واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


ایک حدیث کے بارے تحقیق

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-11-11, 02:32 AM   #1
ایک حدیث کے بارے تحقیق
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 10-11-11, 02:32 AM

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
قرآن مجید میں ناسخ اور منسوخ کے حوالے سے ایک حدیث پچھلے دنوں فورم پر پیش کی گئی تھی اور عقلی دلائل سے اسے غلط قرار دیا گیا تھا۔ اس حدیث میں ذکر ہے کہ سورۃ البقرۃ کی آیت حافظوا علی الصلوات لکھواتے ہوئے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس میں و صلاۃ العصر کے الفاظ بھی لکھوائے تھے جو آج قرآن مجید میں موجود نہیں ہیں۔ معترض اسے حدیث کی قرآن دشمنی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ رائے علمی میزان میں کوئی وقعت نہیں رکھتی کیونکہ امام مسلم نے اس حدیث کے بعد جو اگلی حدیث بیان کی ہے وہ کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں رہنے دیتی ۔ ملاحظہ کیجیے:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللهُ، فَنَزَلَتْ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى (صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب الدلیل لمن قال الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر)
"البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (پہلے پہل) یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی "حافظوا علی الصلوات و صلاۃ العصر"۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا ہم نے اسے (ایسے ہی) پڑھا۔ اس کے بعد اللہ نے اسے منسوخ فرما دیا پھر یہ اس طرح نازل ہوئی "حافظوا علی الصلوات و الصلاۃ الوسطی"

یہ حدیث صحیح مسلم میں بالکل اس حدیث کے بعد ذکر ہوئی ہے جس کا حوالہ معترض نے دیا ہے لیکن اللہ ہی بہتر جانتا ہے کس وجہ سے انہوں نے اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت اپنی جگہ درست ہے۔اس میں بیان ہونے والی بات کا تعلق نسخ سے پہلے کا ہے۔ اپنے مصحف میں منسوخ الفاظ لکھوانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں اس نسخ کا علم نہ ہو سکا ہو یا پھر انہوں نے بطور تفسیر یہ الفاظ لکھوا دیے ہوں کیونکہ بہرحال وہ مصحف کسی دوسرے کے لیے نہیں خود ان کے اپنے لیے تھا۔ آیات میں اس قسم کی تبدیلی خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تھی جس کا ذکر سورۃ النحل آیت 101 میں موجود ہے:

وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مُفْتَرٍ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (سورۃ النحل آیت 101)
" اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتے" آن لائن حوالہ

لہٰذا یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے "خلاف قرآن" کہا جا سکے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے نازل کردہ کلام میں کوئی تبدیلی فرمائیں تو اسے تحریف نہیں کہا جا سکتا۔ تحریف تو اس چیز کا نام ہے کہ کوئی دوسرا بعد میں اسے بدل دے جو ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ جل جلالہ نے لے رکھا ہے۔

معترضین محض اس وجہ سے اس حدیث پر طعن کرتے ہیں کہ وہ ان کی محدود قرآن فہمی میں نہیں سماتی اور ان کے نزدیک جو چیز ان کے فہم سے بالاتر ہے وہ درست نہیں ہے۔ اپنے فہم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے وہ ٹھوس حقائق اور مضبوط تاریخی دلائل کے سامنے ایسی تخیلاتی پروازیں بھرتے ہیں کہ خود عقل حیران رہ جائے۔

اوپر جو حدیث میں نے بیان کی ہے اس میں واضح طور پر ذکر ہے کہ "و صلاۃ العصر" کے الفاظ پہلے نازل ہوئے تھے لیکن پھر منسوخ کر دیے گے۔ اس طرح کے نسخ کا قرآنی ثبوت بھی اوپر دے دیا گیا ہے جس کے بعد کسی دوسرے گواہ کی ضرورت نہیں رہتی لیکن مزید تسلی کے لیے ہم سب سے پہلے صحابہ کی گواہی بیان کرتے ہیں جن کے سامنے قرآن نازل ہوا ۔ اس کی ایک ایک آیت سے وہ نہ صرف واقف تھے بلکہ ان میں ایسےبلند مرتبہ مفسر بھی پائے جاتے تھے جن سے قرآن سیکھنے کی ہدایت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ صحابہ کرام میں اس آیت میں "و صلاۃ العصر" کے الفاظ کے نزول اور ان کے نسخ کے گواہ یہ ہیں جن کی گواہی صحیح یا حسن سند کے ساتھ بعد والوں کو پہنچی۔

حفصہ بنت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ
عائشہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
عبد الرحمٰن بن صخر رضی اللہ عنہ

بطور مثال چند اسناد دیکھیے جو ان صحابہ تک پہنچتی ہیں۔

ام المومنین حفصہ بن عمر بن الخطاب تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ حفصہ -عمرو بن نافع -زید بن اسلم -ھشام بن سعد -لیث بن سعد -عبداللہ بن صالح -مطلب بن شعب -قاسم بن اصیغ -عبدالوارث بن سفیان -یوسف بن عبداللہ (اسے امام ابن عبدالبر نے "التمھید میں نقل کیا ہے)
2۔ حفصہ -خالد بن زید -عبداللہ بن مسعود -علی بن ابی طالب -حسین بن مسعود (شرح السنہ)
3۔ حفصہ -نافع -عبیداللہ بن عمر -حماد بن زید -محمد بن ابی بکر -اسماعیل بن اسحاق -یوسف بن عبداللہ
4۔ عبیداللہ بن عمر -حماد بن سلمہ -حجاج بن متھال -مثنی بن ابراھیم –محمد بن جریر
5۔ عمرو بن نافع۔ محمد بن علی۔ محمد بن اسحاق۔ احمد بن خالد۔ عبد الرحمان بن عمرو۔ محمد بن یعقوب۔ محمد بن عبداللہ۔ احمد بن الحسین
6۔نافع۔ عبدالرحمٰن بن عبد۔ سلیمان بن بلال۔ عبدالحمید بن عید۔ اسماعیل بن عبداللہ۔ اسماعیل بن اسحاق۔ عبداللہ بن سلیمان
7۔ زید بن اسلم۔ سعید بی ابی ھلال۔ خالد بن یزید۔ لیث بن سعد۔ عبداللہ بن عید۔ محمد بن عبداللہ۔ محمد بن جریر
8۔ زید بن اسلام ۔ سعید بی ابی ھلال۔ خالد بن یزید۔ لیث بن سعد۔ شیعب بن اللیث۔ محمد بن عبداللہ۔ محمد بن جریر
9۔ عمرو بن نافع۔ محمد بن علی۔ محمد بن اسحاق۔ احمد بن خالد۔ محمد بن یحیی۔ عبداللہ بن سلیمان
10۔ عمرو بن نافع۔ محمد بن علی۔ محمد بن اسحاق۔ ابراھیم بن سعد۔ یعقوب بن ابراھیم۔ زھیر بن حرب۔ احمد بن علی
11۔ نافع۔ عبیداللہ بن عمر۔ حماد بن زید۔ محمد بن الفضل۔ محمد بن اسحاق۔ محمد بن یعقوب۔ محمد بن عبداللہ۔ احمد بن الحسین
12۔ عمرو بن نافع۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تک پہچنے والی اسناد:
1۔حسن بن یسار۔ قتادہ بن دعامہ۔ سعید بن یشیر۔ ایان بن یزید۔ مسلم بن ابراھیم۔ محمد بن اسحاق۔ محمد بن ھارون
2۔ حسن بن یسار۔ قتادہ بن دعامہ۔ ایان بن یزید۔ یھز بن اسد۔ احمد بن محمد
3۔ حسن بن یسار۔ قتادہ بن دعامہ۔ عفان بن مسلم، احمد بن محمد

براء بن عازب رضی اللہ عنہ تک پہچنے والی اسناد:
1۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ یحیی بن آدم۔ احمد بن محمد
2۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ محمد بن سابق۔ جعفر بن محمد۔ محمد بن جعفر
3۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ محمد بن فضیل۔ محمد بن یحیی۔ محمد بن اسحاق
4۔ شقیق بن عقبہ۔ فضیل بن مرزوق۔ یحیی بی ابی بکیر۔ محمد بن اسحاق۔ محمد بن ھارون

عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ عبد الرحمٰن بن مھدی۔ احمد بن محمد۔ محمد بن اسماعیل
2۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ عبداللہ بن وھب۔ یونس بن عبدالاعلی۔ یعقوب بن اسحاق
3۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ عبداللہ بن وھب۔ یونس بن عبدالاعلی۔احمد بن محمد
4۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ احمد بن عمرو۔ عبداللہ بن سلیمان
5۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکم۔ زید بن اسلم۔ معن بن عیسی۔ اسحاق بن موسیٰ۔ محمد بن عیسی۔
6۔ ابویونس۔ قعقاع بن حمقا۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ قتیبہ بن سعید۔ احمد بن شعیب
7۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکیم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس
8۔ ابویونس۔ قعقاع بن حکیم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ یحیی بن یحیی۔ علی بن حسن۔ حسین بن علی۔ محمد بن عبداللہ۔ احمد بن الحسین
9۔ خالد بن زید۔ عبداللہ بن مسعود۔ علی بن ابی طالب۔ حسین بن مسعود
10۔ ابو یونس۔ قعقاع بن حکیم۔ زید بن اسلم۔ مالک بن انس۔ محمد بن ادریس

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ عبداللہ بن عباس۔ ھییرہ بن یریم۔ عمرو بن عبداللہ۔ شعبہ بن الحجاج۔ وھب بن جریر۔ ابراھیم بن مرزوق۔ محمد بن یعقوب۔ محمد بن موسی۔ احمد بن الحسین۔ (حدیث حسن)

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تک پہنچنے والی اسناد:
1۔ عبیدہ بن عمرو۔ محمد بن سیرین۔ ھشام بن حسان۔ محمد بن عبداللہ۔ محمد بن سلیمان

عبدالرحمٰن بن صخرتک پہنچنے والی اسناد
1۔ خالد بن زید۔ عبداللہ بن مسعود۔ علی بن ابی طالب۔ حسین بن مسعود

یہ کل 32 مختلف اسناد ہوئیں۔ ان کے راویوں کی ترتیب دیکھیے، صحابہ کے زمانے سے لے کر آخر تک ہر زمانے میں ایسے لوگ اس حدیث کو بیان کرتے رہے ہیں جن کی سچائی، دیانت اور بہترین یادداشت کی گواہی علم الرجال کی کتابوں میں ثبت ہے۔

کوئی سلیم العقل انسان یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا کہ مختلف علاقوں میں دسیوں کی تعداد میں نسلًا بعد نسل ایسا لوگ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے حدیث کے نام پر یہ جھوٹ پھیلایا لیکن ان کے آس پاس رہنے والے انہیں سچائی اور دیانت کا چلتا پھرتا نمونہ اور دین کا امام سمجھتے رہے۔ ایسی مکاری ایک دو افراد محدود وقت کے لیے کر سکتے ہیں لیکن جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ دسیوں اور سینکڑوں لوگ یہ کام ساری زندگی انجام دے سکتے ہیں وہ درحقیقت شک کا مریض ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں۔

ان میں بہت سی اسناد میں امام مالک، امام محمد بن ادریس الشافعی اور امام احمد بن حنبل سمیت دوسری کئی ایسی ہستیاں ہیں جن کو جھوٹا سمجھ لیا جائے تو دین موم کی ناک بن کر رہ جائے گا جسے ہر کوئی اپنے فہم اور اپنی خود ساختہ قرآن فہمی کے مطابق موڑ سکے گا جس کی بہت سے مثالیں اسی فورم پر مل جاتی ہیں۔

نزول عیسیٰ علیہ السلام کا انکار کرتے وقت معترضین دلیل پیش کرتے ہیں کہ حدیث کی سب سے پہلے لکھی جانے والی کتاب موطا امام مالک میں اس کا ذکر نہیں ملتا اس لیے ہم اسے نہیں مانتے لیکن عجیب بات ہے کہ مذکورہ بالا حدیث امام مالک نے نہ صرف موطا میں نقل کی ہے بلکہ ایسی بہترین سند کے ساتھ ذکر کی ہے کہ ان کے اور ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے درمیان صرف دو راوی ہیں۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان احادیث کو کس کس امام نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے۔
1۔ امام ابن عبدالبر اپنی کتاب "التمھید" میں۔ امام صاحب قرطبہ اندلس کے رہنے والے تھے۔
2۔ امام بغوی نے اپنی کتاب "شرح السنۃ میں۔ امام صاحب مدائن خراسان کے رہنے والے تھے۔
3۔ ابوجعفر الطبری۔ کتاب جامع البیان ۔ طبرستان میں پیدا ہوئے بغداد میں زندگی بسر کی۔
4۔ امام ابوبکر بن ابی داؤد السجستانی۔ مکہ، مدینہ، کوفہ ، بغداداور شام وغیرہ میں زندگی کا ایک حصہ گزارا۔
5۔ امام النسائی۔ کتاب سنن الکبری۔ حجاز، مصر، شام
6۔ امام ابویعلی ۔ کتاب مسند ابی یعلی۔ موصل کے رہنے والے تھے۔
7۔ امام مالک بن انس۔ کتاب موطا مام مالک۔ ساری زندگی مدینہ منورہ میں بسر کی۔
8۔ امام مسلم بن الحجاج۔ کتاب صحیح مسلم۔ نیشابور کے رہنے والے تھے۔
9۔ امام الطبرانی۔ المعجم الکبیر۔ فلسطین کے قریب طبریہ میں پیدا ہوئے۔ آخری عمر اصفہان میں گزاری۔
10۔ امام احمد بن حنبل۔ مسند احمد بن حنبل۔ بغداد میں رہائش پذیر تھے۔

یہ تمام نام جو اوپر مذکور ہوئے ہیں اپنے زمانے کے متقی اور صالح ترین افراد گنے جاتے تھے جن کے دشمن بھی ان کی سچائی پر حرف نہیں اٹھانے سے پہلے سو بار سوچتے تھے اور تمام امت آج تک انہیں اپنا امام تسلیم کرتی آئی ہے۔ ایک لمحے کے لیے فرض کر لیجیے کہ ان میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنے پاس سے یہ حدیث لکھ ڈالی تو ان کی تعداد ایک دو سے زیادہ نہ ہو سکتی لیکن سب کا اس جھوٹ پر اکٹھے ہو جانا محال ہے۔

تاریخی حوالے سے ایک شبہ اور رہ جاتا ہے کہ ممکن ہے بعد والوں نے اس حدیث کا اضافہ کر دیا ہو۔ یہ اعتراض جتنی شدومد کے ساتھ دہرایا جاتا ہے حقیقت میں اتنا ہی بودا ہے۔ ذرا سوچیے اگر اس اعتراض میں کوئی سچائی ہے تو اس کے لیے کیا کیا لوازمات درکار ہوں گے۔ سب سے پہلے ایک ایسا گروہ جو اول سے آخر تک تمام رواۃ کا علم اور ان کے حالات سے واقفیت رکھتا ہو تا کہ جھوٹی سند گھڑ سکے۔ پھر اس زمانے کے محدود ذرائع آمدورفت کے باوجود اصفہان سے لے مدینہ تک اور بصرہ سے شام تک کوئی علاقہ اس کی پہنچ سے خالی نہ ہو۔ پھر اس کا ہر ہر فرد ایسا چالاک ہو کہ مختلف ائمہ کی کتابوں میں چپکے سے حدیث داخل کر دے اور صدیوں تک کسی کو علم تک نہ ہو سکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کچھ پتہ نہ چلے کہ وہ کون تھے کدھر سے آئے تھے، کن لوگوں کےساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا، کہاں فوت ہوئے، ان کا علمی مرتبہ کیا تھا، حتی کہ دنیا ان کے نام سے بھی واقف نہ ہو یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں کسی متجدد پر بذریعہ الہام ان کا وجود مکتشف ہو گیا ہو۔

یہ بحث کچھ طویل ہو گئی ہے جو کچھ اراکین (خاص طور پر حیدر بھائی  ) کی طبیعت پر ناگوار گزرتی ہے لیکن موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے میں نے طوالت کو زیادہ اہم نہیں سمجھا۔ امید ہے آپ بھی ٹھنڈے دل سے ان نکات پر غور کریں گے۔ حدیث کے بارے میں پھیلائے جانے اکثر شبہات ان نکات کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں لیکن جس کو اللہ سمجھ نہ دے اسے کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ فی الوقت میں نے خود کو اس حدیث کے تاریخی پس منظر تک محدود رکھا ہے۔ کبھی موقع ملا تو اس کے دوسرے پہلوؤں پر بھی بات ہو گی ان شاء اللہ۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2366
14 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-11-11), skjatala (03-12-11), فیصل ناصر (10-11-11), فاروق سرورخان (10-11-11), کنعان (10-11-11), ھارون اعظم (11-11-11), مرزا عامر (12-11-11), ابن آدم (23-01-12), احمد نذیر (30-01-12), رفیق طاہر (22-01-12), راجہ اکرام (10-11-11), شکاری (13-11-11), شمشاد احمد (10-11-11), عبداللہ آدم (04-12-11)
پرانا 10-11-11, 04:00 AM   #2
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرا خیال ہے یہاں اسی حدیث پر بات چلنے دیں جس کے لیے یہ تھریڈ کھولا گیا ہے ورنہ یہاں بھی چوں چوں کا مربہ بن جائے گا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-11-11), فیصل ناصر (10-11-11), فاروق سرورخان (10-11-11), کنعان (10-11-11), ابن آدم (11-11-11), راجہ اکرام (10-11-11)
پرانا 10-11-11, 08:58 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,614
کمائي: 31,179
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر محترم،

میں‌ صرف دو باتیں کہوں‌گا۔

1۔ اللہ تعالی نے قرآں حکیم کی کوئی آیت کبھی منسوخ یا تبدیل نہیں‌کی۔ اس کا کوئی ثبوت قرآن حکیم میں‌ موجود نہیں‌ہے کہ "‌جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا" ا س میں‌سے کچھ بھی اللہ تعالی نے منسوخ‌ کیا ۔

کیا منسوخ‌ہوا ؟؟؟
جو کہ دوسرے نبیوں‌پر نازل ہوا اور شیطان نے اس میں‌"القا" کیا اور تلاوت میں خلل ڈالا ، اس کا ثبوت قران حکیم میں‌موجود ہے۔

2۔ قرآن حکیم کے متن کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہہ کو دو دو افراد نے ہر ہر ایت پر گواہی دی ۔ لہذا یہ سارے منسوبات ، حوالہ جات اور روایات کے اسم الرجال، کی کوئی ضرورت ہی نہیں‌۔ قرآن حکیم کسی بندے کا کلام نہیں‌ کہ وہ کہہ کر اس کو تبدیل کرتا رہے ۔ یہ ایسی ذات کا کلام نہیں‌جو اپنی سوچ خود درست کرتی رہتی ہے ؟؟؟‌

بلکہ جو لوگ خود قرآن پڑھتے ہیں وہ جلد یا بدیر یہ جان لیتے ہیں‌کہ یہ اس ذات کا کلام ہے جو پڑھنے والے کی سوچ تک سے واقف ہے ۔

لہذا یہ کہنا کہ یہ آیت پہلے کچھ اور تھی اور بعد میں کچھ اور کر دی گئی ۔ یہ صرف وہ کہ سکتے ہیں‌ جو اس بات سے واقف نا ہوں کہ اللہ تعالی کے پاس وقت گذرتا یا چلتا نہیں‌ہے ۔ یہ بات آپ کی سمجھ میں‌نہیں‌آئے گی لیکن پھر بھی لکھ رہا ہوں۔ اللہ تعالی کے پاس سوچوں‌کا ارتقاء نہیں ہوتا وہ ازل سے ابد تک ہے۔

قرآن کا حوالہ

22:52 وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
مولانا شبیر احمد : اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر (ایسا ہوتا رہا) کہ جب اس نے تلاوت کی تو خلل اندز ہوا شیطان اُس کی تلاوت میں۔ پھر مٹا دیتا رہا اللہ اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا رہا پھر پختہ کردیتا رہا اللہ اپنی آیات کو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

احمد رضا خان : اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

محمود الحسن : اور جو رسول بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے یا نبی سو جب لگا خیال باندھنے شیطان نے ملا دیا اُسکے خیال میں پھر اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کا ملایا ہوا پھر پکی کر دیتا ہے اپنی باتیں اور اللہ سب خبر رکھتا ہے حکمتوں والا

تنسیخ‌ صرف اس بات کی ہوئی جو شیطان نے ملایا۔۔۔۔ یہ بات بہت ہی واضح‌کرکے اللہ تعالی نے بیان کردی ہے ۔ اب اللہ تعالی کی بات مانیں یا پھر یہ من گھڑت قسم کے ریفرنس مانیں۔

اگر بالفرض‌محال آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ اس آیت کی تنسیخ‌اللہ تعالی نے خود کی تو اس کے لئے اصول یہی ہے کہ اس میں‌شیطان کا القا ہے ۔

{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ،
اور
{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى

میں‌ جو فرق ہے وہ ہے العصر اور الوسطی کا ۔۔۔۔ کیا عصر کی نماز اللہ تعالی کا حکم ہے یا پھر شیطان کا ڈالا ہوا خلل؟؟؟

قرآن کی کسوٹی سے پرکھئے تو صلاۃ العصر اللہ تعالی کا حکم ہے ناکہ شیطان کا خلل۔ کیا امت مسلمہ شیطان کے خلل کی وجہ سے صلاۃ العصر پڑھتی آرہی ہے ؟؟؟؟


ایسا کیوں‌ہوتا ہے ؟

22:53 لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ
یہ اس لیے کرتا ہے کہ بنادے اللہ شیطان کے ڈالے ہُوئے خلل کو آزمائش ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور سخت ہیں جن کے دل اور بے شک یہ ظالم مخالفت میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔

کیا قرآن حکیم اللہ تعالی کا القا ہے یا شیطان کا القاء شد ہ میٹیریل؟

27:6 وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ
اور بیشک آپ کو (یہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کی طرف سے سکھایا جا رہا ہے

اگر قرآن حکیم اللہ تعالی کا القا ہے تو پھر اس میں‌ منسوخی کیسے ؟؟؟؟ منسوخی تو شیطان کے القاء میں‌ کی گئی ہے ، اللہ تعالی کی طرف سے؟؟؟

کیا مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے یہ کتاب القا کی گئی ہے ؟
وَمَا كُنتَ تَرْجُواْ أَن يُلْقَى إِلَيْكَ الْكِتَابُ إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ ظَهِيرًا لِّلْكَافِرِينَ
اور تم (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے اُمتِ محمدی کو خطاب ہے) اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تم پر (یہ) کتاب اتاری جائے گی مگر (یہ) تمہارے رب کی رحمت (سے اتری) ہے، پس تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ بننا


اللہ تعالی کی پناہ مانگئے ۔۔۔۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پہلے۔ یہ کتاب خود اپنی تفہیم و تفسیر کرتی ہے ۔۔۔
16:98 فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں




والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 10-11-11 at 09:49 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-11-11), فیصل ناصر (10-11-11), مرزا عامر (10-11-11), حیدر Rehan (11-11-11)
پرانا 10-11-11, 06:18 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر :: امام مالک نے آپ کے بیان کی تردید کر دی !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
قرآن مجید میں ناسخ اور منسوخ کے حوالے سے ایک حدیث پچھلے دنوں فورم پر پیش کی گئی تھی اور عقلی دلائل سے اسے غلط قرار دیا گیا تھا۔ اس حدیث میں ذکر ہے کہ سورۃ البقرۃ کی آیت حافظوا علی الصلوات لکھواتے ہوئے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس میں و صلاۃ العصر کے الفاظ بھی لکھوائے تھے جو آج قرآن مجید میں موجود نہیں ہیں۔ معترض اسے حدیث کی قرآن دشمنی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ رائے علمی میزان میں کوئی وقعت نہیں رکھتی کیونکہ امام مسلم نے اس حدیث کے بعد جو اگلی حدیث بیان کی ہے وہ کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں رہنے دیتی ۔ ملاحظہ کیجیے:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللهُ، فَنَزَلَتْ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى (صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ باب الدلیل لمن قال الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر)
"البراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (پہلے پہل) یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی "حافظوا علی الصلوات و صلاۃ العصر"۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا ہم نے اسے (ایسے ہی) پڑھا۔ اس کے بعد اللہ نے اسے منسوخ فرما دیا پھر یہ اس طرح نازل ہوئی "حافظوا علی الصلوات و الصلاۃ الوسطی"

الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر :: الصلاة الوسطی صلاة الظهر :: امام مالک نے آپ کے بیان کی تردید کر دی !!!


9 - کتاب صلوة الجماعة : (33)
نماز وسطی کا بیان

حدثني عن مالک عن داود بن الحصين عن ابن يربوع المخزومي أنه قال سمعت زيد بن ثابت يقول الصلاة الوسطی صلاة الظهر

موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 287
عبدالرحمن بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا زید بن ثابت سے کہتے تھے صلوة الوسطی ظہر کی نماز ہے ۔
امام مالک کو پہنچا حضرت علی بن ابی طالب اور عبدا اللہ بن عباس سے وہ دونوں صاحب فرماتے تھے کہ صلوة وسطی صبح کی نماز ہے ۔

Yahya related to me from Malik from Da'ud ibn al-Husayn that Ibn Yarbu al-Makhzumi said, "I heard Zayd ibn Thabit say, 'The middle prayer is the prayer of dhuhr.' "
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 09:28 PM.
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
پرانا 10-11-11, 06:32 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر : الصلاة الوسطی کون سی ہے اور صلاة العصر کون سی ہے ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اگر بالفرض‌محال آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ اس آیت کی تنسیخ‌اللہ تعالی نے خود کی تو اس کے لئے اصول یہی ہے کہ اس میں‌شیطان کا القا ہے ۔

{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ،
اور
{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى

میں‌ جو فرق ہے وہ ہے العصر اور الوسطی کا ۔۔۔۔ کیا عصر کی نماز اللہ تعالی کا حکم ہے یا پھر شیطان کا ڈالا ہوا خلل؟؟؟

قرآن کی کسوٹی سے پرکھئے تو صلاۃ العصر اللہ تعالی کا حکم ہے ناکہ شیطان کا خلل۔ کیا امت مسلمہ شیطان کے خلل کی وجہ سے صلاۃ العصر پڑھتی آرہی ہے ؟؟؟؟
برادر محترم، فرق کیا ہے ؟؟؟

{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} وَصَلَاةِ الْعَصْرِ،
اور
{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى


فرق یہ ہے !!!

(حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ : 238 )

حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر


حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر : الصلاة الوسطی کون سی ہے اور صلاة العصر کون سی ہے ؟؟؟

9 - کتاب صلوة الجماعة : (33)
نماز وسطی کا بیان

عن أبي يونس مولی عاشة أم المؤمنين أنه قال أمرتني عاشة أن أکتب لها مصحفا ثم قالت إذا بلغت هذه الآية فآذني حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وقوموا لله قانتين فلما بلغتها آذنتها فأملت علي حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر وقوموا لله قانتين قالت عاشة سمعتها من رسول الله صلی الله عليه وسلم

موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 286
عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ کلام اللہ لکھتا تھا حضرت ام المومنین حفصہ کے واسطے تو کہا انہوں نے جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ : 238 ) تو مجھے اطلاع کرنا پس جب پہنچا اس آیت پر خبر کی میں نے ان کو تو لکھوایا انہوں نے اس طرح حافظوا علی الصلوات والصلوة الوسطی وصلوة العصر وقومو اللہ قانتین یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور بیچ والی نماز پر اور عصر کی نماز پر اور کھڑے رہو اللہ کے سامنے چپ اور خاموش ۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from al-Qaqa ibn Hakim that Abu Yunus, the mawla of A'isha, umm al-muminin said, ''A'isha ordered me to write out a Qur'an for her. She said, 'When you reach this ayat, let me know, "Guard the prayers carefully and the middle prayer and stand obedient to Allah." ' When I reached it I told her, and she dictated to me, 'Guard the prayers carefully and the middle prayer and the asr prayer and stand obedient to Allah.' A'isha said, 'I heard it from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace.' "
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 07:42 PM.
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-11-11), مرزا عامر (27-01-12), حیدر Rehan (11-11-11)
پرانا 10-11-11, 07:01 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نبی ﷺ کی بیوی کو قرآن کا پتہ نہیں تھا انہوں نے حفظ بھی نہیں کیا باقی لوگ زیادہ بڑے عالم تھے ؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
یہ حدیث صحیح مسلم میں بالکل اس حدیث کے بعد ذکر ہوئی ہے جس کا حوالہ معترض نے دیا ہے لیکن اللہ ہی بہتر جانتا ہے کس وجہ سے انہوں نے اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت اپنی جگہ درست ہے۔اس میں بیان ہونے والی بات کا تعلق نسخ سے پہلے کا ہے۔ اپنے مصحف میں منسوخ الفاظ لکھوانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں اس نسخ کا علم نہ ہو سکا ہو یا پھر انہوں نے بطور تفسیر یہ الفاظ لکھوا دیے ہوں کیونکہ بہرحال وہ مصحف کسی دوسرے کے لیے نہیں خود ان کے اپنے لیے تھا۔ آیات میں اس قسم کی تبدیلی خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تھی جس کا ذکر سورۃ النحل آیت 101 میں موجود ہے:
اپنے مصحف میں منسوخ الفاظ لکھوانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں اس نسخ کا علم نہ ہو سکا ہو

نبی ﷺ کی بیوی کو قرآن کا پتہ نہیں تھا انہوں نے حفظ بھی نہیں کیا باقی لوگ زیادہ بڑے عالم تھے ؟؟؟


کیونکہ بہرحال وہ مصحف کسی دوسرے کے لیے نہیں خود ان کے اپنے لیے تھا۔

اپنے لیے الگ قرآن ہمارے لیے الگ قرآن !!!

ابوبکر صدیق ؓ نے "جمع قرآن" کا کام کس کے قرآن سے نقل کر کے کیا تھا ؟؟؟

1 حفصہ بنت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہا ؟؟؟

2 عائشہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہا ؟؟؟

__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 07:07 PM.
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-11-11), فاروق سرورخان (12-11-11), مرزا عامر (10-11-11), حیدر Rehan (11-11-11)
پرانا 10-11-11, 09:35 PM   #7
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rana ammar mazhar مراسلہ دیکھیں
ابوبکر صدیق ؓ نے "جمع قرآن" کا کام کس کے قرآن سے نقل کر کے کیا تھا ؟؟؟

1 حفصہ بنت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہا ؟؟؟

2 عائشہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہا ؟؟؟
_________________
آپ ہی بتا دیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس کے مصحف سے نقل کیا تھا مجھے تو ایسی کسی بات کا علم نہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-11-11), فیصل ناصر (11-11-11), کنعان (25-01-12)
پرانا 10-11-11, 09:48 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ایسے شاندار لو گوں کی موجودگی میں خلفاءکو امیرالمومنین عثمانؓ کو نواسہ رسول ﷺ کو کیسے شہید کیا گیا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
کوئی سلیم العقل انسان یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا کہ مختلف علاقوں میں دسیوں کی تعداد میں نسلًا بعد نسل ایسا لوگ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے حدیث کے نام پر یہ جھوٹ پھیلایا لیکن ان کے آس پاس رہنے والے انہیں سچائی اور دیانت کا چلتا پھرتا نمونہ اور دین کا امام سمجھتے رہے۔ ایسی مکاری ایک دو افراد محدود وقت کے لیے کر سکتے ہیں لیکن جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ دسیوں اور سینکڑوں لوگ یہ کام ساری زندگی انجام دے سکتے ہیں وہ درحقیقت شک کا مریض ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں۔

ان میں بہت سی اسناد میں امام مالک، امام محمد بن ادریس الشافعی اور امام احمد بن حنبل سمیت دوسری کئی ایسی ہستیاں ہیں جن کو جھوٹا سمجھ لیا جائے تو دین موم کی ناک بن کر رہ جائے گا جسے ہر کوئی اپنے فہم اور اپنی خود ساختہ قرآن فہمی کے مطابق موڑ سکے گا جس کی بہت سے مثالیں اسی فورم پر مل جاتی ہیں۔
ایسے شاندار لو گوں کی موجودگی میں خلفاء کو امیرالمومنین عثمانؓ کو نواسہ رسول ﷺ کو کیسے شہید کر دیا گیا ؟؟؟

Last edited by rana ammar mazhar; 10-11-11 at 10:20 PM.
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (11-11-11)
پرانا 10-11-11, 09:57 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بہترین یادداشت کا اعلی نمونہ :: الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر :: الصلاة الوسطی صلاة الظهر ::

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
یہ کل 32 مختلف اسناد ہوئیں۔ ان کے راویوں کی ترتیب دیکھیے، صحابہ کے زمانے سے لے کر آخر تک ہر زمانے میں ایسے لوگ اس حدیث کو بیان کرتے رہے ہیں جن کی سچائی، دیانت اور بہترین یادداشت کی گواہی علم الرجال کی کتابوں میں ثبت ہے۔

بہترین یادداشت کا اعلی نمونہ :: الصلاۃ الوسطیٰ ھی صلاۃ العصر :: الصلاة الوسطی صلاة الظهر :: امام مالک نے آپ کے بیان کی تردید کر دی !!!
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-11-11), مرزا عامر (27-01-12), حیدر Rehan (11-11-11)
پرانا 10-11-11, 10:11 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ بتائیں کہ رسول کریم ﷺ والے " مابين الدفتين قرآن" "دو جلد والے قرآن"

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
آپ ہی بتا دیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس کے مصحف سے نقل کیا تھا مجھے تو ایسی کسی بات کا علم نہیں۔
آپ بتائیں کہ رسول کریم ﷺ والے " مابين الدفتين قرآن" "دو جلد والے قرآن" " Between the two bindings والے قرآن " کو کس بکری نے کھایا ؟؟؟

He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an).

"The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)."


46 - فضائل قرآن : (82)
قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے رسول اللہ کا اس کے علاوہ اور کچھ نہ چھوڑنے یعنی قرآن ترکہ رسالت مآب ہونے کا بیان

حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع قال دخلت أنا وشداد بن معقل علی ابن عباس رضي الله عنهما فقال له شداد بن معقل أترک النبي صلی الله عليه وسلم من شيئ قال ما ترک إلا ما بين الدفتين قال ودخلنا علی محمد بن الحنفية فسألناه فقال ما ترک إلا ما بين الدفتين

صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 11 حدیث مرفوع مکررات 1

قتیبہ بن سعید، سفیان کہتے ہیں کہ عبدالعزیز کا بیان ہے کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس کے پاس گئے ان سے شداد بن معقل نے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لکھی ہوئی چیزیں بھی چھوڑی ہیں وہ بولے جلد قرآن کے درمیان جو کلام الہی ہے صرف وہی چھوڑا پھر ہم محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ قرآن کی جلد کے درمیان جو کچھ ہے اس کے علاوہ آپ نے اور کچھ بھی نہیں چھوڑا

Narrated 'Abdul 'Aziz bin Rufai':
Shaddad bin Ma'qil and I entered upon Ibn 'Abbas. Shaddad bin Ma'qil asked him, "Did the Prophet leave anything (besides the Qur'an)?" He replied. "He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an)." Then we visited Muhammad bin Al-Hanafiyya and asked him (the same question). He replied, "The Prophet did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an)."
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (12-11-11), مرزا عامر (27-01-12), حیدر Rehan (11-11-11)
پرانا 10-11-11, 10:18 PM   #11
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,729
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,068 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مراسلہ نمبر 3 کو غیر جانب داری سے ٹھنڈے دل اور دماغ سے سوچا جائے تو کسی بھی قسم کی مزید بحث کی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-11-11), فاروق سرورخان (12-11-11), حیدر Rehan (11-11-11)
پرانا 10-11-11, 10:21 PM   #12
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
آپ ہی بتا دیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس کے مصحف سے نقل کیا تھا مجھے تو ایسی کسی بات کا علم نہیں۔
آپ کی کاپی پیسٹ میں مجھے اپنے اس سوال کا جواب نہیں ملا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (10-11-11)
پرانا 11-11-11, 01:50 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,853
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ،
ان شاء اللہ اگلے مہینے کے آغاز میں جنات کے بارے ایک خبر پر مشتمل جس حدیث شریف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور دیگر جن احادیث مبارکہ پر طنز ، طعن و تشنیع کا گند اچھالا جا رہا ہے ان کے بارے میں الگ مراسلات کا آغاز کرنے کا ارادہ ہے ،
ایک بات یاد رکھنا بھتیجے مربہ چُوں چُوں کا ہو ، یا ہُوں ہُوں کا مربہ ہی ہوتا ہے ،
حکیموں کا کہنا ہے کہ مربہ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے ، اس قول کی سند مت پوچھنا
بس ہم اس کو صحیح مانتے ہیں کیونکہ نفس کی تسکین والا معاملہ ہے لہذا تم بھی مان لو ، اگر نہیں مانتے تو مربہ مجھے بھیج دو ، اور تُم سندوں میں دماغ کھپاتے رہو ، ہمیں کیا پڑی ہے کہ سلیم صاحب کی عقل آزمإئیں یا شمیم صاحب کی یا نسیم صاحب کی ، ہماری اپنی عقل بہت کافی سے زیادہ کافی ہے جس حدیث کو چاہیں مانیں گے اور جس کو چاہیں نہیں مانیں گے ، ہم نے راویوں ، اور روایات کے بارے میں وہ علم بھی حاصل کر رکھا ہے جو تُمہارے پاس تو کیا تُمہارے نام نہاد اماموں کے پاس بھی نہیں تھا ، یعنی اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی حدیث کو سمجھنا اور پھر اس سمجھ کے مطابق اس حدیث کو حدیث ماننا یا جھوٹ قرار دے کر اس کی تضحیک کرنا ،
جاو بابا اپنی سندیں مربے میں ڈال کر کھاو ، ایک تولہ مربہ ھوائے نفس اور ایک تولہ مربہ عقل مثل شُتر بے مہار میں ایک سند صبح نہار منہُ اور دو دو تولہ مربہ میں‌دو دو سندیں صلاۃ الوسطیٰ اور صلاۃ العتمہ کے بعد کھاو ، اللہ کے دین کا دشمن جلد ہی حدیث کی پرکھ سکھا دے گا ۔
دیکھو بھتیجے لوگ تو پتہ نہیں کیا کیا خرچ کر کے اس پرکھ کے اھل بنتے اور بناتے ہیں ہم نے تمہیں مفت ہی نسخہ بتا دیا ، بس اپنے تک ہی رکھنا ، اگر کوٕئی ہم خیال نظر إٓئے تو چپکے سے بتا دینا ، لیکن دین کی بات کرنا ہو تو خاص پردے میں ہو کر کرنا کسی حدیث سے محبت کرنے والے کو اندرونی سودے بازی کی خبر نہ ہونے پإئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مراسلہ رقم 3 میں بیان فلسفوں کا جواب ::::::: قران میں ناسخ اور منسوخ ::::::: میں کافی تفصیل سے دیا جا چکا ہے ، جس بھإی کو غیر جانبداری سے ، قران کریم کی روشنی میں ان فلسفوں کی حقیقت جاننا ہو اس تھریڈ کا بغور مطالعہ کرے ،
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (11-11-11), کنعان (11-11-11), مرزا عامر (11-11-11), ابن آدم (11-11-11), احمد نذیر (11-11-11), شکاری (13-11-11), عبداللہ آدم (04-12-11), عبداللہ حیدر (11-11-11)
کمائي نے عادل سہیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
11-11-11 rana ammar mazhar ‌دو دو سندیں صلاۃ الوسطیٰ اور صلاۃ العتمہ کے بعد کھاو 5
11-11-11 کنعان بس ہم اس کو صحیح مانتے ہیں کیونکہ نفس کی تسکین والا معاملہ ہے 10
پرانا 11-11-11, 05:28 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دو دو سندیں صلاۃ الوسطیٰ اور صلاۃ العتمہ کے بعد کھاو !!! صلاۃ الوسطیٰ کون سی ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ،
ان شاء اللہ اگلے مہینے کے آغاز میں جنات کے بارے ایک خبر پر مشتمل جس حدیث شریف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور دیگر جن احادیث مبارکہ پر طنز ، طعن و تشنیع کا گند اچھالا جا رہا ہے ان کے بارے میں الگ مراسلات کا آغاز کرنے کا ارادہ ہے ،
ایک بات یاد رکھنا بھتیجے مربہ چُوں چُوں کا ہو ، یا ہُوں ہُوں کا مربہ ہی ہوتا ہے ،
حکیموں کا کہنا ہے کہ مربہ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے ، اس قول کی سند مت پوچھنا
بس ہم اس کو صحیح مانتے ہیں کیونکہ نفس کی تسکین والا معاملہ ہے لہذا تم بھی مان لو ، اگر نہیں مانتے تو مربہ مجھے بھیج دو ، اور تُم سندوں میں دماغ کھپاتے رہو ، ہمیں کیا پڑی ہے کہ سلیم صاحب کی عقل آزمإئیں یا شمیم صاحب کی یا نسیم صاحب کی ، ہماری اپنی عقل بہت کافی سے زیادہ کافی ہے جس حدیث کو چاہیں مانیں گے اور جس کو چاہیں نہیں مانیں گے ، ہم نے راویوں ، اور روایات کے بارے میں وہ علم بھی حاصل کر رکھا ہے جو تُمہارے پاس تو کیا تُمہارے نام نہاد اماموں کے پاس بھی نہیں تھا ، یعنی اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی حدیث کو سمجھنا اور پھر اس سمجھ کے مطابق اس حدیث کو حدیث ماننا یا جھوٹ قرار دے کر اس کی تضحیک کرنا ،
جاو بابا اپنی سندیں مربے میں ڈال کر کھاو ، ایک تولہ مربہ ھوائے نفس اور ایک تولہ مربہ عقل مثل شُتر بے مہار میں ایک سند صبح نہار منہُ اور دو دو تولہ مربہ میں‌دو دو سندیں صلاۃ الوسطیٰ اور صلاۃ العتمہ کے بعد کھاو ، اللہ کے دین کا دشمن جلد ہی حدیث کی پرکھ سکھا دے گا ۔
دیکھو بھتیجے لوگ تو پتہ نہیں کیا کیا خرچ کر کے اس پرکھ کے اھل بنتے اور بناتے ہیں ہم نے تمہیں مفت ہی نسخہ بتا دیا ، بس اپنے تک ہی رکھنا ، اگر کوٕئی ہم خیال نظر إٓئے تو چپکے سے بتا دینا ، لیکن دین کی بات کرنا ہو تو خاص پردے میں ہو کر کرنا کسی حدیث سے محبت کرنے والے کو اندرونی سودے بازی کی خبر نہ ہونے پإئے۔
ایک تولہ مربہ ھوائے نفس اور ایک تولہ مربہ عقل مثل شُتر بے مہار میں ایک سند صبح نہار منہُ اور دو دو تولہ مربہ میں ‌دو دو سندیں صلاۃ الوسطیٰ اور صلاۃ العتمہ کے بعد کھاو ، اللہ کے دین کا دشمن جلد ہی حدیث کی پرکھ سکھا دے گا ۔

صلاۃ الوسطیٰ کون سی ہے ؟؟؟

اور زید بن ثابت اور عائشہ نے کہا کہ صلوة وسطی نماز ظہر ہے اور کہا ابن عباس نے اور ابن عمر نے کہا نماز وسطی صبح کی نماز ہے۔

2 - نماز کا بیان : (297)
عصر کی نماز وسطی ہونا

حدثنا محمود بن غيلان حدثنا أبو داود الطيالسي وأبو النضر عن محمد بن طلحة بن مصرف عن زبيد عن مرة الهمداني عن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم صلاة الوسطی صلاة العصر قال أبو عيسی هذا حديث حسن صحيح قال وفي الباب عن علي وعبد الله بن مسعود وزيد بن ثابت وعاشة وحفصة وأبي هريرة وأبي هاشم بن عتبة قال أبو عيسی قال محمد قال علي بن عبد الله حديث الحسن عن سمرة بن جندب حديث صحيح وقد سمع منه قال أبو عيسی حديث سمرة في صلاة الوسطی حديث حسن وهو قول أکثر العلما من أصحاب النبي صلی الله عليه وسلم وغيرهم و قال زيد بن ثابت وعاشة صلاة الوسطی صلاة الظهر و قال ابن عباس وابن عمر صلاة الوسطی صلاة الصبح

جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 174 حدیث مرفوع مکررات 5

محمود بن غیلان، ابوداؤد طیالیسی، ابونضر، محمد بن طلحہ بن مصرف، زبید، مرہ ہمدانی، عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صلوة وسطی عصر کی نماز ہے امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے اس باب میں حضرت علی عائشہ حفصہ ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ سے بھی روایات مذکور ہیں امام ابوعیسی ترمذی نے کہا کہ محمد بن اسماعیل بخاری نے فرمایا کہ علی بن عبداللہ نے کہا حسن کی سمرہ سے مروی حدیث حسن ہے اور انہوں نے ان سے سنا ہے امام ابوعیسی ترمذی نے کہا کہ صلوة وسطی کے بارے میں حدیث سمرہ حسن ہے اور یہ صحابہ کرام میں سے اکثر علماء کا قول ہے اور زید بن ثابت اور عائشہ نے کہا کہ صلوة وسطی نماز ظہر ہے اور کہا ابن عباس نے اور ابن عمر نے کہا نماز وسطی صبح کی نماز ہے۔
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
پرانا 11-11-11, 05:48 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default آپ کے ہاں قرآن میں متفق علیہ ناسخ اور مسنوخ آیات کی کل تعداد کیا ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مراسلہ رقم 3 میں بیان فلسفوں کا جواب ::::::: قران میں ناسخ اور منسوخ ::::::: میں کافی تفصیل سے دیا جا چکا ہے ، جس بھإی کو غیر جانبداری سے ، قران کریم کی روشنی میں ان فلسفوں کی حقیقت جاننا ہو اس تھریڈ کا بغور مطالعہ کرے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی رانا عمار صاحب ،
جب میرے رب نے توفیق دی تو جو سلسلہ میں نے قران میں ناسخ اور منسوخ کی مثالوں کا شروع کیا تھا اس کی تکمیل ہونے پر ناسخ آیات اور منسوخ آیات کی کل تعداد کا ذکر بھی ان شاء اللہ اس کے مناسب وقت پر ہو جإئے گا ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
رانا بھإئی ، اللہ آپ کو ہدایت دے ، اور کچھ حوصلہ بھی دے ، اور علمی انداز میں بات کرنے کا سلیقہ بھی دے ،
آپ کو شاید سوإئے کاپی پیسٹ کرنے کے کچھ اور نہیں آتا ،
یہاں ناسخ اور منسوخ کے بارے میں بات چیت ہے ، اسی پر رکیے ، جو کہنا ہے اپنے الفاظ میں کہیے ،
دھن دھن بے مقصد قسم کا مواد چربہ کر کر کے یہاں مت لگایے ، اور نہ ہی دوسروں کی کتابوں کے لنک دیجیے ، علمی جرات ہے تو اپنے الفاظ میں بات کیجیے ،
بھإئی جی ، یہ میرا بنایا ہوا اور شروع کردہ تھریڈ ہے ، اور ان شاء اللہ میں انتظامیہ سے درخواست کر کے تمام تر غیر متعلقہ مراسلات حذف کروا سکتا ہوں ،
اچھے علمی اور اخلاقی انداز میں‌ ایک ایک نکتے پر بات کرنا ہو تو خوش آمدید ، بے ربط ، بے‌حال لا علمی پر مشتمل کاپی پیسٹ والے سوالات کرنا ہوں تو کہیں اور وقت ضإئع کیجیے ،
عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں بھی ان شاء اللہ ایک الگ تھریڈ کھول کر آپ کو دعوت دینے والا ہوں ، ان شاء اللہ اسی مہینے کے آخر تک یہ کام ہو جإئےگا، اگر میری باتوں میں کوٕئی ترشی محسوس ہوٕئی ہو تو خیال کیجیے گا کہ اس کا سبب آپ کا وہ سابقہ رویہ ہے جس کا مظاہرہ آپ کرتے چلے آرہے ہیں ، اور میری ہی کیا ، بہت سے بھإئیوں کی گذارشات کو ٹھکراتے چلے آ رہے ہیں ۔ و السلام علیکم۔
آپ کے ہاں قرآن میں متفق علیہ ناسخ اور مسنوخ آیات کی کل تعداد کیا ہے ؟؟؟

وعدہ جو وفا نہ ہو سکا !!!
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (11-11-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
.net, php, فورم, فرض, کتابوں, قرآنی, لوگ, ممکن, مجید, آج, اللہ, انسان, اسلام, بہترین, بھائی, جھوٹ, حدیث, حسن, خلاف, زندگی, شخص, عیسیٰ, علاج, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:08 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger