| حجت حدیث حجت حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||||
|
||||||
|
مناظر: 3362
|
||||||
| 14 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), فاروق سرورخان (26-11-10), ھارون اعظم (19-11-10), نورالدین (20-11-10), مرزا عامر (19-11-10), آصف احمد (23-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), شمشاد احمد (24-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نوشاد بھائی یہ آپکی اپنی تحقیق ہے یا یہ مضمون کہیں سے مستعار لیا گیا ہے ؟
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-11-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نوشاد احمد (19-11-10), مرزا عامر (19-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ نظریات مختلف کتابوں میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔ میں نے صرف انھیں ایک مربوط صورت میں جمع کر کے یہاں پیش کر دیا ہے۔اور اسی لئے ساتھ ہی کتب کے حوالے بھی لکھ دئے ہیں۔
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (31-03-12), فاروق سرورخان (26-11-10), نورالدین (20-11-10), مرزا عامر (19-11-10), ابوسعد (14-01-11), حیدر (01-12-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم!
بھائی نوشاد احمد! اس مراسلے میں آپ نے جابجا امام ابن حجر کی فتح الباری اور مقدمہ فتح الباری، امام بخاری کی کتاب الضعفاء، بدر الدین عینی کی عمدۃ القاری کا حوالہ دیا ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان کتابوں کے متعلقہ مقامات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اپنا مراسلہ لکھا ہے یا محض صحیح البخاری میں غلطیاں نکالنے کے شوقین حضرات کی “تحقیق” سے استفادہ کرنے پر اکتفا کیا ہے؟ والسلام علیکم |
|
|
|
| 17 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), کنعان (19-11-10), ھارون اعظم (19-11-10), مون لائیٹ آفریدی (21-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), مرزا عامر (19-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), طلحہ (24-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلام علیکم::
گزارش یہ ہے سب ممبرز سے کہ یہاں گفتگو شروع ہو رہی ہے عبداللہ حیدر اور بوشاد بھائی میں تو بہتر ہو گا اگر ہم انہی کو کسی نتہجے پر پہنچنے کا موقع دیں کیونکہ بحث ہے بھی خاصی علمی نوعیت کی..................... کیا خیال ہے؟؟؟؟ والسلام Last edited by عبداللہ آدم; 19-11-10 at 03:22 PM. وجہ: after abdullah haider'post |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), موجو (06-02-11), مرزا عامر (19-11-10), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), عبداللہ حیدر (21-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھتیجے عبداللہ آدم کا کہنا ٹھیک ہے ، یہاں نوشاد بھإئی اور بھتیجے عبداللہ حیدر کو بات کرنے دی جإئے ، ان شاء اللہ نوشاد بھإئی کی اس تحقیق کا بھی پول کھل جإے گا ، کہ انہوں نے محض ادھر ادھر کی چند باتوں کو پوری طرح جانے اور سمجھے بغیر بے ربطی کے ساتھ جوڑ کر امام بخاری رحمہ اللہ اور صحیح البخاری پر اعتراضات جڑ دیے ہیں ، اب یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ نوشاد بھإئی کی کم علمی ہے یا ضد کہ بات کا حقیقی مفہوم سمجھ نہیں پاتے یا سمجھ کر کچھ اور سمجھانا چاہتے ہیں ، مثلا یہی دیکھیے کہ تیسری مثال میں امام ابن حجر رحمہ اللہ کے قول """ فی احد شیوخ البخاری """ کے ترجمے کو لے کر چل پڑے اور یہ خیال نہیں فرمایا کہ سماعتء حدیث میں """شیخ """ اور اردو یا عربی کے """ استاد """ میںبڑا فرق ہوتا ہے ، اور پھر یہ بھی نہیں دیکھا کہ امام بخاری نے اسماعیل بن ابان کے متروک الحدیث ہونے کے بارے میں جو لکھا ہے وہ کیا ہے ، اور اس کے علاوہ ، اللہ پر توکل کرتے ہوٕئے میں آپ کو یہ چیلنج کرتا ہوں کہ آپ یہ ثابت کیجیے کہ وہ اسماعیل بن ابان جس سے امام بخاری نے اپنیصحیح میں روایت کیا ہے، وہی اسماعیل بن ابان ہے جسے انہوں نے ایک خاص راوی کی روایات کے لیے متروک الحدیث کہا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ نصیحت بھی کرتا ہوں کہ اللہ کا خوف کیجیے ، اور اس قسم کے ناقص اور غلط معلومات پھیلا کر اپنی آخرت کی تباہی میں اضافہ مت کیجیے ، ادھر ادھر سے کچھ معلومات جمع کرنا """ تحقیق """ نہیں ہوتا ، اور بلا تحقیق ایسی باتیں نشر کرنا بہت بڑی گمراہی ہے ، اور اسی طرح پہلی اور دوسری مثالوں میں کچھ راویوں کے بارے میں ان کے عقإد کے بارے میں ایسی جرح کا ذکر کیا ہے جو کسی حافظ ، عادل ، ضابط ، ثقہ ، تقی و صالح راوی کی روایت قبول ہونے میں مانع نہیں ہوتی ، اور اور اور ، اتنی تفصیلات ہیں کہ اگر انہیں لکھا جإئے تو بھإئی نوشاد کے مراسلے سے کٕئی سو گنا زیادہ مواد ہو جائے ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ بھائی نوشاد صاحب حدیث اور امام بخاری اور صحیح البخاری سے محبت کا یہ اظہار فرمانے سے پہلے علوم الحدیث کا کچھ مطالعہ فرما لیتے ، بہر حال قدر اللہ ما شاء و فعل ، ولہ الحمد المنۃ ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 16 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), کنعان (20-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), مرزا عامر (19-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (24-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), عبداللہ حیدر (19-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم٬
میں چاہتا تھا کہ بھائی نوشاد سے پوچھے ہوئے اپنے سابقہ سوال کا جواب آنے کے بعد بات چیت کو آگے بڑھاؤں لیکن ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے اگلے کچھ دن غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ معلوم نہیں پھر کب آمد ہو اور کب فرصت ملے اس لیے ان کے پہلے اعتراض کا تفصیلی جائزہ پیش کر رہا ہوں۔ اس ایک مثال سے اندازہ لگا لیں کہ اس مراسلے میں جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کا علمی میدان میں کوئی وزن نہیں ہے بلکہ وہ (نوشاد بھائی سے معذرت کے ساتھ) علم و تحقیق میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ ہے کہ امام بخاری نے عطاء بن ابی میمونہ کی روایت اپنی الصحیح میں درج کر کے غلطی کی ہے کیونکہ وہ قدری تھا۔ نوشاد بھائی کے انداز بیان سے تاثر ملتا ہے کہ امام بخاری نے اس راوی کو اپنی ایک کتاب میں قدری کہا،پھر انہیں یاد ہی نہ رہا کہ وہ کیا لکھ چکے ہیں چنانچہ صحیح البخاری میں انہوں نے اسی کی بیان کی ہوئی ایک حدیث درج کر کے اسے صحیح قرار دے دیا۔ امام صاحب کے اس عمل کی وجہ بیان کرنے سے پہلے میں آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہوں گا کہ جو حدیث امام بخاری نے بیان کی ہے وہ کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جو دوسرے محدثین کی نگاہ سے اوجھل ہو اور امام بخاری کی ایک فرضی غلطی کی وجہ سے صحیح مشہور ہو گئی ہو بلکہ تمام اہم محدثین نےالفاظ کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اسے عطاء بن ابی میمونہ ہی سے روایت کیا ہے اور پھر اس پر حکم بھی صحیح کا لگایا ہے۔ مثال کے طور پر امام مسلم ، جن کی کتاب صحیح البخاری کے بعد حدیث کی دوسری اہم اور معتبر کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔ اس میں وہ یہ حدیث اس طرح لائے ہیں: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ حَائِطًا وَتَبِعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ، هُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صلَّى اللهِ عليْهِ وسلَّمَ حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ (صحیح مسلم کتاب الطھارۃ باب الاستنجاء بالماء من التبرز) امام ابن حبان اس سند کے ساتھ اسے بیان کرتے ہیں: أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ وَهُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ حَاجَتِهِ أَجِيءُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَيَسْتَنْجِي بِهِ . (صحیح ابن حبان کتاب الاستطابۃ باب ذکر البیان بان مس الماء الذی فی خبر عائشہ انما ھو الاستنجاء بالماء۔ رقم الحدیث 1442) اورامام ابن خزیمہ یہ روایت لائے ہیں: مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ الزَّهْرَانِيُّ، نا سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ذَهَبْتُ مَعَهُ بِعُكَّازٍ وَإِدَاوَةٍ، فَإِذَا خَرَجَ مَسَحَ بِالْمَاءِ، وَتَوَضَّأَ مِنَ الْإِدَاوَةِ (صحیح ابن خزیمہ کتاب الوضوء باب ذکر استنجاء النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم بالماء) ان تینوں احادیث کو کسی محدث نے عطاء بن ابی میمونہ کی وجہ سے ضعیف نہیں کہا۔ مزید برآں اسی عطا بن ابی میمونہ سے امام ابوداؤد، امام نسائی، امام احمد، امام الدارمی، امام طبرانی، امام بیہقی سمیت بہت سے دوسرے محدثین نے روایات بیان کی ہیں اور علم حدیث کے ماہرین انہیں صحیح قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا میرے بھائی!اپنے ذہن سے یہ خیال کھرچ دیجیے کہ یہ غلطی امام صاحب سے سرزد ہوئی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ غلطی آپ سے ہوئی ہے جنہوں نے علم و تحقیق کا حق ادا کرنے کی بجائے ادھر ادھر سے چند باتیں اکٹھی کر کے دوسروں کو احمق قرار دینا شروع کر دیا ہے جس کی زد میں نہ جانے علم و فضل کے کیسے کیسے پہاڑ آ رہے ہیں۔ اگر آپ کسی بات کو نہیں سمجھ سکتے تو ازخود نتیجہ نکالنے کی بجائے اس علم و فن کے کیس ماہر سے دریافت کرلیا کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا ابھی ایسے علماء اور دین کے طالب علموں سے خالی نہیں ہوئی جو آپ کے سوالات کا جواب نہ دیں سکیں۔ اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجہ تھی جس کی بناء پر عطاء بن ابی میمونہ کے قدری ہونے باوجود امام بخاری نے اس کی حدیث قبول کی ہے۔ جرح و تعدیل کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عطاء بن ابی میمونہ قدری ہونے کے باوجود سچا، عادل، ضابط اور ثقہ راوی تھا۔ امام ابن حبان، امام نسائی، ابن معین، یعقوب بن سفیان اور ابوزرعہ الرازی نے اسے ثقہ کہا ہے، امام دار قطنی نےکہا کہ اس سے حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں۔ امام ذھبی کہتے ہیں "بڑا سچا انسان اور تابعی تھا"۔ (الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم، دار احیاء التراث الاسلامی جلد 6 ص 337، تہذیب التہذیب للامام ابن حجر العسقلانی جلد 2 ص 362، المغنی فی الضعفاء للذھبی جلد 2 ص 435) سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہایت سچا اور کھرا آدمی تھا لیکن عقیدے کے ایک مسئلے کو درست طور پر نہیں سمجھ سکا تھا جس کی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں محدثین کے دو گروہ ہو گئے، پہلے گروہ نے اس کے عقیدے کی نادرستگی کی وجہ سے اس کی ساری احادیث قبول کرنے سے انکار کر دیا مثلا ابوحاتم الرازی نے کہا کہ "صالحلا یحتج بحدیثۃ" نیک اور صالحشخصتھا لیکن اس کی بیان کی ہوئی حدیثوںسے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔ لیکن دوسرے گروہ نے زیادہ باریک بینی سے کام لیا اور دیکھا کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی بد دیانتی نہیں کی، اس کی یادداشت بہترین ہے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کا حدیث سیکھنا بھی معلوم اور ثابت ہے اور اب یہ ان سے ایسی روایت بیان کر رہا ہے جس سے اس کے غلط عقیدے کو کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تو اس کی یہ والی حدیث قبول نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔ چنانچہ بعد میں آنے والے سارے محدثین نے اس بات کو قبول کیا اور پھر علم حدیث میں یہ ایک معروف بات ہو گئی کہ اگر کسی عادل، ضابط، ثقہ، صالح راوی میں عقیدے کی تھوڑی بہت خرابی موجود ہو اور وہ کوئی ایسی روایت بیان کرے جس سے اس کے غلط عقیدے کی ترویج نہ ہوتی ہو تو اس کی روایت قبول کی جائے گی۔ (اس کی تفصیل میںجانا یہاںممکن نہیںہے، جیسا کہ چچا عادل سہیل نے کہا ہے کہ اس کی مکمل تفصیل اور شرائط بیان کرنے کے لیے سینکڑوںصفحے درکار ہیں) یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی ایک کتاب میں عطاء بن ابی میمونہ کو قدری لکھا ہے لیکن طہارت کے ایک مسئلے سے متعلق اس کی حدیث قبول بھی کی ہے۔ یہ معاملہ کچھ عطاء تک ہی محدود نہیں ہے، ایسے اور بھی راوی ملتے ہیں جن کے بارے میں محدثین کرام یہ تصریح کر دیتے ہیں کہ فلاں معاملے میں فلاں راوی کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ ایسے ہی ایک شخص حسین بن عمران الجھنی کے بارے میں امام بخاری نے خود کہا ہے "لا یتابع علی حدیثہ بالقدر" یعنی "تقدیر کے بارے میں اس کی بیان کی ہوئی بات کی متابعت نہیں کی جائے گی"(تہذیب التہذیب جلد 2 ص 362)۔ نوشاد بھائی کے بیان کیے ہوئے باقی نکات بھی علمی میزان میں کچھ وزن نہیں رکھتے۔ ضرورت محسوس ہوئی تو ان شاء اللہ پھر کسی وقت ان پر بھی بات ہو گی۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 24-11-10 at 08:01 PM. وجہ: ایک حوالے کا اضافہ |
|
|
|
| 20 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-11-10), کنعان (20-11-10), ھارون اعظم (20-11-10), یاسر عمران مرزا (20-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), محمدمعیداحمد (27-11-10), مرزا عامر (20-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ارشد کمبوہ (21-11-10), باذوق (07-06-11), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), سحر (31-03-12), شمشاد احمد (22-11-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (24-11-10), عادل سہیل (19-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، بھتیجے ، اللہ تعالیٰ علم نافع میں مزید برکت عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-11-10), کنعان (20-11-10), محمد عاصم (18-12-10), مرزا عامر (20-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (22-11-10), ضِرار Derar (23-11-10), عبداللہ حیدر (19-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#9 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک عطا بن ابی میمونہ کا کیا مقام ہے کیا وہ اسے ثقہ سمجھتے ہیں؟ ۔ دوسری بات مجھے مطعون کرنے سے بہتر ہے کہ ان اکابر علما کو مطعون کیجے جن کی کتابوں کے حوالے میں نے دیئے ہیں اپنے پاس سے کچھ نہیں لکھا ہر بات کا حوالہ ہے اپنا غصہ ان پر نکالیئے جنھوں نے یہ سب کتابوں میں لکھا ہے۔
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), مرزا عامر (20-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (22-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
نوشاد بھائی۔ آپ نے چاہے اس حوالے سے کافی بحث کی کہ آپکی اس پوسٹ کا مطلب امام بخاری کو غلط قرار دینا نہیںبلکہ ان کی ایک انسانی غلطی کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ لیکن میرے خیال سے اتنے بڑی شخصیت کی کسی بات میں غلطی نکالنے کے لیے اس حد تک تحقیق ضروری ہے جس حد تک انہوں نے کی اور جس قدر تقوی اور پرہیز گاری وہ اختیار کرتے تھے انہی جیسا کردار بھی اپنایا جائے۔
اگر آپکا موقف ہے کہ کچھ علما نے اپنی کتابوں میں یہ بیان کیا ہے اور یہ مواد آپکا اپنا نہیں ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ لکھا تو سلمان رشدی نے بھی بہت کچھ ہے اور دیگر کیچڑ اچھالنے والوںنے بھی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہر لکھنے والی کی تحریر کو فورم پر چھاپ دیا جائے۔ واللہ علم
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| 16 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-11-10), کنعان (21-11-10), موجو (06-02-11), محمدمعیداحمد (27-11-10), مرزا عامر (20-11-10), مسٹر شیف (21-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), شمشاد احمد (22-11-10), ضِرار Derar (23-11-10), عبداللہ آدم (20-11-10), عبداللہ حیدر (20-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
میرے بھائی!آپ پر طعن کر کے مجھے کچھ ملنے والا نہیں ہے، نہ میں آپ کو شخصی طور پر جانتا ہوں۔ اس لیے آپ کو مطعون کرنے کا میرا کوئی ارادہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ اکابر علماء کی کتابوں کے بارے میں ایک سوال میں نے اوپر پوچھا تھا کہ آپ نے یہ حوالے ان علماء کی کتابوںکے متعلقہ مقامات کے بغور مطالعہ کے بعد اکٹھے کیے ہیں یا ادھر ادھر سے سن دیکھ کر ایک مراسلہ لکھ دیا ہے؟ یاسر بھائی کے مشورے پر بھی غور کریں۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 20-11-10 at 10:03 PM. وجہ: ایک لفظ کی درستگی |
|
|
|
|
| 12 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-11-10), کنعان (21-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), مسٹر شیف (21-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), شمشاد احمد (22-11-10), عبداللہ آدم (20-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#12 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
جناب عادل سہیل صاحب نے اسماعیل بن ابان الکوفی کے نام پر یہ کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی ثابت کرے کے یہ وہی اسماعیل بن ابان ہے جس پر جرح ہے اور جس کا نام میں نے (نوشاد نے) لکھا ہے۔اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو میں نے ملا علی قاری کی موضوعات کبیر میں پڑھا تھا ذرا یہ واقعہ دیکھئے۔ امام احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نے مسجد رصافہ میں نماز پڑھی ۔ایک قصہ گو ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا ۔ہم سے احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نے عبد الرزاق عن معمر عن قتادہ کے واسطے انس سے مرفوعا یہ حدیث بیان کی ہے ۔جوشخص لا الہ الا اللہ کہتا ہے اللہ تعالی اس کے ہر کلمے سے ایک پرندہ پیدا فرماتا ہے جس کی چونچ سونے کی اور پر مرجان کے ہوتے ہیں۔پھر اس نے ایک لمبا قصہ بیس ورق کے قریب بیان کیا ۔۔احمد بن حنبل یحیی بن معین کی طرف دیکھنے لگے اور یحیی احمد بن حنبل کی طرف۔یحیی بن معین نے احمد بن حنبل سے دریافت کیا کیا تم نے یہ بیان کی ہے؟امام احمد نے کہا خدا کی قسم میں نے تو یہ ابھی اسی وقت سنی ہے۔جب وہ قصہ گو فارغ ہو چکا اور اپنے انعامات لے چکا تو پھر باقی کا انتظار کرنے بیٹھ گیا ۔یحیی بن معین نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا ادھر آئو وہ انعام کی لالچ میں ان کے پاس آیا۔اس سے یحیی نے دریافت کیا ۔تم نے یہ روایت کس سے بیان کی ہے؟۔اس نے جواب دیا احمد بن حنبل اور یحیی بن معین سے ۔یحیی بن معین نے کہا میں یحیی بن معین ہوں اور یہ احمد بن حنبل ہیں ہم نے تو یہ روایت رسول اللہ کی کسی روایت میں نہیں سنی۔تو نے اگر جھوٹ بولنا تھا تو ہمارے علاوہ کسی اور پر جھوٹ بول لیا ہوتا۔اس نے کہا کیا تم یحیی بن معین ہو؟۔یحیی نے جواب دیاہاں۔وہ بولا میں ہمیشہ سے سنتا آیا تھا کہ یحیی بن معین احمق ہے اور اس وقت اس کی تصدیق ہوگئی ۔یحیی نے کہا تو نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ میں احمق ہوں۔اس نے جواب دیا ۔گویا دنیا میں تمہارے علاوہ کوئی اور یحیی بن معین نہیں اور احمد بن حنبل ہی نہیں ۔میں نے تو سترہ احمد بن حنبل اور یحیی بن معین سے روایت لکھی ہے ۔امام احمد نے اپنی آستین اپنے منہ پر رکھ لی ۔یحیی بن معین سے کہا اسے چھوڑ دو اور وہ کھڑا دونوں کا مذاق اڑاتا رہا۔( حوالہ:۔ موضوعات کبیر صفحہ نمبر 65.66ناشر محمد سعید اینڈ ناشران کتب قرآن محل اردو بازار کراچی) دیکھیں اب ایک اسماعیل بن ابان کوفی کو بچانے کتنے اسماعیل بن ابان کوفی آتے ہیں۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (21-11-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (22-11-10), مرزا عامر (21-11-10), ابوسعد (14-01-11), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
برادران کنعان، شمشاد احمد، ارشد کمبوہ اور چچا جی! جزاکم اللہ خیرا۔ آپ لوگوں کے مراسلوں نے میرا بہت سا بوچھ ہلکا کر دیا ہے اس لیے میں براہ راست نوشاد بھائی کے مراسلات کی طرف آتا ہوں جن سے میں بارہا پوچھ چکا ہوں کہ جن کتابوں کا حوالہ وہ دے رہے ہیں ان کا خود بھی بغور مطالعہ کیا ہے یا ۔ نہیں؟ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس سیدھے سادھے سوال کا جواب دینے میں انہیں کیا چیز مانع ہے۔ بہرحال ، میں دعا کرتا ہوں کہ مراسلہ نمبر ایک میں لکھی ہوئی باتیں انہوں نے کسی متعصب یا جاہل شخص کے پراپیگنڈے کے زیر اثر لکھ دی ہوں کیونکہ دوسری صورت میں وہ لوگ ان کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں کریں گے جنہوں نے علماء کی ان کتب کا بغور گہرا مطالعہ کر رکھا ہے اور شاید قارئین کی اکثریت بھی ایسا ہی سوچنے پر مجبور ہو گی۔ میں اپنی بات کو ایک مثال کے ذریعے واضح کروں گا جس میں نوشاد بھائی کے ایک اور اعتراض کا جواب بھی آ جائے گا ان شاء اللہ۔ نوشاد بھائی نے لکھا ہے: اقتباس:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي اليَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ “جس دن نجاشی کی وفات ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آؓلہ وسلم نے اسی دن ان کی وفات کی خبر سنا دی تھی” (صحیح البخاری کتاب الجنائز باب الرجل ینعی الی اھل المیت بنفسہ) پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مدینہ میں وفات پانے کے معاملے پر امام ابن حجر اور علامہ عینی رحمہا اللہ جیسے شارحین بخاری بھی متفق نہیں ہیں۔ نوشاد بھائی نے ان ائمہ کی کتب سے صرف وہ بات نقل کی ہے جس سے امام بخاری کو غلط ثابت کیا جا سکے لیکن علامہ عینی کی عمدۃ القاری میں شاید انہوں نے وہ بحث نہیں پڑھی جس میں انہوں نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مدینہ میں وفات پانے کے دعوے کو بلاثبوت کہتے ہوئے لکھا ہے: وَفِي قَول هَذَا الْقَائِل: أَبُو سُفْيَان مَاتَ بِالْمَدِينَةِ بِلَا خلاف، نظر لِأَنَّهُ مُجَرّد دَعْوَى فَافْهَم “جس کسی نے یہ کہا ہے کہ ابو سفیان کے مدینہ میں وفات پانے میں کوئی اختلاف نہیں اس کی بات درست نہیں ہے۔ خوب سمجھ لو کہ یہ محض ایک دعوی ہے (جس کا ثبوت کچھ نہیں)” نوشاد بھائی کو المکتبۃ الشاملۃ پر شک رہتا ہے اس لیے عمدۃ القاری کے اس اقتباس والے صفحے کا سکینڈ امیج بھی دیکھ لیں اور سرخرنگ سے انڈر لائن کیے ہوئے جملوںپر غور کریں۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 23-11-10 at 01:29 AM. وجہ: املا کی درستگی |
|
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (22-11-10), کنعان (23-11-10), محمد عاصم (18-12-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (23-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), ضِرار Derar (23-11-10), عبداللہ آدم (22-11-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#14 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک سوال اس میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ام حبیبہ اس وقت کہاں تھیں جب ابو سفیان کا انتقال ہوا اگر مدینہ میں تھیں تو حیرت ہے کہ انھیں مدینہ میں رہ کر مدینہ میں ہی ابو سفیان کے انتقال کا پتہ ہی نہیں چلا اور انھیں شام سے اطلاع دینی پڑی۔آپ نے بتا یا نہیں کہ اگر مدینہ میں ابو سفیان کا انتقال نہیں ہوا تو کہاں ہوا تھا ۔ اور آپ کے خیال میں کیا حافظ ابن حجر عسقلانی نے یہ غلط لکھا ہے کہ با اتفاق مورخین ابو سفیان کا انتقال مدینہ میں ہوا تھا؟
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (23-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), غلام خان (07-12-10) |
|
|
#15 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جناب عبداللہ حیدر صاحب کی ’’ تحقیق ‘‘ سے یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ
۱:۔ کیا جناب عبداللہ حیدرصاحب کے خیال میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں یہ بات غلط لکھی ہے کہ ابو سفیان کا انتقال با اتفاق مورخین مدینہ میں ہوا تھا؟ ۲:۔ اگر حافظ ابن حجر عسقلانی کی یہ بات غلط ہے تو پھر جناب عبد اللہ حیدر کی ’’تحقیق‘‘ کے مطابق ابو سفیان کا انتقال کہاں ہوا تھا؟اور جب ام حبیبہ کو ابو سفیان کے انتقال کی خبر ملی تو وہ کہاں تھیں؟ ۳:۔ایک سوال پہلے کا بھی ہے عطا بن ابی میمونہ کے بارے میں کہ یہ امام بخاری کے نزدیک کیسا راوی تھا؟اور یہ قدریہ فرقہ کیا تھا اس کے عقائد کیا تھے؟ ۴:۔ایک کتاب ہے الاکمال فی اسما الرجال تالیف کی ہے صاحب مشکوۃ نے یعنی علامہ ولی الدین ابو محمد بن عبداللہ الخطیب نے اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے مولانا اشتیاق احمد اور مولانا معراج الحق صاحب نے ناشر ہیں میر محمد کتب خانہ علم و ادب آرام باغ کراچی۔اس کتاب میںصاحب مشکوۃ نے ان صحابیوں ،صحابیات ،اور تابعین کے حالات درج کیئے ہیں جن کا ذکر یا روایت مشکوۃ میں موجود ہے۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر ۴۷ پر صاحب مشکوۃ ابو سفیان بن حرب کے ذیل میں لکھتے ہیں ابو سفیان بن حرب:۔یہ ابو سفیان صخر بن حرب بنی امیہ میں سے قرشی ہیں۔حضرت معاویہ کے والد ہیں۔عام الفیل سے دس برس پہلے پیدا ہوئے ۔اسلام سے پہلے قریش کے معزز سرداروں میں سمجھے جاتے تھے۔فتح مکہ کے دن ایمان لائے۔غزئوہ حنین میں انھوں نے شرکت کی ۔۳۴ ھجری میں مدینہ میں وفات پائی جنت البقیع میں دفن کیئے گئے ۔ اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۸ پر یہی صاحب مشکوۃ لکھتے ہیں ام حبیبہ:۔ یہ ام حبیبہ ابو سفیان بن صخر بن حرب کی بیٹی ہیں۔ان کی وفات مدینہ میں ۴۴ ھجری میں ہوئی۔ ۵:۔ جناب عبد اللہ صاحب کے خیال میں صاحب مشکوۃ کا یہ لکھنا بھی کیا ایک ایسا دعوی ہے جس کا ثبوت نہیں ہے؟ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (23-11-10), مرزا عامر (23-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (24-11-10), غلام خان (07-12-10) |
![]() |
| Tags |
| کتابوں, گمان, پاک, قید, قیس, لوگ, مکمل, موت, محبت, معلوم, اللہ, انسان, اسلام, جلد, حکم, حدیث, خلاف, خبر, خدا, دعا, عقل, صحابہ, صحابی, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|