واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


حقیقت روشن ہوگئی امام شافعی اور ایک منکر حدیث کے درمیان مکالمہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-12-10, 09:58 PM   #1
حقیقت روشن ہوگئی امام شافعی اور ایک منکر حدیث کے درمیان مکالمہ
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 07-12-10, 09:58 PM

حقیقت روشن ہوگئی امام شافعی علیہ رحمہ اور ایک منکر حدیث کے درمیان مکالمہ


آج کل چونکہ منکرین حدیث کا ایک باضابطہ ادارہ قائم ہے اور پڑھے لکھے لوگ (جو دینی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں ) اس فتنہ کا شکار ہوجاتے ہیں ‘ان کی فتنہ پردازیاں اور دسیسہ کاریاں ایسی ہیں کہ الامان والحفیظ۔ یہ لوگ دوسروں کو قائل کرنے کے لئے جھوٹی باتیں کرنا اور علمائے کرام پر بہتان بازی ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ پروفیسر محمدمحمد ابو زہرہ کلیہ اصول الدین الازہر یونیوسٹی نے اپنی کتاب ”الحدیث والمحدثون“ میں حضرت الامام محقق اسلام حضرت امام شافعی علیہ رحمہ کا ایک مناظرہ جو کہ ایک منکر حدیث سے ہوا ،نقل کیا ہے ۔افادہٴ عام کی غرض سے قارئین بینات کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ مناظرہ ملاحظہ فرمائیں۔

منکر حدیث: امام شافعی کو مخاطب کرتے ہوئے
آپ عربی ہیں اور قرآن آپ کی زبان میں اترا ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ محفوظ کتاب ہے‘ اس میں خداوندی فرائض بیان کئے گئے ہیں‘ اگر کوئی شخص اس کے کسی حرف میں بھی شک وشبہ کا اظہار کرے تو آپ اس سے توبہ کا مطالبہ کریں گے‘ اگر توبہ کرے تو فبہا‘ ورنہ (مرتد سمجھ کر) اسے قتل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا:

”تبیاناً لکل شئ“

اس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ جب یہ بات ہے تو تمہارا یہ قول کیسے درست ہے کہ فرض عام بھی ہوتا ہے اور خاص بھی؟ نیز یہ بھی کہ امر وجوب کے لئے بھی ہوتا ہے اور اباحت کے لئے بھی؟ دوسری طرف آپ ایک شخص سے ایک یا دو تین احادیث روایت کرتے ہیں ،پھر وہ شخص دوسرے شخص سے‘ یہاں تک کہ راویوں کا سلسلہ نبی اکرم اتک پہنچ جاتاہے‘ مجھے معلوم ہے کہ آپ برملا کہا کرتے ہیں کہ: فلاں شخص سے فلاں حدیث کے نقل کرنے میں غلطی سرزد ہوئی ۔ میں جانتاہوں کہ اگر آپ ایک حدیث کی بناء پر کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرائیں اور کوئی شخص اس حدیث کے بارے میں یہ کہہ دے کہ: نبی کریم ا نے ایسا نہیں فرمایا‘ بلکہ تم سے یا اس شخص سے غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے آپ نے یہ حدیث سنی ،تو تم اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کروگے‘ تم اسے صرف یہ بات کہو گے کہ تم نے بہت بری بات کہی‘ یہ بات کیوں کر درست ہے کہ احادیث کی بناء پر قرآن کے ظاہری احکام میں تفریق کی جائے؟ جب تم حدیث کو وہی اہمیت دیتے ہو جو قرآن کو حاصل ہے تو اس حدیث کا انکار کرنے والے کے خلاف تم کونسی حجت قائم کر سکو گے؟؟؟؟؟؟

امام شافعی :-
جو شخص اس زبان سے واقف ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا‘ وہ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ احادیث رسول اللہ ا پر عمل کرنا ضروری ہے۔

منکر حدیث: اس کی کوئی دلیل آپ کو یاد ہو تو پیش کیجئے!
امام شافعی:-
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے:

ہو الذی بعث فی الامیین رسولاً منہم یتلوا علیہم اٰیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمة“۔ (الجمعہ:۲)

ترجمہ:۔”وہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات سناتا اور ان کو پاک کرتا اور کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے“۔

منکر حدیث:
کتاب سے تو کتاب الٰہی مراد ہے، مگر حکمت کیا چیز ہے؟
امام شافعی:
حکمت سے حدیث رسول مراد ہے۔
منکر حدیث:
کیا اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ا اجمالاً بھی قرآن کی تعلیم دیتے تھے اور حکمت یعنی مذکورہ احکام بھی بیان فرماتے تھے؟
امام شافعی:
غالباً آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں جو فرائض مذکور ہیں، مثلاً: نماز‘ زکوٰة‘ حج وغیرہ حضور اکرم ا ان کی کیفیت اور تفصیل بیان فرمادیا کرتے تھے۔
منکر حدیث:
جی ہاں ! میرا یہی مطلب ہے۔
امام شافعی:-
تو میں بھی آپ سے یہی کہہ رہا ہوں کہ فرائض کی تفصیل حدیث رسول سے معلوم ہوتی ہے۔
منکر حدیث:
اس امر کا بھی احتمال ہے کہ کتاب اور حکمت دونوں سے ایک ہی چیز مراد ہو، اور کلام کو تکرار واعادہ پر محمول کیا جائے؟
امام شافعی:
آپ ہی بتایئے کہ دونوں سے ایک چیز مراد لینا بہتر ہے یا دونوں؟
منکر حدیث:
ہوسکتا ہے کہ کتاب وحکمت سے دو چیزیں یعنی کتاب وسنت مراد لی جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی چیز یعنی قرآن مراد ہو۔
امام شافعی:
ہر دو احتمالات میں سے جو واضح تر ہے وہی افضل ہے اور جو بات ہم نے کہی ہے‘ قرآن کریم میں اس کی دلیل موجود ہے۔
منکر حدیث:
وہ دلیل کیا اور کہاں ہے؟
امام شافعی:
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

”واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من آیات اللہ والحکمة ان اللہ کان لطیفا خبیرا“۔ (الاحزاب:۳۴)

ترجمہ:۔”اور تمہارے گھروں میں خدا کی آیات اور جس حکمت کی تلاوت کی جاتی ہے‘ اس کو یاد کرتی رہو‘ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا اور آگاہ ہے“۔

اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین کے گھروں میں دو چیزوں کی تلاوت کی جاتی تھی۔

منکر حدیث:
قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ،مگر حکمت کی تلاوت کا کیا مطلب ہے؟
امام شافعی:
تلاوت کے معنی یہ ہیں کہ: جس طرح قرآن کے ساتھ نطق کیا جاتاہے‘ اسی طرح سنت کا اظہار بھی قوت گویائی ہی کے ذریعے کیا جاتاہے۔
منکر حدیث:
بے شک اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت‘ قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔
امام شافعی:
اللہ تعالیٰ نے ہم پر رسول کریم ا کی اطاعت کو فرض ٹھہرایا ہے۔

منکر حدیث:
اس کی کیا دلیل ہے ؟

امام شافعی:
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

۱- ”فلاوربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لایجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیماً“۔ (النساء:۶۵)

ترجمہ:۔”اور تیرے رب کی قسم! لوگ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ آپ صادر کردیں‘ اس کے بارے میں اپنے جی میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اپنا سرتسلیم خم کردیں“۔

۲-”من یطع الرسول فقد اطاع اللہ“۔ (النساء:۸۰)

ترجمہ:۔”جس نے رسول کی اطاعت کی ،اس نے اللہ کی اطاعت کی“۔
۳- ”فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنة او یصیبہم عذاب الیم“۔ (النور:۶۳)

ترجمہ:․․”جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں یا دردناک عذاب میں گرفتار ہوجائیں“۔

منکر حدیث:
یہ درست ہے کہ حکمت سے سنت رسول مراد ہے ،اگر میرے ہم خیال لوگوں کی یہ بات صحیح ہوتی کہ ان آیات میں رسول کے احکام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کا حکم وہی ہے جو اللہ نے قرآن کریم میں نازل کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص رسول کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا‘ اس کو احکام خداوندی کا تسلیم نہ کرنے والا قرار دینا چاہئے‘ نہ کہ صرف احکام رسول کا باغی۔

امام شافعی:
اللہ تعالیٰ نے رسول کے احکام کا اتباع ہم پر فرض قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:

”ما اتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا“۔ (الحشر:۷)

ترجمہ:۔”رسول جو کچھ تم کو دے، وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو“۔
قرآن سے بوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت کے حکم کی تعمیل کرنا اور جس بات سے منع کریں، اس سے باز رہنا ہم پر فرض ہے۔

منکر حدیث:
جو بات ہم پر فرض ہے وہ ہم سے پہلوں اور پچھلوں سب پر فرض ہے؟
امام شافعی:
جی ہاں!
منکر حدیث:
اگر رسول کریم ا کے دیئے ہوئے احکام کی اطاعت ہم پر فرض ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ا ہم پر کسی بات کو فرض ٹھہرا تے ہیں تو آپ ایک ایسے امر کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں جس کی اطاعت ہمارے لئے ضروری ہے؟

امام شافعی:
جی ہاں!
امام شافعی:
اللہ تعالیٰ نے اطاعت رسول کا جو حکم دیا ہے‘ کیا آپ یا آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص جس نے حضور کو نہ دیکھا ہو‘ احادیث نبویہ کے بغیر اس کی تعمیل کرسکتا ہے؟ اور حدیث نبوی کو نظر انداز کرکے احکام رسول کی تعمیل ممکن ہے؟ علاوہ ازیں حدیث نبوی قرآن کے ناسخ ومنسوخ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

منکر حدیث:
اس کی کوئی مثال ذکر کیجئے؟

امام شافعی: قرآن میں فرمایا:

”کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیر ن الوصیة للوالدین والاقربین بالمعروف“۔ (التوبہ:۱۸۰)

ترجمہ:۔”جب تم میں سے کسی کا آخری وقت آجائے اور اس نے مال چھوڑا ہو تو تم پر والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت فرض کی گئی ہے“۔

ترکہ کی تقسیم سے متعلق قرآن میں ہے:

”لابویہ لکل واحد منہما السدس مما ترک ان کان لہ فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابواہ فلامہ الثلث‘ فان کان لہ اخوة فلامہ السدس․․․“ (النساء:۹۱)

ترجمہ:․․․”اگر میت کی اولاد بھی ہو تو اس کے ترکہ میں سے والدین میں سے ہرایک کو ۶/۱ ملے گا۔ اور اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کی ماں کو ۶/۱ ملے گا“۔

حدیث نبوی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ ترکہ کی تقسیم سے متعلق آیت نے وصیت پر مشتمل آیت کو منسوخ کردیا‘ اگر ہم حدیث نبوی کو تسلیم نہ کرتے ہوتے اور ایک شخص ہمیں کہتا کہ وصیت پر مشتمل آیت نے تقسیم ورثہ سے متعلق آیت کو منسوخ کردیا اور اس پر حجت صرف حدیث ہی کے ذریعے سے قائم کی جاسکتی ہے۔
منکر حدیث:
آپ نے مجھ پر حجت تمام کردی ہے اور میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی کو قبول کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے‘ حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد میں اس بات میں عار محسوس نہیں کرتا کہ حدیث نبوی کے بارے میں اپنا موقف چھوڑ کر اپنا زاویہ نگاہ اختیار کرلوں‘ بلکہ مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ ظہور حق کے بعد اس کو تسلیم کرنا میرے لئے ضروری تھا‘ مگر بتایئے کہ: اس کا کیا مطلب کہ قرآن کے بعض عام احکام اپنے عموم پر رہتے ہیں اور بعض دفعہ ان میں تحصیص پیدا ہوجاتی ہے؟
امام شافعی:
امام شافعی نے اس کے جواب میں متعدد مثالیں ذکر کیں ،پھر اپنے حریف کو مخاطب کرکے فرمایا: اب آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کی اطاعت کو قرآن کریم میں فرض قرار دیا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے عام وخاص اور ناسخ ومنسوخ کا شارح وترجمان ٹھہرایا ہے۔
منکر حدیث:
جی ہاں ! آپ کا ارشاد بجا ہے‘ مگر میں تو ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا‘ یہاں تک کہ اس نقطہٴ نظر کی غلطی مجھ پر واضح ہوگئی۔ اس ضمن میں منکر حدیث دو فرقوں میں بٹ گئے ہیں: ایک فریق کا کہنا یہ ہے کہ حدیث نبوی مطلقاً حجت نہیں ہے اور قرآن کریم میں ہر چیز کی وضاحت وصراحت موجود ہے۔
امام شافعی:
حدیث نبوی سے صاف انکار کا نتیجہ کیا نکلا؟
منکر حدیث:
بہت برا نتیجہ برآمد ہوا‘ اس لئے کہ انکار حدیث کا عقیدہ رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ :جو شخص کم از کم ایسا کام کرے جس کو صلوٰة یا زکوٰة کہہ سکتے ہیں‘ اس نے صلوٰة وزکوٰة کا حق ادا کردیا‘ اس میں وقت کی پابندی نہیں، اگر کوئی شخص ہر روز یا کئی دنوں میں دو رکعت نماز ادا کرلے تو اس نے صلوٰة کا فریضہ ادا کردیا‘ وہ کہتے ہیں کہ: جو حکم قرآن میں نہ وارد ہو‘ وہ کسی پر فرض نہیں۔ منکر حدیث کا دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ جو حکم قرآن میں مذکور ہے، اس کے بارے میں حدیث کو قبول کیا جاسکتا ہے اور جس ضمن میں قرآن وارد نہیں ہوا‘ اس میں حدیث کو قبول نہیں کیا جاسکتا‘ نتیجہ اس کا بھی وہی ہوا جو پہلے فرقہ کا ہوا تھا۔ اس فرقہ نے پہلے حدیث کو رد کیا اور پھر اس کو قبول بھی کرنے لگے‘ یہ لوگ کسی خاص وعام یا ناسخ ومنسوخ کو تسلیم نہیں کرتے،ان دونوں کا گمراہ ہونا واضح ہے۔ اور میں ان میں سے کسی کو بھی حق نہیں سمجھتا‘ مگر میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ: آپ ایک حرام چیز کو بلاد لیل کیسے حلال سمجھنے لگے ہیں؟ کیا آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود ہے؟
امام شافعی:
دلیل موجود ہے۔

منکر حدیث:
کونسی دلیل؟

امام شافعی:
میرے پاس جو شخص بیٹھا ہے‘ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس کا خون اور مال حرام ہے یا نہیں؟
منکر حدیث:
اس کا خون اور مال حرام ہے۔

امام شافعی:
اگر وہ شخص شہادت دے کہ اس فلاں شخص کو قتل کیا اور اس کا مال لے لیا اور وہ مال آپ کے پاس موجود ہے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا رویہ ہوگا؟ (آپ کیا رویہ اختیار کریں گے؟)
منکر حدیث:
میں اس کو فوراً قتل کردوں گا اور اس سے مال لے کر وارثوں کو لوٹا دوں گا۔
امام شافعی:
کیا یہ ممکن نہیں کہ گواہوں نے جھوٹی اور غلط گواہی دی ہو؟
منکر حدیث:
ایسا ہوسکتا ہے۔

امام شافعی:
پھر آپ نے جھوٹی گواہی کی بناء پر اس شخص کے مال اور خون کو کیسے مباح قرار دیا‘ حالانکہ وہ خون اور مال حرام تھا؟
منکر حدیث:
اس لئے کہ شہادت قبول کرنا ضروری امر ہے۔
امام شافعی:
اگر تم گواہوں کی گواہی کو ظاہری صداقت کی بنا پر قبول کرنا ضروری سمجھتے ہو اور باطن کا علم تو صرف ذات خداوندی ہی کو ہے تو ہم راوی کے لئے جو شرائط عائد کرتے ہیں‘ وہ گواہ کی شرائط سے زیادہ کڑی ہیں‘ چنانچہ جن لوگوں کی شہادت کو قبول کرتے ہیں‘ ضروری نہیں کہ ان کی روایت کردہ حدیث کو بھی صحیح سمجھ لیں ۔راوی کی صداقت اور غلطی کا پتہ تو ان رواة ورجال سے بھی چل جاتاہے جو روایت حدیث میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں‘ علاوہ ازیں کتاب وسنت سے بھی راوی کی غلطی واضح ہوجاتی ہے‘ مگر شہادت میں ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔

منکر حدیث:
میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی دین میں حجت ہے اور رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے فرض ٹھہرایا ہے‘ جب میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو قبول کیا تو گویا خدا کے حکم کو قبول کیا۔ حدیث ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حجیت پر سب مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوچکا ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں‘ آپ کے بتانے سے مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ مسلمان ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں ۔ (کتاب الام ج:۷‘ص:۲۵۰ بحوالہ: ”الحدیث والمحدثون“ اردو ترجمہ: ص:۳۶۲تا۳۶۸ مترجم پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم)

برادران اسلام!آپ نے مناظرہ پڑھا‘ یہ مناظرہ ان لوگوں کو پڑھوائیں جو اس فتنے کے جال میں پھنس گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو علمائے حق کے دامن سے وابستہ رکھے اور صحابہ کرامواہل بیت عظام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین ۔

ماخذ

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 983
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
asakpke (08-12-10), shafresha (08-12-10), کنعان (08-12-10), ھارون اعظم (07-12-10), یاسر عمران مرزا (08-12-10), ارشد کمبوہ (08-12-10), رفیق طاہر (01-09-11), طاھر (07-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10), عبداللہ حیدر (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 11:05 PM   #2
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,965
شکریہ: 23,989
4,984 مراسلہ میں 14,700 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم::

بہت خوب جی....................اللہم زد فزد

عابد بھائی ! مجھے ایک بات سے اختلاف ہے................اور وہ یہ کہ آپ نے اتنے اچھے بندے کے لیے منکر حدیث کا لفظ لکھا جس پر جونہی حق بات کی گئی اس نے ذرا دیر نہیں لگائی قبول کرنے میں.............

اسے صرف نیک نیتی پر مبنی غلط فہمی ہو گئی ہو گی..............اس نے کوئی بھی تروڑ مروڑ نہیں کی............
بالکل بھی عقل کو مقدم نہیں کیا...............اور ویسلموا تسلیما کا مصداق ہو گیا............

آج کل تو انکار حدیث بھی سود کی طرح compound قسم کا آ رہا ہے................!!!

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھیئ نہیں.................اللہ ہمیں بھی حق کے لکیے ہمیشہ قبولیت رکھنے والا بنائیں............

اور منکرین حدیث کو بھی آقا علیہ السلام کا سچا متبع بنا دیں.آمین

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-12-10), یاسر عمران مرزا (08-12-10), آبی ٹوکول (07-12-10), ارشد کمبوہ (08-12-10), عبداللہ حیدر (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 11:37 PM   #3
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,343
کمائي: 52,163
شکریہ: 4,384
1,831 مراسلہ میں 6,829 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم::

بہت خوب جی....................اللہم زد فزد

عابد بھائی ! مجھے ایک بات سے اختلاف ہے................اور وہ یہ کہ آپ نے اتنے اچھے بندے کے لیے منکر حدیث کا لفظ لکھا جس پر جونہی حق بات کی گئی اس نے ذرا دیر نہیں لگائی قبول کرنے میں.............

اسے صرف نیک نیتی پر مبنی غلط فہمی ہو گئی ہو گی..............اس نے کوئی بھی تروڑ مروڑ نہیں کی............
بالکل بھی عقل کو مقدم نہیں کیا...............اور ویسلموا تسلیما کا مصداق ہو گیا............

آج کل تو انکار حدیث بھی سود کی طرح compound قسم کا آ رہا ہے................!!!

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھیئ نہیں.................اللہ ہمیں بھی حق کے لکیے ہمیشہ قبولیت رکھنے والا بنائیں............

اور منکرین حدیث کو بھی آقا علیہ السلام کا سچا متبع بنا دیں.آمین

والسلام
اسلام علیکم پیارے بھائی آپکی بات بالکل بجا ہے میری توجہ بھی اس جانب مبذول ہوئی تھی کہ جب مذکورہ شخص نے رجوع کرلیا تو پھر اسکو منکر حدیث کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا ہے؟؟؟ مگر میری اپنی ذاتی حیثیت چونکہ محض ناقل کی تھی سو میں نے خود سے اس تحریر میں کوئی ردو بدل نہیں کیا نیز پھر میں نے یہ رئیلائز کیا یہ ماضی میں ہوئے ایک مناظرے کی تحریری روداد تھی کہ جسے بطور منظر نامہ کے جوں کا توں اس طرح سے رقم کیا گیا کہ جسیے وہ مناظرہ اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہو سو ایسے میں جب یہ مکالمات (ماضی میں اس وقت جس طرح سے ) ہورہے تھے اور مکالمات کہ ادا کرنے والوں کا اس جز وقتی صورتحال میں جو کرنٹ سٹیٹس تھا اسی سٹیٹس کو جوں کا توں نقل کردیا گیا تاکہ احباب کو گفتگو سمجھنے میں آسانی ہوسکے ۔ ۔ ۔ ۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-12-10), یاسر عمران مرزا (08-12-10), ارشد کمبوہ (08-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 11:37 PM   #4
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,431
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم،
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ امام شافعی کی یہ بات چیت اس وقت سے لے کر آج تک کتنے لوگوں کی ہدایت کا سبب بنی ہے۔ شئیرنگ کا بہت شکریہ۔ اللہ تعالیٰ‌قبول فرمائے۔
والسلام علیکم

Last edited by عبداللہ حیدر; 07-12-10 at 11:41 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-12-10), کنعان (08-12-10), آبی ٹوکول (08-12-10), ارشد کمبوہ (08-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10)
پرانا 08-12-10, 05:37 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Thumbs up

واہ جی واہ
آبی ٹو کول نہین
بولو
آبی ٹو بولڈ
خوش رہو آبی صاحب
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-12-10), ارشد کمبوہ (08-12-10)
جواب

Tags
فرض, پاک, وصیت, قدم, قرآن, لوگ, نظر, ممکن, ماں, معلوم, آج, اللہ, اردو, اسلام, ترک, تعلیم, جواب, حدیث, حدیث نبوی, خون, خلاف, دریافت, دعا, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جب امام شافعی امام احمد بن حنبل کے مہمان بنے عبداللہ حیدر دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات 18 04-11-10 04:25 PM
اسلام.قیام امن کا سب سے بڑا داعی Real_Light اسلامی نظریہ حیات 0 20-09-08 02:19 AM
رُباعی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 11:26 AM
اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام کیخلاف لاہور ہائی کورٹ کا حکم امتناعی معطل ابن ضیاء خبریں 0 24-12-07 04:51 PM
اسلام آباد ہائیکورٹ کے قیام کیخلاف لاہور ہائی کورٹ کا حکم امتناعی معطل عبدالقدوس خبریں 0 24-12-07 04:33 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:11 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger