حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ (مفسر قرآن) نے اپنی ایک مشہور تصنیف میں تاریخ اور حدیث کا مختصر تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ اسی جائزے کا ایک بہت عمدہ اقتباس ذیل میں درج کیا جا رہا ہے جس میں تاریخ نگاری کے متعلق بہت اچھے انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔ لیجئے ملاحظہ فرمائیں :
کتبِ تواریخ میں جو ہر طرح کا (صحیح / غلط) مواد ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جلیل القدر مورخین نے اپنی کتابوں میں جو تاریخی مواد جمع کیا ہے وہ سب محض جھوٹ کا پلندہ ہے جس کو بس اٹھا کر پھینک ہی دینا چاہئے۔ درحقیقت امام ابن کثیر ، ابن سعد ، طبری جیسے معتبر مورخین کی تعریف ہی کی جانی چاہئے کہ تاریخ نگاری میں انہوں نے یکسر غیرجانبدارانہ روش اختیار کی اور واقعات کو جوں کا توں جمع کر دیا ہے۔ انہوں نے ۔۔۔۔
1۔ نہ تو راویوں کے اخلاقی و علمی مقام کو مشخّص کرنے کی کوشش کی ہے اور
2۔ نہ ہی صحت و ضعف کے لحاظ سے روایت کا درجہ متعین کیا ہے۔
یہ دونوں چیزیں انہوں نے بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے چھوڑ دی ہیں۔
اس لیے اب ان مورخین حضرات پر ہمارا یہ بڑا ہی ظلم ہوگا اگر ہم ان کی بیان کردہ روایت کے حسن و قبح کو دیکھے بغیر ، اپنی بات کے استدلال کے طور پر محض ان مورخین کی کتب کا حوالہ دے کر بات کو ختم کر دیں۔
ہمارے لیے صحیح طرزِ عمل یہی ہے کہ :
ہم قرنِ اول کے مشاجرات (ہنگامے / سانحات / اختلافات) کی حقیقت اور اس کے پسِ منظر کو پیشِ نگاہ رکھتے ہوئے راویوں کی ثقاہت و عدم ثقاہت اور ان کا علمی و اخلاقی مقام متعین کر کے روایات کی تنقیح کریں ، بالخصوص اُن روایات میں تو یہ اہتمام بہت ضروری ہے جن سے صحابہ کرام کا ایسا کردار ہمارے سامنے آتا ہے جو قرآن و حدیث کے بیان کردہ کردار سے صریحاً متصادم ہے۔
بشکریہ باذوق بھائی۔ اصل پوسٹ کا ربط
تاریخ نگاری اور علم حدیث [دستاویزات] - URDU MAJLIS FORUM