منکرین حدیث کہتے ہیں کہ بعض احادیث میں جو "عریانی" پائی جاتی ہے اس کی بنا پر وہ یہ باور نہیں کر سکتے کہ واقعی یہ احادیث سچی ہوں گی۔ غالباً ان کا خیال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور خواتین کے درمیان اور پھر ازواج مطہرات اور ان کے شاگردوں کے درمیان ایسی کھلی کھلی گفتگو آخر کیسے ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں چند اصولی باتیں بیان کر دینی ضروری ہیں، کیونکہ موجودہ زمانے کے "تعلیم یافتہ" اصحاب بالعموم انہی باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اسے اس طرح کی احادیث پر الجھتے ہیں۔
اول یہ کہ انسان کی داخلی زندگی کے چند گوشے ایسے ہیں جن کے متعلق اس کو ضروری تعلیم و تربیت اور ہدایات دینے میں شرم کا بے جا احساس اکثر مانع ہوتا رہا ہے اور اسی وجہ سے اعلیٰ ترقی یافتہ قومیں تک ان کے بارے میں طہارت و نظافت کے ابتدائی اصولوں تک سے ناواقف رہی ہیں۔ شریعت الہٰی کا یہ احسان ہے کہ اس نے ان گوشوں کے بارے میں بھی ہم کو ہدایات دیں اور ان کے متعلق قواعد و ضوابط بتا کر ہمیں غلطیوں سے بچایا۔ غیر قوموں کے صاحب فکر لوگ اس چیز کی قدر کرتے ہیں، کیونکہ ان کی قومیں اس خاص شعبۂ زندگی کی تعلیم و تربیت سے محروم ہیں۔ مگر مسلمان جن کو گھر بیٹھے یہ ضابطے مل گئے، آج اس تعلیم کی ناقدری کر رہے ہیں اور عجیب لطیفہ ہے کہ ان ناقدری کے اظہار میں وہ لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں جو اہل مغرب کی تقلید میں (Sex Education) تک مدارس میں رائج کرنے کے قائل ہیں۔
دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جس نبی پاک کو ہماری تعلیم کے لیے مامور فرمایا تھا، اسی کے ذمہ یہ خدمت بھی کی تھی کہ اس خاص شعبۂ زندگی کی تعلیم و تربیت بھی ہمیں دے۔ اہل عرب اس معاملہ میں ابتدائی ضابطوں تک سے ناواقف تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو ان کے مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی طہارت، استنجا اور غسل وغیرہ کے مسائل، نیز ایسے ہی دوسرے مسائل نہ صرف زبان سے سمجھائے بلکہ اپنی ازواج مطہرات کو بھی اجازت دی کہ آپ کی خانگی زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کریں اور عام لوگوں کو بتائیں کہ حضورﷺ خود کن ضابطوں پر عمل فرماتے تھے۔
سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت کی خاطر حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو مومنین کے لیے ماں کا درجہ عطا فرمایا تھا تا کہ مسلمان ان کی خدمت میں حاضر ہو کر زندگی کے ان گوشوں کے متعلق رہنمائی حاصل کر سکیں اور جانبین میں ان مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کسی قسم کے ناپاک جذبہ کی دخل اندازی کا خطرہ نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کے پورے ذخیرہ میں کوئی ایک نظیر بھی اس بات کی نہیں ملتی کہ جو باتیں
امہات المومنین سے پوچھی گئی ہیں وہ خلفائے راشدین یا دوسرے صحابیوں کی بیگمات سے بھی کبھی پوچھی گئی ہوں اور انہوں نے مردوں سے اس نوعیت کی گفتگو کی ہو۔
چہارم یہ کہ لوگ اپنے گمان سے، یا یہود و نصاریٰ کے اثر سے جن چیزوں کو حرام یا مکروہ اور ناپسندیدہ سمجھ بیٹھے تھے، ان کے متعلق صرف یہ سن کر ان کا اطمینان نہیں ہوتا تھا کہ شریعت میں وہ جائز ہیں۔ حکم جواز کے باوجود ان کے دلوں میں یہ شک باقی رہ جاتا تھا کہ شاید یہ کراہت سے خالی نہ ہو اس لیے وہ اپنے اطمینان کی خاطر یہ معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے کہ حضور ﷺ کا اپنا طرز عمل کیا تھا۔ جب وہ یہ جان لیتے تھے کہ حضور ﷺ نے خود فلاں عمل کیا ہے، تب ان کے دلوں سے کراہت کا خیال نکل جاتا تھا، کیونکہ وہ حضور ﷺ کو ایک مثالی انسان سمجھتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ جو کام آپ نے کیا ہو وہ مکروہ یا پایۂ ثقاہت سے گرا ہوا نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک اہم درجہ ہے جس کی بنا پر ازواج مطہرات کو حضور ﷺ کی خانگی زندگی کے بعض ایسے معاملات کو بیان کرنا پڑا جو دوسری خواتین نہ بیان کر سکتی ہیں، نہ ان کو بیان کرنا چاہیے۔
پنجم یہ کہ احادیث کا یہ حصہ درحقیقت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت اور ان کی نبوت کے بڑے اہم شواہد میں شمار کرنے کے لائق ہے۔ محمد رسول اللہ کے سوا دنیا میں کون یہ ہمت کر سکتا تھا اور پوری تاریخ انسانی میں کس نے یہ ہمت کی ہے 23 سال تک شب و روز کے ہر لمحے اپنے آپ کو منظر عام پر رکھ دے، اپنی پرائیویٹ زندگی کو بھی پبلک بنا دے اور اپنی بیویوں تک کو اجازت دے دے کہ میری گھر کی زندگی کا حال بھی لوگوں کو صاف صاف بتا دو۔
سنت کی آئینی حیثیت سید مودودی