واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > حجت حدیث



حجت حدیث حجت حدیث


دفاع حدیث

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-09-11, 08:20 AM   #1
دفاع حدیث
رفیق طاہر رفیق طاہر آف لائن ہے 01-09-11, 08:20 AM

دفاع حدیث

الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين أما بعد ! فأعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيْنَ اللّهِ وَرُسُلِهِ وَيقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً [النساء : 150]

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید میں کافروں کی ایک یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں: ” نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ “ ہم کچھ کو مانیں گے، کچھ پر ایمان لائیں گے ” وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ “ کچھ کا ہم انکار کردیں گے یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات مانتے ہیں، تسلیم کرتے ہیں، نبی کریمﷺ کے احکامات نہیں مانتے، انبیاء oبات کو تسلیم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی باتوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ یا پھر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی باتوں میں سے کچھ باتیں مان لیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کچھ باتیں ردکردیتے ہیں، انہیں ٹھکرا دیتے ہیں۔ ” وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً “ چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان، بیچ کی راہ کو اختیار کرلیں اور گزارہ مزارہ ، چل چلاؤ والا کام بنا لیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ایسا کام نہیں چلے گا: ” أُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَاباً مُّهِيناً [النساء : 151] “ یہ پکے سچے کافر ہیں، اور ہم نے کافروں کے لیے جلنے والا ، آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے۔ اور جو لوگ اللہ پر ، اس کے رسول پر اور یوم آخر پر ایمان لانے والے ہیں، ایمان والے جو لوگ ہیں، ان کا طریقہ کار کیا ہے؟ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں، اس کے رسو ل پر ایمان لاتے ہیں اور ” وَلَمْ يُفَرِّقُواْ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ “ اور کسی ایک کےدرمیان تفریق اور جدائی نہیں ڈالتے ہیں، اور سارے کا سارا جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اس پر ایمان لاتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کےلیے اللہ رب العالمین نے مغفرتیں تیار کر رکھی ہیں، اور اللہ تعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت نمبر3میں اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ ” اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ [الأعراف : 3] “ (ایمان والو!) جو کچھ تمہاری طرف تمہارےرب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ، اس کی پیروی کرو، اور اس کے علاوہ دیگر اولیاء کی پیروی نہ کرو، تم بہت کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو، یعنی کہ جو جو کچھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نازل کیا ہے، چاہے وہ قرآن ہو، امام الانبیاء سیدنا محمد ﷺکا فرمان ہو، اس سارے کچھ کو تم نے ماننا ہے، اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ تم نے اس کی اتباع اور پیروی کرنی ہے۔ اور اس وحی ٔالٰہي کے علاوہ جتنے بھی اولیاء ہیں ان میں سے کسی کی بات تم نے نہیں ماننی۔ اسی طرح اللہ رب العالمین نے رسول اللہﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کے اسوہ ٔ حسنہ کے متعلق واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے: ” وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا “ جو جو کچھ تمہیں اللہ کےر سول ﷺ دیں، اسے لے لو، اور جس جس چیز سے منع کریں، اس سے رک جاؤ، باز آجاؤ۔یعنی کہ کسی انسان کےلیے ، کسی اہل ایمان کےلیے یہ بات روا نہیں ہے، جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ نازل کیا ہو اور وہ اس کی اتباع نہ کرے۔ کسی کےلیے یہ جائز نہیں ہے کہ رسول اللہﷺ نے کچھ دیا ہو اور وہ اس کو اخذ نہ کرے۔اس پر عمل پیرا ہونے والا نہ بنے، یہ کسی کےلیے روا اور جائز نہیں ہے۔بلکہ کہا ہے: ” اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ “ جو کچھ بھی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے سب کی پیروی کرو، قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی احکام نازل کیے ہیں،رسول اللہﷺ کی سنت طیبہ میں، آپﷺ کے فرمودات میں جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے، وہ سب کا سب اس لائق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے۔ ” اتَّبِعُواْ “ حکم دیا ہےکہ اس کی اتباع کرو، یعنی وحئ الہٰي کی پیروی کرنا، اس کو ماننا، ان کے آگےسر تسلیم کو خم کرنا، یہ ہمارے لیے واجب اور فرض ہے۔اور اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے: ” وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ “ جو کچھ بھی تمہیں رسو ل اللہﷺ دیں ، اسے لے لو۔خواہ وہ معاملہ معیشت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، معاشرت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اخلاقیات کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے، اس کا تعلق تجارت کے ساتھ ہے، کاروبار کے ساتھ ہے، صنعت وحرفت کے ساتھ ہے، ” مَا آتَاكُمُ “جو کچھ بھی دے اللہ کا رسول ﷺ، ” فَخُذُوهُ “اسے لے لو، ” وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ “ جس کام سے بھی منع کردے، خواہ اس کا تعلق شعبہ ہائے زندگی میں سے کسی شعبے کے ساتھ بھی ہو، ” فَانتَهُوا “ رک جاؤ، باز آجاؤ۔یہ اللہ کی وحی کا تقاضا ہے کہ ساری کی ساری وحی کی پیروی اور اتباع کی جائے اور رسول اللہﷺ نے جو جو کچھ دیا ہے ، سب کچھ پر عمل کیا جائے۔رسول اللہﷺ کا بولنا بلکہ چپ رہنا بھی وحی الہٰيکے تابع ہوتا ہے اور وحی الہٰي کے مطابق ہوتا ہے۔ نہ تو اپنی مرضی سے بولتے ہیں اور نہ چپ ہوتے ہیں۔”وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى o إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى [النجم : 43] “ رسول اللہ ﷺ اپنی مرضی سے نہیں بولتے ، جو وہ بولتے ہیں، ان کا جو نطق ہوتا ہے ، وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ وحی ہوتی ہے۔ ” إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ “ میں تو صرف اور صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔ اپنی خواہشات کی، اپنی من مرضی کی وہ اتباع نہیں کرتے۔اتباع وحی الہٰي کی کرتے ہیں، قرآن مجید کی کرتے ہیں۔حدیث اور سنت کی اتباع رسول اللہﷺ کرتے ہیں۔تیسری کسی چیز کی اتباع رسول اللہﷺ نہیں کیا کرتے۔تو آپﷺ کے تمام تر افعال، تمام تر اقوال، تمام تر تقریرات وحی ہیں۔ تقریری حدیث کیا ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے دیکھا اپنے کسی شاگرد اور صحابی کو کہ اس نے آپﷺ کے سامنے کوئی عمل کیا، رسول اللہﷺ اس کو دیکھ کر خاموش رہے۔ اگر آپﷺ اس کو ٹوک دیتے ہیں، وہ کام ناجائز ہوگیا۔اگر آپﷺ اسے دیکھ کر چپ رہتے ہیں تو وہ کام تقریری حدیث کہلاتا ہے، وہ بھی سنت بن جاتا ہے، حدیث بن جاتا ہے، حدیث کا رتبہ پا لیتا ہے کہ آپﷺ کے سامنے ایک کام کیا گیا لیکن آپﷺ نے خاموشی اختیار کی۔ایسے ہی اللہ تعالیٰ وحی نازل فرماتے ہیں نبی کریمﷺ پر اور اس وحی کو سامنے رکھ کر، اس وحی کو ملحوظ رکھ کر نبی کریمﷺ افعال واقوال سر انجام دیتے ہیں،احکامات صادر فرماتے ہیں، افعال کرتے ہیں، خاموشیاں اختیار کرتے ہیں۔ اگر کوئی کام آپﷺ سے ایسا سرزد ہوجاتا ہے جو کہ اللہ کی منشا کے خلاف ہو، سہواً ہوگیا ہو، اللہ تعالیٰ فوراً ٹوک دیتے ہیں۔ ” عَبَسَ وَتَوَلَّى oأَن جَاءهُ الْأَعْمَى [عبس : 21] “ نابینا صحابی آیا تھا ہمارا اس کے پاس، تو انہوں نے دیکھ کر منہ بسور لیا، تیوری چڑھا لی، لہٰذا یہ کام انہوں نے صحیح نہیں کیا۔شہد کو اپنے اوپر حرام کیا تو اللہ تعالیٰ نے فوراً کہہ دیا ” لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ “ تو وہ کام جن پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ٹوکا نہیں بلکہ نبی کریمﷺ نے کام سرانجام دیئے اور وحی الٰہي نے خاموشی اختیار کی تو وہ بھی اللہ کی وحی قرار پاتی ہے۔اس کا رتبہ اور درجہ بھی وحی والا ہی بن جاتا ہے۔جیسے تقریری حدیث کہ عمل صحابی کا ہوتا ہے، دیکھ کر نبی چپ رہتا ہے، وہ حدیث بن جاتی ہے تقریری، ایسے ہی وحی اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہے، اور نبی کریمﷺ اس وحی سے اجتہاد کرکے،استنباط کرکے کوئی کام کرتے ہیں، کوئی بول بولتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کی تصویب فرمادیتے ہیں، خاموشی اختیار کرلیتے ہیں، اس کو ٹوکا نہیں جاتا، وہ بھی وحی الٰہي ہی ہوا کرتی ہے۔تو نبی کریمﷺ کےسارے کے سارے اقوال، سارے کے سارے افعال، آپﷺ کی ساری خاموشیاں، آپﷺ کا اٹھنا بیٹھنا،چلنا پھرنا اور کھاناپیناسب کا سب وحی الٰہي ہے۔اور ہمیں حکم دیا گیا ہے: ” وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ “ جو رسول تمہیں حکم دیں اسے لے لو ” وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا “ جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔” اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ “ جو کچھ بھی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی اور اتباع کرو۔” وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء “ اور وحی الہٰی کو چھوڑ کر دیگر اولیاء کی پیروی نہ کرو۔لیکن صد افسوس ہمارے آج کے اس زمانے میں، ہمارے اس معاشرے میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے، جو بہانے بہانے سے حدیثوں کا انکار کرتے ہیں، حتیٰ کہ قرآن مجید، فرقان حمید میں نازل شدہ احکامات کا بھی انکار کردیتے ہیں۔بہانے لوگوں نے مختلف بنائے ہیں، انداز مختلف اپنائے ہیں، نتیجہ ایک ہی ہے کہ وحی الٰہي کا انکار، چاہے وہ قرآن ہو،چاہے وہ حدیث ہو۔بہت پہلے لوگوں نے ایک اصول وضع اور قائم کیا۔ اصول کیا ہے کہ وحی الٰہي ،قرآن وحدیث اگر ہمارے اصحاب کے قول کے منافی آجائے، ہمارے امام، ہمارے پیشوا، ہمارے مقتدا کی بات کے خلاف قرآن کی آیت یا حدیث آجائے تو ہم قرآن کی اس آیت اور حدیث کی تاویل کریں گے، یا اس کو منسوخ سمجھیں گے یا اس کو تطبیق دینے کی کوشش کریں گے۔ہم حال میں اپنے مقتدا کے قول کو بچا کر قرآن وحدیث سے جان چھڑوانے کی کوشش کریں گے۔ اور یہ اصول کتابوں کے اندر لکھا ہوا ہے، اصول کرخی بڑی معروف کتاب ہے اصول کی، وہاں انہوں نے درج کیا ہے۔یہ بھی قرآن وحدیث سے جان چھڑوانے کا ایک بہانہ ہے۔صحیح حدیث کو رد کرنا، قرآن کے احکامات کو رد کرنا، حالانکہ عقل مند ، باشعور انسان جانتے ہیں کہ پہلے ایک چیز کو اصل متعین کیا جاتا ہے، پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس اصل کے موافق کیا ہے،اور اس کے خلاف کیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کہتے کہ ہمارے اصحاب کا کوئی قول اگر قرآن یا حدیث کے خلاف آجائے تو ہم نے کیا کرنا ہے؟ یعنی قرآن وحدیث کو اصل قرار دیتے ، لیکن انہوں نے قرآن وحدیث کو اصل قرار نہیں دیا ، اپنے اصحاب کے اقوال کو اصل قرار دیا اور پھر قرآن وحدیث کو اپنے اصحاب کے اقوال پر تولا۔وہیں سے احادیث کا انکار کرنے کا سلسلہ چلا حتی کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ لوگوں نے حدیث کو وحی ماننے سے انکار کردیا۔حتی کہ یہ کہنے لگے کہ قرآن کے علاوہ اور کوئی وحی نازل ہی نہیں ہوئی ہے۔حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید ، فرقان حمید میں بار بار یہ کہا ہے کہ ہم نے کتاب بھی نازل کی ہے، ہم نے حکمت بھی نازل کی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کو کہہ دیجئے: ” إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ “ میں تو صرف اور صرف وحی الٰہي ہی کی پیروی کرتا ہوں، وحی الٰہي کے علاوہ اور کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا۔ یعنی نبی کریمﷺجو بول بولتے ہیں، جو عمل سرانجام دیتے ہیں، اگر کبھی خاموش رہتے ہیں تو وہ وحی الٰہي کے تابع ہوا کرتا ہے ، وہ وحی ہی ہوا کرتا ہے۔وحی الٰہي کے علاوہ اپنی من مانی سے ،اپنی خواہشات نفس کی اتباع نہیں کرتے۔اللہ رب العالمین نے قرآن مجید فرقان حمید میں کہا تھا۔” وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ o لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ o ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَo فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ [الحاقة : 4744] “ اگر ہم نے ایک بات کہی نہیں ہے، محمد کریمﷺ اپنی طرف سے ایک بات گھڑ کے ہماری طرف منسوب کردیں ” لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ o“ ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑیں گے” ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَo“ ان کی شہ رگ کاٹ دیں گے ” فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ “ تم میں سے کوئی بھی انہیں چھڑوانے والا نہ ہوگا۔اور رسول اللہﷺ نے قطعاً کبھی بھی اپنی طرف سے کوئی بول نہیں بولا ہے، اپنی طرف سے کوئی عمل سرانجام نہیں دیا ہے۔”إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ “صرف اپنی طرف نازل ہونے والی وحی کی ہی اتباع کی۔اور پھرآج کل ہمارے گردونواح میں ، قرب وجوار میں بہت سارے لوگ ایسے ملیں گے جو بہانے بہانے سے حدیثوں کا انکار کرتے ہیں،کوئی کہتا ہے کہ حدیثیں قرآن کے خلاف ہیں۔ اچھا بھئی! کون سی حدیث ہے جو تمہیں قرآن کے خلاف نظر آتی ہے۔حدیث صحیح ہو، صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو اور وہ قرآن کے خلاف ہو،قطعاً ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ وحی الٰہي اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔اگر اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتی تو اس کے درمیان تضاد اور اختلاف ہوسکتا تھا،لیکن یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے، اس کے اندر کوئی تضاد ، کوئی نقض، کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔نہ حدیث ، حدیث کے ساتھ ٹکراتی ہے، نہ حدیث قرآن کے ساتھ ٹکراتی ہے، نہ قرآن کی کوئی آیت ، دوسری آیت کے ساتھ ٹکراتی ہے۔ یہ لوگوں کے دماغ میں، لوگوں کے ذہنوں میں تضاد ہوتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ شاید قرآن کی آیتیں آپس میں متضاد ہیں، یا قرآن اور حدیث کا آپس کے اندر تضاد ہے۔ایک سے پوچھا کہ کون سی ایسی آیت ہے، کون سی ایسی حدیث ہے جو تمہیں آپس میں متضاد نظر آرہی ہے؟ کہنے لگا: صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن کے اندر اس بات کا ذکر آیا ہے کہ رسول اللہﷺ پر جادو ہوگیا تھا،وہ حدیثیں قران کے خلاف ہیں۔ان نکتے کو آپ ذرا اچھی طرح سمجھیں۔ جتنے بھی منکرین حدیث ہیں، ان کا سب سے پہلا ہدف صحیح بخاری ہوتا ہے۔سب سے پہلے وہ صحیح بخاری پر رد کرتے ہیں۔صحیح بخاری پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کا سبب اور وجہ یہ ہے کہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس کو ”اصح الکتب بعد کتاب اللہ“ ہونے کا شرف حاصل ہے کہ کتاب اللہ کے بعد حدیث کی صحیح ترین کتاب ہے،احادیث کا صحیح ترین مجموعہ ہے۔ جب لوگوں کا اعتماد اس حدیث کی کتاب پر ختم ہوجائے گا تو باقی کتابوں پر سے اپنے آپ ہی ختم ہوجائے گا۔اس لیے سب سے پہلا ہدف اگر وہ بناتے ہیں تنقید کا تو صحیح بخاری کو ہی بناتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جادو والی جو احادیث ہیں وہ قرآن کے خلاف ہیں۔ اچھا! کس آیت کے خلاف ہیں؟ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا ہے: ”إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ “ اے شیطان! میرے بندوں پر تیرا بس نہیں چلے گا۔جادو ایک شیطانی عمل ہے اور شیطان کا سلطہ اور اس کی بادشاہت قائم ہوگئی اگر نبی کریمﷺ پر جادو کا اثر مان لیا تو۔حالانکہ کہ بیچارے کوبات سمجھ ہی نہیں آئی ہے۔اللہ نے یہ تو نہیں کہا کہ شیطان ورغلا،بہکا، پھسلا نہیں سکے گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا کہ میرے بندے جو متقی ، پرہیز گار ہوتے ہیں”إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّيْطَانِ “ جب شیطان کی طرف سے انہیں کوئی بہکاوا آتا ہے” تَذَكَّرُواْ “ فوراً نصیحت حاصل کرتے ہیں” فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ [الأعراف : 201]“اللہ انہیں صاحبِ بصیرت بنا دیتا ہے۔یعنی شیطان کا سلطہ ان پر قائم نہیں ہوتا۔شیطان مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لےلے،اپنے کلچ میں لے لے بندے کو، ایسا نہیں ہوتا۔ہاں! یہ ہوسکتا ہے کہ عباد اللہ پر شیطان کا تھوڑا بہت داؤ چل جائے۔یہ تو اللہ نے قرآن مجید میں بھی کہا ہے۔ اور پھر نبی کے تخیلات پر جادو ہونا، اللہ نے قرآن میں کہا ہے: ”يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى [طه : 66]“ کہ موسیٰ pکے سامنے جب جادو گروں نے رسیاں پھینکیں،تو موسیٰpکو محسوس ہوا کہ شاید یہ حرکت کررہی ہیں،تخیلات پر جادو تو موسیٰpپر بھی ہوگیا تھا،قرآن میں ذکر موجود ہے۔تو عباد اللہ پر ، انبیاء پر اتنا سا جادو ہونا قرآن کے خلاف نہیں، بلکہ قرآن کی آیت کے عین مطابق ہے۔اور صحیح بخاری میں بھی یہی آتا ہے ناں کہ رسول اللہﷺکو یہ محسوس ہوتا کہ شاید میں یہ کام کرچکا ہوں، حالانکہ آپ ﷺ نے وہ کام کیا نہیں ہوتا تھا۔بسا اوقات آپﷺ کام کرچکے ہوتے، آپﷺ کو یہ خیال آتا کہ شاید یہ کام نہیں کیا۔ تو یہ بات تو قرآن میں بھی موجود ہے۔ تخیلات پر جادو ہونا تو قرآن میں بھی ہے۔حدیث میں بھی تخیلات پر جادو کا اثر ہونا موجود ہے۔ کوئی تعارض، کوئی تضاد، کوئی تناقض ہے ہی نہیں قرآن و حدیث میں۔اور پھر کہتےہیں کہ شیطان کا بس چل گیا،شیطان نبی کو بھلانے لگ گیا، اور جب بھلانے لگ گیا تو ہوسکتا کہ وحی بھی بھول گئے ہوں۔کاش! ظالموں نے قرآن پڑھا ہوتا۔اللہ نے قرآن میں کہا ہے:”مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّهَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [البقرة : 106]“ اگر کوئی آیت ہم منسوخ کردیں ” أَوْ نُنسِهَا “یا ہم بھلا دیں” نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا “ اس جیسی یا اس سے بہتر آیت ہم لے آئیں گے۔پہلی بات تو یہ کہ نبیﷺ کو ئی آیت یا کوئی وحی بھول گئے ہوں، ایسا ہوا ہی نہیں ہے۔اگر ایسا ہو بھی جاتا تو اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم بھلا بھی دیں تو ہم اس سے بہتریا اس جیسی آیت پھر نازل کردیں گے۔کیا آپﷺ کو پتہ نہیں ہے” أَنَّ اللّهَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [البقرة : 106]“اللہ تعالیٰ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔اور انبیاء کو شیطان آکر بھلا دے، یہ بھی ممکن ہے، اللہ نے قرآن میں کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:” وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ “جب آپﷺ دیکھیں ان لوگوں کو جو ہماری آیات میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں، ان سے اعراض کیجئے، اگلا جملہ سننے والا ہے۔فرمایا: ” وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ “خطاب کسے ہے؟رسول اللہﷺ کو۔ کہا جارہا ہےکہ جب شیطان آپﷺ کو بھلا دے ”فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ [الأنعام : 68]“پھر یاد آنے کے بعد ظالم قوم کے ساتھ آپ ﷺنے نہیں بیٹھنا۔تو اللہ نے قرآن مجیدفرقان حمید میں اس بات کا اثبات کیا ہے، اس بات کو بیان کیا ہےکہ شیطان امام الانبیاء جناب محمد مصطفیٰﷺ کو بھلا سکتا ہے۔تو جادو والی حدیث جو بخاری کے اندر موجود ہے، وہ قرآن کے عین مطابق ہے،خلاف نہیں ہے۔تضاد اور اختلاف دماغوں کے اندر ہے، ذہنوں کے اندر ہے۔سمجھ خود کو نہیں آتی اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے، یہ حدیث دوسری حدیث کے ساتھ ٹکراتی ہے، یہ آیت دوسری آیت کے ساتھ ٹکراتی ہے،حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔تو جو دماغوں کا تضاد ہے اس کو حدیثوں اور قرآن پر فٹ کردیا جاتا ہے۔ایسے ہی ایک اور گروہ اُٹھا، حدیث کا انکار کرنے کےلیے، رب کے قرآن کا انکار کرنے کےلیے، انہوں نے وحی الٰہي کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔مانتے ہیں کہ قرآن وحی الٰہي ہے، حدیث وحی الٰہي ہے۔لیکن کہتے ہیں کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، یہ حکم نبی کریمﷺ نے دیا ہے، یہ ہمارے لیے نہیں ، اس وقت کے لوگوں کےلیے تھا۔آپﷺ نے جو حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے جو حکم قرآن میں دیا ہے، یہ حکم شرعی نہیں ہے، یہ حکم غیر شرعی ہے۔یہ حکم حالات کو سدھارنے کےلیےوقتی طور پر دیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا ہے:” اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ “جو بھی نازل کیا ہےتمہارے رب نے تمہاری طرف، اس سارے کچھ کا اتباع کرو،ان ساری باتوں کی پیروی کرو، یہ کہتے ہیں ہاں یہ حکم قرآن میں ہے، اللہ نے نازل کیا ہے، لیکن ہمارے لیے نہیں ہے۔یہ اس وقت کے لوگوں کےلیے تھا۔عصر حاضر کا دجال، جاوید احمد ککو زئی،جس کو لوگ جاوید احمد غامدی کہتے ہیں، اس کی یہی فلاسفی ہے۔ اس سے پہلے اصلاحی نے پیش کی، اس سے پہلے فراہی نے پیش کی۔ وہ یہی انداز اور یہی طریقہ کار لے کر پھرتے ہیں۔مانتے ہیں کہ حکم ہے، قرآن میں اللہ نے کہا ہے، حکم ہے، نبی کریمﷺ کے فرمان میں ہے ، ایک طرف تویہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ کے ر سول ﷺ ہمیں یہ حکم دے دیں کہ تم نے مجھے دن میں دس بار گلاس بھر کر پانی پلانا ہے،تو ہم پابند ہیں اس کام کو کرنے کے، کیونکہ ہمیں حکم دے دیا گیا ہے،دوسری طرف وہ قرآن مجید کی آیات کو ، احادیث کو غیر شرعی کہہ کر رد کرتے چلے جاتے ہیں۔ تو یہ مختلف قسم کے گروہ آپ کو اپنے گردو نواح میں ملیں گےجو احادیث کے انکار کےلیے مختلف قسم کے حیلے بہانے تراشتے ہیں، جبکہ یہ سارے انداز نئے نہیں ہیں، ہیں پرانے ہی!لیکن الفاظ بدلے ہیں، چہرے بدلے ہیں، کردار بدلے ہیں۔طریقہ کار اور ہے، نتیجہ ایک ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں کو سمجھنے کی ، کتاب وسنت کے اتباع کی اور ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَمَا تَوْفِيقِي إِلاَّ بِاللّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ
یہی مضمون بہترین تنسیق میں یہاں پر
__________________
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر
جامعہ دار الحدیث محمدیہ
عام خاص باغ ملتان

رفیق طاہر
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 175
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا
bashirahmed98 (01-09-11), rana ammar mazhar (19-01-12), skjatala (01-09-11), کنعان (01-09-11), عُکاشہ (01-09-11), عبداللہ حیدر (01-09-11)
پرانا 01-09-11, 11:40 AM   #2
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,653
کمائي: 32,921
شکریہ: 9,769
1,374 مراسلہ میں 4,249 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی مدلل تحریر ہے۔ آپ نے موضوع کا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کی ہے ۔اللہ تعالی آپ کو اس سعی کا بہترین اجر عطا کرے۔ آمین
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
کنعان (01-09-11), عُکاشہ (01-09-11)
جواب

Tags
php, فرض, کتابوں, قرآن, قران, لوگ, نظر, مکمل, ممکن, مجید, ایمان, انسان, بہترین, بادشاہت, حال, حدیث, خلاف, دعا, زندگی, شاگرد, عقل, غامدی, صحیح, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:12 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger