| حجت حدیث حجت حدیث |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1553
|
||||
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"تاریخ و اصول حدیث پر جامع تنقید"
وضاحت:احادیث کب مرتب ہوئیںِ؟ احادیث کو مرتب کرتے وقت کن اصولوں کو مد نظر رکھا گیا؟ کیا وہ اصول اس قابل ہیں کہ ہم انکو آج کی دنیا کے سامنے دلیل کے طور پر پیش کر سکیں؟ ان اصولوں پر جامع تنقید طریقہ کار:جب احادیث کا مقام واضح ہو جائے گا تو ہم اُن اُصولوں پر بات کر سکیں گے جن کی بنیاد پر 99 فیصدی مسلمانوں کے اسلام کی بنیاد کھڑی ہے۔ ہم مختصراً اُن اصولوں کو یعنی علم الرجال وغیرہ ۔ ۔ ۔بیان کریں گے اور ان پر تنقید ہو گی کہ کیوں کر یہ قدیم نام جدید تحقیق کے ہم آہنگ ہیں۔ چناچہ مخالفین "مخالف قران حدیث" یہاں اپنے دلائل پیش کر سکتے پیں کہ دیکھیں کہ جن بنیادوں پر احادیث کا علم کھڑا ہے وہ ہی کتنی کمزور ہیں۔ جبکہ علوم احادیث کے ماہرین اس جگہ پر اپنے موقف میں مزید وضاحت لا سکتے ہیں ۔ تاہم اس موضوع پر گفتگو پہلے سٹیپ کے بعد ہو گی یعنی جب اس موضوع پر مناسب گفتگو ہو چُکی ہو گی پہلا قدم:"کتب احادیث کے مخطوطات سے متعلق تحقیق" |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل بھائی یا متعلقہ ناظم سے درخواست ہے کہ اس موضوع کو چپکو کر کے کلوز کر دیں تاکہ اس میں ابھی رپلائی نہ کیے جا سکیں۔
شکریہ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (20-12-10), فیصل ناصر (20-12-10), آبی ٹوکول (23-05-11), شمشاد احمد (23-05-11), عبداللہ آدم (02-01-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,181
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,301 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کھول دیا گیا ہے !
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | شمشاد احمد (23-05-11), عبداللہ آدم (23-05-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,676
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حديث اور اصول حديث يہ دو وہ ميدان ہيں جن ميں سفر كے لئے عمر كا بيشتر حصہ جہد مسلسل اخلاص اور لگن كي انتہائي ضرورت ہے۔۔۔۔ خير چھوڑيں۔۔۔۔
سوالات كےپيش نظر ذيل ميںديے گئے مضامين كا خالي الذہن كو كر مطالعہ كرنا ان شاء اللہ نافع ہو گا۔۔۔ طولت كا احساس مجھے بھي ہے ليكن چونكہ يہ مضمون ميرا نہيں بلكہ محمد مبشر نذير صاحب كي كتاب سےماخوذ ہے۔۔۔۔ مفيد پايا اس لئے نقل كر ديا۔۔۔۔۔۔ ذوق ركھنےوالے احباب يہاں سے پوري كتاب كا مطالعہ كر سكتے ہيں اور ڈاون لوڈ بھي كر سكتے ہيں۔۔۔۔شكريہ احادیث کی تدوین: پہلی، دوسری اور تیسری صدی ہجری میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شب و روز حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی صحبت میں گزرا کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کی بہت سی باتوں کو نوٹ کیا اور آپ کی حیات طیبہ میں اور اس کے بعد اسے بیان کرنا شروع کردیا۔ صحابہ کرام سے یہ علم تابعین کو منتقل ہوا۔ ہمیں جن صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں مل سکی ہیں ان میں حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر بن خطاب، انس بن مالک، ام المومنین حضرت عائشہ، عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ، ابوسعید خدری، عبداللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمرو بن عاص، علی المرتضی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کی شخصیات بہت نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے صحابہ سے احادیث مروی ہیں لیکن ان کی تعداد کافی کم ہے۔ بعض صحابہ نے ذاتی طور پر احادیث کو لکھ کر محفوظ کرنے کا کام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں شروع کر دیا تھا۔ صحابہ کے بعد تابعین کا دور آیا۔ تابعین ان لوگوں کو کہتے ہیں جنہوں نے صحابہ کا زمانہ پایا اور ان سے دین سیکھا۔ اگرچہ تابعین حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے زمانے سے بہت قریب تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی زیارت کی سعادت حاصل نہ کرسکے تھے چنانچہ وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ صحابہ کرام سے آپ کی باتیں سنا کرتے تھے۔ یہی شوق ان کے بعد تبع تابعین، یعنی وہ حضرات جنہوں نے تابعین کا زمانہ پایا اور ان سے دین سیکھا، اور ان کے بعد کی نسلوں میں منتقل ہوا۔ بہت سے تابعین نے بھی اپنے ذخیرہ احادیث کو تحریری صورت میں محفوظ بھی کرلیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حاصل کردہ معلومات کے بیان کا معاملہ انتہائی حساس (Sensitive) ہے۔ ایک متواتر اور مشہور حدیث کے مطابق اگرکوئی آپ سے جھوٹی بات منسوب کر دے تو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں صحابہ کرام علیہم الرضوان بہت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بڑے بڑے صحابہ جیسے سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، طلحۃ، زبیر، ابوعبیدہ، عباس رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث کی تعداد بہت کم ہے۔ ایسا ضرور ہوا ہے کہ بعض مواقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص یہ ارشاد فرمایا کہ ان باتوں کو دوسروں تک پہنچا دیا جائے۔ اس کی ایک مثال حجۃ الوداع کا خطبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خطبہ ہم تک معنوی اعتبار سے تواتر سے پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ جن صحابہ نے احادیث بیان کرنے کا سلسلہ شروع کیا ، وہ ان کے اپنے ذوق، فہم ، رجحان طبع اور Initiative کی بنیاد پر تھا۔ احادیث کے معاملے کی اسی حساسیت کی وجہ سے حدیث کو بیان کرنے والے افراد نے یہ اہتمام کیا کہ کوئی حدیث ان تک جس جس شخص سے گزر کر پہنچی، انہوں نے اس کا پورا ریکارڈ رکھا۔ کچھ ہی عرصے میں احادیث بیان کرنے والوں کو معاشرے اور حکومت کی طرف سے غیر معمولی مقام حاصل ہوگیا۔ اس ممتاز طبقے کو محدثین کہا جاتا ہے۔ ان محدثین نے اپنی پوری پوری عمریں حدیث رسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی تعلیم و تبلیغ میں صرف کر دیں۔ یہ حضرات ایک ایک حدیث کا علم حاصل کرنے کے لئے سینکڑوں میل کا سفر کرنے سے بھی گریز نہ کرتے۔ وضع احادیث کے اسباب اس صورتحال کے کچھ منفی اثرات بھی سامنے آئے۔ اسی دور میں اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی طرف منسوب کرنے کا فتنہ پیدا ہوا جو دین میں پیدا کئے جانے والے فتنوں میں سب سے زیادہ شدید ہے۔ ان گھڑی ہوئی حدیثوں کو"موضوع حدیث" یعنی وضع کی گئی جعلی حدیث کا نام دیا گیا۔ جعلی حدیثیں گھڑنے جیسا مذموم فعل کرنے کے پیچھے بہت سے عوامل تھے جن میں سے اہم یہ ہیں: · پچھلے آسمانی مذاہب کی طرح اسلام کے دشمن بھی حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے زمانے ہی سے مسلمانوں میں کچھ گمراہ کن افکار داخل کرنے کی کوشش میں تھے۔ خلافت راشدہ کے دور میں انہیں اس کا موقع نہ مل سکا۔ بعد کے ادوار میں انہیں اس کا ایک موقع میسر آگیا۔ ان لوگوں کے لئے یہ تو ممکن نہ تھا کہ اپنی طرف سے قرآن مجید یا سنت متواترہ میں کوئی اضافہ کر سکتے کیونکہ ان کو کروڑوں مسلمان اپنے قولی و فعلی تواتر سے آگے منتقل کر رہے تھے، البتہ حدیث کے میدان میں ان کے لئے کسی حد تک گنجائش موجود تھی۔چنانچہ اپنے افکار کو پھیلانے کے لئے انہوں نے حدیثیں گھڑنے کا کام شروع کردیا۔ ابن ابی العوجاء نامی حدیثیں ایجاد کرنے والے ایک شخص کو بصرہ کے گورنر محمد بن سلیمان بن علی کے پاس لایا گیا تو اس نے اعتراف کیا: "میں نے تم لوگوں میں 4000 جعلی احادیث پھیلا دی ہیں، جن میں میں نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا ہے۔" اس کے جواب میں اسے کہا گیا کہ محدثین انہیں چھانٹ کر الگ کر لیں گے۔ (ڈاکٹر سعید احسن عابدی، موضوع اور منکر روایات، ص 50) · اس دور تک امت میں سیاسی گروہ بندی بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ ہر دھڑے کے کم علم اور کم فہم افراد نے اپنی اپنی پسندیدہ شخصیات کے فضائل اور ناپسندیدہ شخصیات کی مذمت میں جعلی حدیثیں گھڑیں اور انہیں بیان کرنا شروع کردیا۔ · اس وقت تک مسلمانوں میں فرقہ پرستی کی وبا پھیل چکی تھی۔ بہت سے فرقہ پرست متعصب افراد نے اپنے نقطہ نظر اور افکار کی حمایت اور اپنے مخالفین کی مذمت میں احادیث وضع کرنا شروع کیں۔ جرح و تعدیل کے مشہور امام ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب "الجرح و التعدیل" کے مقدمے میں ایسے ہی ایک صاحب، جو احادیث گھڑا کرتے تھے اور بعد میں اس مذموم عمل سے توبہ کر چکے تھے، کا یہ قول نقل کیا ہے، "اس بات پر نگاہ رکھو کہ تم اپنا دین کن لوگوں سے اخذ کر رہے ہو۔ ہمارا یہ حال رہا ہے کہ جب ہمیں کوئی چیز پسند ہوتی تو اس کے لئے حدیث گھڑ لیا کرتے تھے۔" (ایضا، ص 50) · چونکہ محدثین کو معاشرے میں باعزت مقام حاصل تھا اور ان کے لئے دنیاوی جاہ اور مال و دولت کے دروازے کھلے تھے، اس لئے بعض مفاد پرستوں نے بھی یہ فوائد حاصل کرنے کے لئے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ کر پھیلانا شروع کردیں۔ یہ مفاد پرست خود تو اس قابل تھے نہیں کہ محدثین جتنی محنت کر سکتے، انہوں نے سستی شہرت کے حصول کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ اپنی طرف سے احادیث وضع کرنا شروع کر دیں۔ · بعض ایسے بھی نامعقول لوگ تھے جنہوں نے محض اپنی پراڈکٹس کی سیل میں اضافے کے لئے ان چیزوں کے بارے میں حدیثیں گھڑنا شروع کردیں۔ مثال کے طور پر ہریسہ (ایک عرب مٹھائی) بیچنے والا ایک شخص یہ کہہ کر ہریسہ بیچا کرتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو ہریسہ بہت پسند تھا۔ · بعض ایسے افراد بھی تھے جو ذاتی طور پر بہت نیک تھے۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ مسلم معاشرے میں دنیا پرستی کی وبا پھیلتی جارہی ہے تو انہوں نے اپنی ناسمجھی اور بے وقوفی میں دنیا پرستی کی مذمت ، قرآن مجید کی سورتوں اور نیک اعمال اور اوراد و وظائف کے فضائل میں حدیثیں گھڑ کر بیان کرنا شروع کردیں تاکہ لوگ نیکیوں کی طرف مائل ہوں۔ انہی جعلی احادیث کی بڑی تعداد آج بھی بعض کم علم مبلغ اپنی تقاریر میں زور و شور سے بیان کرتے ہیں۔ مصر کے مشہور محدث اور محقق علامہ احمد محمد شاکر (م 1957ء) لکھتے ہیں، "احادیث گھڑنے والوں میں بدترین لوگ اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے وہ ہیں جنہوں نے خود کو زہد و تصوف سے وابستہ کر رکھا ہے۔ یہ لوگ نیکی کے اجر اور برائیوں کے برے انجام سے متعلق احادیث وضع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے بلکہ اس خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ اپنے اس عمل کے ذریعے وہ اللہ سے اجر پائیں گے۔"(ایضا، ص 30) امام مسلم، صحیح مسلم کے مقدمے میں لکھتے ہیں، "ہم نے ان صالحین کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔" (مقدمہ صحیح مسلم) ان تمام عوامل کے نتیجے میں حدیث کے پاکیزہ اور خالص ذخیرے میں بہت سی جعلی احادیث کی ملاوٹ ہوگئی۔اس موقع پر ہمارے محدثین (اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے) نے ایک نہایت ہی اعلیٰ نوعیت کا اہتمام فرمایا۔ انہوں نے اپنی دن رات کی محنت سے احادیث بیان کرنے والوں کی عمومی شہرت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا۔ ان کی ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا وہ فن وجود میں آیا جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ مشہور جرمن مستشرق ڈاکٹر اسپرنگر کے مطابق یہ ایک ایسا فن ہے جس کی مدد سے پانچ لاکھ افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ احادیث کی چھان بین کے طریقے علم حدیث میں کسی بھی حدیث کے دو حصے مانے جاتے ہیں: ایک حصہ اس کی سند اور دوسرا متن۔ "سند" سے مراد وہ حصہ ہوتا ہے جس میں حدیث کی کتاب کو ترتیب دینے والے امامِ حدیث (Compiler) سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تک کے تمام راویوں (حدیث بیان کرنے والے) کی مکمل یا نامکمل زنجیر (Chain of Narrators) کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔ "متن" حدیث کا اصل حصہ ہوتا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا کوئی ارشاد، آپ کا کوئی عمل یا آپ سے متعلق کوئی حالات بیان کئے گئے ہوتے ہیں۔ سند کی تحقیق میں سند کا حدیث کی کتاب کے مصنف سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملا ہوا ہونا اور راویوں پر جرح و تعدیل شامل ہیں جبکہ متن کی تحقیق کو درایت حدیث کہا جاتا ہے۔ سند کا اتصال سب سے پہلے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ سند حدیث بیان کرنے والے سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملی ہوئی ہے یا نہیں۔ اگر ایک راوی کی وفات مثلاً 200ھ میں ہوئی ہے اور کوئی شخص اس سے 210ھ میں حدیث روایت کرنے کا دعوی کر رہا ہو تو ظاہر ہے وہ اپنے دعوے میں درست نہیں ہے۔ ایسی صورت میں سند متصل (یعنی ملی ہوئی) نہیں بلکہ منقطع (ٹوٹی ہوئی) ہوتی ہے۔ راویوں پر جرح و تعدیل فن رجال وہ علم ہے جس میں حدیث بیان کرنے والے تقریباً تمام راویوں کی عمومی شہرت کا ریکارڈ مل جاتا ہے۔ حدیث میں اس ملاوٹ کی وجہ سے محدثین نے احادیث کو پرکھنے کے اصول مرتب کئے تاکہ فلٹر کرکے اصلی اور جعلی احادیث میں فرق کیا جاسکے۔ ان اصولوں کو سمجھنے کے لئے ہم ایک مثال سے وضاحت کرتے ہیں۔ فرض کیجئے امام ترمذی اپنی کتاب "الجامع الصحیح سنن" میں جو جامع ترمذی کے نام سے مشہور ہے ایک حدیث بیان کرتے ہیں۔ اس حدیث کے سند والے حصے میں سند کچھ یوں بیان ہوتی ہے: "ہم سے اس حدیث کو راوی 'اے' نے بیان کیا، ان سے اس حدیث کو 'بی' نے بیان کیا، ان سے اس حدیث کو 'سی' نے بیان کیا، انہوں نے اس حدیث کو 'ڈی' سے سنا اور انہوں نے 'حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ' کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: ---------- [حدیث کا متن]"۔ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے لے کر امام ترمذی تک پانچ افراد ہیں جن میں سے ایک صحابی رسول سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے علاوہ چار اور اشخاص ہیں، چھٹے امام ترمذی خود ہیں۔ ہمیں یہ چیک کرنا ہے کہ کیا یہ حدیث واقعی حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمائی تھی یا پھر کسی نے اسے اپنی طرف سے وضع کرکے آپ کی طرف منسوب کر دیا ہے یعنی دوسرے لفظوں میں یہ چیک کرنا ہے کہ یہ حدیث اصلی ہے یا جعلی۔ اس چیکنگ کے لئے محدثین نے جو ٹسٹ ایجاد کئے ہیں، ان میں سے سب سے پہلا اور اہم ترین یہ ہے کہ حدیث کے راویوں کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے کہ وہ قابل اعتبار ہیں کہ نہیں۔ اس اصول کی بنیاد قرآن مجید کی اس آیت پر ہے: یا ایھا الذین اٰمنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا۔ (الحجرات 49:4) "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح جانچ پڑتا ل کرلو۔" امام ترمذی حدیث کے مشہور امام ہیں اور ان کے حالات ہمیں تفصیل سے معلوم ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انتہائی دیانت دار، محتاط اور قابل اعتماد شخص ہیں۔ اس معاملے میں ان کے بارے میں پوری امت کا اتفاق ہے ۔ ان کی کتاب جامع ترمذی ان کی زندگی ہی میں مشہور ہوگئی تھی۔ بہت سے طلباء نے ان سے یہ کتاب پڑھی تھی۔ اس کی سینکڑوں کاپیاں ان کی زندگی ہی میں تیار ہو کر عالم اسلام میں پھیل چکی تھیں۔ اس وقت سے لے کر آج تک اس کتاب کی لاکھوں کاپیاں تیار کی جاچکی ہیں اور ہر دور میں، ہر دینی مدرسے میں حدیث کے طالب علم اس کتاب کو پڑھتے آرہے ہیں، اس کی بہت سی شروحات (Commentaries) لکھی جاچکی ہیں، چنانچہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کسی نے ان کی کتاب میں اپنی طرف سے کوئی حدیث گھڑ کر لکھ دی ہو۔ ایسا ضرور ممکن ہے کہ جامع ترمذی کے مختلف نسخوں میں کتابت وغیرہ کی غلطیوں کے باعث تھوڑا بہت فرق پایا جاتا ہو لیکن مجموعی طور پر اس کتاب کے اپنے مصنف کی طرف منسوب ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ جامع ترمذی کے ہر دور کے نسخے دنیا بھر کی لائبریریوں اور میوزیمز میں دستیاب ہیں۔ قدیم دور کی قلمی کتابیں، جنہیں مخطوطہ کہا جاتا ہے، کو ڈیجیٹل تصاویر کی صورت میں دنیا بھر کے محققین کے لئے دستیاب کر دیا گیا ہے۔ جامع ترمذی کے مختلف ادوار کے نسخوں کا اگر ایک دوسرے سے تقابل کیا جائے تو ان میں کوئی بہت بڑا فرق موجود نہیں ہے۔ کسی کی کتاب میں اپنی طرف سے کچھ داخل کر دینے کا عمل صرف انہی کتابوں ہی میں ممکن ہے جو صرف چند افراد تک محدود تھیں مثلاً اہل تصوف کی کتابیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم سے لے کر امام ترمذی تک تو کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔ آپ کی دیانت داری اور حدیث کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت پر کوئی شک نہیں کر سکتا۔ ضرورت اصل میں امام ترمذی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان موجود چار اشخاص کو تفصیل سے چیک کرنے کی ہے کیونکہ اگر کوئی گڑبڑ ہوسکتی ہے تو وہ ان ہی میں ہو سکتی ہے۔ اس چیکنگ کو محدثین "جرح و تعدیل" کا نام دیتے ہیں۔ اس عمل میں ان میں سے ہر شخص کے بارے میں یہ سوالات کئے جاتے ہیں کہ کیا ان کی شہرت ایک دیانت دار اور محتاط شخص کی ہے؟ کیا وہ اپنی نارمل زندگی میں ایک معقول انسان تھے؟ کہیں وہ لاابالی اور لاپرواہ سے آدمی تو نہیں تھے؟ کہیں وہ کسی ایسے سیاسی یا مذہبی گروہ سے تعلق تو نہیں رکھتے تھے جو اپنے عقائد و نظریات کو فروغ دینے کے لئے حدیثیں گھڑتا ہو؟ کہیں وہ کسی شخصیت کی عقیدت کے جوش میں اندھے تو نہیں ہوگئے تھے؟ عمر کے کسی حصے میں کہیں ان کی یادداشت تو کمزور نہیں ہوگئی تھی یا ان کی حدیث لکھنے والی ڈائری گم تو نہیں ہو گئی تھی؟ یہ صاحب حدیثوں کو لکھ لیتے تھے یا ویسے ہی یاد کر لیتے تھے؟ ان کے قریب جو لوگ تھے، اُن کی اِن کے بارے میں کیا رائے ہے؟ وہ کس شہر میں رہتے تھے؟ انہوں نے کس کس امام حدیث سے کس زمانے میں تعلیم حاصل کی؟ وہ کب پیدا ہوئے اور کب فوت ہوئے؟ ان کی کس کس محدث اور راوی سے ملاقات ثابت ہے؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہزاروں راویوں کے بارے میں یہ معلومات کہاں سے آئیں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فن رجال کے ماہرین نے اپنی پوری زندگیاں وقف کر کے ان تمام معلومات کا اہتمام کر دیا ہے۔ انہوں نے ان راویوں کے شہروں کا سفر کیا اور ان راویوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ چونکہ یہ لوگ حدیث بیان کرنے کی وجہ سے اپنے اپنے شہروں میں مشہور افراد تھے، اس لئے ان کے بارے میں معلومات بھی نسبتاً آسانی سے مل گئیں۔ یہ تمام معلوما ت فن رجال کی کتابوں میں محفوظ کردی گئی ہیں۔ یہ کتب بھی عام شائع ہوتی ہیں اور کوئی بھی شخص انہیں حاصل کرسکتا ہے۔ اب تو انٹرنیٹ پر بھی یہ کتب بلامعاوضہ مہیا کر دی گئی ہیں۔ کوئی بھی شخص انہیں سرچ کر کے حاصل کر سکتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق ان میں سے کسی کتاب کا اردو ترجمہ ابھی تک شائع نہیں ہوا کیونکہ ان کے استعمال کرنے والے سب لوگ عربی سے واقف ہی ہوتے ہیں۔چنانچہ ان کا مطالعہ کرنے کے لئے عربی زبان سے واقفیت ضروری ہے۔ حالیہ سالوں میں ایسے سافٹ ویئر بھی دستیاب ہو چکے ہیں جن میں کسی راوی کے نام پر کلک کرکے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال اردن کے "دار التراث الاسلامی" کا تیار کردہ سافٹ وئیر ہے۔ اس تحقیق کے نتیجے میں ہمیں اپنی زیر بحث حدیث کے تمام راویوں کے بارے میں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دیانت دار اور معقول لوگ تھے۔ ان کا تعلق کسی ایسے گروہ سے نہیں تھا جو حدیثیں گھڑنے کی شہرت رکھتا ہو۔ یہ محتاط اور اچھی شہرت کے حامل تھے۔ لوگوں کی ان کے بارے میں رائے اچھی تھی۔ یہ اچھی یادداشت رکھنے والے لوگ تھے اور حدیثوں کو محفوظ بھی کر لیتے تھے۔ اگر ان میں سے کسی ایک راوی کے بارے میں بھی ایسی معلومات ملتی ہیں جس سے وہ ناقابل اعتبار ثابت ہوتا ہے تو اس کی بیان کردہ تمام احادیث کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ مسترد کرنے کا معنی یہ ہے کہ یہ طے کر لیا جائے کہ اس حدیث کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کرنا درست نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جاتاہے کہ ان راویوں کی آپس میں ملاقات بھی ہوئی ہے یا نہیں۔ فرض کیجئے کہ راوی اے کی پیدائش 200 ہجری میں ہوئی اور راوی بی کی وفات 190 ہجری میں ہوئی تو یہ بات کنفرم ہوگئی کہ ان دونوں کی ملاقات ممکن نہیں۔ اسی طرح راوی سی اگر کوفہ میں رہتا تھا اور ساری عمر شہر سے باہر نہیں نکلا اور راوی ڈی دمشق میں رہتا تھا اور کبھی کسی سفر پر کوفہ نہیں گیا تب بھی یہ بات کنفرم ہو جاتی ہے کہ ان دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی۔ ایسی صورتوں میں یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ ان دو راویوں کے درمیان بھی کوئی راوی موجود ہے جس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ چیز بھی اس حدیث کی حیثیت کو کمزور کرتی ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی راوی کے بارے میں سرے سے معلومات ہی دستیاب نہ ہوں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بھی حدیث کمزور حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ اسی طرح ایک صحابی اگر کسی حدیث کو بیان کرتے ہوں اور کسی دوسری مستند روایت سے یہ ثابت ہو جائے کہ ان کا اپنا عمل اس حدیث کے خلاف تھا تو یہ چیز بھی حدیث کی حیثیت کو کمزور کرتی ہے کیونکہ صحابہ کرام کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے کسی ارشاد کو جاننے کے باوجود اس پر عمل نہ کریں۔ ایسا ضرور ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے وہ حکم کسی خاص صورتحال کے پیش نظر دیا ہو جو ہر حال میں قابل عمل نہ ہو۔ کمزور احادیث کو علم حدیث کی اصطلاح میں "حدیث ضعیف" کہا جاتا ہے۔ جبکہ درست سند کی احادیث کو "صحیح" اور "حسن" کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ محدثین نے حدیث کی بہت سی اقسام بیان کی ہیں جن کی تفصیل آگے اصل کتاب کے متن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس قدر تفصیلی چھان بین کے بعد حدیث کی سند کی تحقیق کا کام مکمل ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کے بارے میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کی سند درست ہے۔ اس کے تمام راوی قابل اعتبار ہیں اور اس سند کی زنجیر میں کوئی کڑی غائب نہیں۔ تاہم یہ ایک فطری سی بات ہے کہ کوئی انسان خواہ کتنا ہی قابل اعتبار کیوں نہ ہو، بسا اوقات کسی بات کو سمجھنے اور بیان کرنے میں غلطی کر سکتا ہے۔ اسے غلط فہمی بھی لاحق ہوسکتی ہے، وہ بات کو یا اس کے کچھ حصے کو بھول بھی سکتا ہے، اس سے بیان کرنے میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ اس قسم کی غلطیوں سے کسی بڑی شخصیت کے علم و فضل اور جلالت شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ اس قسم کی خطائیں ہر انسان کا خاصہ ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک شخص نے تو بات مکمل طور پر بیان کر دی ہو لیکن دوسرا اسے سمجھنے میں اور آگے منتقل کرنے میں غلطی کردے۔ سند جتنی طویل ہوتی جائے گی، اور حدیث کی کتاب مرتب کرنے والے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے درمیان زنجیر کی کڑیاں بڑھتی جائیں گی تو اس قسم کی غلطیوں کا امکان بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین ان احادیث کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جن کی سند مختصر ہو بشرطیکہ وہ ثقہ (Reliable) راویوں کے ذریعے منتقل ہوئی ہوں۔ عام طور پر احادیث کی سند میں تین سے لے کر نو افراد تک موجود ہوتے ہیں۔ تین راویوں والی احادیث کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ موطاء امام مالک میں بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں کیونکہ امام مالک علیہ الرحمۃ (م 179ھ) اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے درمیان زمانے کا فاصلہ زیادہ طویل نہ تھا۔ موطا میں بعض احادیث میں تو صرف دو راوی ہیں۔ ایسی بعض احادیث بخاری میں بھی موجود ہیں۔ امام بخاری اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میں تقریباً دو سو سال کا فرق ہے چنانچہ انہیں تین کڑیوں والی احادیث بہت کم مل سکی ہیں۔یہ وہی احادیث ہیں جن کے راویوں نے طویل عمریں پائی ہوں گی۔ درایت کے اصول سند کی درستگی کے باوجود ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم راوی کو جن معلومات کی بنیاد پر پرکھ رہے ہیں، وہ بھی بہرحال انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہیں اور ان میں بھی غلطی کا امکان (Error Margin) موجود ہے۔ عین ممکن ہے کہ فن رجال کے کسی امام نے ایک صاحب کو ثقہ (قابل اعتماد) قرار دیا ہو لیکن وہ اپنی اصل زندگی میں انتہائی گمراہ کن آدمی ہو۔ ممکن ہے کہ اس نے اپنی ہوشیاری سے اپنی گمراہیوں اور کردار کی کمزوریوں پر پردہ ڈال رکھا ہو۔ انہی مسائل کی وجہ سے علمائے حدیث نے درایت کے اصول بھی وضع کئے ہیں۔ درایت کا معنی یہ ہے کہ سند کی درستگی کے باوجود حدیث کے متن یعنی اصل الفاظ کو بھی پرکھا جائے۔ اس کی تفصیل ضمیمہ میں بیان کر دی گئی ہے۔ ان تمام فلٹرز سے گزر کر جو حدیث ہم تک پہنچے گی ، اس کے بارے میں ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ اس ذریعے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ارشادات اور آپ کے افعال کے بارے میں جو معلومات ملی ہیں وہ قابل اطمینان حد تک درست ہیں اور ان میں درمیان کے واسطوں میں کوئی غلطی یا فراڈ نہیں ہوا۔ ہم جدید ریسرچ کی زبان میں کہہ سکتے ہیں یہ حدیث مثلاً1% Error Margin یا 99% Confidence Level کے تقاضوں کو پورا کر رہی ہے۔ دور جدید میں حدیث کی خدمت کی کچھ نئی جہتیں جہاں تک فن رجال کا تعلق ہے تو اس باب میں بہت زیادہ تحقیق و تفتیش کی گنجائش باقی نہیں رہی کیونکہ اس کی تدوین کا کام بالکل مکمل ہوچکا ہے البتہ احادیث کے طالب علم اسے سمجھنے اور سمجھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ ایسی احادیث جن کے بارے میں قدماء تحقیق نہیں کر سکے، ان کی تحقیق کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ دور جدید میں علامہ ناصر الدین البانی کی تحقیق اس کی ایک مثال ہے۔ تحقیق کے میدان میں شخصیت پرستی کی کوئی اہمیت نہیں ہوا کرتی۔ قدیم اور جدید اہل علم بھی انسان ہیں اور ان کے کام میں غلطی کا امکان بہرحال موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے دور کے اہل علم قدیم اہل علم کے کام کا از سر نو جائزہ لیتے ہی رہتے ہیں تاکہ اس میں اگر کہیں کوئی غلطی رہ گئی ہے تو اس کی تلافی کی جا سکے۔ فن حدیث کی خدمت کی دوسری جہت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں حالیہ ترقی سے پیدا ہوئی ہے۔ دور قدیم سے احادیث کا ذخیرہ بہت سی کتابوں میں متفرق ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان کتب کا کوئی اسٹینڈرڈ اشاریہ (Index) اب تک ترتیب نہیں دیا جاسکا جس کی مدد سے ایک موضوع پر موجود تمام احادیث کو سامنے رکھ کر ان سے استفادہ کیا جاسکے۔ مصر کے فواد عبدالباقی کا اشاریہ بہت محنت سے ترتیب دیا ہوا ہے لیکن اس سے استفادہ کرنے کے لئے انسان کو بہت زیادہ اوراق پلٹنا پڑتے ہیں اور ایک ایک حدیث کی تلاش میں گھنٹوں صرف ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح فن رجال کی کتب بھی مواد بہت زیادہ بکھرا ہوا ہے اور اس سے استفادہ کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ 1990ء کے عشرے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ علم حدیث کے ماہرین کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ احادیث کا ایک جامع ڈیٹا بیس بنایا جائے جس میں احادیث کی تمام کتب میں موجود تمام احادیث کو درج کرلیا جائے۔ ہر حدیث کے ساتھ اس کی فنی حیثیت پر بھی بحث فراہم کی جائے اور اس کے متعلق تمام ائمہ حدیث کی آرا کو بھی میسر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حدیث کے تمام راویوں سے متعلق معلومات اور ان کے متعلق فن رجال کے تمام ائمہ کی آرا بھی اکٹھی کی جائیں اور انہیں حدیث کی سند سے لنک کردیا جائے۔ کسی بھی نام پر کلک کرنے سے اس راوی کی مکمل تفصیلات سکرین پر ڈسپلے ہوجائیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ دور جدید کی ضروریات اور مسائل کے مطابق ایک تفصیلی انڈیکس تیار کیا جائے اور اس سے تمام احادیث کو لنک کردیا جائے۔ جدید ترین "سرچ انجنز" کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی بھی ایک موضوع پر کلک کرنے سے ان تمام احادیث کا ذخیرہ سامنے آجائے جن میں اس موضوع سے متعلق کسی بھی قسم کا مواد پایا جاتا ہو۔ اس کے بعد کسی بھی حدیث پر کلک کرنے سے اس کی تفصیلی سند ، متن اور اصل کتاب کا حوالہ سامنے آجائے۔ احادیث کے ساتھ قدیم و جدید علماء کی لکھی ہوئی شروح (Commentaries) کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے۔ عرب دنیا میں پچھلے پچاس برس میں حدیث پر غیر معمولی کام ہوا ہے۔ حدیث سے متعلق ایسے کئی سافٹ وئیر وجود میں آ چکے ہیں۔ اردن کے دارالتراث الاسلامی کے موسوعۃ الحدیث، مکتبہ الفیۃ لسنۃ النبویۃ، اور مکتبہ شاملہ کے تیار کردہ سافٹ وئیر اس کی مثال ہیں۔ اسی طرح علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی کتب پر مشتمل سافٹ ویئر بھی منظر عام پر آ چکا ہے جو انٹرنیٹ پر بلاقیمت دستیاب ہے۔ یہ تمام سافٹ وئیر عربی زبان میں دستیاب ہیں کیونکہ انہیں علماء ہی استعمال کرتے ہیں جن کا عربی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے۔ کم و بیش یہ تمام سافٹ وئیر انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ ان میں سے بعض بلا معاوضہ اور بعض قیمت کی ادائیگی پر دستیاب ہیں۔ ان سافٹ وئیر میں جو مزید بہتری لائی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ احادیث کے ساتھ ساتھ ان کی شروح کو بھی لنک کر دیا جائے تاکہ براؤزنگ کرنے میں زیادہ وقت صرف نہ ہو۔ اسی طرح کتب حدیث میں احادیث کے نمبرز کو مکمل طور پر اسٹینڈرڈائز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تلاش میں دشواری نہ ہو۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ Last edited by شمشاد احمد; 23-05-11 at 04:23 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | skjatala (23-05-11), فیصل ناصر (23-05-11), فاروق سرورخان (07-09-11), نبیل خان (22-01-12), حیدر (03-09-11), رضی (05-09-11), سام (23-05-11), عبداللہ آدم (23-05-11) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے سوالات بعد میں۔ انشا اللہ
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (07-09-11), شمشاد احمد (28-05-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حدیث یا تاریخ کو قبول اور رد کرنے اصول اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں مقرر فرمائے ہیں ۔
دلائل ان شاء اللہ اعتراضات سامنے آنے پر پیش کروں گا اگر کسی کو قبل از وقت چاہیے ہوں تو یہ لنک ملاحظہ کرے http://www.deenekhalis.net/play.php?catsmktba=699
__________________
ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر
جامعہ دار الحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ضروری نہیں کہ کوئی فاسق جو خبر دے وہ جھوٹی ہی ہو۔ اس بات کا اندازہ ہم کو عام زندگی میں ’’شیر آیا شیر آیا‘‘ والی کہانی سے بھی ہوتا ہے اور مذکورہ آیت سے بھی۔ کیونکہ اگر فاسق کی بیان کردہ بات بالضرور جھوٹی ہی ہوتی تو پھر اللہ تعالیٰ ہم کو اسکی تحقیق کرنے کا حکم نہ دیتے۔ چناچہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی فاسق یا جھوٹا ہم کو کوئی خبر دیتا ہے جو بعد از تحقیق سچ ثابت ہوتی ہے تو ہم کو اُسے تسلیم کرنا چاہیے۔ نہ کہ اُس کے باقی کے گناہوں کی وجہ سے ایک نیکی کا بھی انکار کر دینا۔ چناچہ یہی بات احآدیث پر بھی لاگو ہونی چاہیے ، جس میں احآدیث کا ایک بہت بڑا ذخیرہ محض اس وجہ سے ضعیف اور پھر بعض لوگوں کے نزدیک قابل رد قرار پاتا ہے کہ جس میں کوئی راوی کھڑے ہو کر پیشاب کرتے پایا گیا تو اس میں فسق کی نشانی مل گئی، اگر کسی نے کبھی کسی موقع پر جھوٹ بول دیا تو وہ فسق کے کٹہرے میں آن کھڑا کر دیا گیا۔ اور ان کی احآدیث ماننے سے انکار کر دیا گیا۔ اس بارے میں مدلل اور منطقی رائے درکار ہے۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جس خبر کی چین میں کوئی ضعیف راوی ہو ضروری نہیں کہ وہ ضعیف ہی ہو !! ۲۔ دیکھا آپ نے ہم نے یہ قانون احادیث پر بھی فٹ کیا ہوا ہے ۔ ۳۔ جی اب دلائل سے اسے سمجھیں : صحت خبر کی جو شرط ہم نے بیان کی ہے اس میں یہی بات موجود ہے جو آپ کرنا چاہ رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے کہ " اگر فاسق خبر لائے تو اسکی تحقیق کر لیا کرو ۔" اسی سے واضح علم ہوتا ہے کہ فاسق راوی کی خبر بھی تحقیق کے بعد قبول کی جاسکتی ہے ۔ یعنی ضعیف راوی کی خبر اگر بعد از تحقیق درست ثابت ہو تو اسے مان لینا چاہیے ۔ اور اصول حدیث میں ضعیف راویوں کی ایسی خبریں جنہیں تحقیق کے بعد درست پایا جاتا ہے " صحیح لغیرہ اور حسن لغیرہ " کہا جاتا ہے ۔ اب یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ۱۔ ضعیف راوی کی روایت کو رد کیوں کیا جاتا ہے ؟ اور ۲۔ ضعیف راوی کی روایت کو قبول کرنے کے لیے کیسے تحقیق کی جائے گی ؟ تو یقینا یہ بھی بہت اہم سوال ہیں انکے جوابات بھی لگتے ہاتھوں وصول فرمائیں : ۱۔ ضعیف راوی کی مختلف اقسام و انواع ہیں , اگر تو اسکے ضعف کا تعلق عدالت سے ہے , یعنی وہ شخص کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہے یا صغیرہ پر اصرار کرنے والا ہے , یا خلاف مروت کام سر انجام دیتا ہے یا وہ مشرک ہے یا کافر ہے تو اسکی روایت کو اس لیے رد کیا جاتا ہے کہ اس شخص سے جھوٹ کا صدور ممکن ہے ! اور جھوٹا آدمی کچھ بھی کہہ سکتا ہے , نیز اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ایسے شخص کا حافظہ اللہ تعالى کمزور کر دیتے ہیں اسے بات لفظ بالفظ یاد نہیں رہتی ہاں بسا اوقات اس قسم کے کسی آدمی کو بات کا مفہوم یاد رہ جاتا ہے لیکن وہ اس مفہوم کو ادا کرتے ہوئے الفاظ بدل دیتا ہے جسکے نتیجہ میں بسا اوقات مفہوم میں بھی تغیر پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس قسم کے ہزاروں لوگ بھی ایک بات کی خبر دیں تو تب بھی وہ بات قابل قبول نہیں ہوتی ہے ۔ !!! اور اگر راوی کے ضعف کا تعلق حافظہ سے ہے تو اسکی روایت کو شک کی بناء پر چھوڑا جاتا ہے کیونکہ نہ جانے اس نے وہ بات یاد رکھی یا نہیں , اور مشکوک باتوں اور مشکوک کاموں سے اجنتاب کا حکم ہمیں شریعت نے دیا ہے ۔ ہاں جب کمزور حافظہ والے بہت سے افراد ایک بات کو لفظ بالفظ بیان کریں تو یہ شک کم ہو جاتا ہے بلکہ بسا اوقات ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ بہت سے لوگ لفظ بالفظ ایک بات بیان کریں اور وہ سارے ہی بھولے ہوئے ہوں ! ۲۔ ضعیف راوی کی روایت کو قبول کرنے کے لیے کیسے تحقیق کی جائے گی ؟ تو اسکے لیے کافی تفصیل کی ضرورت ہے , فی الحال مختصرا اتنا سمجھ لیں کہ ایک طریقہ تو اوپر بیان ہو چکا ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جو خبر ایک جھوٹے یا بھلکڑ آدمی نے دی ہے وہی خبر ایک عادل آدمی بھی دے دے تو تب بھی اس خبر کو قبول کر لیا جائے گا ۔ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (07-09-11), کنعان (03-09-11), احمد نذیر (06-09-11), حیدر (03-09-11), رضی (05-09-11), عُکاشہ (03-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا میں آپ کی بات کا خلاصہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ’’ ہر ضعیف حدیث قابل رد نہیں ہوتی‘‘
؟؟؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (07-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
البتہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ضعیف راوی کی ہر روایت مردود نہیں ہوتی یا ضعیف سند والی ہرروایت مردود نہیں ہوتی یا ضعیف سند والی ہر روایت ضعیف نہیں ہوتی فتدبر ! Last edited by رفیق طاہر; 03-09-11 at 12:25 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (07-09-11), کنعان (03-09-11), احمد نذیر (06-09-11), حیدر (03-09-11), رضی (05-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر بات کو سادہ الفاظ میں اور سادہ انداز میں بیان کرنے کی کوشش کر لیں تو شاید مجھ جیسے عامی اور ناخواندہ بھی ان تھریڈز سے فائدہ اُٹھا سکیں جو کہ ان تھریڈز کا اصل مقصد ہے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے تو انتہائی سادہ سے انداز میں مختصر ترین بات کہہ کر مسئلہ سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔
ہاں آپ کو اگر سمجھ نہیں آئی تو وہ اس فرق کی نہیں سمجھ آئی جو اس جملہ جو آپ نے لکھا اور جو اس جملہ جو میں نے لکھا کے مابین ہے , وہ میں واضح کر دیتا ہوں ۔ غور فرمائیں : آپ نے لکھا کہ ’’ ہر ضعیف حدیث قابل رد نہیں ہوتی‘‘ اسکا معنى ہے کہ کچھ ایسی روایات جن پر ضعیف ہونے کا حکم بھی لگا دیا جائے تب بھی قابل عمل ہوتی ہیں ! اور یہ بات غلط ہے , کیونکہ جب کسی روایت کو ضعیف کہہ دیا جائے تو وہ قابل عمل نہیں ہوتی ۔ اور میں نے کہا کہ : ضعیف راوی کی ہر روایت مردود نہیں ہوتی یا ضعیف سند والی ہرروایت مردود نہیں ہوتی یا ضعیف سند والی ہر روایت ضعیف نہیں ہوتی جسکا معنى ہے کہ سند میں اگر کوئی راوی ضعیف آجائے تو ضروری نہیں کہ وہ روایت بھی ضعیف ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہی متن کسی دوسری صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو رہا ہو تو اس ضعیف سند والی روایت کو ہم صحیح لغیرہ کہیں گے ضعیف نہیں ! |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (07-09-11), کنعان (03-09-11), ننھا بچہ (07-09-11), احمد نذیر (06-09-11), حیدر (03-09-11), رضی (05-09-11), عُکاشہ (03-09-11), عبداللہ حیدر (03-09-11) |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,385
کمائي: 95,791
شکریہ: 52,505
11,169 مراسلہ میں 35,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اصل میں جمع نفی والا بندہ ہوں اور اسی طریق پر چلتا ہوں۔ اسی وجہ سے کنفیوژن ہو جایا کرتی ہے اکثر ہے۔
لیکن میں غلط فہمی میں پڑ جانے کے بجائے پوچھ لینا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔ اسی لیے پھر پوچھ رہا ہوں کہ کیا میں آپ کی بات سے یہ مفہوم اخذ کر سکتا ہوں کہ ’’اگر ایک حدیث ایسی موجود ہے جس جیسی کوئی اور روایت موجود نہیں اور اُس حدیث کے راویوں میں ایک روای ایسا ہے جس کے بارے میں علم الرجال کے مطابق، اُس نے زندگی میں کبھی جھوٹ بولا۔یا کئی بار جھوٹ بولا‘‘ تو وہ حدیث قابل رد ہے؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 137
کمائي: 3,458
شکریہ: 60
121 مراسلہ میں 457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے رفیق طاہر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (03-09-11), ننھا بچہ (07-09-11), احمد نذیر (06-09-11), حیدر (04-09-11), رضی (05-09-11), عُکاشہ (03-09-11), عبداللہ آدم (06-09-11), عبداللہ حیدر (03-09-11) |
![]() |
| Tags |
| color, quot, فورم, ہے۔, کوشش, گئی, پسند, یا, وقت, قدم, قرآنی, لوگ, نظر, مقصد, اللہ, الزام, انداز, اسلام, توجہ, ثبوت, حدیث, خدمت, شروع, ضوابط, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| ::: آخرت کی فِکر ::: آخرت کے دوسرے مرحلے """ برزخ """ کی پہلی منزل ::: قبر کے مراحل ::: | عادل سہیل | آخرت | 15 | 14-10-10 10:41 AM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |
| وہ کاغذ کی کشتی! "دوسرا حصہ" | shafresha | گپ شپ | 10 | 10-10-10 02:40 PM |
| "قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول" آراء اور تجاویز | عبداللہ حیدر | ترجمہ و تفسیر | 6 | 08-07-10 11:44 AM |