں۔منسوخ التلاوت آیات کے ضائع ہونے سے قران مجید پر کوئی فرق نہیں آیا بلکہ قران کامل اور پورے کا پورا مسلمانوں کے پاس موجود ہے اور قیامت تک رہے گا۔
( کتاب صحیح بخاری میں اعتراض کا علمی جائزہ صفحہ نمبر ۱۱۳ (

(عرض نوشاد:۔ آپ دیکھیے کس معصومیت کے ساتھ یہ بتایا گیا کہ دو آیات تھیں تو قرانی ہی۔مگر چونکہ ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی تھی اس لیئے انھیں اللہ کے حکم سے بکری کھا گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان آیات کی تلاوت کس کے حکم سے منسوخ ہوئی تھی ؟اللہ کے حکم سے یا رسول اللہ کے حکم سے؟
پھر ان دونوں آیات کی منسوخی کا یہ حکم کہاں ہے؟قران مجید میں یا حدیث رسول میں؟
پھر اگر اللہ کے حکم سے بکری یہ آیات کھا گئی تھی تو اللہ نے بکری کو جو یہ حکم دیا تھا وہ قران مجید کی کون سی آیت میں ہے؟
پھر یہ دعوی تو بڑا عجیب ہے کہ چونکہ ان دونوں آیات کی تلاوت منسوخ ہوگئی تھی اس لیئے ان کے ضائع ہونے سے قران کی کاملیت میں کوئی فرق نہیںآتا ۔
پھر یہ بھی دیکھئے کہ ایک حکم رجم تو ایسا ہے کہ حکم تو موجود ہے مگر اس کی آیت بکری کھا گئی ہے ۔کیا کوئی اور قرانی حکم ایسا ہے جس کی آیت موجود نہ ہو مگر اسے کہا قرانی حکم جائے؟
اور یہ بھی دیکھئے کے کہ د و قرانی آیات تو بکری کھا گئی ہےاور وہ آج میرے اور آپ کے پاس موجود قران مجید میں موجود نہیں ہیں مگر قران ہمارے پاس کامل اور محفوظ ہے ۔یہ ایک ایسا دعوی ہے جسے سمجھنا ناممکن ہے۔

۳:۔بخاری کتاب الطب میں ایک روایت رسول اللہ سے منسوب ہے
’’ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے۔بیوی میں گھر میں اور گھوڑے میں۔
اس کا دفاع کرتے ہوئے حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں عام جھگڑے فساد اور نحوست ،عورتوں،جائیداد اور گھوڑوں یعنی فوج کے جھگڑوں کی وجہ سے ہے۔
دوسرے یہ کہ یہ حدیث منسوخ ہے ۔دیکھئے ماہنامہ اہل حدیث ۲۴۔۲۵ منسوخ حدیث سے استدلال کرنا غلط ہوتا ہے۔
کتاب ہذا صفحہ نمبر ۷۰

(عرض نوشاد:۔پہلی بات تو یہ ہے کہ منحوس ہونا ایک اور بات ہے اور جھگڑے کا سبب ہونا دوسری بات مثال کے طور پر آج عالمی طاقتیں وسائل پر قبضے کے لیئے کمزور ممالک پر جارحیت کا ارتکاب کر رہی ہیں ۔تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ وسائل جن کی وجہ سے جنگ ہو رہی ہے وہ منحوس ہیں۔کوئی بھی ان وسائل کو منحوس نہیں سمجھے گا بلکہ اللہ کا تحفہ سمجھے گا۔اس لیئے ان وسائل پر قبضے کے لیئے جھگڑا تو ہو سکتا ہے مگر اس سے یہ وسائل منحوس ثابت نہیں ہو سکتے ۔اس لیئے گھر ،گھوڑا اور بیوی جھگڑے کا سبب تو ہو سکتے ہیں اور اسباب کی طرح ۔مگر انھیں منحوس نہیں کہا جا سکتا۔
دوسر ی بات اور عجیب ہے ہم نے اوپر دیکھا کہ قران کی دو آیات کی تلاوت منسوخ ہو گئی تو انھیں قران میں نہیں لکھا گیا مگر یہ روایت منسوخ ہونے کے باوجود بخاری میں موجود ہے۔یعنی ’’ اکابر علما ‘‘ کے نزدیک اگر آیت منسوخ التلاوت ہو تو اسے ہر گز قران میں نہیں لکھا جا سکتامگر حدیث اگر منسوخ ہو تو ضرور کتاب میںدرج رہے گی۔یہ ہے ’’ اکابر علما ‘‘کے نزدیک قران و حدیث کا فرق ۔دو آیات کے نہ لکھنے کے باوجود قران کامل ہے ۔مگر منسوخ حدیث کتاب حدیث میں سے نکالیں گے تو کتاب حدیث کی کاملیت متاثر ہوگی۔
پھر یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ حدیث منسوخ ہے؟کیا رسول اللہ نے کوئی ایسی ہدایت دی ہے اس حدیث کے بارے میں؟یا ’’ اکابر علما ‘‘ نے خود ہی یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ روایت منسوخ ہے ۔
کیا رسول اللہ کی بیان کی ہوئی روایت کے بارے میں ’’ اکابر علما ‘‘ کو خود رسول اللہ نے یا اللہ نے یہ اختیار دیا ہے کہ چاہے جس روایت کو منسوخ قرار دیں چاہے جس کو نہ دیں؟اگر ’’ اکابر علما کو یہ اختیار دیا گیا ہے تو بتایا جائے کہ یہ اختیار کس آیت میں یا کس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
یعنی یہ علما اللہ اور رسول اللہ سے بھی زیادہ با اختیار ہیں کہ جن آیات کو چاہیں منسوخ التلاوت قرار دے دیں ۔اور جس حدیث کو چاہے منسوخ قرار دے دیں۔یہ ہیں ہمارے ’’ اکابر علما ‘‘ کے دین میں اختیارات۔

نوشاد احمد
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 853
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
asakpke (11-12-10), rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (11-12-10), نورالدین (13-12-10), مرزا عامر (11-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 11-12-10, 05:55 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 456
کمائي: 10,007
شکریہ: 147
332 مراسلہ میں 834 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حدیث کا مفہوم :کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدترین خلائق کون ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھلائی کی باتیں پوچھا کرو برائی کی نہیں، پھر آپ نے فرمایا بدترین خلائق بدترین علماء ہیں۔

یہ وہی علماء ہیں جن کی حدیث میں زکر ہے۔
شریف آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شریف کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (11-12-10), نورالدین (13-12-10), مرزا عامر (11-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 11-12-10, 11:00 PM   #3
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,772
شکریہ: 53,117
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ نوشاد بھائی !!!!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), نورالدین (13-12-10), مرزا عامر (12-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 12-12-10, 02:20 AM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ قران کی دو آیات کھجور کے پتوں پر لکھی ہوئی تھیں ۔۔۔۔میری بکری آئی اور انھیں کھا گئی۔
سرکار اونٹوں کے پیشاب کی طرح اس روایت کو بھی صحیح ثابت کر دیا جائے گا ۔ کیونکہ قران بہت سی آیات پہلے ہی منسوخ ہیں ۔ لیکن 600،000 روایات میں سے چنی گئی چند ہزار میں کوئی بھی منسوخ نہیں ہو سکتی ۔


اقتباس:
ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا موسی علیہ سلام بڑے با حیا اور ستر پوش آدمی تھے ۔ان کی حیا کی وجہ سے ان کے جسم کا ذرا سا بھی حصہ ظاہر نہ ہوتا تھا ۔بنی اسرائیل نے ان کو اذیت دی اور کہا یہ جو اپنے جسم کی اتنی پردہ پوشی کرتے ہیں تو صرف اس لیئے کہ ان کا جسم عیب دار ہے۔یا تو انھیں برص ہے یا فتق ہے یا اور کوئی بیماری ہے۔اللہ تعالی نے ان کو تمام بہتانوں سے پاک کرنا چاہا ۔سو ایک دن موسی علیہ سلام نے تنہائی میں جا کر کپڑے اتار کر پتھر پر رکھے پھر غسل کیا ۔جب غسل سے فارغ ہوئے تو اپنے کپڑے پہننے چلے۔مگر وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ پڑا۔موسی اپنا عصا لے کر پتھر کے پیچھے چلے اور کہنے لگے اے پتھر میرے کپڑے دے ،اے پتھر میرے کپڑے دے۔
حتی کہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچ گیا ۔انھوں نے برہنہ حالت میں موسی کو دیکھا تو اللہ کی مخلوقات میں سب سے اچھا اور ان تمام عیوب سے جو وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے بری پایا۔وہ پتھر ٹہر گیا۔اور موسی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیئے ۔پھر موسی نے عصا لے کر پتھر کو مارنا شروع کیا ۔‘‘
رسول کی گستاخی پر سزائے موت کا اعلان کرنے والے اس روایت کو کس نظر سے دیکھیں گے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (12-12-10), نورالدین (13-12-10), احمد بلال (14-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 12-12-10, 10:43 AM   #5
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان کے نزدیک یہ گستاخی نہیں بلکہ علمی کام ہے
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (12-12-10), نورالدین (13-12-10), احمد بلال (14-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 12-12-10, 03:03 PM   #6
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔ لیکن 600،000 روایات میں سے چنی گئی چند ہزار میں کوئی بھی منسوخ نہیں ہو سکتی ۔
جی جناب بالکل ایسی احادیث ہیں جو ناسخ ہیں اور دوسری ان سے منسوخ ہوتی ہیں!!!
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (12-12-10), کنعان (13-12-10), نورالدین (13-12-10), احمد بلال (14-12-10), عادل سہیل (12-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 12-12-10, 09:21 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھتیجے عبداللہ آدم ، ان لوگوں سے ذرا یہ پوچھتے چلنا کہ یہ جو اکابر علماء پر طعن کر رہے ہیں ، ان کا اپنا مبلغ علم کیا ہے ؟؟؟
چند ترجمہ زدہ فلسفے ، اور ان فلسفوں کی مار کھإئے ہوٕئے خیالات ،
بھتیجے ان سے کہنا کہ زبیر زئی صاحب کی باتوں کو ایک طرف رکھیے ، اور اپنے علم و عرفان کے مطابق کسی مقرر شدہ علمی قاعدے اور قانون کے ذریعے کسی حدیث پر کو ٕئی اعتراض وارد کیجیے ، کسی حدیث کی شرح میں کس نے کیا لکھا، کوئی بے وقوف ہی اس شرح کی بنا پر اس حدیث کی صحت کا حکم سجھنے کی کوشش کرے گا ،
ان سے کہیے کہ احادیث مبارکہ پر اپنے اعتراضات اپنی زبان میں ، اپنے علم کے مطابق ، دلإئل کے ساتھ پیش کریں ، اس کے بعد ان سے بات کی جإئے ،
ان لوگوں کا مقصد صرف اور صرف شکوک پھیلانا ہے ، اس لیے یہ لوگ فلسفیانہ الجھاو ڈالتے ہیں اور کسی علمی دلیل والی بات نہیں کرتے ، ادھر ادھر سے ایسی باتیں لیے آتے ہیں جو احادیث کے بارے میں‌ گمراہ کرنے میں معاون ہو سکیں‌، لیکن کہیں کوٕئی قاعدے قانون کی بات نہیں ہوتی ،
اگر ان کے پاس خود علوم دین میں سے کچھ بھی علم ہو تو لوگوں کی باتوں کو بنیاد بنا کر اعتراضات کرنے کی بجإئے علمی اعتراضات کے ساتھ ظاہر ہوں ،
بھتیجے ، اللہ آپ کی مدد کرے ، ان سے علمی دلإئل طلب کیجیے ، کہیں کسی کی کہی ہوٕئی باتوں کی تشریح یا صفإئی پیش کرتے ہوٕئے ان لوگوں کی مددگاری نہ کر بیھٹیے گا ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (13-12-10), rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (12-12-10), کنعان (13-12-10), پاکستان دوست (13-12-10), محمد عاصم (09-02-11), آبی ٹوکول (13-12-10), احمد بلال (13-12-10), شکاری (10-11-11), عبداللہ آدم (12-12-10), عبداللہ حیدر (13-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 13-12-10, 12:39 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,398
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,659 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں تو کئی ایک فورمز پر چند صاحب/صاحبان سے پوچھ پوچھ کر تھک گیا کہ نماز کا طریقہ قرآن کی رو سے بتا دیں لیکن شاید میری فریاد انہیں پسند نہیں۔
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
ahadar002 (13-12-10), rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (13-12-10), نورالدین (13-12-10), محمد عاصم (09-02-11), احمد بلال (13-12-10), غلام خان (22-12-10)
پرانا 13-12-10, 07:55 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,903
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل بھائی آپ نے بہت اچھی بات کی ۔ اپنے علم اور اپنے الفاظ میں حدیث پہ لفظ اٹھائیں‌تو بات کریں۔
اسی راستے کے راہی اس سٹیج پہ بھی پہنچ چکے ہیں‌کہ انہیں قرآن میں بھی شک ہونے لگا ہے اور آخر وہ اپنی مرتدی کا اعلان اسی دنیا میں کر جاتے ہیں
اسی فورم پہ ایک ویڈیو بھی شئر کی تھی۔ شاید فیصل بھائی نے۔ جہاد پہ تھی۔ ویڈیو کا ٹائٹل زہن میں‌نہیں ورنہ سرچ کر کے یہاں لگا دیتا۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (13-12-10), کنعان (14-12-10)
پرانا 13-12-10, 08:01 AM   #10
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب عادل سہیل صاحب
آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ زبیر صاحب کا مبلغ علم کیا ہے اور وہ کس مکتبہ فکر کے عالم ہیں ۔ ثابت کریں کہ انھوں نے جو لکھا ہے وہ فلسفہ زدہ ترجمے ہیں آپ کہتے ہیں کہ
’’کسی حدیث کی شرح میں کس نے کیا لکھا، کوئی بے وقوف ہی اس شرح کی بنا پر اس حدیث کی صحت کا حکم سجھنے کی کوشش کرے گا ،‘‘
اور اس پر آپ مجھے اونٹوں کے پیشاب کی احادیث ان کی کی گئی شرح کی مدد سے سمجھا رہے ہیں۔تو میں آپ کے الفاظ میں کیا کہوں یہی نہ کہ کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ان احادیث کی صحت کو ان کی شرح سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرے گا۔دیکھ لیں یہ آپ ہی کے الفاظ ہیں۔
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (13-12-10), نورالدین (13-12-10), احمد بلال (14-12-10)
پرانا 13-12-10, 08:06 AM   #11
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب احمد بلال صاحب
اگر اپنے الفاظ میں سوالات کیئے جائیں تو یہ حضرات سیخ پا ہو جاتے ہیں کہ تمہاری اور تمہارے علم کی اوقات ہی کیا ہے ۔اس لیئے یہ کوشش کی گئی کہ اکابر علما ہی کی تحقیق کو لوگوں کے سامنے ان ہی کے الفاظ میں لے آیا جائے۔
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (13-12-10), نورالدین (13-12-10), احمد بلال (14-12-10)
پرانا 13-12-10, 08:14 AM   #12
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب dxbgraphics صاحب
آپ مجھے نماز کا ایک طریقہ جو سارے مکاتب فکر کے نزدیک درست ہو حدیث سے بتا دیجے ۔ یہ میری آپ سے فریاد ہے۔
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (13-12-10), نورالدین (13-12-10), احمد بلال (14-12-10)
کمائي نے نوشاد احمد کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
01-02-12 rana ammar mazhar آپ مجھے نماز کا ایک طریقہ جو سارے مکاتب فکر کے نزدیک درست ہو حدیث سے بتا دیجے ۔ 150
13-12-10 نورالدین امید ہے یہ سوال مکمل ہو گیا ہوگا 0
پرانا 13-12-10, 09:49 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,903
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل بھائی آپ نے بہت اچھی بات کی ۔ اپنے علم اور اپنے الفاظ میں حدیث پہ لفظ اٹھائیں‌تو بات کریں۔
اسی راستے کے راہی اس سٹیج پہ بھی پہنچ چکے ہیں‌کہ انہیں قرآن میں بھی شک ہونے لگا ہے اور آخر وہ اپنی مرتدی کا اعلان اسی دنیا میں کر جاتے ہیں
اسی فورم پہ ایک ویڈیو بھی شئر کی تھی۔ شاید فیصل بھائی نے۔ جہاد پہ تھی۔ ویڈیو کا ٹائٹل زہن میں‌نہیں ورنہ سرچ کر کے یہاں لگا دیتا۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (13-12-10)
پرانا 13-12-10, 11:15 AM   #14
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وہی پرانے مقاصد نئے انداز کے ساتھ ماسک بدل بدل کر سامنے ‏آ رہے ہیں۔۔۔۔ لیکن نہ ماضی میں اس انکار حدیث کی تحریک کو قرار نصیب ہوا تھا اور نہ انشاء اللہ اب یا ‏آئندہ کبھی ہو گا۔۔۔۔
دنیا کا سب سے ‏آسان کام ہے۔۔۔ سوال کرنا ۔۔۔ نہیں سوال کرنا نہیں بلکہ اعتراض کرنا ‏آسان کام ہے کیوں کہ سوال کرنے کے لئے بھی متعلقہ موضوع سے کما حقہ واقفیت لازمی ہوتی ہے تب ہی تو کہیں سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن اعتراض کے لیے علم یا موضوع سے واقفیت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ تعصب یا پوشیدہ مقاصد کا حصول مقصود ہوتا ہے۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت ‏آتا ہے کہ جب سوالات کا سلسلہ تو ختم ہو جاتا ہے اور لیکن اعتراضات کا تسلسل ‏آج تک کبھی ختم نہیں ہوا۔ ‌چاہے وہ اعتراضات خود ذات باری تعالی پر ہوں یا اس کے نبی مصطفی صفی اللہ علیہ والہ وسلم یا اس کے کلام پر ہوں۔

سوال کرنے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی ہے۔ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سوالات بھی کیا کرتے تھے۔

لیکن اعتراض کے لئے معترض کی حیثیت بھی دیکھنا ضروری ہوتی ہے کہ موصوف خود کتنے پانی میں ہیں۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ خود انف فی الماء است فی السماء کا حقیقی مصداق ہوں۔۔۔ اور اگر ایسا ہے جیسا کہ یہاں پیش کردہ اعتراضات سے محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ تو میں تجربے کی بنیاد پر یقین سے کہہ سکتا ہوں۔۔۔ کہ قیامت کی صبح تک ان کے اعتراضات ختم نہیں ہوں گے۔۔۔

لہذا میں عادل بھائی کی اس بات سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ علمی انداز میں اگر اعتراض کیا جائے تو اس کا جواب علمی انداز میں دیا جا سکتا ہے۔۔۔ لیکن کسی کی کجی فہمی سے پیدا شدہ خرافات کی تشفی اس وقت تک نہیں ہو سکتی۔ جب تک وہ خود کو حرف ‏آخر سجھنا ‌‌چھو‎ڑ نہ دے۔

اگر میری بات پر یقین نہیں ہے تو تجربہ کے لئے ہی سہی خود کو حرف ‏آخر سمجھنا ‌ترک کیجئے اور اپنے اعتراض کو علمی سوال بنا کر پیش کیجئے ساتھ ساتھ اللہ سے ہدات کی دعا کیجئے پھر دیکھے کیسے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوتا ہے۔۔۔۔
والسلام۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (13-12-10), کنعان (20-12-10), پاکستان دوست (13-12-10), یاسر عمران مرزا (13-12-10), محمد عاصم (09-02-11), ابوسعد (02-02-11), احمد بلال (14-12-10), طلحہ (14-12-10), عبداللہ حیدر (15-12-10)
پرانا 14-12-10, 08:05 AM   #15
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب شمشاد صاحب
مجھے امید ہے آپ خود کو بھی حرف آخر نہیں سمجھیں گے اور اپنی وہ غلطی تسلیم کر لیں گے جس میں آپ کومسلم کی حدیث میں قوم کا لفظ نظر ہی نہیں آیا تھا۔

Last edited by نوشاد احمد; 14-12-10 at 08:06 AM. وجہ: pira graf editing
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (01-02-12), shafresha (14-12-10), احمد بلال (14-12-10)
جواب

Tags
کلام, پاک, قران, نظر, مجید, معلوم, اللہ, حکم, حدیث, شخص, عیسائیوں, علی, علمی, علما, عالم, عالمی, عائشہ, عجیب, عرض, غلط, غسل, صفحہ, صحیح, صدیقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger