واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


حدیث: ’’عورت میں نحوست ہے‘‘

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-02-12, 06:58 PM   #1
حدیث: ’’عورت میں نحوست ہے‘‘
rana ammar mazhar rana ammar mazhar آف لائن ہے 01-02-12, 06:58 PM

92 - نکاح کا بیان : ( 18 )
وہ تین چزیں جن میں نحوست ہوتی ہے
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " الشؤم في المرأة والدار والفرس " . متفق عليه . وفي رواية : " الشؤم في ثلاثة : في المرأة والمسكن والدابة "
مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 309
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت گھر اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے، اور ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے عورتوں میں، مکان میں، اور جانور میں ( بخاری ومسلم)

41 - جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : (383)
گھوڑے کی نحوست کا بیان۔
حدثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري قال أخبرني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول إنما الشؤم في ثلاثة في الفرس والمرأة والدار.
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 124 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
ابوالیمان، شعیب، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میں نے سنا کہ نحوست صرف تین چیزوں میں ہے گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:
I heard the Prophet saying. "Evil omen is in three things: The horse, the woman and the house."

47 - نکاح کا بیان : (179)
عورت کی نحوست سے پرہیز کرنے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ تمہارے بعض بچے اور بیوی تمہارے لئے دشمن ہیں
حدثنا إسماعيل قال حدثني مالک عن ابن شهاب عن حمزة وسالم ابني عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في المرأة والدار والفرس
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 85 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
اسماعیل، مالک، ابن شہاب، حمزہ اور سالم، عبداللہ بن عمر کے بیٹے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نحوست تین چیزوں میں ہے (اور وہ یہ ہیں) عورت، گھر، گھوڑا۔
Narrated Abdullah bin 'Umar:
Allah's Apostle said, "Evil omen is in the women, the house and the horse.'

47 - نکاح کا بیان : (179)
عورت کی نحوست سے پرہیز کرنے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ تمہارے بعض بچے اور بیوی تمہارے لئے دشمن ہیں
حدثنا محمد بن منهال حدثنا يزيد بن زريع حدثنا عمر بن محمد العسقلاني عن أبيه عن ابن عمر قال ذکروا الشؤم عند النبي صلی الله عليه وسلم فقال النبي صلی الله عليه وسلم إن کان الشؤم في شيئ ففي الدار والمرأة والفرس
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 86 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
محمد بن منہال، زید بن زریع، عمر بن محمد عسقلانی اپنے والد سے، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر نحوست ہے تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے۔
Narrated Ibn 'Umar:
Evil omen was mentioned before the Prophet: The Prophet said, "If there is evil omen in anything, it is in the house, the woman and the horse."

56 - طب کا بیان : (91)
شگون لینے کا بیان
حدثني عبد الله بن محمد حدثنا عثمان بن عمر حدثنا يونس عن الزهري عن سالم عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال لا عدوی ولا طيرة والشؤم في ثلاث في المرأة والدار والدابة
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 711 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
عبداللہ بن محمد، عثمان بن عمر، یونس، زہری، سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرض کا ایک سے دوسرے کو لگنا اور فال لینا کوئی چیز نہیں، اور نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت، گھر، اور جانور میں۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:
Allah's Apostle said, "There is neither 'Adha (no contagious disease is conveyed to others without Allah's permission) nor Tiyara, but an evil omen may be in three a woman, a house or an animal."

56 - طب کا بیان : (91)
عدوی (بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا) کوئی چیز نہیں
حدثنا سعيد بن عفير قال حدثني ابن وهب عن يونس عن ابن شهاب قال أخبرني سالم بن عبد الله وحمزة أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم لا عدوی ولا طيرة إنما الشؤم في ثلاث في الفرس والمرأة والدار
صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 728 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
سعید بن عفیر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ وحمزہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت (مرض کا ایک سے دوسرے کو لگنا) اور بد شگونی کوئی چیز نہیں، اور نحوست صرف تین چیزوں میں گھوڑا، عورت، اور گھر میں ہو سکتی ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Umar:
Allah's Apostle said, "there is neither 'Adha nor Tiyara, and an evil omen is only in three: a horse, a woman and a house." (See the foot-note of Hadith No. 649)

41 - سلام کرنے کا بیان : (177)
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب حدثنا مالک بن أنس ح و حدثنا يحيی بن يحيی قال قرأت علی مالک عن ابن شهاب عن حمزة وسالم ابني عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في الدار والمرأة والفرس
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1307 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب مالک بن انس، یحیی بن یحیی، مالک ابن شہاب حمزہ سالم عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھر عورت اور گھوڑے میں نحوست ہے۔
'Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: If there be bad luck, it is in the house, and the wife, and the horse.

41 - سلام کرنے کا بیان : (177)
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حدثنا أبو الطاهر وحرملة بن يحيی قالا أخبرنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب عن حمزة وسالم ابني عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال لا عدوی ولا طيرة وإنما الشؤم في ثلاثة المرأة والفرس والدار
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1308 حدیث مرفوع مکررات 21 متفق علیہ 12
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمزہ، سالم، ابن عمر، عبداللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بد شگونی کی کوئی حقیقت ہے اور نحوست تین میں ہو سکتی ہے عورت گھوڑا اور مکان۔
'Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying. There is no transitive disease, no ill omen, and bad luck is found in the house, or wife or horse.

25 - طب کا بیان : (70)
شگون لینے اور رمل کرنے کا بیان
حدثنا القعنبي حدثنا مالک عن ابن شهاب عن حمزة وسالم ابني عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في الدار والمرأة والفرس قال أبو داود قر علی الحارث بن مسکين وأنا شاهد أخبرک ابن القاسم قال سل مالک عن الشؤم في الفرس والدار قال کم من دار سکنها ناس فهلکوا ثم سکنها آخرون فهلکوا فهذا تفسيره فيما نری والله أعلم قال أبو داود قال عمر رضي الله عنه حصير في البيت خير من امرأة لا تلد
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 531 حدیث مرفوع مکررات 21
قعنبی، مالک، ابن شہاب، حمزہ، سالم بن عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نحوست، گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی ہے، امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ میری موجودگی میں حارث بن مسکین کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی کہ تجھے ابن القاسم نے بتلایا کہ امام مالک سے سوال کیا گیا کہ گھوڑے اور مکان کی نحوست کے بارے میں تو فرمایا کہ کتنے ہی گھر ایسے ہیں جس میں کوئی قوم جا کر رہی ہے تو وہ ہلاک ہوگئے پھر دوسرے لوگ آکر بسے وہ بھی ہلاک ہوگئے اور ہمارے خیال میں یہی اس کی تفسیر ہے۔ و اللہ اعلم

28 - گھوڑوں سے متعلقہ احادیث : (33)
گھوڑوں میں نحوست سے متعلق
أخبرنا قتيبة بن سعيد ومحمد بن منصور واللفظ له قالا حدثنا سفيان عن الزهري عن سالم عن أبيه عن النبي صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في ثلاثة المرأة والفرس والدار
سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1509 حدیث مرفوع مکررات 21
قتیبہ بن سعید و محمد بن منصور، سفیان، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے عورت گھوڑے اور مکان میں۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “Omens are in houses, women and horses.”(Sahih)

28 - گھوڑوں سے متعلقہ احادیث : (33)
گھوڑوں میں نحوست سے متعلق
أخبرني هارون بن عبد الله قال حدثنا معن قال حدثنا مالک والحارث بن مسکين قراة عليه وأنا أسمع واللفظ له عن ابن القاسم قال حدثنا مالک عن ابن شهاب عن حمزة وسالم ابني عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في الدار والمرأة والفرس
سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1510 حدیث مرفوع مکررات 21
ہارون بن عبد اللہ، معن، مالک، حارث بن مسکین، ابن قاسم، مالک، ابن شہاب، حمزہ، سالم، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے عورت گھوڑے اور مکان میں۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “If there are (omens) in anything, they are in houses, women and horses.” (Sahih)

28 - گھوڑوں سے متعلقہ احادیث : (33)
گھوڑوں میں نحوست سے متعلق
أخبرنا محمد بن عبد الأعلی قال حدثنا خالد قال حدثنا ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال إن يک في شي ففي الربعة والمرأة والفرس
سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 1511 حدیث مرفوع مکررات 2
محمد بن عبدالاعلی، خالد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر نحوست کسی شئی میں ہے تو عورت مکان اور گھوڑے میں ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Blessing is in the forelocks of horses.” (Sahih)

39 - آداب اور اجازت لینے کا بیان : (185)
نحوست کے بارے میں
حدثنا ابن أبي عمر حدثنا سفيان عن الزهري عن سالم وحمزة ابني عبد الله بن عمر عن أبيهما أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في ثلاثة في المرأة والمسکن والدابة قال أبو عيسی هذا حديث صحيح وبعض أصحاب الزهري لا يذکرون فيه عن حمزة إنما يقولون عن سالم عن أبيه عن النبي صلی الله عليه وسلم وهکذا روی لنا ابن أبي عمر هذا الحديث عن سفيان بن عيينة عن الزهري عن سالم وحمزة ابني عبد الله بن عمر عن أبيهما عن النبي صلی الله عليه وسلم
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 743 حدیث مرفوع مکررات 21
ابن ابی عمر، سفیان، زہری، سالم و حمزة ابنی عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست تین چیزوں میں ہے عورت گھر اور جانور میں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض زہری کے ساتھ اس حدیث کی سند میں حمزہ کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ سالم کے واسطہ سے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرفوعا روایت کرتے ہیں۔ دونوں کی روایت ہم سے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بواسطہ سفیان بن عیینہ زہری سے بیان کی ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger (SAW) said, “There is ill omen in three things: woman, house and animal.”

[Bukhari 5093,Muslim 2225,Abu Dawud 3922,Nisai 3571,Ahmed 4544]

11 - نکاح کا بیان : (172)
کونسی چیز منحوس ہے اور کونسی مبارک ہوتی ہے؟
حدثنا يحيی بن خلف أبو سلمة حدثنا بشر بن المفضل عن عبد الرحمن بن إسحق عن الزهري عن سالم عن أبيه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في ثلاث في الفرس والمرأة والدار قال الزهري فحدثني أبو عبيدة بن عبد الله بن زمعة أن جدته زينب حدثته عن أم سلمة أنها کانت تعد هؤلا الثلاثة وتزيد معهن السيف
سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث نمبر 152 حدیث مرفوع مکررات 21
یحییٰ بن خلف، ابواسامہ، بشر بن مفضل، عبدالرحمن بن اسحاق ، زہری، سالم، حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست تین چیزوں میں ہے۔ گھوڑے، عورت اور گھر میں۔ زہری نے کہا مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی راوی زینب نے ان سے یہ حدیث بیان کی ام سلمہ نے وہ ان تین چیزوں کا شمار کرتی تھیں اور ہر ایک تلوار کو بڑھاتی تھیں ۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah said: “Omens are only to be found in ti-tree things: a horse, a woman and a house.” (Sahih) (One of the narrators) AzZuhri said: “Abu ‘Ubaidah bin ‘Abdullâh bin Zam’ ah said that his mother, Zainab, narrated to him, from Umm salamah, that she used to list these three, and add to them “the sword.”

46 - کتاب مختلف بابوں کے بیان میں : (229)
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے ۔
عن سهل بن سعد الساعدي أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال إن کان ففي الفرس والمرأة والمسکن يعني الشؤمو حدثني مالک عن ابن شهاب عن حمزة وسالم ابني عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال الشؤم في الدار والمرأة والفرس
موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 1676 حدیث مرفوع
سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے ایک گھر دوسرے عورت تیسرے گھوڑے میں۔
Malik related to me from Malik from Ibn Shihab from Hamza and Salim the sons of Abdullah ibn Umar from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Ill luck is in a house, a woman and a horse."

46 - کتاب مختلف بابوں کے بیان میں : (229)
جس کی نحوست سے بچنا چاہیے ۔
موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 1677 حدیث مرفوع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نحوست گھر، عورت، اور گھوڑے میں ہوتی ہے

فائدہ: عورت اور گھوڑا ایک برابر
__________________
كان شعبة بن الحجاج بن الورد يقول لأصحاب الحديث: "يا قوم! إنكم كلما تقدمتم في الحديث تأخرتم في القرآن"

rana ammar mazhar
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 409
پرانا 01-02-12, 10:10 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 443
کمائي: 10,440
شکریہ: 342
437 مراسلہ میں 1,432 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اپنی مرضی کے برعکس مسلم گھرانوں میں‌پیدا ہوا ہو، اور مغرب کی چکا چوند ترقی سے فکری طور پر مرعوب ہو کر غیر اسلامی عقائد و نظریات کو حرزجان بنا چکا ہو، اور کھلے عام اسلام کو خیر باد کہہ دینے کی اخلاقی جرات سے بھی محروم ہو، تو اسے اپنے مبنی بر وحی دین کی ہر شے دریابرد کرنے لائق نظر آتی ہے۔ اخلاقاً اور لفظاً تو وہ اسلام ہی کو مان رہے ہوتے ہیں، لیکن قلباً و معناً وہ ہمہ وقت اس کی تحریفات میں‌مشغول رہتے ہیں۔

عام بات ہے کہ کوئی شخص‌جب کسی دوسرے سے دلی طور پر کسی بھی وجہ سے نفرت کرنے لگ جائے۔ تو اس کی ہر اچھائی اور خوبی بھی کانٹے کی طرح‌چبھتی ہے۔ بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نفرت میں اور اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال ہمارے ان بھائیوں کو بھی درپیش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بغض‌اور نفرت و عناد میں‌اندھے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ علمائے کرام ان کے اعتراضات کے شافی جوابات دے کر فارغ‌ہو چکے، لیکن ان کے اندر کا حسد انہیں‌چین نہیں‌لینے دیتا۔ بار بار انہی گھسے پٹے اعتراضات کی تشہیر کئے جاتے ہیں۔

حدیث‌ کے جن الفاظ‌کو تختہ مشق کے لئے چنا گیا ہے، وہ دو طرح کے ہیں:
الشؤم في ثلاث في الفرس والمرأة والدار
نحوست تین چیزوں میں ہے۔ گھوڑے، عورت اور گھر میں۔

اور دوسری طرح کے الفاظ:
إن کان ففي الفرس والمرأة والمسکن
اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔

اور یہ بات معلوم ہے کہ جیسے قرآن کا بعض، بعض کی تفسیر کرتا ہے، ایسے ہی احادیث ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس موضوع پر تمام احادیث‌کو یکجا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درست عقیدہ تو یہ ہے کہ نحوست کسی چیز میں ہوتی ہی نہیں ہے۔ اور بالفرض اگر نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو یہ گھوڑے ، عورت اور گھر میں‌ہوتی۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہ یہ حدیث کہ:
لوکان شی سابق القدر لسبقۃ العین
یعنی اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لاجانے والی ہو تو وہ نظر بد ہوتی ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر پر سبقت لانے والی کسی چیز کا حقیقی وجود ہے ہی نہیں، ہاں اگر کوئی ایسی چیز ہوتی تو وہ نظر بد ہوتی۔

دوسری بات یہ کہ اس مقصد کے لئے گھوڑے، عورت اور گھر ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ ان تینوں‌میں ایسی کیا مشترک بات ہے؟ تو وہ یہ ہے کہ عموماً انسان کو سواری، عورت (بمعنی بیوی ) اور گھر (بمعنی گھر یا مال و دولت) سے محبت ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا سبب ہیں۔ نحوست کی نسبت ان کی جانب کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ چیزیں بجنسہٖ منحوس ہیں، کیونکہ یہ تو حدیث سے ثابت ہے کہ نحوست ہوتی ہی نہیں، بلکہ صحیح بخاری ہی کی ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں:
لاطیرۃ: کوئی نحوست اور بدشگونی نہیں [صحیح بخاری : ۵۷۵۴]

لہٰذا یہاں نحوست سے مراد ان چیزوں کا انسان کے لئے فتنہ ہونا ہے۔ اور اس بات میں کس کو اختلاف ہو سکتا ہے کہ عورت فتنہ ہے، سواری یا گھر (مال و دولت) فتنہ ہیں، اور ان کے فتنہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ یہ دل لبھانے والی، زیب و زینت اور آرائش سے بھرپور چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانوں کے لئے خوب کشش رکھی ہے۔ اور یہی کشش ان کے فتنہ ہونے کا باعث ہے۔

جیسے گھر میں نحوست کا یہ مطلب نہیں کہ گھر بذات خود منحوس ہے، لہٰذا گھروں میں رہنے کی بجائے سنیاس لے لیا جائے اور کٹیاؤں، یا جنگلوں اور غاروں میں جا کر رہیں، بلکہ گھر میں نحوست کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو گھر کی خواہش ہوتی ہے۔جو دل میں فخر و غرور اور احساس برتری یا شرمندگی اور احساس کمتری پیدا کرتی ہے۔ اور یہی خواہش اسے بالآخر حرام کام کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے، یا فرائض میں کوتاہی کا سبب بنتی ہے ۔ لہٰذا بالآخر گھر، سواری یا مال و دولت لوگوں کے لئے آزمائش اور فتنہ کا باعث بنتی ہیں، دنیا میں مگن رہنے اور آخرت کو بھول جانے کا باعث بنتی ہے اور گھر کی جانب نحوست کی نسبت کا یہی درست معنی ہے کہ گھر بذات خود دنیاوی آرام و آسائش کی چیز ہے، اور اسی وجہ سے لوگوں کے فتنہ کا سبب ہے۔

بعینہ اسی طرح عورت میں نحوست کا یہ مطلب نہیں کہ عورت بجنسہٖ منحوس ہے، لہٰذا شادیاں ہی نہ کرو اور بیٹی کی پیدائش پر غم مناؤ کہ منحوس شے پیدا ہو گئی ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت کو بھول کر اسے بھی منحوس گردانو۔ ایسے مطلب اخذ کرنے والے خود الٹی کھوپڑی کے لوگ ہیں۔ جو ہر سیدھی چیز کو بھی بغض و عناد کے سیاہ آئینے میں الٹا دیکھنے کے عادی ہیں۔ یہاں بھی نحوست کی نسبت فنتے ہی کے معنوں میں ہے اور یہی درست معنیٰ ہے کہ عورت بذات خود چونکہ آرائش کا سامان ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے کشش رکھی ہے، زیب و زینت کی شے بنایا ہے۔ لہٰذا اس کی وجہ سے انسان فتنہ میں مبتلا ہوتا ہے۔

لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ہم لاکھ دلیل سے کسی حدیث کی ایسی درست تشریح پیش کرتے رہیں کہ جو اس پر چھا جانے والے شکوک کے بادلوں کو ہٹانے کے لئے کافی ہو، لیکن ہمارے یہ کینہ پرور حضرات حدیث دشمنی میں اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ ورنہ تو ان کے مسلک کی بنیادیں ہی اکھڑ جائیں گی۔ کیونکہ منکرین حدیث بذات خود سو سالہ مختصر دور میں کثیر گروہوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہیں، اور واحد شے جو ان سب گروہوں میں مشترک ہے وہ یہی ہے کہ احادیث کا استخفاف و استہزاء کیا جائے۔ عوامی سطح پر احادیث میں تشکیک کی مہم چلائی جائے تاکہ حدیث کے سادہ سے الفاظ کو اپنی سڑی ہوئی غلیظ ذہنیت سے ذومعنی اضافہ جات کی پرکاری کر کے معصوم ذہنوں میں شکوک کے کانٹے بوئے جائیں۔ اور پھر مگر مچھ کے آنسوؤں کے ساتھ جذباتی دہائیاں زور و شور سے دی جائیں کہ دیکھو جی حدیث میں تو نعوذباللہ یہ بھی ہے ، وہ بھی ہے۔ ۔۔۔ وغیرہ۔ورنہ اس انکار حدیث کے علاوہ ان کے ہر دو گروہوں کا آپس میں اسلام کے مبادیات تک میں کفر و اسلام جیسا اختلاف موجود ہے۔

خیر، یہ احادیث صحیح بخاری و مسلم کی ہیں جن کی اسنادی صحت کسی شک سے بالا تر ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہرحال یہ الفاظ ضرور ثابت ہیں۔ اور جو لوگ ہماری پیش کردہ تشریح کے بعد بھی ان احادیث کا استہزاء اڑاتے رہنا چاہتے ہیں، تو ان سے گزارش ہے کہ اخلاقی جراءت کا ثبوت دیتے ہوئے پھر قرآن کی درج ذیل آیت کا بھی انہی معنوں میں استہزاء کریں ( اور اپنے ایمان کی فکر بالکل نہ کریں، رسول کی بات پر غلیظ تبصرے کرنے سے ایمان نہیں جاتا تو قرآن کی ایک آدھ آیت کا مذاق اڑانے سے بھی کچھ نہیں ہوگا)۔۔۔


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [التغابن : ۱۴]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو۔

لیں جی، اب استغفراللہ، نعوذباللہ پڑھتے ہوئے خواتین کے سامنے جا کر دہائی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صراحت کے ساتھ ایمان والوں کا دشمن قرار دیا ہے۔ ان منکرین حدیث حضرات کی حدیث کے بارے میں بعینہ وہی ٹیکنیک ہے جو غیر مسلم قرآن کے بارے میں اختیار کرتے ہیں۔ کہ رائی برابر کوئی چیز ملے تو اسے پہاڑ بنا کر پیش کر ڈالتے ہیں۔ خود ساختہ مفاہیم اپنے مخالفین کے گلے مڑھتے ہیں اور پھر اپنے ہی بنائے گئے خود ساختہ مفہوم کی تردید کر کے خوش ہو جاتے ہیں۔

جس طرح درج بالا آیت میں عداوت کا مطلب اپنے اصل معروف معنوں میں دشمنی مراد لینا پرلے درجے کی ناانصافی ہے۔ بلکہ یہاں بھی مراد یہی ہے کہ انسان کے لئے بیوی اور اولاد میں اللہ تعالیٰ نے بہت کشش اور محبت رکھی ہے۔ انسان ان کی محبت میں حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، یا اپنے دیگر فرائض و واجبات میں ان کی وجہ سے کوتاہی کر بیٹھتا ہے۔ لہٰذا دشمنی کی نسبت بیویوں اور اولاد کی جانب کرنا ، دراصل بیویوں اور اولاد کے فتنہ ہونے کی بنا پر ہے۔ بعینہ یہی تشریح حدیث کی بھی ہے فرق اتنا ہے کہ قرآن عورت کی جانب صراحت کے ساتھ دشمنی کی نسبت کرتا ہے اور حدیث میں نحوست کی نسبت کی گئی ہے وہ بھی شرطیہ (اگر نحوست ہوتی تو)۔ اور دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے۔ فللہ الحمد۔

اب یا قرآن پر بھی اعتراض کیجئے یا حدیث پر سے اعتراض واپس لیجئے۔ یا پھر اپنی تحریفانہ صلاحیت کو کام میں لائیں اور قرآن کی تحریف پر جٹ جائیں۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آن لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-02-12), rana ammar mazhar (01-02-12), کنعان (02-02-12), گلاب خان (02-02-12), ملک اظہر (01-02-12), محمدثاقب (03-02-12), حیدر (02-02-12), راجہ اکرام (03-02-12), عبداللہ آدم (03-02-12), عبداللہ حیدر (02-02-12)
پرانا 01-02-12, 10:33 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کیا عورتوں کو مردوں سے کوئی تکلیف نہیں ہے، کیا مرد عورت کی نظر میں منحوس نہیں ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اپنی مرضی کے برعکس مسلم گھرانوں میں‌پیدا ہوا ہو، اور مغرب کی چکا چوند ترقی سے فکری طور پر مرعوب ہو کر غیر اسلامی عقائد و نظریات کو حرزجان بنا چکا ہو، اور کھلے عام اسلام کو خیر باد کہہ دینے کی اخلاقی جرات سے بھی محروم ہو، تو اسے اپنے مبنی بر وحی دین کی ہر شے دریابرد کرنے لائق نظر آتی ہے۔ اخلاقاً اور لفظاً تو وہ اسلام ہی کو مان رہے ہوتے ہیں، لیکن قلباً و معناً وہ ہمہ وقت اس کی تحریفات میں‌مشغول رہتے ہیں۔
عام بات ہے کہ کوئی شخص‌جب کسی دوسرے سے دلی طور پر کسی بھی وجہ سے نفرت کرنے لگ جائے۔ تو اس کی ہر اچھائی اور خوبی بھی کانٹے کی طرح‌چبھتی ہے۔ بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نفرت میں اور اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال ہمارے ان بھائیوں کو بھی درپیش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بغض‌اور نفرت و عناد میں‌اندھے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ علمائے کرام ان کے اعتراضات کے شافی جوابات دے کر فارغ‌ہو چکے، لیکن ان کے اندر کا حسد انہیں‌چین نہیں‌لینے دیتا۔ بار بار انہی گھسے پٹے اعتراضات کی تشہیر کئے جاتے ہیں۔
حدیث‌ کے جن الفاظ‌کو تختہ مشق کے لئے چنا گیا ہے، وہ دو طرح کے ہیں:
الشؤم في ثلاث في الفرس والمرأة والدار
نحوست تین چیزوں میں ہے۔ گھوڑے، عورت اور گھر میں۔
اور دوسری طرح کے الفاظ:
إن کان ففي الفرس والمرأة والمسکن
اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ جیسے قرآن کا بعض، بعض کی تفسیر کرتا ہے، ایسے ہی احادیث ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس موضوع پر تمام احادیث‌کو یکجا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ درست عقیدہ تو یہ ہے کہ نحوست کسی چیز میں ہوتی ہی نہیں ہے۔ اور بالفرض اگر نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو یہ گھوڑے ، عورت اور گھر میں‌ہوتی۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہ یہ حدیث کہ:
لوکان شی سابق القدر لسبقۃ العین
یعنی اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لاجانے والی ہو تو وہ نظر بد ہوتی ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر پر سبقت لانے والی کسی چیز کا حقیقی وجود ہے ہی نہیں، ہاں اگر کوئی ایسی چیز ہوتی تو وہ نظر بد ہوتی۔
دوسری بات یہ کہ اس مقصد کے لئے گھوڑے، عورت اور گھر ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ ان تینوں‌میں ایسی کیا مشترک بات ہے؟ تو وہ یہ ہے کہ عموماً انسان کو سواری، عورت (بمعنی بیوی ) اور گھر (بمعنی گھر یا مال و دولت) سے محبت ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا سبب ہیں۔ نحوست کی نسبت ان کی جانب کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ چیزیں بجنسہٖ منحوس ہیں، کیونکہ یہ تو حدیث سے ثابت ہے کہ نحوست ہوتی ہی نہیں، بلکہ صحیح بخاری ہی کی ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں:
لاطیرۃ: کوئی نحوست اور بدشگونی نہیں [صحیح بخاری : ۵۷۵۴]
لہٰذا یہاں نحوست سے مراد ان چیزوں کا انسان کے لئے فتنہ ہونا ہے۔ اور اس بات میں کس کو اختلاف ہو سکتا ہے کہ عورت فتنہ ہے، سواری یا گھر (مال و دولت) فتنہ ہیں، اور ان کے فتنہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ یہ دل لبھانے والی، زیب و زینت اور آرائش سے بھرپور چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانوں کے لئے خوب کشش رکھی ہے۔ اور یہی کشش ان کے فتنہ ہونے کا باعث ہے۔
جیسے گھر میں نحوست کا یہ مطلب نہیں کہ گھر بذات خود منحوس ہے، لہٰذا گھروں میں رہنے کی بجائے سنیاس لے لیا جائے اور کٹیاؤں، یا جنگلوں اور غاروں میں جا کر رہیں، بلکہ گھر میں نحوست کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو گھر کی خواہش ہوتی ہے۔جو دل میں فخر و غرور اور احساس برتری یا شرمندگی اور احساس کمتری پیدا کرتی ہے۔ اور یہی خواہش اسے بالآخر حرام کام کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے، یا فرائض میں کوتاہی کا سبب بنتی ہے ۔ لہٰذا بالآخر گھر، سواری یا مال و دولت لوگوں کے لئے آزمائش اور فتنہ کا باعث بنتی ہیں، دنیا میں مگن رہنے اور آخرت کو بھول جانے کا باعث بنتی ہے اور گھر کی جانب نحوست کی نسبت کا یہی درست معنی ہے کہ گھر بذات خود دنیاوی آرام و آسائش کی چیز ہے، اور اسی وجہ سے لوگوں کے فتنہ کا سبب ہے۔
بعینہ اسی طرح عورت میں نحوست کا یہ مطلب نہیں کہ عورت بجنسہٖ منحوس ہے، لہٰذا شادیاں ہی نہ کرو اور بیٹی کی پیدائش پر غم مناؤ کہ منحوس شے پیدا ہو گئی ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت کو بھول کر اسے بھی منحوس گردانو۔ ایسے مطلب اخذ کرنے والے خود الٹی کھوپڑی کے لوگ ہیں۔ جو ہر سیدھی چیز کو بھی بغض و عناد کے سیاہ آئینے میں الٹا دیکھنے کے عادی ہیں۔ یہاں بھی نحوست کی نسبت فنتے ہی کے معنوں میں ہے اور یہی درست معنیٰ ہے کہ عورت بذات خود چونکہ آرائش کا سامان ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے کشش رکھی ہے، زیب و زینت کی شے بنایا ہے۔ لہٰذا اس کی وجہ سے انسان فتنہ میں مبتلا ہوتا ہے۔
لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ہم لاکھ دلیل سے کسی حدیث کی ایسی درست تشریح پیش کرتے رہیں کہ جو اس پر چھا جانے والے شکوک کے بادلوں کو ہٹانے کے لئے کافی ہو، لیکن ہمارے یہ کینہ پرور حضرات حدیث دشمنی میں اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ ورنہ تو ان کے مسلک کی بنیادیں ہی اکھڑ جائیں گی۔ کیونکہ منکرین حدیث بذات خود سو سالہ مختصر دور میں کثیر گروہوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہیں، اور واحد شے جو ان سب گروہوں میں مشترک ہے وہ یہی ہے کہ احادیث کا استخفاف و استہزاء کیا جائے۔ عوامی سطح پر احادیث میں تشکیک کی مہم چلائی جائے تاکہ حدیث کے سادہ سے الفاظ کو اپنی سڑی ہوئی غلیظ ذہنیت سے ذومعنی اضافہ جات کی پرکاری کر کے معصوم ذہنوں میں شکوک کے کانٹے بوئے جائیں۔ اور پھر مگر مچھ کے آنسوؤں کے ساتھ جذباتی دہائیاں زور و شور سے دی جائیں کہ دیکھو جی حدیث میں تو نعوذباللہ یہ بھی ہے ، وہ بھی ہے۔ ۔۔۔ وغیرہ۔ورنہ اس انکار حدیث کے علاوہ ان کے ہر دو گروہوں کا آپس میں اسلام کے مبادیات تک میں کفر و اسلام جیسا اختلاف موجود ہے۔
خیر، یہ احادیث صحیح بخاری و مسلم کی ہیں جن کی اسنادی صحت کسی شک سے بالا تر ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہرحال یہ الفاظ ضرور ثابت ہیں۔ اور جو لوگ ہماری پیش کردہ تشریح کے بعد بھی ان احادیث کا استہزاء اڑاتے رہنا چاہتے ہیں، تو ان سے گزارش ہے کہ اخلاقی جراءت کا ثبوت دیتے ہوئے پھر قرآن کی درج ذیل آیت کا بھی انہی معنوں میں استہزاء کریں ( اور اپنے ایمان کی فکر بالکل نہ کریں، رسول کی بات پر غلیظ تبصرے کرنے سے ایمان نہیں جاتا تو قرآن کی ایک آدھ آیت کا مذاق اڑانے سے بھی کچھ نہیں ہوگا)۔۔۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [التغابن : ۱۴]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو۔
لیں جی، اب استغفراللہ، نعوذباللہ پڑھتے ہوئے خواتین کے سامنے جا کر دہائی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صراحت کے ساتھ ایمان والوں کا دشمن قرار دیا ہے۔ ان منکرین حدیث حضرات کی حدیث کے بارے میں بعینہ وہی ٹیکنیک ہے جو غیر مسلم قرآن کے بارے میں اختیار کرتے ہیں۔ کہ رائی برابر کوئی چیز ملے تو اسے پہاڑ بنا کر پیش کر ڈالتے ہیں۔ خود ساختہ مفاہیم اپنے مخالفین کے گلے مڑھتے ہیں اور پھر اپنے ہی بنائے گئے خود ساختہ مفہوم کی تردید کر کے خوش ہو جاتے ہیں۔
جس طرح درج بالا آیت میں عداوت کا مطلب اپنے اصل معروف معنوں میں دشمنی مراد لینا پرلے درجے کی ناانصافی ہے۔ بلکہ یہاں بھی مراد یہی ہے کہ انسان کے لئے بیوی اور اولاد میں اللہ تعالیٰ نے بہت کشش اور محبت رکھی ہے۔ انسان ان کی محبت میں حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، یا اپنے دیگر فرائض و واجبات میں ان کی وجہ سے کوتاہی کر بیٹھتا ہے۔ لہٰذا دشمنی کی نسبت بیویوں اور اولاد کی جانب کرنا ، دراصل بیویوں اور اولاد کے فتنہ ہونے کی بنا پر ہے۔ بعینہ یہی تشریح حدیث کی بھی ہے فرق اتنا ہے کہ قرآن عورت کی جانب صراحت کے ساتھ دشمنی کی نسبت کرتا ہے اور حدیث میں نحوست کی نسبت کی گئی ہے وہ بھی شرطیہ (اگر نحوست ہوتی تو)۔ اور دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے۔ فللہ الحمد۔
اب یا قرآن پر بھی اعتراض کیجئے یا حدیث پر سے اعتراض واپس لیجئے۔ یا پھر اپنی تحریفانہ صلاحیت کو کام میں لائیں اور قرآن کی تحریف پر جٹ جائیں۔

کیا عورتوں کو مردوں سے کوئی تکلیف نہیں ہے، کیا مرد عورت کی نظر میں منحوس نہیں ہے ؟؟؟

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [التغابن : ۱۴]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو۔

کیا عورتیں "اے لوگو جو ایمان لائے ہو،" میں شامل نہیں ؟؟؟

لہٰذا یہاں نحوست سے مراد ان چیزوں کا انسان کے لئے فتنہ ہونا ہے۔ اور اس بات میں کس کو اختلاف ہو سکتا ہے کہ عورت فتنہ ہے، سواری یا گھر (مال و دولت) فتنہ ہیں، اور ان کے فتنہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ یہ دل لبھانے والی، زیب و زینت اور آرائش سے بھرپور چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانوں کے لئے خوب کشش رکھی ہے۔ اور یہی کشش ان کے فتنہ ہونے کا باعث ہے۔

کیا عورتیں انسان میں شامل نہیں ؟؟؟

مرد کیوں منحوس نہیں ہے ؟؟؟
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
پرانا 02-02-12, 12:36 AM   #4
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
جزاک اللہ خیرا شکاری بھائی۔ آپ نے بہترین وضاحت پیش کر دی ہے۔ اب "ذرھم فی خوضھم یلعبون"۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-02-12), rana ammar mazhar (02-02-12), کنعان (02-02-12), محمدثاقب (03-02-12), راجہ اکرام (03-02-12), شکاری (02-02-12), عبداللہ آدم (03-02-12)
پرانا 02-02-12, 03:48 AM   #5
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,482
کمائي: 94,019
شکریہ: 1,535
2,970 مراسلہ میں 8,215 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اپنی مرضی کے برعکس مسلم گھرانوں میں‌پیدا ہوا ہو، اور مغرب کی چکا چوند ترقی سے فکری طور پر مرعوب ہو کر غیر اسلامی عقائد و نظریات کو حرزجان بنا چکا ہو، اور کھلے عام اسلام کو خیر باد کہہ دینے کی اخلاقی جرات سے بھی محروم ہو، تو اسے اپنے مبنی بر وحی دین کی ہر شے دریابرد کرنے لائق نظر آتی ہے۔ اخلاقاً اور لفظاً تو وہ اسلام ہی کو مان رہے ہوتے ہیں، لیکن قلباً و معناً وہ ہمہ وقت اس کی تحریفات میں‌مشغول رہتے ہیں۔

عام بات ہے کہ کوئی شخص‌جب کسی دوسرے سے دلی طور پر کسی بھی وجہ سے نفرت کرنے لگ جائے۔ تو اس کی ہر اچھائی اور خوبی بھی کانٹے کی طرح‌چبھتی ہے۔ بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نفرت میں اور اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال ہمارے ان بھائیوں کو بھی درپیش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بغض‌اور نفرت و عناد میں‌اندھے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ علمائے کرام ان کے اعتراضات کے شافی جوابات دے کر فارغ‌ہو چکے، لیکن ان کے اندر کا حسد انہیں‌چین نہیں‌لینے دیتا۔ بار بار انہی گھسے پٹے اعتراضات کی تشہیر کئے جاتے ہیں۔

حدیث‌ کے جن الفاظ‌کو تختہ مشق کے لئے چنا گیا ہے، وہ دو طرح کے ہیں:
الشؤم في ثلاث في الفرس والمرأة والدار
نحوست تین چیزوں میں ہے۔ گھوڑے، عورت اور گھر میں۔

اور دوسری طرح کے الفاظ:
إن کان ففي الفرس والمرأة والمسکن
اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی ایک گھوڑے میں دوسرے عورت میں تیسرے گھر میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
بہت شکریہ جناب
ماشاء اللہ آپ نے بہترین طریقے سے بات واضح کردی۔
گلاب خان آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (02-02-12), عبداللہ آدم (03-02-12)
پرانا 02-02-12, 06:27 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عورت گدھوں اور کتوں کی مثل

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گلاب خان مراسلہ دیکھیں

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
بہت شکریہ جناب
ماشاء اللہ آپ نے بہترین طریقے سے بات واضح کردی۔
عورت گدھوں اور کتوں کی مثل
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
پرانا 02-02-12, 07:37 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default یہ احادیث صحیح بخاری و مسلم کی ہیں جن کی اسنادی صحت کسی شک سے بالا تر ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شکاری مراسلہ دیکھیں
خیر، یہ احادیث صحیح بخاری و مسلم کی ہیں جن کی اسنادی صحت کسی شک سے بالا تر ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہرحال یہ الفاظ ضرور ثابت ہیں۔ اور جو لوگ ہماری پیش کردہ تشریح کے بعد بھی ان احادیث کا استہزاء اڑاتے رہنا چاہتے ہیں،
خیر، یہ احادیث صحیح بخاری و مسلم کی ہیں جن کی اسنادی صحت کسی شک سے بالا تر ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہرحال یہ الفاظ ضرور ثابت ہیں۔

عورت گدھوں اور کتوں کی مثل

5 - نماز کا بیان : (322)
نمازی کے سترہ کی مقدار کے بیان میں
حدثنا أبو بکر بن أبي شيبة حدثنا إسمعيل ابن علية قال ح و حدثني زهير بن حرب حدثنا إسمعيل بن إبراهيم عن يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إذا قام أحدکم يصلي فإنه يستره إذا کان بين يديه مثل آخرة الرحل فإذا لم يکن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والکلب الأسود قلت يا أبا ذر ما بال الکلب الأسود من الکلب الأحمر من الکلب الأصفر قال يا ابن أخي سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1132 حدیث مرفوع مکررات 7 متفق علیہ 2 بدون مکرر
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، یونس، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس کے سامنے بطور سترہ اونٹ کے کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو وہ کافی ہے اور اس کی مثل نہ ہو تو اس کی نماز کو گدھا عورت اور سیاہ کتا منقطع کر دیتا ہے راوی کہتا ہے میں نے کہا اے ابوذر سیاہ کتے کی سرخ و زرد کتے سے تخصیص کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے کہا اے بھیجتے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔
Abu Dharr reported: The Messenger of 'Allah (may peace be upon him) said: When any one of you stands for prayer and there is a thing before him equal to the back of the saddle that covers him and in case there is not before him (a thing) equal to the back of the saddle, his prayer would be cut off by (passing of an) ass, woman, and black dog. I said: O Abu Dharr, what feature is there in a black dog which distinguish it from the red dog and the yellow dog? He said: O, son of my brother, I asked the Messenger of Allah (may peace be upon him) as you are asking me, and he said: The black dog is a devil.

5 - نماز کا بیان : (322)
نمازی کے سترہ کی مقدار کے بیان میں
حدثنا إسحق بن إبراهيم أخبرنا المخزومي حدثنا عبد الواحد وهو ابن زياد حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن الأصم حدثنا يزيد بن الأصم عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يقطع الصلاة المرأة والحمار والکلب ويقي ذلک مثل مؤخرة الرحل
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1134 حدیث مرفوع مکررات 3 متفق علیہ 1 بدون مکرر
اسحاق بن ابراہیم، مخزومی، عبدالواحد، ابن زیاد، عبیداللہ بن عبداللہ بن اصم، یزید بن اصم، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورت گدھا اور کتا نماز کو قطع کر دیتا ہے ہاں اگر کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے برابر سترہ ہو تو نماز باقی رہتی ہے۔
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: A woman, an ass and a dog disrupt the prayer, but something like the back of a saddle guards against that.

2 - نماز کا بیان : (1086)
کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حدثنا حفص بن عمر حدثنا شعبة ح و حدثنا عبد السلام بن مطهر وابن کثير المعنی أن سليمان بن المغيرة أخبرهم عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال حفص قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم يقطع صلاة الرجل وقال عن سليمان قال أبو ذر يقطع صلاة الرجل إذا لم يکن بين يديه قيد آخرة الرحل الحمار والکلب الأسود والمرأة فقلت ما بال الأسود من الأحمر من الأصفر من الأبيض فقال يا ابن أخي سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 699 حدیث مرفوع مکررات 7
حفص بن عمر، شعبہ، عبدالسلام، بن مطہر، ابن کثیر، سلیمان بن مغیرہ، حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدمی کی نماز ٹوٹ جاتی ہے جبکہ اس کے سامنے کوئی چیز پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر نہ ہو اور اس کے سامنے سے گدھا، کالا کتا اور عورت گزر جائے میں نے کہا کالے رنگ کی کیا خصوصیت ہے؟ اگر وہ سرخ زرد یا سفید ہو تو کیسا ہے؟ فرمایا اے بھتیجے جو بات تم نے مجھ سے پوچھی ہے وہی بات میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

9 - قبلہ کے متعلق احادیث : (35)
بحالت نماز کونسی شے کے سامنے سے گزرنے سے نماز فاسد ہوتی ہے اور کونسی شے سے نہیں
أخبرنا عمرو بن علي قال أنبأنا يزيد قال حدثنا يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إذا کان أحدکم قاما يصلي فإنه يستره إذا کان بين يديه مثل آخرة الرحل فإن لم يکن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته المرأة والحمار والکلب الأسود قلت ما بال الأسود من الأصفر من الأحمر فقال سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 754 حدیث مرفوع مکررات 7
عمرو بن علی، یزید، یونس، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، ابوذر سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس وقت تمہارے میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز ادا کرتا ہے تو اس کے واسطے کوئی شئی آڑ بن جائے گی۔ جو کہ پالان کی لکڑی کے برابر ہو لیکن اگر اس کے سامنے اتنی پڑی کوئی شئی نہ ہو تو اس کی نماز کو عورت اور گدھی اور کالا کتا فاسد کر دے گا (جب کہ یہ تین اشیاء نمازی کے سامنے سے گزریں) حضرت عبداللہ بن صامت نے فرمایا کہ میں نے ابوذر سے دریافت کیا سیاہ رنگ کے کتے کی کیا خصوصیت ہے؟ اگر زرد یا لال رنگ کا کتا ہو تو پھر کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
It was narrated that Qatadah said: “I said to Jabir bin Zaid: ‘What invalidates prayer?’ He said: ‘Ibn ‘Abbas used to say: A menstruating woman and a dog. (One of the narrators) Yahya said: “Shu’bah said it was a Marfa’ report.” (Sahih)

2 - نماز کا بیان : (297)
نماز کتے گدھے اور عورت کے گزرنے کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی
حدثنا أحمد بن منيع حدثنا هشيم أخبرنا يونس بن عبيد ومنصور بن زاذان عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت قال سمعت أبا ذر يقول قال رسول الله صلی الله عليه وسلم إذا صلی الرجل وليس بين يديه کآخرة الرحل أو کواسطة الرحل قطع صلاته الکلب الأسود والمرأة والحمار فقلت لأبي ذر ما بال الأسود من الأحمر من الأبيض فقال يا ابن أخي سألتني کما سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال الکلب الأسود شيطان قال وفي الباب عن أبي سعيد والحکم بن عمرو الغفاري وأبي هريرة وأنس قال أبو عيسی حديث أبي ذر حديث حسن صحيح وقد ذهب بعض أهل العلم إليه قالوا يقطع الصلاة الحمار والمرأة والکلب الأسود قال أحمد الذي لا أشک فيه أن الکلب الأسود يقطع الصلاة وفي نفسي من الحمار والمرأة شي قال إسحق لا يقطعها شي إلا الکلب الأسود
جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 325 حدیث مرفوع مکررات 7
احمد بن منیع، ہشیم، یونس، منصور بن زاذان، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت سے روایت ہے کہ میں نے ابوذر سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر یا فرمایا درمیانی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز کالے کتے گدھے یا عورت کے گزرنے سے ٹوٹ جائے گی عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے ابوذر سے پوچھا کالے اور سفید یا سرخ کی کیا قید ہے تو انہوں نے فرمایا اے بھیجتے تو نے مجھ سے ایسا ہی سوال کیا ہے جس طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کالا کتا شیطان ہے اس باب میں ابوسعید حکم غفاری ابوہریرہ اور انس سے بھی روایات مروی ہیں امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابوذر حسن صحیح ہے اور بعض اہل علم کا یہی خیال ہے کہ گدھے عورت یا کالے کتے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے امام احمد فرماتے ہیں کہ سیاہ کتے کے گزرنے سے نماز ٹوٹنے میں تو مجھے شک نہیں البتہ گدھے اور عورت کے بارے میں مجھے شک ہے امام اسحاق فرماتے ہیں کہ سوائے کالے کتے کے کسی چیز سے نماز نہیں ٹوٹتی
Abdullah ibn Samit (RA) reported having heard from Sayyidina Abu Dharr (RA) that Allah’s Messenger (SAW) said, “If anyone prays and there is nothing is nothing in front of him like the hack, or like the middle of a saddle then his salah is cut off by the passing ahead of a black dog, a donkey or a woman.” Abdullah asked Abu Dharr. “What is the difference between black and white or red?” He said, “Brother, you put the same question to me as I had put to Allah’s Messenger He had said that the black dog is a devil.”

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
حدثنا زيد بن أخزم أبو طالب حدثنا معاذ بن هشام حدثنا أبي عن قتادة عن زرارة بن أوفی عن سعد بن هشام عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والکلب والحمار
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 950 حدیث مرفوع مکررات 3
زید بن احزم ابوطالب، معاذ بن ہشام، ہشام، قتادہ، زرارة بن اوفیٰ، سعد بن ہشام، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet P.B.U.H said: "The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.(Sahih)

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
حدثنا جميل بن الحسن حدثنا عبد الأعلی حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلی الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والکلب والحمار
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 951 حدیث مرفوع مکررات 3
جمیل بن حسن، عبدالاعلی، سعید، قتادة، حسن، حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عورت ، کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں ۔
It was narrated from ‘Abdullâh bin Mughaffal that the Prophet said P.B.U.H “The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.” (Sahih)

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر عن النبي صلی الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة إذا لم يکن بين يدي الرجل مثل مؤخرة الرحل المرأة والحمار والکلب الأسود قال قلت ما بال الأسود من الأحمر قال سألت رسول الله صلی الله عليه وسلم کما سألتني فقال الکلب الأسود شيطان
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 952 حدیث مرفوع مکررات 7
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت اذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب مرد کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت ، گدھا اور سیاہ کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ روای کہتے ہیں میں نے حضرت ابوذر سے پوچھا کہ سیاہ کتے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے (کہ سیاہ کتے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے باقی سے نہیں) فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا تو آپ نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullâh bin Sâmit from Abu Dharr, that the prophet P.B.U.H said: “The prayer is severed by a woman, a donkey, and a black dog, if there is not something like the handle of a saddle in front of a man.” I (‘Abdullâh) said: “What is wrong with a black dog and not a red one?” He (Abu Dharr) said: ‘I asked the Messenger of Allah p.b.u.h the same questiofl and he said: “The black dog is a Shaithn (satan).” (Sahih)

7 - اقامت نماز اور اس کا طریقہ : (630)
نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرے اس کو کہاں تک ہو سکے رو کے ۔
حدثنا أحمد بن عبدة أنبأنا حماد بن زيد حدثنا يحيی أبو المعلی عن الحسن العرني قال ذکر عند ابن عباس ما يقطع الصلاة فذکروا الکلب والحمار والمرأة فقال ما تقولون في الجدي إن رسول الله صلی الله عليه وسلم کان يصلي يوما فذهب جدي يمر بين يديه فبادره رسول الله صلی الله عليه وسلم القبلة
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 953 حدیث مرفوع مکررات 3
احمد بن عبدة، حماد بن زید، یحییٰابومعلی، حضرت حسن عرنی فرماتے ہیں حضرت ابن عباس کے پاس نماز کو توڑنے والی چیزوں کا ذکر ہوا تو بعضوں نے کہا کتا ، گدھا ، عورت (بھی نماز کو توڑ دیتے ہیں) آپ نے فرمایا بکری کے بچہ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نماز ادا فرما رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ اس سے پہلے جلدی سے قبلہ کی طرف ہو گئے ۔
It was narrated that Hasan AI-'Urani said: "Mention was made in the presence of Ibn 'Abbas about what severs the prayer. They mentioned a dog, a donkey and a woman. He said: 'What do you say about kids (young goats)? The Messenger of Allah P.B.U.Hwas performing prayer one day, when a kid came and wanted to pass in front of him. The Messenger of Allah P.B.U.H preceded it toward the Qiblah. (to tighten the space and prevent it
from passing in front of him).''' (Da'if)

11 - نماز کا بیان : (527)
سترہ نماز کی محافظت کرتا ہے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تَقْطَعُ الصَّلٰوۃَ الْمَرْاَۃُ وَالْحِمَارُ وَالْکَلْبُ وَےَقِیْ ذَالِکَ مِثْلُ مُؤَخِّرَۃِ الرَّحْلِ۔ (صحیح مسلم)
مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 741
" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے نا مدار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورت، گدھا اور کتا ( نمازی کے آگے سے گزرنے کی صورت میں) نماز کو باطل کر دیتے ہیں اور کجاوہ کی پچھلی لکٹری کی مانند کسی چیز کو (نمازی کے آگے سترہ بنا کر) رکھ لینا (نماز کے) اس باطل کر دینے کو بچا لیتا ہے۔" (صحیح مسلم)

3 - نماز کا بیان : (392)
آگے سے گزرنے والی کون سی چیز نماز کو توڑتی ہے اور کون سی نہیں توڑتی۔
أخبرنا أبو الوليد وحجاج قالا حدثنا شعبة أخبرني حميد بن هلال قال سمعت عبد الله بن الصامت عن أبي ذر أنه قال يقطع صلاة الرجل إذا لم يكن بين يديه كآخرة الرحل الحمار والكلب الأسود والمرأة قال قلت فما بال الأسود من الأحمر من الأصفر قال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الأسود شيطان
سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 1378 حدیث مرفوع
حضرت عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتایا اگر انسان کے نماز پڑھنے کے دوران اس کے آگے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی رکاوٹ نہ ہو تو گدھا، کالا کتا، عورت کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے دریافت کیا کالا کتا ہی کیوں۔ سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اسی طرح میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہی سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حدثنا يحيى عن شعبة قال حدثني قتادة عن جابر بن زيد عن ابن عباس قال يحيى كان شعبة يرفعه يقطع الصلاة الكلب والمرأة الحاض
مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1331 حدیث مرفوع
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ کتا اور ایام والی عورت کے نمازی کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات
حدثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن سعد بن هشام عن أبي هريرة أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والكلب والحمار
مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 821 حدیث مرفوع
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کتا اور گدھا نماز کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حدثنا إسماعيل قال أخبرنا هشام الدستواي عن قتادة عن زرارة بن أوفى عن أبي هريرة قال يقطع الصلاة الكلب والحمار والمرأة قال هشام ولا أعلمه إلا عن النبي صلى الله عليه وسلم
مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 2305 حدیث مرفوع
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت، کتا اور گدھا نمازی کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کی مرویات
قال حدثنا محمد بن جعفر وعبد الأعلى قالا حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن عن عبد الله بن مغفل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والكلب والحمار
مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2600 حدیث مرفوع
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازی کے آگے سے عورت کتا یا گدھا گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت عبداللہ بن مغفل کی مرویات۔
حدثنا عبد الأعلى حدثنا سعيد عن قتادة عن الحسن عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يقطع الصلاة المرأة والحمار والكلب
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 737 حدیث مرفوع
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی کے آگے سے عورت، کتا یا گدھا گذر جانے سے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا عفان حدثنا شعبة أخبرني حميد بن هلال سمع عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقطع صلاة الرجل إذا لم يكن بين يديه كآخرة الرحل المرأة والحمار والكلب الأسود قلت ما بال الأسود من الأحمر قال ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1434 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا إسماعيل عن يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن صامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام أحدكم يصلي فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل فإذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود قلت يا أبا ذر ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر من الكلب الأصفر قال يا ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1454 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا بهز حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا حميد عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال يقطع صلاة الرجل إذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل المرأة والحمار والكلب الأسود قال قلت لأبي ذر ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر قال يا ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1488 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا إسماعيل عن يونس عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أحدكم قام يصلي فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل فإن لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود قال فقلت يا أبا ذر ما بال الكلب الأسود من الكلب الأحمر من الكلب الأصفر فقال يا ابن أخي سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال الكلب الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1528 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا محمد بن جعفر وحجاج قالا حدثنا شعبة عن حميد بن هلال عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يدي الرجل مثل آخرة الرحل المرأة والحمار والكلب الأسود فقلت ما بال الأسود في الأحمر فقال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سألتني فقال إن الأسود شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1534 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلاحصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

1 - ا ب ج : (26407)
حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدثنا عبد الرزاق حدثنا معمر عن علي بن زيد بن جدعان عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال يقطع الصلاة الكلب الأسود أحسبه قال والمرأة الحاض قال قلت لأبي ذر ما بال الكلب الأسود قال أما إني قد سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذاك فقال إنه شيطان
مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1556 حدیث مرفوع
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
پرانا 02-02-12, 09:14 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,570
کمائي: 16,495
شکریہ: 6,865
935 مراسلہ میں 1,540 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default دوسرے یہ کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ یہ ہیں ہمارے ’’ اکابر علما ‘‘ کے دین میں اختیارات۔

یہ ہیں ہمارے ’’ اکابر علما ‘‘ کے دین میں اختیارات۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نوشاد احمد مراسلہ دیکھیں
۳:۔بخاری کتاب الطب میں ایک روایت رسول اللہ سے منسوب ہے
’’ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ بیوی میں گھر میں اور گھوڑے میں۔
اس کا دفاع کرتے ہوئے حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں عام جھگڑے فساد اور نحوست ،عورتوں،جائیداد اور گھوڑوں یعنی فوج کے جھگڑوں کی وجہ سے ہے۔
دوسرے یہ کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ دیکھئے ماہنامہ اہل حدیث ۲۴۔۲۵ منسوخ حدیث سے استدلال کرنا غلط ہوتا ہے۔
کتاب ہذا صفحہ نمبر ۷۰
(عرض نوشاد:۔پہلی بات تو یہ ہے کہ منحوس ہونا ایک اور بات ہے اور جھگڑے کا سبب ہونا دوسری بات مثال کے طور پر آج عالمی طاقتیں وسائل پر قبضے کے لیئے کمزور ممالک پر جارحیت کا ارتکاب کر رہی ہیں ۔تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ وسائل جن کی وجہ سے جنگ ہو رہی ہے وہ منحوس ہیں۔کوئی بھی ان وسائل کو منحوس نہیں سمجھے گا بلکہ اللہ کا تحفہ سمجھے گا۔ اس لیئے ان وسائل پر قبضے کے لیئے جھگڑا تو ہو سکتا ہے مگر اس سے یہ وسائل منحوس ثابت نہیں ہو سکتے۔ اس لیئے گھر ،گھوڑا اور بیوی جھگڑے کا سبب تو ہو سکتے ہیں اور اسباب کی طرح۔ مگر انھیں منحوس نہیں کہا جا سکتا۔
دوسر ی بات اور عجیب ہے ہم نے اوپر دیکھا کہ قران کی دو آیات کی تلاوت منسوخ ہو گئی تو انھیں قران میں نہیں لکھا گیا مگر یہ روایت منسوخ ہونے کے باوجود بخاری میں موجود ہے۔ یعنی ’’ اکابر علما ‘‘ کے نزدیک اگر آیت منسوخ التلاوت ہو تو اسے ہر گز قران میں نہیں لکھا جا سکتا مگر حدیث اگر منسوخ ہو تو ضرور کتاب میں درج رہے گی۔ یہ ہے ’’ اکابر علما ‘‘کے نزدیک قران و حدیث کا فرق۔ دو آیات کے نہ لکھنے کے باوجود قران کامل ہے۔ مگر منسوخ حدیث کتاب حدیث میں سے نکالیں گے تو کتاب حدیث کی کاملیت متاثر ہوگی۔
پھر یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ حدیث منسوخ ہے؟ کیا رسول اللہ نے کوئی ایسی ہدایت دی ہے اس حدیث کے بارے میں؟ یا ’’ اکابر علما ‘‘ نے خود ہی یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ روایت منسوخ ہے۔
کیا رسول اللہ کی بیان کی ہوئی روایت کے بارے میں ’’ اکابر علما ‘‘ کو خود رسول اللہ نے یا اللہ نے یہ اختیار دیا ہے کہ چاہے جس روایت کو منسوخ قرار دیں چاہے جس کو نہ دیں؟
اگر ’’ اکابر علما کو یہ اختیار دیا گیا ہے تو بتایا جائے کہ یہ اختیار کس آیت میں یا کس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
یعنی یہ علما اللہ اور رسول اللہ سے بھی زیادہ با اختیار ہیں کہ جن آیات کو چاہیں منسوخ التلاوت قرار دے دیں ۔اور جس حدیث کو چاہے منسوخ قرار دے دیں۔یہ ہیں ہمارے ’’ اکابر علما ‘‘ کے دین میں اختیارات۔

دوسرے یہ کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ دیکھئے ماہنامہ اہل حدیث ۲۴۔۲۵ منسوخ حدیث سے استدلال کرنا غلط ہوتا ہے۔


یعنی یہ علما اللہ اور رسول اللہ سے بھی زیادہ با اختیار ہیں کہ جن آیات کو چاہیں منسوخ التلاوت قرار دے دیں ۔اور جس حدیث کو چاہے منسوخ قرار دے دیں۔ یہ ہیں ہمارے ’’ اکابر علما ‘‘ کے دین میں اختیارات۔
rana ammar mazhar آف لائن ہے  
پرانا 02-02-12, 10:06 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,614
کمائي: 31,179
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کچھ لوگ گھوڑے بھی بیچتے رہے ہیں‌ اور عورتیں بھی ۔۔۔ اس طرح کچھ لوگوں کے نزدیک دونوں ہی ایک طرح‌کی کموڈوٹی ہیں ۔۔۔ کہ صحرائی علاقوں میں اس کموڈوٹٰ کی کمیابی کے باعث، ان دونوں کموڈوٹی کی بلیک مارکیٹنگ بہت ہوتی ہے
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (02-02-12)
پرانا 03-02-12, 12:32 AM   #10
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فاروق صاحب پھر آپ شکایت کرتے ہیں کہ آپ کی کردار کشی کی جارہی ہے...........یہ بھی بتایا کریں کہ پہلے اپ کیا کیا کرتے ہیں

اپ ہی اپنی اداؤں پہ
عبداللہ آدم آن لائن ہے  
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (03-02-12)
پرانا 03-02-12, 10:21 AM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,572
کمائي: 315,169
شکریہ: 25,210
16,389 مراسلہ میں 41,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم عرض کریں گے تو پھر کہیں گے بولتا ہے
اپنی اپنی اوقات دیکھیں اور حدیث کا مقام دیکھیں ، اپنے آپ کو کسی قابل بنا لیں پھر بالترتیب اس موضوع پر بات کرنے کا ڈھنگ، حوصلہ اور انداز سیکھ لیں اس کے بعد بات کریں گے تو اچھے بھی لگیں گے کسی نہ کسی کو

باقی کچھ میں لکھتا نہیں بس آپ خود ہی سمجھ جائیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), کنعان (03-02-12), مرزا عامر (25-02-12), شکاری (03-02-12), عبداللہ آدم (03-02-12)
پرانا 03-02-12, 08:01 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,614
کمائي: 31,179
شکریہ: 7,118
2,944 مراسلہ میں 8,724 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
ہم عرض کریں گے تو پھر کہیں گے بولتا ہے
اپنی اپنی اوقات دیکھیں اور حدیث کا مقام دیکھیں ، اپنے آپ کو کسی قابل بنا لیں پھر بالترتیب اس موضوع پر بات کرنے کا ڈھنگ، حوصلہ اور انداز سیکھ لیں اس کے بعد بات کریں گے تو اچھے بھی لگیں گے کسی نہ کسی کو

باقی کچھ میں لکھتا نہیں بس آپ خود ہی سمجھ جائیں
کس خلیفہ کی عدالت میں یہ روایت دو گواہوں کی گواہی سے ثابت ہوئی تھی ؟ انجیل میں‌تحریف کس نے کی ؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (03-02-12)
پرانا 03-02-12, 08:08 PM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

احادیث سے متعلقہ ہر تھریڈ """"عارضی طور پر"""" بند کیا جا رہا ہے۔ خواہ وہ اسلامی سیکشن میں ہو یا اس سے باہر۔ نئے قوانین اور لائحہ عمل مرتب کرنے کے بعد احادیث پر ڈسکشن کھول دی جائے گی۔

تب تک سبھی ممبرز سے التماس ہے کہ احادیث سے متعلق کسی بھی نئے یا پرانے تھریڈ میں گفتگو کرنے سے گُریز کریں۔
حیدر آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (03-02-12), پاکستانی (08-02-12), مرزا عامر (03-02-12), اجمل (03-02-12), شکاری (04-02-12)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
گھوڑا, گھر, نحوست, حدیث, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حکومت کا دوست نہیں پاکستان دوست کا کردار ادا کررہا ہوں، نواز شریف گلاب خان خبریں 1 27-12-10 03:59 AM
امریکہ دوست ، عوام دشمن حکومت ۔۔! ARHAM پاکستان میں دہشت گردی 4 22-04-10 09:29 PM
ہمارے عوام دوست سیاستدان فیصل ناصر سیاست 21 27-05-09 02:35 PM
ہمارے عوام دوست سیاستدان فیصل ناصر سیاست 0 15-05-09 03:38 AM
ہماری حکومت میں نحوست نہیں، عوام ہمیں کامیاب کریں، وزیر اعلیٰ عبدالقدوس خبریں 0 08-11-07 03:32 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:11 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger