واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


امام بخاری اور ان کی کتاب حدیث

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-11-10, 10:35 AM   #1
امام بخاری اور ان کی کتاب حدیث
نوشاد احمد نوشاد احمد آف لائن ہے 19-11-10, 10:35 AM

Moderated Message:
مربوط اور علمی گفتگو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے اس تھریڈ ‌میں اب صرف جناب نوشاد احمد اور جناب عادل سہیل کو گفتگو کرنے کی اجازت ہے۔ باقی محترام اراکین شکریے کے بٹن کے ذریعے اپنے ثاثرات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ غیر متعلقہ مراسلات منتقل کر دیے جائیں گے۔


بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کتب احادیث میں جو کچھ محدثین نے جمع کر دیا ہے وہ سب کچھ درست ہے اور اس میں کسی قسم کی غلطی کا امکان نہیں ہے اور اگر کوئی ان لوگوں کی توجہ ان محدثین کی کتابوں اور ان کی بیان کردہ احادیث میں پائے جانے والے اشکالات کی طرف دلاتا ہے تو پہلے تو یہ لوگ اپنا خود ساختہ تحقیق کا طریقہ پیش کرتے ہیں اور سوال کرنے والے کو کہتے ہیں کہ اس کا طریقہ تحقیق درست نہیں ہے اور اس کی عقل محدود ہے اس لیئے وہ ان احادیث کو نہیں سمجھ سکتا اور کوئی صاحب علم ہی صرف ان احادیث کو سمجھ سکتا ہے اور سمجھا سکتا ہے کیوں کہ یہ منصب صرف انھیں کا ہے اور جو لوگ احادیث پر اعتراض کرتے ہیں ان کو فورا منکر حدیث کے زمرے میں ڈال کر فتوے کی توپ سے ان کا منہ بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان لوگوں کا سب سے بڑا نظریہ یہ ہے کہ کتب احادیث اور خصوصا بخاری صاحب نے اپنی کتاب حدیث میں جو کچھ لکھ دیا ہے وہ حرف آخر ہے اور اس میں کسی قسم کی غلطی کا امکان نہیں پایا جا سکتا۔یہ مضمون اسی غلط فہمی کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے اس میں ہم یہ دکھائیں گے کہ صاحب بخاری متقی ،پرہیز گار،عالم ،وغیرہ ہونے کے باوجود ایک انسان تھے اور ان سے غلطیوں کا ہونا ناممکن نہیں ہے ۔اور یہی غلطیاں انہوں نے اپنی کتاب حدیث لکھتے ہوئے کیں ہیں ذیل میں ہم چند غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس کا مقصد بخاری کی اہمیت کو گھٹانا نہیں صرف یہ دکھانا ہے کہ بخاری ایک انسان تھے ان سے غلطیوں کا ہونا ممکن ہے ۔اور جو لوگ انھیں معصوم عن الخطا سمجھتے ہیں ان کی توجہ اس طرف دلانا ہے کہ بخاری کو ایک انسان ہی سمجھیں خدا نہ سمھیں اور ان کی کتاب کو ایک انسان کی لکھی کتاب ہی سمجھیں نہ کہ خدا کی لکھی ہوئی حرف آخر کتاب۔
۱۔صحیح بخاری میں ایسے راویوں کی تعداد کافی زیادہ ہے جو جہمی،قدری یا رافضی عقائد کے حامل تھے اس کے ساتھ ساتھ ایسے راویوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے جو منکر الحدیث ،واہی،اور وہمی تھے ان تمام راویوں کی تفصیل حافظ ابن حجر عسقلانی نے ہدی الساری مقدمہ فتح الباری میں مہیا کی ہے ۔اس کے علاوہ بخاری صاحب نے جن راویوں پر خود جرح کی ہے اور انھیں مختلف العقائد بتایا ہے انھیں راویوں کی احادیث ان کی کتاب میں موجود ہیں۔

پہلی مثال:۔باب الاستنجابا لماء کے تحت امام بخاری نے ایک روایت اس سند کے ساتھ نقل کی ہے ( حدثنا ابو سعید ھشام بن عبد الملک قال حدثنا شعبتہ عن ابی معاذ و اسمہ عطا بن ابی میمونہ قال سمعت انس بن مالک یقول کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم)اس حدیث کی سند میں ایک راوی ہے عطا بن ابی میمونہ اس کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں (عطا بن ابی میمونہ ابو معاذ مولی انس ،وقال یزید بن ھارون مولی عمران بن حصین وکان یری القدر) ( حوالہ :۔ کتاب الضعفاء الصغیر صفحہ ۲۷۱۔امام بخاری)یعنی عطا بن ابی میمونہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ قدری تھا یعنی قدری عقائد کا حامل تھا اور پھر اس سے اپنی کتاب میں حدیث بھی نقل کر دیتے ہیں۔

دوسری مثال:۔کتاب المغازی میں ایک حدیث یو ں ذکر کرتے ہیں ( حدثنی عباس و الوحید قال حدثنا عبد الواحد عن ایوب بن عائز قال حدثنا قیس بن مسلم قال سمعت طارق بن شہاب یقول حدثنی ابو موسی الا شعری قال بعثتی رسول اللہ )اس حدیث میں ایک راوی ہے ایوب بن عائز اس کو بھی صاحب بخاری نے کتاب الضعفاء میں درج کیا ہے فرماتے ہیں ( ایوب بن عائز الطای کان یری الارجاء۔یعنی یہ شخص مرجیہ عقائد کا حامل تھا)حوالہ ( کتاب الضعفاء الصغیر صفحہ ۲۵۳)۔حافظ ذہبی ایوب بن عائز کے ترجمہ میں لکھتے ہیں ( وکان من المرجئتہ قالالبخاری واود ہ فی الضعفاء لا رجاۂ والعجب من البخاری یغمزہ و قد احتج بہ۔یعنی امام بخاری نے ایوب بن عائز کو مرجۂ قرار دے کر اس کا ضعفاء میں شمار کیا ہے اور حیرت ہے کہ اس کو ضعیف قرار دے کر پھر اس سے استدلال کرتے ہیں ۔حوالہ:۔ کتاب الضعفاء الصغیر صفحہ ۲۵۲)

تیسری مثال :۔اسماعیل بن ابان کوفی ایک راوی ہے اس کے بارے میں امام بخاری کہتے ہیں کہ (اسماعیل بن ابان عن ھشام بن عروتہ متروک الحدیث کنیتہ ابو اسحاق کوفی۔اسماعیل بن ابان کوفی جو ھشام بن عروتہ سے روایت کرتا ہے متروک الحدیث ہے۔
مگر اسی اسماعیل بن ابان کوفی کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ ( اسماعیل بن ابان الوراق الکوفی فی احد شیوخ البخاری۔اسماعیل بن ابان امام بخاری کے استادوں میں ایک استاد ہیں۔حوالہ:۔ حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھد الساری جلد صفحہ ۱۵۱)
اب آپ بتلائیے کہ امام بخاری جسے متروک الحدیث کہ رہے ہیں ابن حجر عسقلانی کے مطابق وہ ان کے استادوں میں سے ہیں۔گویا امام بخاری کے استادوں میں جن سے انھوں نے احادیث روایت کیں ہیں متروک الحدیث راوی بھی تھے ۔
یہ چند مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ امام بخاری ایک انسان ہی تھے اور انھوں نے بھی غلطیاں کیں ہیں وہ کوئی معاذ اللہ خدا نہیں تھے اور نہ ہی ان کی کتاب کوئی خدا کی کتاب ہے جس میں غلطیاں نہ ہوں۔

۲۔سند بیان کرنے کے معاملے میں غلطی:۔
امام بخاری کبھی کبھی سند بیان کرنے کے معاملے میں بھی غلطی کر جاتے ہیں۔چنانچہ ( اذا قیمت الصلواۃ فلا صلوۃ الا المکتوبہ کے تحت ایک حدیث اس سند کے ساتھ روایت کی ہے۔حدثنا عبد العزیز بن عبداللہ قال حدثنا ابراہیم بن سعد عن ابیہ عن حفص بن عاصم عن عبداللہ بن مالک بن بجنیہ قال ۔الخ(صحیح البخاری جلد ۱)
اس سند کے بیان میں امام بخاری سے دو غلطیاں واقع ہوئی ہیں ایک تو یہ کہ بجنیہ کو مالک کی والدہ قرار دیا ہے جبکہ بجنیہ مالک کی والدہ کے بجائے عبداللہ کی والدہ ہیں ۔دوسری غلطی یہ کہ اسی حدیث میں آگے چل کر فرماتے ہیں (سمعت رجلا من الا زد یقال لہ مالک بن بجنیہ ان رسول اللہ رائی رجلا الحدیث۔اس حدیث کو انہوں نے مالک سے روایت کیا ہے )۔حالانکہ یہ حدیث مالک کے بیٹے عبداللہ بن مالک سے مروی ہے ۔مالک تو مشرف بہ اسلام بھی نہیں ہوئے تھے ۔مسلم ،نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اس سند کو بیان کیا ہے لیکن انھوں نے یہ غلطیاں نہیں کیں ہیں۔اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ (الوھم فیہ موضعین احد ھما ان بجنیہ والدۃ عبداللہ لا مالک وثا نیہا ان الصحبۃ و الروایۃ لعبداللہ لا لمالک۔اس روایت میں دو جگہ وہم ہے اول یہ کہ بجنیہ عبداللہ کی والدہ ہیں نہ کہ مالک کی ثانی یہ کہ صحابی اور راوی عبداللہ ہیں نہ کہ مالک۔(حوالہ:۔ فتح الباری صفحہ ۲۹)
اب دیکھیئے کہ امام بخاری آخر انسان ہی تھے اور کہیں کہیں سند بیان کرنے میں بھی ایسی فاش غلطی کر جاتے تھے اب اس پر ان کی کتاب کو کوئی غلطیوں سے پاک سمجھے تو اس کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے ۔

۳:۔متن حدیث بیان کرنے میں غلطی:۔
امام بخاری کبھی کبھی متن حدیث بیان کرنے میں بھی غلطی کر جاتے ہیں اس کی مثال دیکھیے ۔
۱۔کتاب الزکوۃ میں امام بخاری ایک حدیث لائے ہیں۔
عن عائشہ ان بعض ازواج النبی قلن للنبی اینا اسرع بک لحوقا قال اطو لکن یدا فا خذ وا قصبۃ یذر عو نہا فکا نت سودۃ اطولھن یدا فعلمنا بعد انما کانت طول یدھاالصدقۃ وکانت اسرعنا لحوقابہ صلی اللہ علیہ وسلم وکانت تحب الصدقۃ۔ترجمہ:۔حضر ت عائشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ کی بعض ازواج نے آپ سے عرض کیا کہ حضور آپ کی ازواج میں سے کون سب سے پہلے آپ کے ساتھ واصل ہوگی ۔فرمایا جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے ۔یہ سن کر سب اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں اور ان میں سب سے لمبے ہاتھ سودہ کے تھے ۔اور بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں کی لمبائی سے صدقہ مراد ہے اور سودہ کا سب سے پہلے انتقال ہوا اور وہ صدقہ سے محبت رکھتی تھیں۔(صحیح بخاری جلد ۱)
اس حدیث میں کانت اسرعنا لحوقا بہ کی ضمیر سودہ کی طرف راجح ہے ۔جس کا تقاضہ یہی ہے کہ رسول اللہ کے بعد سب سے پہلے سودہ کا وصال ہوا ہوگا۔ لیکن یہ بات تمام اصحاب سیر اور ارباب تاریخ کی شہادت سے بلکل باطل ہے کیوں کہ آپ کے بعد سب سے پہلے زینب بنت جحش کا ۲۰ھجری میں وصال ہوا اور حضرت سودہ کا وصال تو اس کے بہت بعد ۵۴ ھجری میں ہوا ہے۔( حوالہ علامہ بد ر الدین عینی ۔متوفی ۸۵۵ھجری عمدۃ القاری جلد ۸ صفحہ ۲۸۲)
دیکھئے اس حدیث کے متن کے بیان میں امام بخاری ایک انسان ہونے کے ناتے چوک گئے اور حضرت زینب کا نام ذکر کرنا بھول گئے ۔ان تک اگر یہ روایت حضرت زینب کے نام کے بغیر بھی پہنچی تھی تو ان کا کام تھا تحقیق کرتے اور صحیح روایت اپنی کتاب میں ذکر کرتے۔
۲۔باب احداد المراۃ علی غیر زوجہا ء کے تحت امام بخاری ایک حدیث روایت کرتے ہیں
عن زینب بنت ابی سلمۃقالت لما جاء نصی ابی سفیان من الشام دعت ام حبیبہ بصفرۃفی یوم الثالث فمسحت عارضیہا وذرا عیہا الحدیث( صحیح بخاری جلد ۱) ترجمہ :۔ زینب بنت سلمہ کا بیان ہے کہ جب شام سے حضرت ابو سفیان کی موت کی خبر آئی تو حضرت ام حبیبہ نے تین دن کے بعد سوگ ختم کردیا۔

اس حدیث میں امام بخاری نے ابو سفیان کی موت کی اطلاع شام سے آنا بیان کی ہے حالا نکہ یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے کیوں کہ با اتفاق مورخین ابو سفیان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا تھا ۔اسی لیئے حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے( وفی قول من الشام نظر لان ابا سفیان مات با لمدینہ بلا خلاف بین اھل العلم با الا خبار والجمہور علی انہ مات اثنتین وثلاثین وقیل سنتہ ثلاث ولد فی شیی من طرق ھذا الحدیث تقبیدہ بذا لک الا فی روایۃسفیان بن عینیہ ھذہ واظنہا وھما۔ترجمہ:۔اس روایت میں شام کے لفظ پر اعتراض ہے کیونکہ مورخین میں سے کسی کا اس بات پر اختلاف نہیں ہے کہ ابو سفیان کا انتقال مدینہ میں ۳۲ھ یا ۳۳ھ میں ہوا تھا۔اور اس روایت میں شام کی قید میں نے سفیان بن عینیہ کی روایت کے سوا اور کہیں نہیں دیکھی اور میرا گمان ہے کہ یہ راوی کا وہم ہے۔ ( حوالہ:۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ۔فتح الباری ج۳ صفحہ ۳۸۸)

دیکھیئے اس روایت میں راوی سے تحقیق کیئے بغیر روایت کردی کہ ابو سفیان کی موت کی اطلاع شام سے آئی جبکہ ان کا انتقال مدینہ میں ہوا تھا ۔مگر امام بخاری کو یہ معروف و مشہور بات پتہ تک نہ تھی کیوں کہ اگر انھیں پتہ ہوتا کہ ابو سفیان کی موت مدینہ میں ہوئی ہے تو وہ کبھی بھی یہ روایت درج نہ کرتے ۔اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے اس قسم کی روایات درج کرنے سے پہلے ذرا بھی تحقیق نہیں کی ورنہ اس قسم کی غلط البیان روایات وہ درج نہ کرتے ۔یہ انسانی کمزوری ہے جس کا شکار ہماری آپ کی طرح امام بخاری بھی تھے ۔وہ معصوم نہیں تھے اور نہ ہی ان کی کتاب اتنی معصوم ہے کہ اس میں درج ہر روایت کو درست ہی سمجھا جائے اور اس میں غلطی کا امکان تک دھونڈنا غلط ہو۔

۳۔باب مناقب عثمان میں امام بخاری نے ایک حدیث روایت کی ہے جس میں ذکر ہے کہ
ثم دعا علیاہ فامرہ ان یجلد فجلد ہ ثمانین ( جلد ۱ )امام بخاری نے اس روایت میں اسی ( ۸۰ ) کوڑے مارنے کا ذکر کیا ہے ۔لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کہ حضرت علی نے ۸۰ کوڑے مارے تھے ۔حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ ( فی روایۃ معمر فجلد الولید اربعین جلدۃ وھذہ الروایۃ اصح من روایۃ یونس والوھم فیہ من الراوی۔ترجمہ:۔ معمر کی روایت میں ہے کہ ولید کو چالیس کوڑے مارے گئے اور صحیح تر روایت یہی ہے ۔اور اس روایت (یعنی ۸۰ کوڑے والی) میں راوی کو وہم لاحق ہوا ہے۔ ( حوالہ:۔ فتح الباری جلد ۸ صفحہ ۵۷)

یہاں بھی امام بخاری نے تحقیق کیئے بغیر روایت ذکر کردی اور ذرا بھی تحقیق نہیں کی کہ ۸۰ کوڑے مارے گئے تھے یا ۴۰۔یہ بھی ان کی آپ کی اور ہماری طرح بشری کمزوری تھی کہ ان سے اتنی بڑی چوک ہوئی کہ بغیر تحقیق کے روایت نقل کردی۔اب کیا امام بخاری اور ان کی کتاب کو غلطیوں سے مکمل پاک مانا جاسکتا ہے؟

۴۔مسائل کے استنباط میں غلطی:۔
امام بخاری نے اپنی کتاب میں نہ صرف یہ کہ احادیث نقل کی ہیں بلکہ ان سے مسائل بھی اخذکیئے ہیں اور ان سے اس میں بھی غلطیاں واقع ہوئی ہیں۔اس کی مثال دیکھئے۔
۱۔اذا شرب الکلب فی الا نا ء کے تحت امام بخاری نے متعدد احادیث ذکر کی ہیں ان میں سے ایک حدیث ہے۔
عن النبی ان رجلا رای کلبا یاکل الثری من العطش فاخذ الرجل خفہ فجعل یغرف لہ بہ حتی ارواہ فشکر اللہ لہ فا دخلہ اللہ الجنتہ۔ترجمہ:۔حضور نے بیان فرمایا کہ ایک شخص نے دیکھا کہ ایک باؤلا کتا کیچڑ چاٹ رہا ہے۔اس نے اپنے موزے میں پانی بھر کر اس کو چلو سے پلایا ۔(صحیح بخاری جلد ۱ )
اس حدیث سے امام بخاری یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ کتے کا جھوٹا پاک ہے اس بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ ( استدل بہ المصنف علی طہارۃ سؤر الکلب ۔ترجمہ:۔ مصنف نے اس حدیث سے کتے کے جھوٹے کی طہارت پر استدلال کیا ہے۔( حوالہ :۔حافظ ابن حجرعسقلانی ۔فتح الباری ج ۱ صفحہ ۲۸۹)

اسی باب میں ایک اور حدیث ذکر کی ہے
کانت الکلاب تبول و تقبل و تدبر فی المسجد فی زمان رسول اللہ فلم یکونو یرشون من ذالک۔ترجمہ:۔ عہد رسالت میں کتے مسجد میں آجایا کرتے تھے اور وہ بسا اوقات مسجد میں پیشاب بھی کردیا کرتے تھے ۔اور صحابہ اس پر پانی نہیں ڈالتے تھے( صحیح بخاری جلد ۱ )
حافظ ابن حجر نے اس ضمن میں لکھا ہے کہ یہ ابتدائی دور کی بات ہے جب مسجد میں دروازے نہ تھے ۔اور بعد میں مسجد کی تطہیر و تکریم کا حکم وارد ہوا اور مسجد میں دروازے لگائے گئے۔تاہم زمین پر اگر پیشاب گر جائے اور وہ دھوپ سے خشک ہو جائے تو زمین پاک ہو جاتی ہے اور ان کے نہ دھونے سے یہی ثابت ہوتا ہے زمین خشک ہونے سے بھی پاک ہوجاتی ہے اور اس کے لیئے دھونا ضروری نہیں ہے اور یہی احناف کا مذہب ہے ۔لیکن امام بخاری نے اس حدیث سے کون سا مسئلہ نکالا حافظ بد ر الدین عینی لکھتے ہیں۔

احتج بہ البخاری علی طہارۃ بول الکلب۔ترجمہ:۔اس حدیث سے امام بخاری نے کتے کے پیشاب کی طہارت پر استدلال کیا ہے۔( حوالہ:۔ حافظ بدر الدین عینی متوفی ۸۵۵ھ عمدۃ القاری ج ۳ صفحہ ۴۴)
یعنی امام بخاری کے نزدیک کتے کا پیشاب اس حدیث کی رو سے پاک ہے ۔یہ طریقہ تھا امام بخاری کے حدیث سے مسائل اخذ کرنے کا۔

اس مختصر سے مضمون میں ہم نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ امام بخاری اور ان کی کتاب با لکل خطاؤں سے پاک ہے اور بس انھوں نے اپنے کتاب میں جو کچھ لکھ دیا ہے وہ سب کچھ درست ہے اور اس میں غلطی ڈھونڈنا منکر حدیث بن جانا ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جانا ہے ۔ایسی سوچ رکھنے والا احمق ہے کیوں کہ علماء حدیث نے بخاری اور ان کی کتاب کا باریک بینی سے جائزہ لے کر دکھا دیا ہے کہ ان کے فہم طریقہ تحقیق اور احادیث جمع کرنے بیان کرنے اور ان سے استنباط مسائل کرنے میں انھوں نے با لکل ویسی ہی غلطیاں کیں ہیں جیسے ہر انسان بشری کمزوریوں کے تحت کر سکتا ہے اور ان علماء کو اتنی تنقید کے باوجود کوئی منکر حدیث کہنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا تو اگر آج کوئی دلائل کے ساتھ کسی حدیث پر تنقید کرے تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتاکہ اسے منکر حدیث کہے اور بخاری کو اور ان کی کتاب کو خطاؤں سے پاک جانے۔خطاؤں سے پاک صرف اللہ کی کتاب ہے باقی ہر انسان غلطی کر سکتا ہے اور امام بخاری بھی ایک انسان ہی تھے۔

والسلام

Last edited by عبداللہ حیدر; 05-12-10 at 01:40 AM..

نوشاد احمد
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3362
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), فاروق سرورخان (26-11-10), ھارون اعظم (19-11-10), نورالدین (20-11-10), مرزا عامر (19-11-10), آصف احمد (23-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), شمشاد احمد (24-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 19-11-10, 11:46 AM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نوشاد بھائی یہ آپکی اپنی تحقیق ہے یا یہ مضمون کہیں سے مستعار لیا گیا ہے ؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-11-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نوشاد احمد (19-11-10), مرزا عامر (19-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 19-11-10, 12:44 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ نظریات مختلف کتابوں میں جا بجا بکھرے ہوئے ہیں۔ میں نے صرف انھیں ایک مربوط صورت میں جمع کر کے یہاں پیش کر دیا ہے۔اور اسی لئے ساتھ ہی کتب کے حوالے بھی لکھ دئے ہیں۔
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (31-03-12), فاروق سرورخان (26-11-10), نورالدین (20-11-10), مرزا عامر (19-11-10), ابوسعد (14-01-11), حیدر (01-12-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 19-11-10, 02:18 PM   #4
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم!
بھائی نوشاد احمد! اس مراسلے میں آپ نے جابجا امام ابن حجر کی فتح الباری اور مقدمہ فتح الباری، امام بخاری کی کتاب الضعفاء، بدر الدین عینی کی عمدۃ القاری کا حوالہ دیا ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان کتابوں کے متعلقہ مقامات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اپنا مراسلہ لکھا ہے یا محض صحیح البخاری میں غلطیاں نکالنے کے شوقین حضرات کی “تحقیق” سے استفادہ کرنے پر اکتفا کیا ہے؟
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
17 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), کنعان (19-11-10), ھارون اعظم (19-11-10), مون لائیٹ آفریدی (21-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), مرزا عامر (19-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), طلحہ (24-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 19-11-10, 03:19 PM   #5
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم::

گزارش یہ ہے سب ممبرز سے کہ یہاں گفتگو شروع ہو رہی ہے عبداللہ حیدر اور بوشاد بھائی میں تو بہتر ہو گا اگر ہم انہی کو کسی نتہجے پر پہنچنے کا موقع دیں کیونکہ بحث ہے بھی خاصی علمی نوعیت کی.....................

کیا خیال ہے؟؟؟؟


والسلام

Last edited by عبداللہ آدم; 19-11-10 at 03:22 PM. وجہ: after abdullah haider'post
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), موجو (06-02-11), مرزا عامر (19-11-10), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), عبداللہ حیدر (21-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 19-11-10, 05:15 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھتیجے عبداللہ آدم کا کہنا ٹھیک ہے ،
یہاں نوشاد بھإئی اور بھتیجے عبداللہ حیدر کو بات کرنے دی جإئے ،
ان شاء اللہ نوشاد بھإئی کی اس تحقیق کا بھی پول کھل جإے گا ، کہ انہوں نے محض ادھر ادھر کی چند باتوں کو پوری طرح جانے اور سمجھے بغیر بے ربطی کے ساتھ جوڑ کر امام بخاری رحمہ اللہ اور صحیح البخاری پر اعتراضات جڑ دیے ہیں ،
اب یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ نوشاد بھإئی کی کم علمی ہے یا ضد کہ بات کا حقیقی مفہوم سمجھ نہیں پاتے یا سمجھ کر کچھ اور سمجھانا چاہتے ہیں ،
مثلا یہی دیکھیے کہ تیسری مثال میں امام ابن حجر رحمہ اللہ کے قول """ فی احد شیوخ البخاری """ کے ترجمے کو لے کر چل پڑے اور یہ خیال نہیں فرمایا کہ سماعتء حدیث میں """شیخ """ اور اردو یا عربی کے """ استاد """ میں‌بڑا فرق ہوتا ہے ،
اور پھر یہ بھی نہیں دیکھا کہ امام بخاری نے اسماعیل بن ابان کے متروک الحدیث ہونے کے بارے میں جو لکھا ہے وہ کیا ہے ،

اور اس کے علاوہ ، اللہ پر توکل کرتے ہوٕئے میں آپ کو یہ چیلنج کرتا ہوں کہ آپ یہ ثابت کیجیے کہ وہ اسماعیل بن ابان جس سے امام بخاری نے اپنی‌صحیح میں روایت کیا ہے، وہی اسماعیل بن ابان ہے جسے انہوں نے ایک خاص راوی کی روایات کے لیے متروک الحدیث کہا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اور اس کے ساتھ ساتھ یہ نصیحت بھی کرتا ہوں کہ اللہ کا خوف کیجیے ، اور اس قسم کے ناقص اور غلط معلومات پھیلا کر اپنی آخرت کی تباہی میں اضافہ مت کیجیے ، ادھر ادھر سے کچھ معلومات جمع کرنا """ تحقیق """ نہیں ہوتا ، اور بلا تحقیق ایسی باتیں نشر کرنا بہت بڑی گمراہی ہے ،
اور اسی طرح پہلی اور دوسری مثالوں میں کچھ راویوں کے بارے میں ان کے عقإد کے بارے میں ایسی جرح کا ذکر کیا ہے جو کسی حافظ ، عادل ، ضابط ، ثقہ ، تقی و صالح راوی کی روایت قبول ہونے میں‌ مانع نہیں ہوتی ، اور اور اور ،
اتنی تفصیلات ہیں کہ اگر انہیں لکھا جإئے تو بھإئی نوشاد کے مراسلے سے کٕئی سو گنا زیادہ مواد ہو جائے ، کیا ہی اچھا ہوتا کہ بھائی نوشاد صاحب حدیث اور امام بخاری اور صحیح البخاری سے محبت کا یہ اظہار فرمانے سے پہلے علوم الحدیث کا کچھ مطالعہ فرما لیتے ، بہر حال قدر اللہ ما شاء و فعل ، ولہ الحمد المنۃ ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-11-10), فیصل ناصر (19-11-10), کنعان (20-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), مرزا عامر (19-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (24-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), عبداللہ حیدر (19-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 19-11-10, 08:04 PM   #7
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default امام بخاری نے عطاء بن ابی میمونہ سے حدیث کیوں لی

السلام علیکم٬
میں چاہتا تھا کہ بھائی نوشاد سے پوچھے ہوئے اپنے سابقہ سوال کا جواب آنے کے بعد بات چیت کو آگے بڑھاؤں لیکن ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے اگلے کچھ دن غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ معلوم نہیں پھر کب آمد ہو اور کب فرصت ملے اس لیے ان کے پہلے اعتراض کا تفصیلی جائزہ پیش کر رہا ہوں۔ اس ایک مثال سے اندازہ لگا لیں کہ اس مراسلے میں جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کا علمی میدان میں کوئی وزن نہیں ہے بلکہ وہ (نوشاد بھائی سے معذرت کے ساتھ) علم و تحقیق میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پہلا اعتراض یہ ہے کہ امام بخاری نے عطاء بن ابی میمونہ کی روایت اپنی الصحیح میں درج کر کے غلطی کی ہے کیونکہ وہ قدری تھا۔ نوشاد بھائی کے انداز بیان سے تاثر ملتا ہے کہ امام بخاری نے اس راوی کو اپنی ایک کتاب میں قدری کہا،پھر انہیں یاد ہی نہ رہا کہ وہ کیا لکھ چکے ہیں چنانچہ صحیح البخاری میں انہوں نے اسی کی بیان کی ہوئی ایک حدیث درج کر کے اسے صحیح قرار دے دیا۔
امام صاحب کے اس عمل کی وجہ بیان کرنے سے پہلے میں آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہوں گا کہ جو حدیث امام بخاری نے بیان کی ہے وہ کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جو دوسرے محدثین کی نگاہ سے اوجھل ہو اور امام بخاری کی ایک فرضی غلطی کی وجہ سے صحیح مشہور ہو گئی ہو بلکہ تمام اہم محدثین نےالفاظ کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اسے عطاء بن ابی میمونہ ہی سے روایت کیا ہے اور پھر اس پر حکم بھی صحیح کا لگایا ہے۔ مثال کے طور پر امام مسلم ، جن کی کتاب صحیح البخاری کے بعد حدیث کی دوسری اہم اور معتبر کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔ اس میں وہ یہ حدیث اس طرح لائے ہیں:
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ حَائِطًا وَتَبِعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ، هُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صلَّى اللهِ عليْهِ وسلَّمَ حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ
(صحیح مسلم کتاب الطھارۃ باب الاستنجاء بالماء من التبرز)
امام ابن حبان اس سند کے ساتھ اسے بیان کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ وَهُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ حَاجَتِهِ أَجِيءُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَيَسْتَنْجِي بِهِ .
(صحیح ابن حبان کتاب الاستطابۃ باب ذکر البیان بان مس الماء الذی فی خبر عائشہ انما ھو الاستنجاء بالماء۔ رقم الحدیث 1442)
اورامام ابن خزیمہ یہ روایت لائے ہیں:
مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ الزَّهْرَانِيُّ، نا سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ذَهَبْتُ مَعَهُ بِعُكَّازٍ وَإِدَاوَةٍ، فَإِذَا خَرَجَ مَسَحَ بِالْمَاءِ، وَتَوَضَّأَ مِنَ الْإِدَاوَةِ
(صحیح ابن خزیمہ کتاب الوضوء باب ذکر استنجاء النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم بالماء)
ان تینوں احادیث کو کسی محدث نے عطاء بن ابی میمونہ کی وجہ سے ضعیف نہیں کہا۔ مزید برآں اسی عطا بن ابی میمونہ سے  امام ابوداؤد، امام نسائی، امام احمد، امام الدارمی، امام طبرانی، امام بیہقی سمیت بہت سے دوسرے محدثین نے روایات بیان کی ہیں اور علم حدیث کے ماہرین انہیں صحیح قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا میرے بھائی!اپنے ذہن سے یہ خیال کھرچ دیجیے کہ یہ غلطی امام صاحب سے سرزد ہوئی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ غلطی آپ سے ہوئی ہے جنہوں نے علم و تحقیق کا حق ادا کرنے کی بجائے ادھر ادھر سے چند باتیں اکٹھی کر کے دوسروں کو احمق قرار دینا شروع کر دیا ہے جس کی زد میں نہ جانے علم و فضل کے کیسے کیسے پہاڑ آ رہے ہیں۔ اگر آپ کسی بات کو نہیں سمجھ سکتے تو ازخود نتیجہ نکالنے کی بجائے اس علم و فن کے کیس ماہر سے دریافت کرلیا کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا ابھی ایسے علماء اور دین کے طالب علموں سے خالی نہیں ہوئی جو آپ کے سوالات کا جواب نہ دیں سکیں۔
اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجہ تھی جس کی بناء پر عطاء بن ابی میمونہ کے قدری ہونے باوجود امام بخاری نے اس کی حدیث قبول کی ہے۔ جرح و تعدیل کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عطاء بن ابی میمونہ قدری ہونے کے باوجود سچا، عادل، ضابط اور ثقہ راوی تھا۔ امام ابن حبان، امام نسائی، ابن معین، یعقوب بن سفیان اور ابوزرعہ الرازی نے اسے ثقہ کہا ہے، امام دار قطنی نےکہا کہ اس سے حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں۔ امام ذھبی کہتے ہیں "بڑا سچا انسان اور تابعی تھا"۔
(الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم، دار احیاء التراث الاسلامی جلد 6 ص 337، تہذیب التہذیب للامام ابن حجر العسقلانی جلد 2 ص 362، المغنی فی الضعفاء للذھبی جلد 2 ص 435)
سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہایت سچا اور کھرا آدمی تھا لیکن عقیدے کے ایک مسئلے کو درست طور پر نہیں سمجھ سکا تھا جس کی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں محدثین کے دو گروہ ہو گئے، پہلے گروہ نے اس کے عقیدے کی نادرستگی کی وجہ سے اس کی ساری احادیث قبول کرنے سے انکار کر دیا مثلا ابوحاتم الرازی نے کہا کہ "صالح‌لا یحتج بحدیثۃ"‌ نیک اور صالح‌شخص‌تھا لیکن اس کی بیان کی ہوئی حدیثوں‌سے حجت نہیں‌ پکڑی جائے گی۔ لیکن دوسرے گروہ نے زیادہ باریک بینی سے کام لیا اور دیکھا کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی بد دیانتی نہیں کی، اس کی یادداشت بہترین ہے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کا حدیث سیکھنا بھی معلوم اور ثابت ہے اور اب یہ ان سے ایسی روایت بیان کر رہا ہے جس سے اس کے غلط عقیدے کو کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تو اس کی یہ والی حدیث قبول نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔ چنانچہ بعد میں آنے والے سارے محدثین نے اس بات کو قبول کیا اور پھر علم حدیث میں یہ ایک معروف بات ہو گئی کہ اگر کسی عادل، ضابط، ثقہ، صالح راوی میں عقیدے کی تھوڑی بہت خرابی موجود ہو اور وہ کوئی ایسی روایت بیان کرے جس سے اس کے غلط عقیدے کی ترویج نہ ہوتی ہو تو اس کی روایت قبول کی جائے گی۔ (اس کی تفصیل میں‌جانا یہاں‌ممکن نہیں‌ہے، جیسا کہ چچا عادل سہیل نے کہا ہے کہ اس کی مکمل تفصیل اور شرائط بیان کرنے کے لیے سینکڑوں‌صفحے درکار ہیں) یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی ایک کتاب میں عطاء بن ابی میمونہ کو قدری لکھا ہے لیکن طہارت کے ایک مسئلے سے متعلق اس کی حدیث قبول بھی کی ہے۔ یہ معاملہ کچھ عطاء تک ہی محدود نہیں ہے، ایسے اور بھی راوی ملتے ہیں جن کے بارے میں محدثین کرام یہ تصریح کر دیتے ہیں کہ فلاں معاملے میں فلاں راوی کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ ایسے ہی ایک شخص حسین بن عمران الجھنی کے بارے میں امام بخاری نے خود کہا ہے "لا یتابع علی حدیثہ بالقدر" یعنی "تقدیر کے بارے میں اس کی بیان کی ہوئی بات کی متابعت نہیں کی جائے گی"(تہذیب التہذیب جلد 2 ص 362)۔
نوشاد بھائی کے بیان کیے ہوئے باقی نکات بھی علمی میزان میں کچھ وزن نہیں رکھتے۔ ضرورت محسوس ہوئی تو ان شاء اللہ پھر کسی وقت ان پر بھی بات ہو گی۔
والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ حیدر; 24-11-10 at 08:01 PM. وجہ: ایک حوالے کا اضافہ
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
20 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-11-10), کنعان (20-11-10), ھارون اعظم (20-11-10), یاسر عمران مرزا (20-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), محمدمعیداحمد (27-11-10), مرزا عامر (20-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ارشد کمبوہ (21-11-10), باذوق (07-06-11), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), سحر (31-03-12), شمشاد احمد (22-11-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (24-11-10), عادل سہیل (19-11-10), عبداللہ آدم (19-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 19-11-10, 09:59 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، بھتیجے ، اللہ تعالیٰ علم نافع میں مزید برکت عطا فرمائے ،
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-11-10), کنعان (20-11-10), محمد عاصم (18-12-10), مرزا عامر (20-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (22-11-10), ضِرار Derar (23-11-10), عبداللہ حیدر (19-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 20-11-10, 12:06 PM   #9
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک عطا بن ابی میمونہ کا کیا مقام ہے کیا وہ اسے ثقہ سمجھتے ہیں؟ ۔ دوسری بات مجھے مطعون کرنے سے بہتر ہے کہ ان اکابر علما کو مطعون کیجے جن کی کتابوں کے حوالے میں نے دیئے ہیں اپنے پاس سے کچھ نہیں لکھا ہر بات کا حوالہ ہے اپنا غصہ ان پر نکالیئے جنھوں نے یہ سب کتابوں میں لکھا ہے۔
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), shafresha (20-11-10), مرزا عامر (20-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), تانیہ رحمان ستارہ (20-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (22-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 20-11-10, 02:32 PM   #10
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,380
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نوشاد بھائی۔ آپ نے چاہے اس حوالے سے کافی بحث کی کہ آپکی اس پوسٹ کا مطلب امام بخاری کو غلط قرار دینا نہیں‌بلکہ ان کی ایک انسانی غلطی کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ لیکن میرے خیال سے اتنے بڑی شخصیت کی کسی بات میں غلطی نکالنے کے لیے اس حد تک تحقیق ضروری ہے جس حد تک انہوں نے کی اور جس قدر تقوی اور پرہیز گاری وہ اختیار کرتے تھے انہی جیسا کردار بھی اپنایا جائے۔

اگر آپکا موقف ہے کہ کچھ علما نے اپنی کتابوں میں یہ بیان کیا ہے اور یہ مواد آپکا اپنا نہیں ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ لکھا تو سلمان رشدی نے بھی بہت کچھ ہے اور دیگر کیچڑ اچھالنے والوں‌نے بھی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہر لکھنے والی کی تحریر کو فورم پر چھاپ دیا جائے۔

واللہ علم
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-11-10), کنعان (21-11-10), موجو (06-02-11), محمدمعیداحمد (27-11-10), مرزا عامر (20-11-10), مسٹر شیف (21-11-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), شمشاد احمد (22-11-10), ضِرار Derar (23-11-10), عبداللہ آدم (20-11-10), عبداللہ حیدر (20-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 20-11-10, 05:12 PM   #11
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نوشاد احمد مراسلہ دیکھیں
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک عطا بن ابی میمونہ کا کیا مقام ہے کیا وہ اسے ثقہ سمجھتے ہیں؟ ۔ دوسری بات مجھے مطعون کرنے سے بہتر ہے کہ ان اکابر علما کو مطعون کیجے جن کی کتابوں کے حوالے میں نے دیئے ہیں اپنے پاس سے کچھ نہیں لکھا ہر بات کا حوالہ ہے اپنا غصہ ان پر نکالیئے جنھوں نے یہ سب کتابوں میں لکھا ہے۔
السلام علیکم و رحمۃ‌اللہ و برکاتہ،
میرے بھائی!‌آپ پر طعن کر کے مجھے کچھ ملنے والا نہیں‌ ہے، نہ میں‌ آپ کو شخصی طور پر جانتا ہوں۔ اس لیے آپ کو مطعون کرنے کا میرا کوئی ارادہ پہلے تھا نہ اب ہے۔
اکابر علماء کی کتابوں‌ کے بارے میں‌ ایک سوال میں‌ نے اوپر پوچھا تھا کہ آپ نے یہ حوالے ان علماء کی کتابوں‌کے متعلقہ مقامات کے بغور مطالعہ کے بعد اکٹھے کیے ہیں‌ یا ادھر ادھر سے سن دیکھ کر ایک مراسلہ لکھ دیا ہے؟
یاسر بھائی کے مشورے پر بھی غور کریں۔
والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ حیدر; 20-11-10 at 10:03 PM. وجہ: ایک لفظ کی درستگی
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (20-11-10), کنعان (21-11-10), موجو (06-02-11), محمد عاصم (18-12-10), مسٹر شیف (21-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (21-11-10), حیدر (01-12-10), رضی (25-11-10), شمشاد احمد (22-11-10), عبداللہ آدم (20-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 21-11-10, 12:35 PM   #12
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم
جناب عادل سہیل صاحب نے اسماعیل بن ابان الکوفی کے نام پر یہ کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی ثابت کرے کے یہ وہی اسماعیل بن ابان ہے جس پر جرح ہے اور جس کا نام میں نے (نوشاد نے) لکھا ہے۔اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو میں نے ملا علی قاری کی موضوعات کبیر میں پڑھا تھا ذرا یہ واقعہ دیکھئے۔
امام احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نے مسجد رصافہ میں نماز پڑھی ۔ایک قصہ گو ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا ۔ہم سے احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نے عبد الرزاق عن معمر عن قتادہ کے واسطے انس سے مرفوعا یہ حدیث بیان کی ہے ۔جوشخص لا الہ الا اللہ کہتا ہے اللہ تعالی اس کے ہر کلمے سے ایک پرندہ پیدا فرماتا ہے جس کی چونچ سونے کی اور پر مرجان کے ہوتے ہیں۔پھر اس نے ایک لمبا قصہ بیس ورق کے قریب بیان کیا ۔۔احمد بن حنبل یحیی بن معین کی طرف دیکھنے لگے اور یحیی احمد بن حنبل کی طرف۔یحیی بن معین نے احمد بن حنبل سے دریافت کیا کیا تم نے یہ بیان کی ہے؟امام احمد نے کہا خدا کی قسم میں نے تو یہ ابھی اسی وقت سنی ہے۔جب وہ قصہ گو فارغ ہو چکا اور اپنے انعامات لے چکا تو پھر باقی کا انتظار کرنے بیٹھ گیا ۔یحیی بن معین نے اسے ہاتھ سے اشارہ کیا ادھر آئو وہ انعام کی لالچ میں ان کے پاس آیا۔اس سے یحیی نے دریافت کیا ۔تم نے یہ روایت کس سے بیان کی ہے؟۔اس نے جواب دیا احمد بن حنبل اور یحیی بن معین سے ۔یحیی بن معین نے کہا میں یحیی بن معین ہوں اور یہ احمد بن حنبل ہیں ہم نے تو یہ روایت رسول اللہ کی کسی روایت میں نہیں سنی۔تو نے اگر جھوٹ بولنا تھا تو ہمارے علاوہ کسی اور پر جھوٹ بول لیا ہوتا۔اس نے کہا کیا تم یحیی بن معین ہو؟۔یحیی نے جواب دیاہاں۔وہ بولا میں ہمیشہ سے سنتا آیا تھا کہ یحیی بن معین احمق ہے اور اس وقت اس کی تصدیق ہوگئی ۔یحیی نے کہا تو نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ میں احمق ہوں۔اس نے جواب دیا ۔گویا دنیا میں تمہارے علاوہ کوئی اور یحیی بن معین نہیں اور احمد بن حنبل ہی نہیں ۔میں نے تو سترہ احمد بن حنبل اور یحیی بن معین سے روایت لکھی ہے ۔امام احمد نے اپنی آستین اپنے منہ پر رکھ لی ۔یحیی بن معین سے کہا اسے چھوڑ دو اور وہ کھڑا دونوں کا مذاق اڑاتا رہا۔( حوالہ:۔ موضوعات کبیر صفحہ نمبر 65.66ناشر محمد سعید اینڈ ناشران کتب قرآن محل اردو بازار کراچی)
دیکھیں اب ایک اسماعیل بن ابان کوفی کو بچانے کتنے اسماعیل بن ابان کوفی آتے ہیں۔
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-11-10), فاروق سرورخان (05-12-10), نورالدین (22-11-10), مرزا عامر (21-11-10), ابوسعد (14-01-11), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 22-11-10, 09:12 PM   #13
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
برادران کنعان، شمشاد احمد، ارشد کمبوہ اور چچا جی! جزاکم اللہ خیرا۔ آپ لوگوں کے مراسلوں نے میرا بہت سا بوچھ ہلکا کر دیا ہے اس لیے میں براہ راست نوشاد بھائی کے مراسلات کی طرف آتا ہوں جن سے میں بارہا پوچھ چکا ہوں کہ جن کتابوں کا حوالہ وہ دے رہے ہیں ان کا خود بھی بغور مطالعہ کیا ہے یا ۔ نہیں؟ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس سیدھے سادھے سوال کا جواب دینے میں انہیں کیا چیز مانع ہے۔ بہرحال ، میں دعا کرتا ہوں کہ مراسلہ نمبر ایک میں لکھی ہوئی باتیں انہوں نے کسی متعصب یا جاہل شخص کے پراپیگنڈے کے زیر اثر لکھ دی ہوں کیونکہ دوسری صورت میں وہ لوگ ان کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں کریں گے جنہوں نے علماء کی ان کتب کا بغور گہرا مطالعہ کر رکھا ہے اور شاید قارئین کی اکثریت بھی ایسا ہی سوچنے پر مجبور ہو گی۔ میں اپنی بات کو ایک مثال کے ذریعے واضح کروں گا جس میں نوشاد بھائی کے ایک اور اعتراض کا جواب بھی آ جائے گا ان شاء اللہ۔
نوشاد بھائی نے لکھا ہے:

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نوشاد احمد مراسلہ دیکھیں
۲۔ زینب بنت سلمہ کا بیان ہے کہ جب شام سے حضرت ابو سفیان کی موت کی خبر آئی تو حضرت ام حبیبہ نے تین دن کے بعد سوگ ختم کردیا۔
اس حدیث میں امام بخاری نے ابو سفیان کی موت کی اطلاع شام سے آنا بیان کی ہے حالا نکہ یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے کیوں کہ با اتفاق مورخین ابو سفیان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا تھا ۔اسی لیئے حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔دیکھیئے اس روایت میں راوی سے تحقیق کیئے بغیر روایت کردی کہ ابو سفیان کی موت کی اطلاع شام سے آئی جبکہ ان کا انتقال مدینہ میں ہوا تھا ۔مگر امام بخاری کو یہ معروف و مشہور بات پتہ تک نہ تھی کیوں کہ اگر انھیں پتہ ہوتا کہ ابو سفیان کی موت مدینہ میں ہوئی ہے تو وہ کبھی بھی یہ روایت درج نہ کرتے ۔اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری نے اس قسم کی روایات درج کرنے سے پہلے ذرا بھی تحقیق نہیں کی ورنہ اس قسم کی غلط البیان روایات وہ درج نہ کرتے ۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعتراض درست نہیں‌ہے کیونکہ صحیح البخاری کی اس روایت میں یہ بات سرے سے بیان ہی نہیں ہوئی کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کہاں ہوئی تھی۔ اس میں صرف اس بات کا ذکر ہے کہ ام المؤمنین رملہ بنت ابی سفیان (ام حبیبہ) رضی اللہ عنہا کے پاس ان کے والد کی وفات کی اطلاع شام سے آئی تھی (جہاں اس وقت ان کے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ گورنر کے عہدے پر کام کر رہے تھے اور ان کے دوسرے بہت سے رشتے دار اور عزیز و اقارب بھی وہیں مقیم تھے)۔ البتہ مجھے معلوم نہیں ہو سکا کہ ام المؤمنین اس وقت کس علاقے یا شہر میں تھیں جہاں انہیں شام سے یہ خبر پہنچی تھی۔ نوشاد بھائی کے لکھے ہوئے ترجمے پر غور کرنے سے بھی یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے۔ مزید تسلی کے لیے عرض کرتا ہوں کہ اس حدیث میں اصل لفظ “نعیٰ” استعمال ہوا ہے جس کا معنی “موت کی خبر “ ہے اور ضروری نہیں ہے کہ “نعی” اسی جگہ ہو جہاں مرنے والے نے وفات پائی ہو کیونکہ جب حبشہ میں نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ کو ان کی “نعی” یعنی وفات کی خبر دی۔ ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي اليَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
“جس دن نجاشی کی وفات ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آؓلہ وسلم نے اسی دن ان کی وفات کی خبر سنا دی تھی”
(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب الرجل ینعی الی اھل المیت بنفسہ)
پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مدینہ میں وفات پانے کے معاملے پر امام ابن حجر اور علامہ عینی رحمہا اللہ جیسے شارحین بخاری بھی متفق نہیں ہیں۔ نوشاد بھائی نے ان ائمہ کی کتب سے صرف وہ بات نقل کی ہے جس سے امام بخاری کو غلط ثابت کیا جا سکے لیکن علامہ عینی کی عمدۃ القاری میں شاید انہوں نے وہ بحث نہیں پڑھی جس میں انہوں نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مدینہ میں وفات پانے کے دعوے کو بلاثبوت کہتے ہوئے لکھا ہے:
وَفِي قَول هَذَا الْقَائِل: أَبُو سُفْيَان مَاتَ بِالْمَدِينَةِ بِلَا خلاف، نظر لِأَنَّهُ مُجَرّد دَعْوَى فَافْهَم
“جس کسی نے یہ کہا ہے کہ ابو سفیان کے مدینہ میں وفات پانے میں کوئی اختلاف نہیں اس کی بات درست نہیں ہے۔ خوب سمجھ لو کہ یہ محض ایک دعوی ہے (جس کا ثبوت کچھ نہیں)”
نوشاد بھائی کو المکتبۃ الشاملۃ پر شک رہتا ہے اس لیے عمدۃ القاری کے اس اقتباس والے صفحے کا سکینڈ امیج بھی دیکھ لیں اور سرخ‌رنگ سے انڈر لائن کیے ہوئے جملوں‌پر غور کریں۔

والسلام علیکم
Attached Thumbnails
umdah-qari.jpg  

Last edited by عبداللہ حیدر; 23-11-10 at 01:29 AM. وجہ: املا کی درستگی
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-11-10), کنعان (23-11-10), محمد عاصم (18-12-10), ایکسٹو (07-12-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (23-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), ضِرار Derar (23-11-10), عبداللہ آدم (22-11-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 23-11-10, 07:20 AM   #14
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک سوال اس میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ام حبیبہ اس وقت کہاں تھیں جب ابو سفیان کا انتقال ہوا اگر مدینہ میں تھیں تو حیرت ہے کہ انھیں مدینہ میں رہ کر مدینہ میں ہی ابو سفیان کے انتقال کا پتہ ہی نہیں چلا اور انھیں شام سے اطلاع دینی پڑی۔آپ نے بتا یا نہیں کہ اگر مدینہ میں ابو سفیان کا انتقال نہیں ہوا تو کہاں ہوا تھا ۔ اور آپ کے خیال میں کیا حافظ ابن حجر عسقلانی نے یہ غلط لکھا ہے کہ با اتفاق مورخین ابو سفیان کا انتقال مدینہ میں ہوا تھا؟
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (09-12-10), غلام خان (07-12-10)
پرانا 23-11-10, 05:51 PM   #15
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,706
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 413 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب عبداللہ حیدر صاحب کی ’’ تحقیق ‘‘ سے یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ
۱:۔ کیا جناب عبداللہ حیدرصاحب کے خیال میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں یہ بات غلط لکھی ہے کہ ابو سفیان کا انتقال با اتفاق مورخین مدینہ میں ہوا تھا؟

۲:۔ اگر حافظ ابن حجر عسقلانی کی یہ بات غلط ہے تو پھر جناب عبد اللہ حیدر کی ’’تحقیق‘‘ کے مطابق ابو سفیان کا انتقال کہاں ہوا تھا؟اور جب ام حبیبہ کو ابو سفیان کے انتقال کی خبر ملی تو وہ کہاں تھیں؟

۳:۔ایک سوال پہلے کا بھی ہے عطا بن ابی میمونہ کے بارے میں کہ یہ امام بخاری کے نزدیک کیسا راوی تھا؟اور یہ قدریہ فرقہ کیا تھا اس کے عقائد کیا تھے؟

۴:۔ایک کتاب ہے الاکمال فی اسما الرجال تالیف کی ہے صاحب مشکوۃ نے یعنی علامہ ولی الدین ابو محمد بن عبداللہ الخطیب نے اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے مولانا اشتیاق احمد اور مولانا معراج الحق صاحب نے ناشر ہیں میر محمد کتب خانہ علم و ادب آرام باغ کراچی۔اس کتاب میںصاحب مشکوۃ نے ان صحابیوں ،صحابیات ،اور تابعین کے حالات درج کیئے ہیں جن کا ذکر یا روایت مشکوۃ میں موجود ہے۔
اس کتاب کے صفحہ نمبر ۴۷ پر صاحب مشکوۃ ابو سفیان بن حرب کے ذیل میں لکھتے ہیں
ابو سفیان بن حرب:۔یہ ابو سفیان صخر بن حرب بنی امیہ میں سے قرشی ہیں۔حضرت معاویہ کے والد ہیں۔عام الفیل سے دس برس پہلے پیدا ہوئے ۔اسلام سے پہلے قریش کے معزز سرداروں میں سمجھے جاتے تھے۔فتح مکہ کے دن ایمان لائے۔غزئوہ حنین میں انھوں نے شرکت کی ۔۳۴ ھجری میں مدینہ میں وفات پائی جنت البقیع میں دفن کیئے گئے ۔
اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۸ پر یہی صاحب مشکوۃ لکھتے ہیں
ام حبیبہ:۔ یہ ام حبیبہ ابو سفیان بن صخر بن حرب کی بیٹی ہیں۔ان کی وفات مدینہ میں ۴۴ ھجری میں ہوئی۔
۵:۔ جناب عبد اللہ صاحب کے خیال میں صاحب مشکوۃ کا یہ لکھنا بھی کیا ایک ایسا دعوی ہے جس کا ثبوت نہیں ہے؟
نوشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-11-10), مرزا عامر (23-11-10), ابوسعد (14-01-11), ارشد کمبوہ (25-11-10), حیدر (01-12-10), شمشاد احمد (24-11-10), غلام خان (07-12-10)
جواب

Tags
کتابوں, گمان, پاک, قید, قیس, لوگ, مکمل, موت, محبت, معلوم, اللہ, انسان, اسلام, جلد, حکم, حدیث, خلاف, خبر, خدا, دعا, عقل, صحابہ, صحابی, صدقہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:08 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger