|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2366
|
||||
| 14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-11-11), skjatala (03-12-11), فیصل ناصر (10-11-11), فاروق سرورخان (10-11-11), کنعان (10-11-11), ھارون اعظم (11-11-11), مرزا عامر (12-11-11), ابن آدم (23-01-12), احمد نذیر (30-01-12), رفیق طاہر (22-01-12), راجہ اکرام (10-11-11), شکاری (13-11-11), شمشاد احمد (10-11-11), عبداللہ آدم (04-12-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
میرا خیال ہے یہاں اسی حدیث پر بات چلنے دیں جس کے لیے یہ تھریڈ کھولا گیا ہے ورنہ یہاں بھی چوں چوں کا مربہ بن جائے گا۔
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (10-11-11), فیصل ناصر (10-11-11), فاروق سرورخان (10-11-11), کنعان (10-11-11), ابن آدم (11-11-11), راجہ اکرام (10-11-11) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
برادر محترم،
میں صرف دو باتیں کہوںگا۔ 1۔ اللہ تعالی نے قرآں حکیم کی کوئی آیت کبھی منسوخ یا تبدیل نہیںکی۔ اس کا کوئی ثبوت قرآن حکیم میں موجود نہیںہے کہ "جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا" ا س میںسے کچھ بھی اللہ تعالی نے منسوخ کیا ۔ کیا منسوخہوا ؟؟؟ جو کہ دوسرے نبیوںپر نازل ہوا اور شیطان نے اس میں"القا" کیا اور تلاوت میں خلل ڈالا ، اس کا ثبوت قران حکیم میںموجود ہے۔ 2۔ قرآن حکیم کے متن کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہہ کو دو دو افراد نے ہر ہر ایت پر گواہی دی ۔ لہذا یہ سارے منسوبات ، حوالہ جات اور روایات کے اسم الرجال، کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن حکیم کسی بندے کا کلام نہیں کہ وہ کہہ کر اس کو تبدیل کرتا رہے ۔ یہ ایسی ذات کا کلام نہیںجو اپنی سوچ خود درست کرتی رہتی ہے ؟؟؟ بلکہ جو لوگ خود قرآن پڑھتے ہیں وہ جلد یا بدیر یہ جان لیتے ہیںکہ یہ اس ذات کا کلام ہے جو پڑھنے والے کی سوچ تک سے واقف ہے ۔ لہذا یہ کہنا کہ یہ آیت پہلے کچھ اور تھی اور بعد میں کچھ اور کر دی گئی ۔ یہ صرف وہ کہ سکتے ہیں جو اس بات سے واقف نا ہوں کہ اللہ تعالی کے پاس وقت گذرتا یا چلتا نہیںہے ۔ یہ بات آپ کی سمجھ میںنہیںآئے گی لیکن پھر بھی لکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالی کے پاس سوچوںکا ارتقاء نہیں ہوتا وہ ازل سے ابد تک ہے۔قرآن کا حوالہ 22:52 وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ مولانا شبیر احمد : اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر (ایسا ہوتا رہا) کہ جب اس نے تلاوت کی تو خلل اندز ہوا شیطان اُس کی تلاوت میں۔ پھر مٹا دیتا رہا اللہ اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا رہا پھر پختہ کردیتا رہا اللہ اپنی آیات کو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ احمد رضا خان : اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے، محمود الحسن : اور جو رسول بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے یا نبی سو جب لگا خیال باندھنے شیطان نے ملا دیا اُسکے خیال میں پھر اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کا ملایا ہوا پھر پکی کر دیتا ہے اپنی باتیں اور اللہ سب خبر رکھتا ہے حکمتوں والا تنسیخ صرف اس بات کی ہوئی جو شیطان نے ملایا۔۔۔۔ یہ بات بہت ہی واضحکرکے اللہ تعالی نے بیان کردی ہے ۔ اب اللہ تعالی کی بات مانیں یا پھر یہ من گھڑت قسم کے ریفرنس مانیں۔ اگر بالفرضمحال آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ اس آیت کی تنسیخاللہ تعالی نے خود کی تو اس کے لئے اصول یہی ہے کہ اس میںشیطان کا القا ہے ۔ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، اور {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى میں جو فرق ہے وہ ہے العصر اور الوسطی کا ۔۔۔۔ کیا عصر کی نماز اللہ تعالی کا حکم ہے یا پھر شیطان کا ڈالا ہوا خلل؟؟؟ قرآن کی کسوٹی سے پرکھئے تو صلاۃ العصر اللہ تعالی کا حکم ہے ناکہ شیطان کا خلل۔ کیا امت مسلمہ شیطان کے خلل کی وجہ سے صلاۃ العصر پڑھتی آرہی ہے ؟؟؟؟ ایسا کیوںہوتا ہے ؟ 22:53 لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ یہ اس لیے کرتا ہے کہ بنادے اللہ شیطان کے ڈالے ہُوئے خلل کو آزمائش ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور سخت ہیں جن کے دل اور بے شک یہ ظالم مخالفت میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔ کیا قرآن حکیم اللہ تعالی کا القا ہے یا شیطان کا القاء شد ہ میٹیریل؟ 27:6 وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ اور بیشک آپ کو (یہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کی طرف سے سکھایا جا رہا ہے اگر قرآن حکیم اللہ تعالی کا القا ہے تو پھر اس میں منسوخی کیسے ؟؟؟؟ منسوخی تو شیطان کے القاء میں کی گئی ہے ، اللہ تعالی کی طرف سے؟؟؟ کیا مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے یہ کتاب القا کی گئی ہے ؟ وَمَا كُنتَ تَرْجُواْ أَن يُلْقَى إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًا لِّلْكَافِرِينَ اور تم (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے اُمتِ محمدی کو خطاب ہے) اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تم پر (یہ) کتاب اتاری جائے گی مگر (یہ) تمہارے رب کی رحمت (سے اتری) ہے، پس تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ بننا اللہ تعالی کی پناہ مانگئے ۔۔۔۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پہلے۔ یہ کتاب خود اپنی تفہیم و تفسیر کرتی ہے ۔۔۔ 16:98 فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 10-11-11 at 09:49 AM. |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر :: الصلاة الوسطی صلاة الظهر :: امام مالک نے آپ کے بیان کی تردید کر دی !!! 9 - کتاب صلوة الجماعة : (33) نماز وسطی کا بیان حدثني عن مالک عن داود بن الحصين عن ابن يربوع المخزومي أنه قال سمعت زيد بن ثابت يقول الصلاة الوسطی صلاة الظهر موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 287 عبدالرحمن بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا زید بن ثابت سے کہتے تھے صلوة الوسطی ظہر کی نماز ہے ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی بن ابی طالب اور عبدا اللہ بن عباس سے وہ دونوں صاحب فرماتے تھے کہ صلوة وسطی صبح کی نماز ہے ۔ Yahya related to me from Malik from Da'ud ibn al-Husayn that Ibn Yarbu al-Makhzumi said, "I heard Zayd ibn Thabit say, 'The middle prayer is the prayer of dhuhr.' "
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 09:28 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (12-11-11), مرزا عامر (10-11-11) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، اور {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى فرق یہ ہے !!! (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ : 238 ) حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر : الصلاة الوسطی کون سی ہے اور صلاة العصر کون سی ہے ؟؟؟ 9 - کتاب صلوة الجماعة : (33) نماز وسطی کا بیان عن أبي يونس مولی عاشة أم المؤمنين أنه قال أمرتني عاشة أن أکتب لها مصحفا ثم قالت إذا بلغت هذه الآية فآذني حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وقوموا لله قانتين فلما بلغتها آذنتها فأملت علي حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر وقوموا لله قانتين قالت عاشة سمعتها من رسول الله صلی الله عليه وسلم موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 286 عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ کلام اللہ لکھتا تھا حضرت ام المومنین حفصہ کے واسطے تو کہا انہوں نے جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ : 238 ) تو مجھے اطلاع کرنا پس جب پہنچا اس آیت پر خبر کی میں نے ان کو تو لکھوایا انہوں نے اس طرح حافظوا علی الصلوات والصلوة الوسطی وصلوة العصر وقومو اللہ قانتین یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور بیچ والی نماز پر اور عصر کی نماز پر اور کھڑے رہو اللہ کے سامنے چپ اور خاموش ۔ Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from al-Qaqa ibn Hakim that Abu Yunus, the mawla of A'isha, umm al-muminin said, ''A'isha ordered me to write out a Qur'an for her. She said, 'When you reach this ayat, let me know, "Guard the prayers carefully and the middle prayer and stand obedient to Allah." ' When I reached it I told her, and she dictated to me, 'Guard the prayers carefully and the middle prayer and the asr prayer and stand obedient to Allah.' A'isha said, 'I heard it from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace.' " __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 07:42 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نبی ﷺ کی بیوی کو قرآن کا پتہ نہیں تھا انہوں نے حفظ بھی نہیں کیا باقی لوگ زیادہ بڑے عالم تھے ؟؟؟ کیونکہ بہرحال وہ مصحف کسی دوسرے کے لیے نہیں خود ان کے اپنے لیے تھا۔ اپنے لیے الگ قرآن ہمارے لیے الگ قرآن !!! ابوبکر صدیق ؓ نے "جمع قرآن" کا کام کس کے قرآن سے نقل کر کے کیا تھا ؟؟؟ 1 حفصہ بنت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہا ؟؟؟ 2 عائشہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہا ؟؟؟ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 07:07 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
آپ ہی بتا دیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس کے مصحف سے نقل کیا تھا مجھے تو ایسی کسی بات کا علم نہیں۔
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 10:20 PM. |
|
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (11-11-11) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہترین یادداشت کا اعلی نمونہ :: الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر :: الصلاة الوسطی صلاة الظهر :: امام مالک نے آپ کے بیان کی تردید کر دی !!! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an). "The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)." 46 - فضائل قرآن : (82) قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے رسول اللہ کا اس کے علاوہ اور کچھ نہ چھوڑنے یعنی قرآن ترکہ رسالت مآب ہونے کا بیان حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع قال دخلت أنا وشداد بن معقل علی ابن عباس رضي الله عنهما فقال له شداد بن معقل أترک النبي صلی الله عليه وسلم من شيئ قال ما ترک إلا ما بين الدفتين قال ودخلنا علی محمد بن الحنفية فسألناه فقال ما ترک إلا ما بين الدفتين صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 11 حدیث مرفوع مکررات 1 قتیبہ بن سعید، سفیان کہتے ہیں کہ عبدالعزیز کا بیان ہے کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس کے پاس گئے ان سے شداد بن معقل نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لکھی ہوئی چیزیں بھی چھوڑی ہیں وہ بولے جلد قرآن کے درمیان جو کلام الہی ہے صرف وہی چھوڑا پھر ہم محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے اس کے علاوہ آپ نے اور کچھ بھی نہیں چھوڑا Narrated 'Abdul 'Aziz bin Rufai': Shaddad bin Ma'qil and I entered upon Ibn 'Abbas. Shaddad bin Ma'qil asked him, "Did the Prophet leave anything (besides the Qur'an)?" He replied. "He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an)." Then we visited Muhammad bin Al-Hanafiyya and asked him (the same question). He replied, "The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)." __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مراسلہ نمبر 3 کو غیر جانب داری سے ٹھنڈے دل اور دماغ سے سوچا جائے تو کسی بھی قسم کی مزید بحث کی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، ان شاء اللہ اگلے مہینے کے آغاز میں جنات کے بارے ایک خبر پر مشتمل جس حدیث شریف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور دیگر جن احادیث مبارکہ پر طنز ، طعن و تشنیع کا گند اچھالا جا رہا ہے ان کے بارے میں الگ مراسلات کا آغاز کرنے کا ارادہ ہے ، ایک بات یاد رکھنا بھتیجے مربہ چُوں چُوں کا ہو ، یا ہُوں ہُوں کا مربہ ہی ہوتا ہے ، حکیموں کا کہنا ہے کہ مربہ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے ، اس قول کی سند مت پوچھنا ![]() بس ہم اس کو صحیح مانتے ہیں کیونکہ نفس کی تسکین والا معاملہ ہے لہذا تم بھی مان لو ، اگر نہیں مانتے تو مربہ مجھے بھیج دو ، اور تُم سندوں میں دماغ کھپاتے رہو ، ہمیں کیا پڑی ہے کہ سلیم صاحب کی عقل آزمإئیں یا شمیم صاحب کی یا نسیم صاحب کی ، ہماری اپنی عقل بہت کافی سے زیادہ کافی ہے جس حدیث کو چاہیں مانیں گے اور جس کو چاہیں نہیں مانیں گے ، ہم نے راویوں ، اور روایات کے بارے میں وہ علم بھی حاصل کر رکھا ہے جو تُمہارے پاس تو کیا تُمہارے نام نہاد اماموں کے پاس بھی نہیں تھا ، یعنی اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی حدیث کو سمجھنا اور پھر اس سمجھ کے مطابق اس حدیث کو حدیث ماننا یا جھوٹ قرار دے کر اس کی تضحیک کرنا ، جاو بابا اپنی سندیں مربے میں ڈال کر کھاو ، ایک تولہ مربہ ھوائے نفس اور ایک تولہ مربہ عقل مثل شُتر بے مہار میں ایک سند صبح نہار منہُ اور دو دو تولہ مربہ میںدو دو سندیں صلاۃ الوسطیٰ اور صلاۃ العتمہ کے بعد کھاو ، اللہ کے دین کا دشمن جلد ہی حدیث کی پرکھ سکھا دے گا ۔ دیکھو بھتیجے لوگ تو پتہ نہیں کیا کیا خرچ کر کے اس پرکھ کے اھل بنتے اور بناتے ہیں ہم نے تمہیں مفت ہی نسخہ بتا دیا ، بس اپنے تک ہی رکھنا ، اگر کوٕئی ہم خیال نظر إٓئے تو چپکے سے بتا دینا ، لیکن دین کی بات کرنا ہو تو خاص پردے میں ہو کر کرنا کسی حدیث سے محبت کرنے والے کو اندرونی سودے بازی کی خبر نہ ہونے پإئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مراسلہ رقم 3 میں بیان فلسفوں کا جواب ::::::: قران میں ناسخ اور منسوخ ::::::: میں کافی تفصیل سے دیا جا چکا ہے ، جس بھإی کو غیر جانبداری سے ، قران کریم کی روشنی میں ان فلسفوں کی حقیقت جاننا ہو اس تھریڈ کا بغور مطالعہ کرے ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (11-11-11), کنعان (11-11-11), مرزا عامر (11-11-11), ابن آدم (11-11-11), احمد نذیر (11-11-11), شکاری (13-11-11), عبداللہ آدم (04-12-11), عبداللہ حیدر (11-11-11) |
| کمائي نے عادل سہیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 11-11-11 | rana ammar mazhar | دو دو سندیں صلاۃ الوسطیٰ اور صلاۃ العتمہ کے بعد کھاو | 5 |
| 11-11-11 | کنعان | بس ہم اس کو صحیح مانتے ہیں کیونکہ نفس کی تسکین والا معاملہ ہے | 10 |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
صلاۃ الوسطیٰ کون سی ہے ؟؟؟ اور زید بن ثابت اور عائشہ نے کہا کہ صلوة وسطی نماز ظہر ہے اور کہا ابن عباس نے اور ابن عمر نے کہا نماز وسطی صبح کی نماز ہے۔ 2 - نماز کا بیان : (297) عصر کی نماز وسطی ہونا حدثنا محمود بن غيلان حدثنا أبو داود الطيالسي وأبو النضر عن محمد بن طلحة بن مصرف عن زبيد عن مرة الهمداني عن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم صلاة الوسطی صلاة العصر قال أبو عيسی هذا حديث حسن صحيح قال وفي الباب عن علي وعبد الله بن مسعود وزيد بن ثابت وعاشة وحفصة وأبي هريرة وأبي هاشم بن عتبة قال أبو عيسی قال محمد قال علي بن عبد الله حديث الحسن عن سمرة بن جندب حديث صحيح وقد سمع منه قال أبو عيسی حديث سمرة في صلاة الوسطی حديث حسن وهو قول أکثر العلما من أصحاب النبي صلی الله عليه وسلم وغيرهم و قال زيد بن ثابت وعاشة صلاة الوسطی صلاة الظهر و قال ابن عباس وابن عمر صلاة الوسطی صلاة الصبح جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 174 حدیث مرفوع مکررات 5 محمود بن غیلان، ابوداؤد طیالیسی، ابونضر، محمد بن طلحہ بن مصرف، زبید، مرہ ہمدانی، عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صلوة وسطی عصر کی نماز ہے امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے اس باب میں حضرت علی عائشہ حفصہ ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ سے بھی روایات مذکور ہیں امام ابوعیسی ترمذی نے کہا کہ محمد بن اسماعیل بخاری نے فرمایا کہ علی بن عبداللہ نے کہا حسن کی سمرہ سے مروی حدیث حسن ہے اور انہوں نے ان سے سنا ہے امام ابوعیسی ترمذی نے کہا کہ صلوة وسطی کے بارے میں حدیث سمرہ حسن ہے اور یہ صحابہ کرام میں سے اکثر علماء کا قول ہے اور زید بن ثابت اور عائشہ نے کہا کہ صلوة وسطی نماز ظہر ہے اور کہا ابن عباس نے اور ابن عمر نے کہا نماز وسطی صبح کی نماز ہے۔ __________________ كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن" |
|
|
|
|
|
#15 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
وعدہ جو وفا نہ ہو سکا !!! |
||
|
|
| rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (11-11-11) |
![]() |
| Tags |
| .net, php, فورم, فرض, کتابوں, قرآنی, لوگ, ممکن, مجید, آج, اللہ, انسان, اسلام, بہترین, بھائی, جھوٹ, حدیث, حسن, خلاف, زندگی, شخص, عیسیٰ, علاج, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|