واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


اشاعت حدیث میں صحابہ اور تابعین کا کردار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-12-10, 02:15 AM   #1
اشاعت حدیث میں صحابہ اور تابعین کا کردار
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 08-12-10, 02:15 AM

11 ھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے وفات پائی، اور تقریبًا 40 ہجری تک اکابر صحابہ عالم وجود میں رونق افزا رہے۔ 60 ھ تک اصاغر صحابہ کی جو عہد نبوت میں کم سن تھے، خاصی تعداد موجود تھی اور صدی کے ختم ہونے تک اس نور نبوت کا تقریبًا ہر چراغ گل ہو گیا تھا، ہر شہر میں سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابیوں کے نام اور سالِ وفات یہ ہیں:
1۔ ابو امامہ باہلیؓ۔ ۔ ۔شام۔ ۔ ۔ 86 ھ
2۔ عبداللہ بن حارث بن جزءؓ ۔ ۔ ۔ مصر ۔ ۔ ۔86 ھ
3۔ عبداللہ بن ابی اوفیؓ ۔ ۔ ۔کوفہ۔ ۔ ۔87 ھ
4۔ سائب بن یزیرؓ۔ ۔ ۔ مدینہ ۔ ۔ ۔91 ھ
5۔ انس بن مالک ۔ ۔ ۔ بصرہ ۔ ۔ ۔93ھ

انس بن مالکؓ جنہوں نے اس فہرست میں سب سے آخر میں جگہ پائی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے خادم خاص تھے، دس برس تک متصل نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں رہے ہیں۔ ہ 93 ھ میں وفات پاتے ہیں۔

تابعین یعنی صحابہ کی تلامذہ کا دور 1 ھ کے آغاز سے اس طرح شروع ہوتا ہے کہ گو وہ پیدا ہو چکے تھے مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زیارت سے محروم رہے یا بہت بچے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فیض نہ حاصل کر سکے، چنانچہ عبدالرحمٰن بن حارث تابعی تقریبًا 3 ھ میں، قیس بن ابی حازمؒ 4 ھ میں، سعید بن المسیب 14 ھ میں پیدا ہو چکے تھے۔

یہ دکھانے کے لیے کہ صحابہ کے بعد گروہ در گروہ تابعین جو دنیائے اسلام کے گوشہ گوشہ میں پھیلے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے وقائع و حالات اور احکام و قضایا کی تعلیم و تبلیغ اور اشاعت میں مصروف تھے، ان کی مجموعی تعداد کیا ہو گی، میں صرف ایک مدینہ کے تابعین کی تعداد ابن سعد کے حوالہ سے بتاتا ہوں، طبقہ اولیٰ یعنی ان تابعیوں کی تعداد جنہوں نے بڑے بڑے صحابہ کو دیکھا تھا اور ان سے واقعات و مسائل سنے تھے، 139 ہے، طبقہ دوم یعنی تابعی جنہوں نے مدینہ میں عام صحابیوں کو دیکھا اور ان سے سنا 129 ہیں، طبقہ سوم وہ تابعین جنہوں نے متعدد یا کسی ایک صحابی کو دیکھا اور ان سے سنا 87 ہیں۔ اس طرح تابعین کی کل تعداد 355 ہے۔

یہ تعداد صرف ایک شہر کی ہے۔ اسی سے مکہ معظمہ، طائف، بصرہ، کوفہ، یمن ، مصر وغیرہ کے ان تابعیوں کا اندازہ لگاؤ جو اپنے اپنے شہروں میں صحابہ کرام کے تلمذ کا شرف رکھتےتھے اور جن کے شب و روز کا مشغلہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قول و فعل کی اشاعت و تبلیغ تھی۔ اس اہتمام کا خیال کرو کہ ہر صحابی سے جو کچھ روایتیں ہیں ان میں سے ہر ایک کا شمار کر لیا گیا اور گن لی گئیں۔ اس سے اندازہ کرو کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حالات و اقوال کی فراہمی میں کس قدر بلیغ اہتمام کیا گیا ہے۔ صحابہ کرام میں سے جن اصحاب کی سب سے زیادہ روایتیں ہیں ان کی تعداد اور اس صحابی کا سال وفات حسب ذیل ہیں۔

1۔ ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ۔ ۔ ۔ 5374۔ ۔ ۔59 ھ
2۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ۔ ۔ ۔ 2660۔ ۔ ۔68 ھ
3۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔ ۔ ۔ 2210۔ ۔ ۔58 ھ
4۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ۔ ۔ ۔ 1630۔ ۔ ۔ 73 ھ
5۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ۔ ۔ ۔ 1560۔ ۔ ۔ 78ھ
6۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۔ ۔ ۔ 1286۔ ۔ ۔ 93ھ
7۔ ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ ۔ ۔ ۔ 1179۔ ۔ ۔74 ھ

یہی وہ لوگ ہیں جن کی روایات آج سیرت نبوی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، ان کی وفات کی تاریخوں پر نظر ڈالو تو معلوم ہو گا کہ ان کے وفات کے سال اس قدر متاخر ہیں کہ ان سے فیض اٹھانے اور ان کی روایتوں کو حفظ اور تدوین کرنے والوں کی تعداد بے شمار ہو گی، انہی باتوں کی واقفیت اور آگاہی کا نام اس زمانہ میں علم تھا، اور وہ دینی اور دنیاوی دونوں عزتوں کا ذریعہ تھیں، اس لیے ہزاروں صحابہ نے جو کچھ دیکھا اور جانا ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم بلغوا عنی(مجھ سے جو سنو اور دیکھو اس کی اشاعت کرو) یا فلیبلغ الشاھد الغائب (جو مجھے دیکھ رہے ہیں اور مجھ سے سن رہے ہیں وہ ان کو مطلع کر دیں جو اس سے محروم رہےہیں) کے مطابق وہ سب اپنی اپنی اولادوں، عزیزوں، دوستوں اور ملنے والوں کو سناتے اور بتاتے رہتے تھے کہ یہی ان کی زندگی کا اور یہی ان کے روز و شب کا مشغلہ تھا، اس لیے صحابہ کے بعد فورًا ہی دوسری جواب پود ان معلومات کی حفاظت کے لیے کھڑی ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔

عربوں کا حافظہ فطرتًا نہایت قوی تھا، وہ سینکڑوں شعر کے قصیدے زبانی یاد رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ فطرت کا قاعدہ یہ ہے کہ جس قوت سے جس قدر کام لیا جائے اسی قدر زیادہ اس کو ترقی ہوتی تھی، صحابہ اور تابعین نے قوت حفظ کو معراج کمال تک پہنچایا، وہ ایک ایک واقعہ اور ایک ایک حدیث کو اس طرح زبانی سن کر یاد کرتے تھے جیسے آج مسلمان قرآن مجید یاد کرتے ہیں ۔ ۔ گو بعد میں لوگ اپنی یاد داشت کے لیے لکھ بھی لیتے تھے مگر جب تک وہ زبانی یاد نہ رکھتے اہل علم کی نگاہوں میں ان کی عزت نہیں ہوتی تھی اور وہ خود اپنی تحریری یادداشتوں کو عجیب طرح چھپاتے تھے تا کہ لوگ ایسا نہ سمجھیں کہ ان کو یہ چیزیں یاد نہیں ہیں۔

دوستو! بعض اورینٹلسٹ اسکالرز اور بعض پڑھے لکھے مشنریوں نے جن میں سب سے آگے ولیم میور اور گولڈزیر ہیں، اس بنا پر کہ روایات نبوی کی تحریر و تدوین کا کام نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی وفات کے 90 برس بعد شروع ہوا، ان کی صحت اور ذوق میں شک پیدا کرنا چاہا ہے۔ مگر ہم نے جس طرح اوپر بتفصیل آپ کے سامنے پوری روداد رکھی ہے اور بتایا ہے کہ صحابہ کس طرح واقعات کو یاد رکھتے تھے، کس طرح احتیاط برتتے تھے، کس طرح آنے والی نسلوں کو وہ امانت سپرد کرتے تھے، اس سے خود اندازہ ہو گا کہ گو وہ روایات تحریری صورت میں بہت بعد کو آئی ہوں تا ہم ان کی صحت اور وثوق میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔
پھر یہ بات بھی قطعًا غلط ہے کہ سو برس یا نوے برس تک واقع اقوال نبوی کا دفتر صرف زبانی روایتوں تک محدود رہا۔ حدیث کی کتابت کا کام دور نبوی سے لے کر بعد کے ادوار تک جاری رہا ہے جس کی تفصیل کسی دوسری جگہ بیان ہو چکی ہے۔

(یہ تحریر سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "خطبات مدراس" سے ماخوذ ہے جسے فورم پر پوسٹ کرنے کے لیے اس میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے)

Last edited by عبداللہ حیدر; 08-12-10 at 02:19 AM..

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 202
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (13-12-10), فیصل ناصر (08-12-10), کنعان (08-12-10), عادل سہیل (12-12-10), عبداللہ آدم (08-12-10)
پرانا 12-12-10, 10:23 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ کل خیر ، بھتیجے ، اللہ تبارک و تعالیٰ مزید خیر کی ہمت دے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فورم, کمال, پوسٹ, واقعات, قیس, قرآن, لوگ, نظر, مکہ, مجید, مسائل, معلوم, معراج, آج, اللہ, اسلام, تعلیم, جواب, حکم, حدیث, دیکھو, سیرت نبوی, صحابہ, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لاہور نعیمیہ اور نوشہرہ مسجد میں خود کش حملے ایس اے نقوی خبریں 21 15-06-09 03:41 AM
ڈاکٹر سرفراز نعیمی (خبریں) خرم شہزاد خرم خبریں 5 15-06-09 03:37 AM
صحیح اور ضعیف احادیث کی قسمیں sahj مطالعہ حدیث 0 09-06-09 11:00 AM
نواز شریف کا جامعہ نعیمیہ میں خطاب مشال خان خبریں 0 01-03-09 02:09 PM
قرۃ العین حیدر انتقال کرگئیں منتظمین خبریں 1 25-08-07 01:56 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger